Wednesday, 13 February 2013

pakistan garments factories



علی انٹر پرائز(بلدیہ ٹاﺅں)گارمنٹ فیکٹری میں لگنے والی آگ المناک واقع ہے جس نے کراچی کے چاروں صنعتی زون میں کام کرنے والے مزدوروں کو سوچنے پر مجبور کردیا اور کئی سوالات کو جنم دیا یہ کہ حکومت کے ماتحت ادارے جنکی ذمہ داری یہی ہے شہر کی صنعتی علاقے میں کوئی فیکٹری لگائی جاتی ہے تو اسے مکمل چیک کیا جائے اور اس ادارے میں جگہ کے اعتبار سے کتنے ملازم کام کرتے ہےں انکی تعداد کتنی ہے نیز یہ کہ اس جگہ کس قسم کی مصنوعات تیار کیجائے گی اس فیکٹری میں ایمر جنسی صورتحال سے نمٹنے کیلئے کیا انتظامات مالکان نے کئے ہیں  کتنے ڈیپارٹمنٹ ہیں انکے داخلی وخارجی راستے کتنے ہیں یہاں مزدوروں کیلئے انکی تعداد کے اعتبار سے بیت الخلاءکتنے ہیں پانی پینے کیلئے کولرز کتنے ہیں یہاں کے مزدوروں کے لئے لنچ کے اوقات کیلئے کینٹین ہے یا نہیں،فیکٹری شہر سے دور ہے تو کوئی فرسٹ ایڈ کے انتظامات ہےں یا نہیں کسی بھی فیکٹری کو چلانے کیلئے فیکٹریز ایکٹ،اسٹینڈ ینگ آرڈر آرڈیننس آئی آر اے کے قوانین موجود ہےں ان پر عمل درآماد کروانے کیلئے بھی ایک بڑادارہ موجود ہے ہر صنعتی زون کے لئے جوائنٹ ڈائریکٹر لیبر انکے ماتحت،کنسلٹنٹ فیکٹریز انسپکٹرز رجسٹرار آف ٹریڈ یونینز انکا عملہ جنکی تعداد سینکڑوں میں ہے جو حکومت سندھ کے راشی ملازم ہےں جو ہر ماہ اپنی تنخواہ کے علاوہ ان غیر قانونی طریقے سے چلنے والے فیکٹریوں سے بھتہ وصول کرتے ہےں اور سب ٹھیک ہے کا مہر لگاکر غریب مجبور وبے بس مزدوروں کیلئے قتل گاہوں کا سرٹیفکیٹ جاری کردیتے ہےں۔ایسی ہزاروں فیکٹریاں ہیں جو نہ تو اپنے مزدوروں کو ای او بی آئی،سیسی سے رجسٹریشن کرواتے ہےں اور کسی ادارے میں500ملازم ہے تو بہ مشکل100مزدوروں کو کنٹری بیوشن اداکرتے ہےں باقی ان اداروں کے اہلکار بھی ہر ماہ  ہزاروں روپے بھتہ وصول کرتے ہےں ۔نہ تو ان اداروں/فیکٹریوں میں یونین سازی کا کوئی عمل ہوسکتاہے اگرچند کارکنان یونین سازی کی کوشش کرتے ہےں لیبر ڈیپارٹمنٹ درخواست گزاروں کے نام خفیہ طعر پر مالکان کو پہنچادیتے ہےں اور مالکان فوری طور پر ایسے مزدوروں کے خلاف جھوٹے الزامات عائد کرکے نوکری کا خاتمہ کردیتے ہےں گارمنٹس/ہوزری فیکٹریوں میں نام نہاد مزدور فیڈریشنز کے کئی سفید پوش نمائندے لیبر ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے مالکان سے مل کر پاکٹ یونین رجسٹرڈ کروادیتے ہےں جو کہ مالکان کی ڈراز میں ہمیشہ رہتی ہے اور یوں فیڈریشنز کے سفید پوشوں کا ماہانہ بھتہ بھی جاری ہوجاتاہے کئی بڑی گارمںٹس فیکٹریاں کئی یونٹ پر مشتمل ہے، تمام یونٹس کی ایک یونین سی بی اے این آئی آر سی اسلام آباد سے مزدور فیڈریشنز کے نمائندے رجسٹر کرواکر مالکان کے حوالے کروادیتے ہےں اسکے عیوض لاکھوں روپے وصولی کے ساتھ ساتھ ماہانہ خرچہ بھی مالکان اداکرتے ہےں سی بی یو سرٹیفکیٹ وصول ہونے کے بعد لوگل صوبائی سطح پر یونین رجسٹرڈ ہونے کا راستہ بھی بند ہوجاتاہے فیکٹری مالکان کو مکمل طور پر ظلم کرنے ومن مانی کرنے کا سرٹیفیکٹ مل جائے تو ظلم کیسے رُکے گا  علی انٹر پرائززمیں ہونے والی آتشزدگی کے بعد300مزدوروں کی المناک شہادت نے کئی رازافشاں کردئےے ہیں فارمنٹ فیکٹریوں میں ازسرنو لیبر قوانین کے اطلاق کی اشد ضرورت ہے18رویں ترمیم کے بعد صوبوںکو اختیار دے دیا گیا تو این آئی آر سی کے ذریعے سی بی یو سرٹیفیکٹ کے اجراءکی بندش کے احکامات جاری ہونے چاہیے ورنہ جس طرح سے غیر اصولی طریقے سے من مانے اقدامات کے ذریعے  فیکٹری مالکان چار منزلہ عمارت تعمیر کرکے مزدوروں کو بھیڑبکریوں کی طرح ایک دروازے سے داخل کرکے کام لے رہے ہیں مزید اس سے بڑے واقعات رونما ہونے کے خدشات ہین۔علی انٹرپرائزز جسے سینکڑوں اداروں میں حکومت کے احکامات کے خلاف6000/-روپے ماہانہ بھرتی کرکے جبری مشقت کروائی جاتی ہےں اوورٹائم لیبر قوانین کے مطابق ادانہیں ہوتا،حکومت کو اس وقت سنجیدگی سے فوری اقدامات کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر چلنے والی فیکٹریاں جو کہ ان میں کام کرنے والے مزدوروں کیلئے کسی موت کے کنوے سے کم نہیں ان فیکٹریوں کے مالکان کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لانا ہو گی بصورت دیگر اس صنعتی شہر میں مزدوروں کے اندر جو لاواتیار ہورہاہے یہ ایک بڑا انقلاب بن کر سامنے آسکتاہے۔

No comments:

Post a Comment