Monday, 11 February 2013

Markism

Leninلےنن





مارکس ازم اور ترمیم پرستی
 
1908
    ایک کافی معروف کہاوت ہے کہ اگر جیو میٹری کے بد یہیات انسانی مفادات پر اثر انداز ہوتے تو ان کی تردید کی قطعی کوشش کی جاتی۔ طبعی اور تاریخی نظریات نے جن کا ٹکراﺅ مذہبیات کے پرانے تعصبات سے ہوا بہت ہی شدید مخالفت پیدا کی اور اب بھی پیدا کر رہے ہیں۔ مارکس ازم کا نظرےہ موجودہ سماج کے ترقی یافتہ طبقے کو روشن خیال بنانے اور منظم کرنے کی خدمت براہ راست ادا کرتا ہے، اس طبقے کے فرائض کو بتاتا ہے اور یہ دکھاتا ہے (معاشی ارتقا کو بدولت) موجودہ نظام کی جگہ نیا نظام آنا ناگزیر ہے، اس لئے کوئی حیرت کی بات نہیں کہ اس نظرئے کو اپنی زندگی میں ہر قدم آگے بڑھانے کے لئے لڑنا پڑا۔
    یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس کا اطلاق بورژوا سائنس اور فلسفے پر ہوتا ہے جو سرکاری طورپر پروفیسر سکھاتے ہیں تاکہ صاحب جائداد طبقوں کی ابھرتی ہوئی نسل کو بیوقوف بنائیں اور اس کو اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے خلاف ”سکھائیں“۔ یہ سائنس تو مارکس ازم کے بارے میں سننا بھی گوارا نہیںکرتی اور یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اس کی تردید کر کے اپنی زندگی بناتے ہیں، اور درماندہ بزرگ بھی جو ہر طرح کے فرسودہ ”نظاموں“کی روایت کو برقرار رکھتے ہیں مارکس پر مساوی جوش کے ساتھ حملے کرتے ہیں۔ مارکس ازم کی ترقی، یہ واقعہ کہ اس کے خیالات مزدور طبقے میں پھیل رہے ہیں اور مضبوط جڑیں پکڑتے جا رہے ہیں، مارکس ازم پر ان بورژوا حملوں کی زیادتی اور شدت کو لازمی طور پر بڑھاتا ہے۔ ہر مرتبہ سرکاری سائنس کے ہاتھوں ”ختم ہونے“ کے بعد مارکس ازم زیادہ مضبوط، مستقل اور جاندار بنتا جاتاہے۔
    لیکن ان نظریات کے درمیان بھی جن کا تعلق مزدور طبقے کی جدوجہد سے ہے او رجو خصوصاً پرولتاریہ کے درمیان رائج ہیں مارکس ازم نے اپنی پوزیشن اچانک نہیں مضبوط کر لی۔ اپنے وجود کی پہلی نصف صدی میں (انیسویں صدی کی پانچویں دھائی سے) مارکس ازم ان نظریات سے لڑتا رہا جو بنیادی طور پر اس کے خلاف تھے۔ پانچویں دہائی کی ابتدا میں مارکس اور اینگلس نے ہیگل کے ریڈیکل نوجوان حامیوں (9) سے نبٹا جو فلسفیانہ عینیت پرستی کا نقطئہ نظر رکھتے تھے۔ پانچویں دھائی کے آخر میں معاشی نظرئے کے میدان میں یعنی پرودھون ازم (10)کے خلاف جدوجہد شروع ہوئی چھٹی دھائی میں اس جدوجہد کی تکمیل ان پارٹیوں اور نظریات پر تنقید سے ہوئی جن کا اظہار 1848 کے طوفانی سال میں ہوا۔ساتویں دھائی میں یہ جدوجہد عام نظرئے کے میدان سے منتقل ہو کر ایک ایسے میدان کی طرف آگئی جو براہ راست مزدور تحریک سے زیادہ قریب تھا یعنی باکونین ازم کو انٹرنیشنل (11) سے نکالنا۔ آٹھویں دھائی کی ابتدا میں جرمنی میں تھوڑے دن تک اسٹیج پرودھون کے پیرو میرلبرگیر کے ہاتھ میںرہا ۔ لیکن اس وقت دونوں کا اثر پرولتاریہ پر بہت ہلکاہو چکا تھا۔ مارکس ازم مزدور تحریک کے تمام دوسرے نظریات پر بلاشبہ فتح حاصل کر رہا تھا۔
    انیسویں صدی کی آخری دھائی میں اس فتح کی تکمیل زیادہ تر ہو چکی تھی۔ حتی کہ لا طینی الاصل زبان والے ملکوں میں، جہاں پرودھون ازم کی روایات سب سے طویل مدت سے قائم تھیں، مزدور پارٹیاں دراصل اپنے پروگرام اور طریقہ کار مارکسی بنیادوں پر بناتی ہیں۔ مزدور تحریک کی بحال شدہ بین اقوامی تنظیم نے (وقتاً فوقتاً بین اقوامی کانگرسوں کی صورت میں) ابتدا سے ہی تقریباً کسی جدوجہد کے بغیر تمام اہم باتوں میںمارکسی نقطئہ نظر کو اپنایا۔ لیکن جب مارکس ازم نےا نت مام کم وبیش سالم نظریات کو جو اس کومخالف تھے نکال باہرکیاتووہ رجحانات، جن کا اظہار ان نظریات میں تھا، نکاس کے دوسرے راستے تلا ش کرنے لگے۔ جدوجہد کی شکلیں اور اسباب بدل گئے لیکن جدوجہد جاری رہی اور مارکس ازم کے وجود کی دوسری نصف صدی (انیسویں صدی کی آخری دھائی) ایسے رجحان کی جدوجہد سے شروع ہوئی جو مارکس ازم کے اندر ہی مارکس کے خلاف تھا۔
    برنسٹائن نے، جوکسی زمانے میں کٹر مارکسی تھا، اس رجحان کواپنا نام دیاکیونکہ وہ بڑے شورو غوغے کے ساتھ اور مارکس ازم میں ترمیموں، مارکس کے نظریہ پر نظرثانی یعنی ترمیم پرستی کے بہت مکمل اظہار کے ساتھ سامنے آیا۔ حتی کہ روس میں بھی، جہاں ملک کی معاشی پسماندگی اورکسان غلامی کی باقیات سے دبی ہوئی غالب کسان آبادی کی وجہ سے، غیر مارکسی سوشلزم قدرتی طو ر پر بہت مدت تک قائم رہا اب وہ ہماری آنکھوں کے سامنے صاف طو رپر ترمیم پرستی کی طرف جاتا ہے۔ زرعی سوال ساری(ساری آراضی کو میونسپل کنٹرول میں لینے کا پروگرام) اور پروگرام اور طریقہ کار کے عام سوالوں دونوں میں ہمارے سوشل نرودنیک اس پرانے نظام کی سڑی گلی اور فرسودہ باقیات کی جگہ جو اپنے طریقے سے مکمل اور بنیادی طو رپر مارکس ازم کے خلاف تھا مارکس ازم میں زیادہ سے زیادہ ”ترمیمیں“ کرتے ہیں۔
    مارکس ازم کے پہلے والے سوشلزم کو شکست دی جا چکی ہے۔ اب وہ اپنے آزاد میدان سے جدوجہد نہیں کر رہا ہے بلکہ ترمیم پرستی کی حیثیت سے مارکس ازم کے عام میدان سے لڑ رہا تھا۔ اچھا، تو اب ہم یہ جائزہ لیں گے کہ ترمیم پرستی نظریات کے لحاظ سے کن باتوں پر مشتمل ہے۔
    فلسفے کے حلقے میں ترمیم پرستی بورژوا پروفیسرانہ ”سائنس“ کے دھارے میں آتی تھی۔ پروفیسر ”کانٹ کی طرف واپس گئے“ اور ترمیم پرستی نوکانٹیوں (12) کے پیچھے پیچھے گھسٹتی رہی۔پروفیسر وہی پرانی باتیں دھراتے رہے جو پادری ہزاروں بار فلسفیانہ مادیت کے خلاف کہہ چکے تھے اور ترمیم پرست، مزے سے مسکرا کر یہ بڑبڑاتے رہے (تازہ ترین کتا بچے کے مطابق لفظ بلفظ) کہ مادیت کی ”تردید“ تو مدت ہوئے کی جا چکی ہے۔ پروفیسروں نے ہیگل کو ” مردہ کتا“ گردانا اور خود عینیت پرستی کے وعظ دیتے ہوئے، حقیر اور فرسودہ تھی، جدلیات پر حقارت سے کندھے جھٹکتے رہے اور ترمیم پرست ان کے پیچھے چل کر سائنس کی فلسفیانہ تخریب کے دلدل میںپھنستے گئے، ”پرفن“ (اور انقلابی) جدلیات کی جگہ ”سادہ“ (اور ساکن) ”ارتقا“ کو دیتے گئے۔ پروفیسر اپنے عینیت پرست اور اپنے ”تنقیدی“ نظاموں کو قرون وسطی کے حاوی ”فلسفے“ (یعنی مذھبیات) کے مطابق ٹھیک ٹھاک کر کے سرکاری تنخواہیں پاتے رہے اور ترمیم پرست ان سے قریب ہوتے گئے، یہ کوشش کرتے رہے کہ مذہب کو ”نجی معاملہ“ بنا دیں، موجودہ ریاست کے تعلق سے نہیں بلکہ ترقی یافتہ طبقے کی پارٹی کے تعلق سے۔
    طبقاتی لحاظ سے مارکس ازم میں ایسی ”ترمیموں“ کے حقیقی معنی کیا تھے اس کے بیان کرنے کی ضرورت نہیںہے۔ یہ بات خود صاف ہے۔ ہمیں صرف یہ دیکھنا چاہئے کہ بین اقوامی سوشل ڈیموکریسی میںصرف ایک مارکسی، جس نے ٹھوس جدلیاتی مادیت کے نقطئہ نظر سے ترمیم پرستوں کے نامعقول نطریات پر نکتہ چینی کی، وہ پلیخانوف تھا۔ اس پر کافی زور دینے کی ضرورت ہے کیونکہ اس وقت یہ انتہائی غلط کوششیں کی جا رہی ہیں کہ پلیخانوف کے طریقہ کار کی موقع پرستی پر نکتہ چینی کے روپ میں فرسودہ اور رجعت پرست فلسفیانہ کوڑا کرکٹ چپکے سے پھر واپس لایا جائے٭۔
    ٭ دیکھنے بوگدا نوف، بازا روف وغیرہ کی کتاب ”مارکس ازم کے فلسفے کے مقا لے“۔ یہاں اس کتاب پر بحث نہیں کی جا سکتی۔ میں صرف اس وقت اتنا ہی کہوں گا کہ مستقبل قریب میں مضامین کے ایک سلسلے کے ذریعہ یا کسی علحدہ پمفلٹ میں یہ ثابت کروں گا کہ جو اطلاق قطعی طور پر ان ہیوم اور برکلے کے نوجوان پیروﺅں ”نئے“ ترمیم پرستوں (13)پر بھی ہوتا ہے۔ (ایڈیٹر)
    سیاسی معاشیات کی طرف آتے ہوئے یہ بات سب سے پہلے کہنا چاہئے کہ اس شعبے میں ترمیم پرستوں کی ”ترمیمیں“ کافی زیادہ ہمہ گیر اور تفصیلی تھیں۔ ”معاشی ترقی کے نئے حقائق“ کے ذریعہ پبلک پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی۔ یہ کہا گیا کہ بڑے پیمانے کی پیداوار کا ارتکاز اور اس کے ہاتھوں چھوٹی پیداوار کا خاتمہ زراعت میں بالکل نہیںہوتا اورتجارت وصنعت میں بڑی سست رفتاری سے ہوتا ہے۔ یہ کہا گیا کہ اب بحران شاذ ونادر اور کمزور ہوتے ہیں اور شاید کارٹیل اور ٹرسٹ سرمائے کو یہ موقع دیں گے کہ وہ ان بحرانوں کو بالکل دور کر سکے۔ یہ کہا گیا کہ ”ختم ہو جانے کا نظریہ“ جس کا طرف سرمایہ دارنظام جا رہا ہے معقول نہیں ہے کیونکہ طبقاتی اختلافات زیادہ ہلکے اور نرم ہو جا نے کا رجحان ہے۔ اور آخر میں یہ کہا گیا کہ مارکس کے نظریہ قدر کی بیم باویرک کے مطابق تصحیح بھی بے جانہ ہو گی۔
    ان مسائل پر ترمیم پرستوں کے خلاف لڑائی کا نتیجہ نظریاتی خیالات کی تجدید کی حیثیت سے بین اقوامی سوشلزم میں اتنا ہی کارآمد ہوا جیسا ڈیورنک کے خلاف اینگلس کی بحث میں بیس سال پہلے ہوا تھا۔ ترمیم پرستوں کی دلیلوں کا جائزہ واقعات اور اعداد وشمار کی مدد سے لیا گیا۔ یہ بات ثابت ہو گئی کہ ترمیم پرست باقاعدگی سے موجودہ چھوٹے پیمانے کی پیداوار کی ایک خوشکن تصویر پیش کر رہے ہیں۔ چھوٹے پیمانے کی پیداوار پر بڑے پیمانے کی پیداوار کی ٹکنیکی اور کاروباری برتری، نہ صرف صنعت میں زراعت میں بھی ناقابل تردید واقعات سے ثابت ہو چکی ہے۔ لیکن اشیا تبادلہ کی پیداوار زراعت میں کہیں کم ترقی یافتہ ہے اور موجودہ ماہرین اعداد وشمار ومعاشیات عام طور پر زراعت کی ان مخصو ص شاخوں کو (کبھی کبھی تو کاموں کو بھی) چننے میں زیادہ ماہر نہیں ہوتے جو دکھاتی ہیں کہ زراعت عالمی معیشت کے تبادلے کے عمل میں برابر کھنچتی جا رہی ہے۔ چھوٹے پیمانے کی پیداوار غذا کی متواتر ابتری، سدا کی بھکمری، کام کے دن کی زیادہ طوالت مویشیوں کی کوالٹی اور دیکھ بھال کی ابتری، مختصر یہ کہ ان تمام طریقوں سے اپنے کو قدرتی معیشت کے کھنڈروں پر قائم رکھتی ہے جن سے دستکاری کی پیداوار اپنے کو سرمایہ دارانہ کار خانہ داری کے خلاف برقرار رکھتی تھی۔ سائنس اور ٹکنالوجی کی ہر ترقی سرمایہ دارانہ سماج میں چھوٹے پیمانے کی پیداوار کی بنیادوں کو ناگزیر طو رپر متواتر کھوکھلا کرتی رہتی ہے اور سوشلسٹ علم معیشت کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اس عمل کی تمام صورتوں میں تحقیقات کرے جو اکثرپیچیدہ اور دشوار ہوتی ہیں اور چھوتی پیداوار کرنے والے کو یہ دکھائے کہ سرمایہ دار نظام میں اس کا وجود ناممکن ہے، سرمایہ دار نظام میں کسان کے لئے کاشتکاری کی کوئی امید نہیںہے اور اس بات کی ضرورت ہے کہ کسان پرولتاریہ کا موقف اپنائے۔ سائنسی معنی میں یہاں ترمیم پرست گناہگار تھے کیونکہ انہوں نے یک طرفہ اور الگ الگ واقعات سے جو پورے سرمایہ دار نظام سے ناوابستہ ہیں سطحی سرسری باتیں اخذ کر لیں۔ سیاسی نقطئہ نظر سے بھی وہ گناہگار تھے کیونکہ انہوں نے ناگزیر طو رپر، خواہ وہ چاہتے ہوں یا نہیں، کسان پر یہ زور دینے کے بجائے کہ وہ انقلابی پرولتاریہ کا نقطئہ نظر اپنائے، اس کو دعوت دی یا اس پر زور دیا کہ وہ چھوٹے صاحب جائداد کا رویہ (یعنی بورژوازی کا رویہ) اختیار کرے۔
    بحران کے نظرئے اور برباد ہو جانے کے نظرئے کے بارے میں ترمیم پرستوں کی پوزیشن اور بھی بری تھی۔ صرف تھوڑے دن تک لوگ، اور وہ بھی صرف بہت ہی کوتاہ نظر لوگ، چند برسوں کی صنعتی گرم بازاری اور خوشحالی کی بنا پر مارکسی نظرئے کی بنیادوں کو دوبارہ ڈھالنے کی بات سوچ سکے۔ حقائق نے بہت جلد ترمیم پرستوں پر یہ بات واضح کر دی کہ بحران ماضی کی بات نہیں ہوئے ہیں، خوشحالی کے بعد بحران پھر آیا ہے۔ بحرانوں کی صورتوں، سلسلے اور تصویر میںتبدیلی ہوئی ہے لیکن بحران سرمایہ دار نظام کا ناگزیر جز اب بھی ہیں۔ پیداوار کو متحد کرنے کے ساتھ کارٹیلوں اور ٹرسٹوں نے ایسے طریقے سے جو سب پر واضح تھا پیداوار کے نراج، پرولتاریہ کے وجود کے عدم تحفظ اور سرمائے کے جبر وتشدد کو اور شدید کر دیا اور اس طرح طبقاتی اختلافات کو بے مثال درجے تک تیز بنا دیا۔ سرمایہ دار نظام بربادی کی طرف جا رہا ہے۔ انفرادی سیاسی اور معاشی بحرانوں اور پورے سرمایہ دار نظام کے مکمل ڈھا جانے دونوں لحاظ سے۔ یہ بات خاص طور سے صاف اور بہت بڑے پیمانے پر نئے زبردست ٹرسٹوں نے ہی دکھائی۔ امریکہ کا حالیہ مالیاتی بحران اور سارے یورپ میں بے روز گاری میں زبردست اضافہ، اگر آنے والے صنعتی بحران کا ذکر نہ بھی کیا جائے جس کی بہت سی علامتیں ہیں،۔ ان سب کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ترمیم پرستوں کے حالیہ ”نظریات“ کو سب بھول گئے ہیں جن میں بظاہر بہت سے ترمیم پرست خود بھی شامل ہیں۔ لیکن دانش وووں کی اس غیر مستقل مزاجی نے جو سبق مزدور طبقے کو دئے ہیں ان کو نہ بھولنا چاہئے ۔
    جہاں تک نظریہ قدر کا سوال ہے بس یہ کہنا کافی ہوگا کہ بیم باویرک کی طرف چند انتہائی مبہم اشاروں اور آھوں کے علاوہ ترمیم پرستوں کی دین اور کچھ نہیں ہے اور اسی لئے انہوں نے سائنسی خیالات کی ارتقا پر کوئی نقش نہیں چھوڑا ہے۔
    سیاست کے میدان میں ترمیم پرستوں نے واقعی مارکس ازم کی بنیاد میں ترمیم کرنے کی کوشش کی یعنی طبقاتی جدوجہد کے نظرئے میں۔ ہمیں بتایا گیا کہ سیاسی آزادی، جمہوریت اور عام حق رائے دہی طبقاتی جدوجہد کی ضرورت کو رفع کر دیتے ہیں اور ”کمیونسٹ مینی فیسٹو“ کے اس پرانے دعوے کو غیر حقیقی بناتے ہیں کہ مزدوروں کا وطن نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ جمہوریت میں ”اکثریت کی مرضی“ حاوی ہوتی ہے اس لئے کسی کو نہ تو ریاست کو طبقاتی حکمرانی کاآلہ،کار سمجھنا چاہئے اور نہ رجعت پرستوں کے خلاف ترقی پسند، سماجی اصلاحات کی حامی بورژوازی کے ساتھ اتحاد کو مسترد کرنا چاہئے۔
    اس میں کوئی شک نہیں کہ ترمیم پرستوں کے یہ اعترافات بورژوازی کے بہت متوازن نظام سے تعلق رکھتے ہیں یعنی اعتدال پسند بورژوازی کے پرانے خیالات سے۔ اعتدال پسندوں نے ہمیشہ یہ کہا کہ بورژوا پارلیمانیت طبقوں اور طبقوں کی تقسیم کوختم کر دیتی ہے کیونکہ ووٹ کا حق اور ملک کی حکومت میں شرکت کا حق بلا امتیاز تمام شہریوں کا حصہ ہوتے ہیں۔ 19 ویں صدی کے دوسرے نصف یورپ کی پوری تاریخ اور بیسویں صدی کی ابتدا میں روسی انقلاب کی ساری تاریخ صاف طو رپر دکھاتی ہیں کہ یہ نظریات کتنے فضول ہیں۔ ”جمہوری“ سرمایہ داری کی آزادی کے تحت معاشی امتیازات کم نہیں بلکہ زیادہ اور شدید ہوجاتے ہیں۔ پارلیمانیت انتہائی جمہوری بورژوا رپبلکوں کے اندرونی کردار کو ختم کرنے کے بجائے ان کو طبقاتی جبرو تشدد کے آلہ کار کی حیثیت سے عریاں کرتی ہے۔بہ مقابلہ ان لوگوں کے جو پہلے سیاسی واقعات میں سرگرمی سے حصہ لیتے تھے اب آبادی کے بے انتہا وسیع حصوں کو روشن خیال اور منظم کرنے میں مدد دے کر پارلیمانیت بحرانوں اور سیاسی انقلابوں کو دور کرنے کی نہیں بلکہ ان انقلابوں کے دوران خانہ جنگی کو زیادہ سے زیادہ شدید بنانے کی تیاری کرتی ہے۔ 1871 کی بہار میں پیرس کے واقعات سے ا ور 1905کے جاڑوں میں روس کے واقعات سے یہ صاف ظاہر ہو گیا کہ یہ شدت کتنی ناگزیر طورپر پیدا ہوتی ہے۔ فرانسیسی بورژوازی نے ایک لمحے کے تذبذب کے بغیر پوری قوم کے دشمن سے، اس غیر ملکی فوج سے جس نے اس کے ملک کو تباہ کر دیا تھا معاملہ کر لیا تاکہ پرولتاری تحریک کو کچل دیا جائے۔ جو کوئی بھی پارلیمانیت اور بورژوا جمہوریت کی ناگزیر اندرونی جدلیات کو نہیں سمجھتا جو پہلے کے مقابلے میں عام تشدد کے ذریعہ جھگڑوں کو زیادہ تیزی سے حل کرنے کی طرف لے جاتی ہے، وہ اس پارلیمانیت کی بنیاد پر اصول کے مطابق کبھی پروپیگنڈا اور ایجی ٹیشن نہیںکر سکتا جو مزدوروں کو ایسی ”بحثوں“ میں فاتحانہ شرکت کے لئے واقعی تیار کرتے ہیں۔ مغرب میں سماجی اصلاحات کے حامی اعتدال پسندوں اور روسی انقلاب میں لبرل اصلاح پسندوں (کیڈیٹ(14))کے ساتھ اتحادوں، سمجھوتوں اور بلاکوں کے تجربے نے معتبر طور پر دکھایا ہے کہ یہ سمجھوتے محض عوام کے شعور کو کند کرتے ہیں، کہ یہ ان کی جدوجہد کی حقیقی اہمیت کو بڑھاتے نہیں بلکہ کمزور کرتے ہیں کیونکہ یہ مجاہدوں کو ایسے عناصر سے منسلک کر دیتے ہیں جو جدوجہد کی کم سے صلاحیت رکھتے ہیں اور انتہائی مذبذب اور دغاباز ہیں۔ فرانس میں ملیران ازم (15)وہ سب سے بڑا تجربہ ہے جس میں ترمیم پرستانہ سیاسی طریقہ کار وسیع پیمانے پر، واقعی قومی پیمانے پراستعمال کیا گیا۔ اس ملیران ازم نے ترمیم پرستی کا ایک ایسا عملی اندازہ فراہم کیا ہے جس کو ساری دنیا میں پرولتاریہ کبھی نہ بھولے گا۔
    ترمیم پرستی کے معاشی اور سیاسی رجحانات کا ایک فطری ضمیمہ سوشلسٹ تحریک کے مختتم مقصد کی طرف اس کا رویہ تھا۔ ”تحریک سب کچھ ہے، مختتم مقصد کچھ بھی نہیں“۔ برنشٹائن کایہ نعرہ بہت سے لمبے مقالوں کی بہ نسبت ترمیم پرستی کے نچوڑ کا زیادہ بہتر اظہار کرتا ہے۔ ہر معاملہ کے لئے الگ الگ اپنے رویے کا تعین کرنا، روزانہ کے واقعات اور چھوٹی سیاسی باتوں کی کاٹ چھانٹ اور تبدیلیوں کے مطابق اپنے کو بنانا، پرولتاریہ کے بنیادی مفادات اور سارے سرمایہ دار نظام، سارے سرمایہ دارانہ ارتقا کے بنیادی فیچروں کو بھول جانا، ان بنیادی مفادات کو حال کے حقیقی یا خیالی فوائد پر قربان کر دینا۔ یہ ہے ترمیم پرستی کی پالیسی۔ اب ایسی پالیسی کی نوعیت سے ہی واضح طورپر یہ بات پیدا ہوتی ہے کہ یہ لا محدود قسم کی صورتیں اختیار کر سکتی ہے اور ہر کم وبیش ”نیا“ سوال، ہر کم وبیش غیر متوقع اور پہلے سے نہ دیکھے ہوئے واقعہ کی موڑ، چاہے وہ ارتقا کی بنیادی لائن کو صرف ایک غیرا ہم درجے تک او روہ بھی انتہائی مختصر مدت کے لئے بدلتی ہو، ہمیشہ لازمی طور پر کسی نہ کسی قسم کی ترمیم پرستی پیدا کرے گی۔
     ترمیم پرستی کے ناگزیر ہونے کاتعین موجودہ سماج میں اس کی طبقاتی جڑوں سے کیا جاتا ہے۔ ترمیم پرستی ایک بین اقوامی مظہر ہے۔ ہر صاحب عقل سوشلسٹ، جو ذرا بھی معلومات رکھتا ہے، ذرا بھی شبہ نہیں کر سکتا کہ جرمنی میں کٹر خیال لوگوں اور برنشٹائن کے حامیوں، فرانس میں گیڈیسٹ اور ژور یسیسٹ (اب خاص طور سے بروسیسٹ) (16)، برطانیہ میں سوشل ڈیموکریٹک فیڈریشن (17) اور اندپنڈنٹ لیبرپارٹی (18)، بیلجم میں بروکیر اور وانڈ رویلڈے،اٹلی میںاینٹیگر الیسٹوں اور اصلاح پسندوں (19)، روس میںبالشویکوں اور منشویکوں (20) کے درمیان تعلق، ان تمام ملکوںکی موجودہ حالت میں قومی حالات اور تاریخی عناصر کی زبردست رنگا رنگی کے باوجود، ہر جگہ اپنے مافیہ کے لحاظ سے یکساں ہے۔ دراصل موجودہ بین اقوامی سوشلزم کے اندر ”تقسیم“ دنیا کے مختلف ملکوں میں اب ایک ہی لائن پر چل رہی ہے جو ان تیس یا چالیس برس پہلے کے مقابلے میں زبردست ترقی کی تصدیق کرتی ہے، جب مختلف ملکوں میں طرح طرح کے رجحانات واحد بین اقوامی سوشلزم کے اندر کشمکش کر رہے تھے۔ اور ”بائیں سے ترمیم پرستی“ جس نے اب لاطینی الاصل زبانوں والے ملکوں میں انقلابی سینڈی کالزم“ (21) کی صورت اختیار کر لی ہے اپنے کو مارکس ازم کے مطابق بنا رہی ہے، اس میں ”ترمیم“ کر کے (اٹلی میںلابری اولا اور فرانس میں لاگاردیل) اکثر اس مارکس کی طرف سے جس کو غلط سمجھا جاتا ہے اس مارکس سے اپیل کرتے ہیں جس کو صحیح سمجھا جاتا ہے۔
    ہم اس ترمیم پرستی کے نظریاتی مواد کا تجزیہ یہاں نہیںکر سکتے جو ابھی موقع پرستانہ ترمیم پرستی کی حد تک پہنچنے سے بہت دور ہے، جو ابھی بین اقوامی نہیں ہوئی ہے اور کسی ایک ملک میں بھی سوشلسٹ پارٹی سے واحد بڑی عملی جنگ کی آزمائش سے نہیں گذری ہے۔ اس لئے ہم اپنے کو اس ”دائیں سے ترمیم پرستی“ تک محدود رکھیں گے جس کی وضاحت اوپر کی گئی ہے۔
    سرمایہ دار سماج میںاس کی ناگزیریت کس بات میں ہے؟ وہ قومی خصوصیات اور سرمایہ دارانہ ترقی کے درجوں کے امتیاز سے زیادہ گہری کیوں ہے؟ کیونکہ ہر سرمایہ دار ملک میں، پرولتاریہ کے ساتھ ساتھ ہمیشہ پیٹی بروژوازی، چھوٹے صاحبان جائداد کی وسیع پرت بھی ہوتی ہے۔ چھوٹی پیداوار سے سرمایہ داری ابھری تھی اور برابر ابھر رہی ہے۔لازمی طورپر سرمایہ داری سے متعدد نئی ”وسطی پرتیں“ پیدا ہوتی ہیں (فیکٹری کی شاخ، گھر پرکام، چھوٹے ورکشاپ جو سارے ملک میں بڑی صنعتوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے پھیلے ہوئے ہیں مثلاً سائیکل اور موٹر کی صنعتوں وغیرہ کی ضروریات)۔ یہ نئے چھوٹی پیداوار کرنے والے لازمی طورپر پھر پرولتاریہ کی صفوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ یہ بالکل فطری ہے کہ پیٹی بورژوا عالمی نقطئہ نظر مزدوروں کی وسیع پارٹیوں میں بار بار سر اٹھاتا ہے۔ ایسا ہونا بالکل فطری ہے اورہمیشہ ایسا ہی ہوگا، اس وقت تک جب پرولتاری انقلاب قسمتیں بدل دے گا، کیونکہ یہ سوچنا سخت غلطی ہو گی کہ ایسا انقلاب کرنے کے لئے آبادی کی اکثریت کو ”مکمل طور سے“ پرولتاری بنانالازمی ہے۔ اس وقت ہمیں جو تجربہ صرف نظریات کے شعبے میں اکثر ہوتا ہے۔ یعنی مارکس ازم میں نظریاتی ترمیموں پر بحث مباحثہ، جو کچھ اب مزدور تحریک کے صرف انفرادی جزوی مسائل کے عمل میں، ترمیم پرستوں کے ساتھ طریقہ کار کے اختلافات اور اس بنیاد ر علحدگی کی صورت میں پیدا ہوتا ہے، اسی کا سامنا مزدور طبقے کو بے نظیر بڑے پیمانے پر ضرور کرنا پڑے گا جب پرولتاری انقلاب تمام متنازع مسائل کو تیز کر دے گا، تمام اختلافات کو ایسے نکتوں پر مرکوز کر دے گا جو عوام کے رویے کے تعین کے لئے براہ راست اہمیت کے حامل ہوں گے اور اس بات کو ضروری بنا دے گا کہ جدوجہد کی گرما گرمی میں دوست دشمن کا امتیاز کیا جائے او ربرے اتحادیوں کو ترک کر دیا جائے تاکہ دشمن پر فیصلہ کن ضرب لگائی جا سکے۔    
    انقلابی مارکس ازم نے جو نظریاتی جدوجہد 19 ویں صدی کے آخر میں ترمیم پرستی کے خلاف کی ہے وہ صرف پرولتاریہ کی عظیم انقلابی جنگوں کی نقیب ہے جو اپنے کاز کی مکمل فتح ی طرف پیٹی بورژوازی کے تمام تذبذب اور کمزوریوں کے باوجود بڑھتا جا رہا ہے۔

No comments:

Post a Comment