لاہور: (رپورٹ
) قومی اقتصادی مسائل اور مشکلات حل کرنے کے لئے اچھی نیت اور جذبے کے ساتھ کام
کرنے کی صلاحیت اور اہلیت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ امیروں اور بڑے زمینداروں پر
ٹیکس عائد کرنے کے سوا کوئی چا رہ نہیں ہے۔ پاکستان میں عملاً غربت 80/ فیصد تک
پہنچ چکی ہے۔ حکومتی سطح پر احتساب کا عمل تیز کرنے اور قومی وسائل کا ضیاع روکنے
کی ضرورت ہے۔ ٹیکسوں کا منصفانہ نظام لانے میں مزید تاخیر نہیں کی جانی چاہیے۔
آرجی ایس ٹی لگانے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن بہتر ہوگا کہ حکومت پہلے سے عائد
ٹیکسوں کی وصولی کا نظام موثر بنائے۔ معاشی ترقی کے لئے پالیسوں کا تسلسل ضروری
ہے۔ جس کا مسلسل فقدان چلا آرہا ہے۔ مرکزی بنک سے سارا قرضہ حکومت لے گی تو نجی
شعبہ کو سرمایہ کاری کے لئے کہاں سے پیسے ملیں گے۔ معاشی مسائل انتظامی اور گورننس
کے نظام کو بہتر بنا کر حل کئے جا سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار”جنگ اکنامک سیشن“ میں ”2010ئ کی اقتصادی کار کر دگی …2011ئ
کی توقعات“ کے موضوع پر چیف ایگزیکٹو ٹیٹرا پیک اظہر علی سید، ڈین
سوشل سائنسز شاہدہ سیلم، سابق صدر کراچی چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری قیصر احمد
شیخ، چےئر مین پاکستان کاٹن فورم شیخ محمداکبر اور چےئرمین ملت ٹریکٹر سکندر ایم
خان نے کیا۔اظہر علی سید نے کہا کہ قابل لوگوں کو اہم ذمہ داریاں نہیں دی جاتیں جس
کی وجہ سے ملک کی ترقی مشکل ہو گئی ہے۔اس سال بھی مڈل کلاس اور لوئر کلاس ٹیکسز کا
بوجھ اٹھاتی رہی ہے جبکہ آئندہ سال بھی عوام پر ٹیکسز کا بوجھ کم ہوتا نظر نہیں
آرہا۔ پاکستان کی آبادی میں اضافہ ہورہا ہے اس صورتحال میں اگر لوگوں کو ہنرمند
بنادیا جائے تو آبادی میں اضافے کو بھی ملک کیلئے فائدہ مند بنایا جاسکتا ہے۔ملک سے
مہنگائی کے خاتمہ کیلئے حکومت طلب و رسد میں پائے جانے والے عدم توازن کو ختم کرنے
کیلئے اقدامات کرے۔ 2011ئ میں مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کرنے کیلئے صحیح
فیصلے کرنا ہوں گے۔ ملک کی ساکھ بہتر بنانے اور قومی مسائل کے حل کیلئے میڈیا اپنا
مثبت کر دار ادا کر رہا ہے لیکن ابھی اسے مزید میچورٹی کی ضرورت ہے۔ کسی بھی ملک
میں کاروبارکی ترقی کیلئے 10سالہ پلان بنانا ضروری ہے۔ شاہدہ سیلم نے کہا کہ اس
وقت غربت 40 فیصد نہیں عملاً 80 فیصد ہے۔ زراعت ملکی معیشت کا اہم جزو ہے لیکن اس
کی ترقی کیلئے رواں سال بھی حکومت نے صحیح اقدامات نہیں کئے۔ دنیا میں پاکستان کا
امیج خراب ہونے سے پاکستانیوں کو مڈل ایسٹ سمیت بیرون ملک نوکریاں نہیں مل رہیں جس
کے باعث انہیں ملک میں واپس آنا پڑ رہا ہے۔ حکومت کو مائیکرو اور میکرو اکانومی کی
ترقی کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔ قیصراحمد شیخ نے کہا کہ معاشی نقطہئ نگاہ سے
رواں سال اچھا ثابت نہیں ہوا رواں سال ادائیگیوں کا توازن بھی خراب رہا خدشہ ہے کہ
حکومت مالی سال کے اختتام تک ایک ہزار ارب روپے کے قرضوں کا بوجھ اپنے اوپر ڈال لے
گی جس کی قیمت عوام کو مہنگائی کی صورت میں چکانا پڑے گی۔ حکومت کو آئندہ سال
سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنے کیلئے امن وامان کو بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ بلند
شرح سود میں کمی اور توانائی کے بحران کو حل کرنا ہوگا۔ آر جی ایس ٹی کے نفاذ سے
صارف پر دباو? بڑھے گا۔ حکومت کو اس قسم کے ٹیکس نافذ کرنے کی بجائے زرعی شعبہ،
ٹیکسائل سیکٹر اور شوگر انڈسٹری کو ٹیکس نیٹ میں لانا چا ہیے۔ ریونیو میں اضافے
کیلئے ہمارے سیاست دانوں کو بھی ٹیکس دینا چا ہیے۔ اگر معاشی مسائل اسی طرح بڑھتے
رہے تو غربت آئندہ سال مزید بڑھ جائے گی جس سے کئی نئے مسائل پیدا ہوجائیں گے۔
No comments:
Post a Comment