Saturday, 9 February 2013

زاہدان: سنی عالم دین ٹارگٹ کلنگ میں شہید

پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
اتوار, 03 فروری 2013 13:21
ایران کے جنوب مشرقی صوبہ سیستان بلوچستان کے شہر زاہدان سے تعلق رکھنے والے ممتازسنی عالم دین مولوی عبداللہ براھویی جمعہ یکم فروری کو نامعلوم دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہید ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
’’سنی آن لائن‘‘ کی رپورٹ کے مطابق مولوی عبداللہ شہید کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنی ذاتی گاڑی پر ظہر کے وقت جامع مسجد مکی جارہے تھے، مرکزی عیدگاہ سے کچھ فاصلے پر مسلح شرپسند افراد نے ان پر فائرنگ کردی جہاں وہ موقع پر شہادت سے ہمکنار ہوئے۔

مولوی عبداللہ براھویی زاہدان میں ’’بدر روڈ‘‘ پر ایک مسجد کے پیش امام تھے، امامت کے علاوہ آپ شہر کے بعض دینی مدارس و مکاتب میں اسلامی کتب کی تدریس بھی کیا کرتے تھے۔

مرحوم نے شہادت سے قبل اپنے عزیزوں کو اطلاع دی ہے کہ انہیں کئی بار دھمکی آمیز خطوط موصول ہوئے ہیں اور انہیں علاقہ چھوڑنے کا کہا گیاہے۔

مولوی عبداللہ شہید کا جنازہ کل سنیچر کو نمازعصر کے بعد پڑھاگیا۔ نمازجنازہ میں عام شہریوں کے علاوہ علمائے کرام اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مولانا عبدالحمید نے نماز جنازہ کی امامت کی۔

خطیب اہل سنت زاہدان مولانا عبدالحمید نے جنازہ پڑھانے سے قبل حاضرین سے مختصر خطاب میں مذکورہ واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور صوبے کے سکیورٹی اور عدالتی حکام سے مطالبہ کیا جلدازجلد حملہ آوروں کے چہرے بے نقاب کردیے جائیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا دہشت گرد اور بزدل قاتلوں کو فورا گرفتار کرکے قرارواقعی سزا دی جائے۔ 






ایرانی اہلسنت عزت کے پیاسے ہیں اقتدارکے نہیں‘

چھاپیے ای میل
جمعہ, 20 جولائی 2012 13:00
خطیب اہل سنت زاہدان شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید اسماعیلزہی دامت برکاتہم نے دارالعلوم زاہدان کی اکیسویں تقریب دستاربندی وختم صحیح بخاری (2012-06-18ء) کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ایران کی اہل سنت برادری اپنے ملک میں اقتدار و مقام کے درپے نہیں بلکہ عزت و کرامت سے جینا چاہتی ہے۔

انہوں نے مزیدکہا: ہم ایران کے باشندے ہیں جو ایک کثیرالقومی ملک ہے جہاں متعدد مذاہب و مسالک اور زبانوں کے لوگ آباد ہیں، یہ سب ایرانی ہیں۔ ہم تمام مسلمانوں سے بھائی چارہ چاہتے ہیں اور پوری انسانیت کے خیرخواہ ہیں۔ اگر ملک کسی بڑے نقصان، حملہ یا قحط و پابندی کا شکار ہوجائے تو شیعہ وسنی دونوں کو نقصان پہنچے گا۔

زاہدان کی مرکزی عیدگاہ میں ہزاروں فرزندان توحید سے خطاب کرتے ہوئے اپنے بیان کے دوسرے حصے میں مولانا عبدالحمید نے کہا: اہل سنت والجماعت کی راہ بھائی چارہ اور ہم آہنگی ہے؛ ہم نے ملکی مفادات کے خاطر ہر میدان میں قربانیاں دی ہیں۔ طرح طرح کی معاشی مشکلات اور اقتصادی پابندیاں برداشت کی۔ اسی لیے عالم اسلام میں اسلامی بیداری و شعور کی پیدائش کے تناظر میں ہمیں امید ہے ایرانی اہل سنت کے جائز حقوق پر توجہ دی جائے گی۔ ایرانی اہل سنت ایک ناقابل انکار حقیقت ہے، جیسا کہ شیعہ برادری کا وجود بحث سے بالاتر ہے۔ لہذا اہل سنت کے حقوق و مطالبات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ پوری دنیا کے مسلمانوں کی بھاری اکثریت اہل سنت والجماعت کی ہے، ان کی بات ہرصورت میں سننی چاہیے۔ ہماراخیال ہے جتنی قومیں اور نسلیں ایران میں آباد ہیں ان کے حقوق کاخیال رکھنا ضروری ہے۔ ہم نے سب سے پہلے انقلاب کیا اور کامیاب ترین انقلاب وہ ہے جس کے بعد سارے لوگ عزت اور حقوق پائیں۔

ممتاز سنی عالم دین نے بات آگے بڑھاتے ہوئے مزیدکہا: ایرانی اہل سنت کے مطالبے آئین اور قانون کے دائرے میں ہیں۔ ملک میں انصاف اور قانون کا بول بالا ہونا چاہیے۔ ہمارے معتبر سروے کے مطابق ایران کی آبادی کی بیس فیصد سنی مسلمان ہیں، یعنی کم سے کم دو کروڑ سنی مسلمان ایران میں رہتے ہیں۔ لہذا اہل سنت کے لائق افراد کو روزگار دینا چاہیے۔ مناصب کی تقسیم میں انہیں نظرانداز کرنا غلط کام ہے۔

بڑے شہروں میں سکیورٹٰی حکام کے خوف کے بغیرنمازقائم کرنا ہمارا مطالبہ


ایرانی سنی برادری کے سب سے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز دینی رہنما نے کہا: ہر سنی مرد اور خاتون کا مطالبہ یہ ہے کہ انہیں ایران کے کسی بھی حصے میں خاص کر بڑے شہروں میں مکمل مذہبی آزادی حاصل ہونی چاہیے۔ یہ اہل سنت کا اسلامی و قانونی حق ہے کہ وہ آزادانہ طورپر اپنے بچوں کو تعلیم دلوائیں اور مسجد و مدرسہ بنائیں۔ ہمارا ایک اہم مطالبہ جسے آخری دم تک پیروی کرتے رہیں گے تہران میں مساجد تعمیر کرنے کا مطالبہ ہے؛ ہم چاہتے ہیں تہران میں بغیر کسی خوف و ہراس کے اللہ کی عبادت کریں، کوئی حکومتی و سکیورٹی ادارہ ہمیں تنگ نہ کرے تاکہ ہم بآسانی اپنے مسلک کے مطابق نماز پڑھیں، اپنے بچوں کو تعلیم دلوائیں، جہاں ضرورت ہو مسجد تعمیر کریں اور نمازجمعہ و جماعت قائم کریں۔ ایرانی حکام اور آیت اللہ خامنہ ای سے اہل سنت کے ہرفرد کا یہی مطالبہ ہے۔

صحابہ کرامؓ وخلفائے راشدین کی شان میں گستاخی کرنیوالوں کومانیٹر کرناچاہیے

مہتمم دارالعلوم زاہدان نے ملک میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کیخلاف ہرزہ سرائی کے بڑھتے رجحان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہم کسی کو اجازت نہیں دیتے اہل تشیع کی مقدسات کی توہین کرے، اسی طرح کسی کو اہل سنت کی مقدسات خاص کر صحابہ کرام، ازواج مطہرات اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ جو افراد ایسا کرتے ہیں ان کا ٹرائل ہونا چاہیے۔

بات آگے بڑھاتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام نے مزیدکہا: ایرانی اہل سنت کا وجود حکام کیلیے ایک موقع ہے؛ اگر وہ واقعی مسلمانوں میں اتحاد پیدا کرنا چاہتے ہیں تو انہیں سنی برادری کا دل جیتنا پڑے گا، انصاف کی فراہمی اور برابری کے نفاذ سے حقیقی اتحاد حاصل ہوگا۔ ہم ایران کی عزت و ترقی کا خواہاں ہیں۔

ملکی وغیرملکی مہمانوں پرپابندی لگانا افسوسناک ہے


خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے بیان کے ایک حصے میں بعض حکومتی پابندیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: سب سے پہلے انتظامیہ سے تشکر کا اظہار کرتے ہیں کہ تقریب کی سکیورٹی و نظم میں ہمارے ساتھ تعاون کیا، لیکن ہمیں اس بات پر شکوہ ہے کہ بعض ملکی اور غیرملکی مہمانوں کو زاہدان آنے نہیں دیاگیا۔ اس سے قبل عالم اسلام کی ممتاز شخصیات اس محفل میں شریک ہوتے، اگر یہ عمل جاری رہتا تو عالم اسلام میں اتحاد کی راہ مزید ہموار ہوتی۔

انہوں نے مزیدکہا: ہمیں افسوس ہے کہ ابھی تک بعض شیعہ علماء اور حکام نے ہمیں نہیں پہچانا اور ہماری نیک خواہشات و نیات سے واقف نہیں ہیں۔ میں اللہ کے بندوں کو گواہ لیتاہوں کہ ہم کسی کے بدخواہ نہیں ہیں، بلکہ ہم شیعہ و سنی، رعیت و حاکم اور پوری انسانیت کے خیرخواہ ہیں۔ ہماری تنقید مثبت ہے کردارکشی کیلیے نہیں ہے۔ کاش ایسی محفلوں میں نامور علماء شریک ہوتے، ہم پاکستانی اور سعودی قوموں کو ایرانی قوم سے قریب کرنا چاہتے ہیں، نفرتوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں متعین ایرانی سفیر اور ’تقریب بین المسالک‘ کے صدر آیت اللہ تسخیری نے خود اعتراف کیا ہے کہ پاکستان سمیت دیگر ممالک میں اس محفل کے انعقاد سے انہیں بہت فائدہ پہنچاہے، اس محفل دستاربندی کی وجہ سے جس میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات شرکت کیا کرتی تھیں، انہیں تقریبی پروگراموں میں پیشرفت حاصل ہوئی ہے۔

شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے مزیدکہا: تقریب ختم بخاری و دستاربندی اتحادامت اور بھائی چارے کا سیمبل ہے۔ اس کا انعقاد ملک اور پورے عالم اسلام کے مفادمیں ہے۔ ذمہ داری کا احساس ہمیں بعض اوقات حکام سے تنقید پر مجبور کرتاہے، ہماری تنقید یاددہانی کیلیے ہے۔ ہم مفید تنقید کے حق میں ہیں لیکن بہتان لگانے اور الزام تراشی کے خلاف ہیں۔ بعض عناصر ہم پر الزام لگاتے ہیں اور اسے تنقید کا نام دیتے ہیں۔ ہم تہمت و افترا کے سخت مخالف ہیں اور الحمدللہ اب تک ہم نے کسی پر الزام نہیں لگایاہے۔ اسی لیے ہمیں امید ہے حکام اپنی نگاہوں کو وسیع تر بنادیں۔

آخرمیں خطیب اہل سنت مولانا عبدالحمید نے زور دیتے ہوئے کہا: ایرانی اہل سنت اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ ملک میں اس وقت تک انہیں عزت حاصل نہیں ہوگی جب تک ان سے مختلف ملکی اداروں اور محکموں میں استفادہ نہیں ہوگا۔ ایرانی سنی برادری اقتدار و جاہ و مقام کی لالچ میں نہیں ہے بلکہ وہ عزت و کرامت کی پیاسی ہے۔ ہم اس عزت کو پانے کیلیے قانونی راستوں سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔



قربانیوں کیلیے تیار ہیں پر قتل ہونے کو نہیں پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
پیر, 01 اکتوبر 2012 08:36
کابل (بی بی سی) افغانستان میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل جان ایلن نے کہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں مہم کے لیے بہت داؤ پر لگانے کے لیے تیار ہے لیکن اس میں امریکیوں کا قتل شامل نہیں ہے۔
امریکی ٹی وی سی بی ایس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنے فوجیوں پر افغان فوجیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں پر شدید ناراض ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ایمانداری سے بتاؤں تو میں ان پر پاگل پن کی حد تک ناراض ہوں۔ ان واقعات کی گونج امریکہ کے طول و عرض میں سنائی دیتی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ہم اس مہم کے لیے بہت کچھ قربان کرنے کو تیار ہیں لیکن ہم اس کے لیے قتل ہونے کو تیار نہیں‘۔
امریکی جنرل کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوجی حکام نے تصدیق کی ہے کہ دو ہزار ایک سے جاری فوجی مہم کے دوران افغانستان میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد دو ہزار ہوگئی ہے۔
یہ تعداد اتوار کو افغان سکیورٹی فورسز کے ایک باغی اہلکار کے ہاتھوں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے نتیجے میں پوری ہوئی۔
رواں سال اب تک افغان سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں پچاس غیر ملکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس ماہ کے آغاز میں اسی وجہ سے نیٹو افواج نے افغان فوجیوں کے ساتھ مشترکہ گشت کرنا کم کر دیا تھا۔
یاد رہے کہ امریکہ دو ہزار چودہ کے آخر تک افغانستان سے اپنی بیشتر لڑاکا فوج واپس بلانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
گذشتہ چند ماہ میں غیر ملکی فوجیوں کی افغان باغی اہلکاروں کے ہاتھوں ہلاکتوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جس کے بعد بہت سے لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغان حکومت اور اس کی افواج آئندہ دو سال میں اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکیں گی۔
اس حملے میں نیٹو کا ایک نجی کانٹریکٹر اور دو افغان فوجی بھی مارے گئے۔
آئی کیژوئلٹیز نامی ایک آزاد تنظیم کے مطابق افغانستان میں اب تک اس کے علاوہ ایک ہزار ایک سو نوے اتحادی فوجی بھی مارے جا چکے ہیں۔
بروکنگز انسٹیٹیوٹ کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق چالیس اعشاریہ دو فیصد ہلاکتیں خود ساختہ بموں کی وجہ سے ہوئی ہیں جب کہ تیس اعشاریہ چھ فیصد دشمن کی فائرنگ کا نتیجہ تھیں۔
عام شہریوں کی ہلاکت کی تعداد کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل ہے۔ سنہ دو ہزار سات سے گذشتہ اگست تک عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق تیرہ ہزار چار سو اکتیس تھی۔ اگر سنہ دو ہزار ایک کے امریکی حملے سے شمار کیا جائے تو یہ تعداد بیس ہزار کے لگ بھگ مانی جاتی ہے۔
دو ہزار امریکی فوجیوں کی ہلاکت خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی شائع کردہ اطلاعات کے مطابق ہے جو افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں ہی کو اس گنتی میں شامل کرتی ہے۔ کچھ دیگر ادارے ایسے افراد کو بھی گنتی میں شامل کرتے ہیں جو دوسرے ممالک میں، مگر صدر جارج بش کے شروع کیے ہوئے آپریشن انڈیورنگ فریڈم کے سلسلے میں ہی ہلاک ہوئے۔
سنہ دو ہزار ایک افغانستان پر کیے جانے والے امریکی حملے کا مقصد گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو ہونے والے واقعات کے بعد القاعدہ اور طالبان کو نشانہ بنانا تھا۔ گیارہ ستمبر کے حملوں میں تقریباً تین ہزار ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

No comments:

Post a Comment