FREDERICK ENGELS
فریڈرک ا ینگلز
SOCIALISM, SCIENTIFIC AND UTOPIAN
سو شلزم، سائنسی اور خےالی
1878
تعارف: یہ کتاب جیساکہ فریڈرک اےنگلزکے دیباچہ سے ظاہر ہوتا ہے اس کی ایک کتاب کے تین ابواب پر مشتمل ہے۔پوری کتاب قا طع دوہرنگ (Anti- Dugring)کے نام سے مشہور ہے۔جسے فریڈرک اےنگلز نے جرمن زبان میں لکھا تھا۔اس کے ایک دوست نے ان تین ابواب کا فرانسیسی میں تر جمہ کیا ۔فرانسیسی ترجمے کو بہت زیادہ مقبو لیت ہو ئی۔ چنا نچہ بہت تھوڑی مدت میں یہ کتاب کئی ایک یورپی زبانوں میںشا ئع ہو گئی۔ ایڈدرڈ ایولنگ نے اس کا انگر یزی میں ترجمہ کےا۔اسی ترجمے کواردو میںپیش کیا جا ر ہا ہے۔
سا ئنسی سو شلزم کے مطا لب و معانی سے آگاہ ہونے کے لئے فر یڈرک ا ینگلز کی یہ کتاب بہت مفید ہے۔اس کتاب کے مفہوم سے واقف ہو جا نے کے بعد کارل ،ما رکس فریڈرک ا ینگلز،لینن، اور دوسرے سا ئینسی سو شلزم پر لکھنے والوں کی کتابوں کے سمجھنے میں کا فی حد تک آ سا نی پیدا ہو جا تی ہے۔
فر یڈرک اےنگلز
مختصر حالات زندگی
فریڈرک اینگلز820-1895) 1 (جرمنی کے ا یک کارخانہ دار کا بیٹا تھا۔ اس نے بریمن مےں ابتدا ئی پڑھائی کی۔باپ کی خوا ہش تھی کہ اس کا بیٹا قانون کی تعلیم حا صل کرے لیکن بیٹا شعر و شاعری کی د ھن میں تھا۔اسے بہت جلد محسوس ہو نے لگاکہ شعر وشاعری اس کے بس کا روگ نہیں۔ اب نوجوان فر یڈرک ا ینگلز نے ادب اور فلسفہ پڑھنا شروع کر دیا۔بیٹے کا یہ طرز عمل باپ کو پسند نہ آ یا۔ چنا نچہ اس نے ا ینگلز کو بر یمن میں کار خا ر نہ کا تجربہ حاصل کر نے کے لئے بھیج دیا۔بر یمن مےںقیام کے دوران ا س نے ہیگل کے فلسفہ کا مطا لعہ شر وع کر دیا۔
ا کیس بر س کی عمر میںاےنگلز کو فو جی تعلیم حا صل کرنے © کے لئے برلن جا نا پڑا بر لن میں اس نے اپنے آپ کو ہیگل کے شیدا ئیوں کی جما عت سے وابستہ کر لیا۔اسی دوران میں اس نے ایک سو شلسٹ ا خبار میں فرضی نام سے لکھنا شروع کر دیا۔دو سال میں فو جی تعلیم ختم ہو گئی۔اینگلز کو گھر جا نا پڑا۔اسی ا ثنا میں باپ کو بیٹے کے خیا لات کا پتہ چل گیا۔چنا نچہ اس نے اینگلز کو مانچسٹر بھیج د یا۔
انگلستان جا تے ہو ئے فر یڈرک ا ینگلز نے کو لون میں کا رل مارکس سے ملا قات کی جس میں اینگلز نے کارل مارکس کے ا خبار کے لئے لکھنے کا وعدہ کیا۔انگلستان پہنچنے کے بعد اینگلز اس وعدہ کو پورا کر تا رہا۔ مانچسٹر کے قیام میں اس نے رابرٹ اودین سے ر بط ضبط پیدا کیا۔1848 میں جر منی جا تے ہوئے فر یڈرک ا ینگلز نے پیرس میں کا رل مارکس سے ملا قا ت کی۔ دوسری ملا قات کا نتیجہ اس دوستی کی بنیاد تھی جس نے آگے چل کر تا ر یخی صورت ا ختیار کر لی تھوڑی مد ت تک بر یمن میں ر ہنے کے بعد اینگلز برو سیلز چلا گیا۔ ما رکس بھی ان دنوں و ہیں تھا۔پیرس میں” جر من کمیو نسٹ لیگ“کے نام سے ایک خفیہ سو سائٹی بن چکی تھی۔ اینگلز نے اس جما عت میں شامل ہو کر پیر س میں ر ہنے والے جر من مزدوروں کو منظم کر نا شروع کر دیا۔ جون۷۴۸۱ءمیںکمیونسٹ لیگ کی پہلی کانگرس(اجلاس)لندن میں ہوئی۔اسی کا نگرس میں فریڈرک اینگلز نے ”دنیا کے مزدورو ایک ہو جاﺅ“کا نعرہ بلند کیا تھا۔اسی کانگریس میں یہ طے پایا تھاکہ کمیونسٹ لیگ کا ایک ا علان نا مہ مر تب کیا جا ئے چنا نچہ ما رکس اور اینگلز نے مل کر ےہ اعلان نا مہ مر تب کیا جو” کمیو نسٹ مینی فیسٹو“کہلاتا ہے۔فر یڈرک ا ینگلز اور کارل مارکس کو لون ہی میں مقیم تھے کہ1848 میں فر انس میں ا نقلاب ہو گیا جس کے اثرات آہستہ آہستہ سارے ےورپ پر چھا گئے۔مارکس اور اینگلز جر منی کی انقلابی تحرےک کی ر ہنما ئی کر رہے تھے۔ جنو بی جر منی میں مزدوروں اور شا ہی فو ج میں جو تصادم ہواا ±س نے خانہ جنگی کی صورت اختیار کر لی۔مزدوروں کی فوج میں بھرتی ہو کر فریڈرک اینگلز نے چار لڑائےوں میں حصہ لیا۔ اس خا نہ جنگی میں مزدوروں کو شکست ہوئی۔ کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز کو جلا و طن ہو کر لندن جانا پڑا۔تھوڑی مدت تک مارکس اور اینگلز لندن میں اکھٹے رہے۔اس کے بعد فر یڈرک اینگلز اپنے باپ کے کارخانے میں نوکری کرنے کے لئے مانچسٹر چلاگیا۔1870 میں فر یڈرک اینگلز لندن چلا آےا۔ اب اس نے سارا وقت لکھنے پڑ ھنے میں صرف کرنا شروع کر دےا"قا طع دوہرنگ" اسی زمانے میں لکھی گئی تھی۔ یہ کتاب ا ینگلز کا عظےم کار نامہ ہے۔ کارل مارکس کی موت کے بعد فریڈرک اینگلز نے ایک طرف تو مارکس کے نا تمام مسودات کومکمل کیا اور دوسری طرف اس نے بین الاقوامی مزدور تحریک کی ر ہنما ئی کو جا ری ر کھا۔
فر یڈرک اینگلز
سو شلزم، خیا لی اور سائنسی
مند ر جات:
پیش لفظ
پہلا باب
دوسراباب
تیسرا باب
فر ہنگ
پیش لفظ
آئند صفحات میری کتاب "سا ئنس میں ہر ایوگن دوہرنگ کا ا نقلاب"کے تین ابواب سے ما خوذہیں۔ یہ کتاب1878میں لپزگ میں چھپی تھی۔میں نے ان ابواب کو تھوڑی سی تر میم کے ساتھ اپنے دوست پال کنارک کے لئے یکجا کیا تا کہ وہ ان کا فر ا نسیسی میں تر جمہ کر یں۔یہ فرا نسیسی تر جمہ میرے د ہرائے جانے کے بعد شا ئع ہوا۔اس کے بعد ےہ ترجمہ1880 میں پیرس سے” خیالی سو شلزم اورسائنیسی سو شلزم“کے نام سے شائع ہوا۔اس فرانسیسی تر جمے سے اس کتاب کا ”خیالی اور سائنسی سو شلزم“کے نام سے پولستانی زبان میں1882میںجنیواسے ترجمہ شائع ہوا۔فرا نسیسی بولنے والے ملکوں اور خصوصاً فرانس میں لنارک کے تر جمے کو جو مقبولےت حا صل ہوئی اس سے مجھے خیال پیدا ہوا کہ ان تین ابواب کو اگر جرمن زبان میں چھا پ دیا جائے تو یہ ایک مفید کام ہو گا۔ انہی دنوں زبایورچ کے''سوزی آل د یموکرات "کے اےڈ یٹروں نے مجھے ا طلاع دی کہ جر من سو شل ڈیموکر ٹیک پارٹی کی طرف سے نئے نئے پراپےگنڈاپمفلٹوںکا مطا لبہ کیا جا ری ر ہا ہے اس کے ساتھ ہی انہوںنے مجھ سے پو چھا کہ آےا میں انہیں اس مقصد کے لئے ان تین ابواب کے چھانپے کی اجا زت دے سکتا ہوں۔ظا ہر ہے کہ مجھے ان سے پورا پورا اتفاق تھا۔اس لئے میں نے کتاب ان کے حوالے کر دی۔ا صل میں یہ کتا ب فوری مو ¿ ثر پر و پگنڈ ے کے لئے نہیں لکھی گئی تھی۔ ایک خا لص سا ئنسی کتاب اس مقصد کے لئے کیو نکہ مو زوں ہو سکتی تھی؟تر تیب اور نفسِ مضمون میں کن تبد یلیو ں کی ضر ورت تھی؟ جہاں تک تر تیب کا تعلق ہے صرف بے شما ر غیر ملکی ا لفا ظ دشواری پیدا کر سکتے تھے۔ لیکن کسال بھی اپنی تقر یرں اور پر و پیگنڈا تحر یروں میں غیر ملکی ا لفا ظ سے گر یز نہیں کر تا تھا۔ جہاں تک مجھے علم ہے اس بارے میں کبھی کسی نے شکا یت نہیں کی۔اس وقت سے اب تک ہما رے مزدور اخباربینی میں زےا دہ باقاعد ہ ہو گئے ہیں۔اب وہ پہلے سے کہیں زےادہ گنتی میں اخبار پڑھتے ہیں۔ اس لئے وہ غیر ملکی لفظوں سے زیادہ مانوس ہو چکے ہیں۔میں نے صر ف غیر ضروری غیر ملکی الفا ظ نکا ل د ئیے ہیں۔اےسے غیر ملکی الفا ظ کی، جن کا استعمال بہت ضروری تھا، میں نے کسی قسم تشر یح ےا تر جمہ نہیں کیا۔اگر ان غیر ملکی الفا ظ کا تر جمہ ممکن ہوتا تو پھر انہیں اصل صورت میں کیوں قبول کر لےا جاتا۔ سائنسیی اصطلا حا ت کے تر جمے سے مفہوم بگڑ جاتا۔ سلجھا ﺅ کی جگہ اُلجھاو ¿ پیدا ہو جا تا ہے۔تر جمہ کر نے سے کہیں زےادہ مفید ہے کہ ان ا صطلا حا ت کی ز با نی و ضا حت کر دی جائے!جہا ں تک نفسِ مضمون کا تعلق ہے میرا خیا ل ہے کہ میں یہ د عویٰ کر سکتا ہوں کہ اس کے سمجھنے میں جر من مزدور وں کو کو ئی مشکل پیش نہیں آ ئے گی۔ مجمو عی طور پر صرف تیسرا باب مشکل ہے۔لیکن اس میں بھی” ´ تعلیم یا فتہ “سر ما یہ داروں کے لئے مزدوروں کی نسبت ز یا دہ مشکلات ہو گی۔مطا لب کی و ضا حت کے لئے میں نے کہیں کہیں کچھ تشریحی اضا فے کر دیے ہیں۔ ایسا کر نے میں میرے پیش نظر مزدوروں سے کہیں زےادہ”پڑھے لکھے“ نا ظر ین ہیں جن میں نان امیزن،ہنریش نان سیبل اور دوسرے سر مایہ دار جر من مورخ شامل ہیں جو بار بار قا بو میں نہ آنے والی حسِ سے متاثر ہو کر اپنی تحر یر وں میں اپنی خو فناک جہالت کا مظا ہرہ کر تے ر ہتے ہیں۔ےہ لوگ سو شلزم کے بارے میں بھی بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ اگر ڈان کو ئی ہوٹے Don Quxote اپنے نیزے سے پن چکیوں پر حملہ کرتا ہے۔تو وہ اپنا فر ض ادا کرتا ہے۔ لیکن ہم اس بات کو کبھی بر داشت نہیں کر سکیں گے کہ سا نچوپا نزا Sancho Panzaاس قسم کی حر کات کرتا پھرے۔اس قسم کے نا ظر ین اس بات کو د یکھ کر بھی بہت زیادہ حیران ہوں گے کہ سوشلزم کے ار تقا کی تار یخ میں انہیں کا نٹ اور لاپلاس کے نظرےہ ¿ آفرینش ،موجود طبعی علوم، ڈارون،کلا سیکی جرمن فلسفے اور ہیگل کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ سا ئنسی سوشلزم اصلاََ جرمن سا خت کی ہے۔ سائنسی سوشلزم کا ظہور اسی قوم میں ہو سکتا تھا۔ جس نے شعوری جدلیات کی رواَیتواں کو ز ندہ رکھا ہوجرمنی تا ریخ کے ما دی نظر یہ اور نئی سو سا ئٹی میں مزدوروںاور سر مایہ داروں کی کش مکش پر اس کا اطلا ق جد لیات کے بغیر نا ممکن تھا۔ اب جرمن سر مایہ داروں کے اسکول ماسٹر جر منی کے بڑے بڑے فلسفیو ں اور جد لیات کو بُھلا کر بال کی کھا ل نکالنے میں اس حد تک مصر وف ہیں جد لیات کے ثبوت کے لئے طبعی علم کو شا ہد بنانا پڑا ہےہم جرمن سوشلسٹ اس بات پر نازاں ہیں کہ ہم نے صرف سین سمیون، فورئیے اور اودین سے اخذ کیا ہے کانت،فشطے اور ہیگل کا تر کہ بھی پایا ہے۔
فر یڈرک ا ینگلز
لندن، 21 ستمبر1882
باب 1
جد ید سو شلزم اپنی ما ہیت میں نتیجہ ہے ایک طرف نئی سو سا ئٹی میں مو جودہ طبقا تی تضاد اور دوسری طرف اس نراج کا جو پیداوار میں ہے۔ نئے سماج کا یہ تضاد اُجرتی مز دوروں اور سر مایہ داروں میں پایا جاتا ہے۔ جد ید سوشلزم اپنی نظر یاتی بنا وٹ میں اٹھا رہویں صد ی کے فر انسیسی فلسفیوں کے خیا لات کی ار تقا ئی صورت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جد ید سو شلزم کی جڑ یں مادی اور معاشی اسباب میں چھپی ہوئی ہیں لیکن ہر نئے نظر یئے کی طرح سو شلزم بھی ابتدا میںذہنی مواد کے ا حا طے سے متعلق ر ہاہے۔
فرانس کے اُن بڑے آ دمیوں نے ،جو لو گوں کے ذہن کو آ نے والے انقلاب کے لئے تیار کر ر ہے تھے ،خود بھی انتہا ئی درجہ انقلابی رویئے اختیار کئے رکھے۔و ±ہ کسی قسم کی خارجی قُّوت کے قا ئل نہیں تھے۔مذ ہب،مظا ہرِ قدرت کے تصّورات، سو سا ئٹی ، سیا سی نظام، غر ض یہ کہ ہر چیز ان کی بے ر حما نہ تنقید کا نشا نہ بنی ہو ئی تھی۔ ان کے نزدیک ہر چیز کے لئے ضروری تھا کہ وہ اپنی ہستی کو عقل کی میزان میں ثابت کرے ےا اپنی ہستی کے تمام دُعاوی سے دست بردار ہو جائے۔ہر چیز کو د لیل کے پیمانے میں نا پا جا نے لگا۔ ےہ وہ زمانہ تھا جب کہ ہیگل کے خےال میں دنیا اپنے سر کے بل کھڑی تھی۔ ابتدا میں اس سے ےہ مراد تھی کہ انسا نی ذہن اور اس کے غور و فکر سے پیدا شدہ اصول ہی انسان کے تمام افعال اور حرکات کی بنیاد ہیں۔ لیکن آگے چل کر ان الفاظ کے مفہوم میں و سعت پیدا ہو گئی اور اس سے یہ سمجھا جانے لگا کہ اگر کوئی حقیقت ان اصولوں کی ضد ہو تو اسے اسے اُلٹ پلٹ کر ان کے مطابق بنا دینا چاہیے۔چنا چہ سو سا ئٹی اور حکومت کی تمام پچھلی صورتوں اور روایات پر مبنی پرانے خیالات کو نا معقول کہہ کر ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا۔ ان کے نزدیک اس و قت تک دنیا تعصبات کی تقلید کرتی رہی تھی۔ اس لئے ما ضی کی ہر چیز افسوس اور نفرت کی مستحق تھی۔ پہلی مر تبہ صبح نمودار ہو ئی،عقل کا آفتاب روشنی لئے ہوئے ظا ہر ہوا۔ آئندہ تو ہمات بے انصا فی، مر اعات اور دباﺅ کی جگہ ابدی سچا ئی،ابدی انصاف کے اصولوں پر مبنی مسا وات اور انسا ن کے کبھی جدا نہ ہونے والے حقوق کا دَور دورہ ہو گا۔
آج ہم اس بات کو جانتے ہیں کہ عقل کی یہ بادشا ہت سر مایہ داروں کی بادشاہت سے ز یادہ نہیں تھی جسے انہوں نے بڑ ھا چڑ ھا کر پیش کیا تھا۔ابدی انصاف سر مایہ داروںکے انصاف کی صورت میں ظاہر ہوا،مساوات کا تصّور قانون کے سامنے مساوات کے سر مایہ دارانہ تصّور سے آگے نہ بڑھ سکا۔ سر مایہ داروں کی ملکیت کو انسانی حقوق کی بنیاد قرار دےا گیا۔عقل کی بادشا ہت اور ُروسو کے معا ہدہ ¿ عِمرانی کا ظہور صرف سر مایہ داروں کی جمہوریت کی صو رت میں ہوا۔ اپنے سے پہلے گزرے ہوئے مفکر بھی اپنے عہد کی حدود پا ر نہیں کر سکتے تھے۔
لےکن جا گیر دارانہ امارت اور سر مایہ داروں کے نز اع کے ساتھ سا تھ لُو ٹنے والوں اور لٹنے والوں- -کا ہل امیروں اور محنت کش غر یبوں میں بھی باہمی نزاع جا ری تھی۔ اِن حالات نے سر مایہ داروں کے نمائندوں کو کسی خاص طبقے کی نمائندگی کی جگہ د ُکھ کی ماری ہوئی ساری نوع انسانی کا نمائندہ بنا دےا۔اس سے بھی زیادہ سرمایہ داروں کی جما عت کو اپنے آ غاز ہی سے اپنی ضد کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہ ایک کھلی ہوئی بات ہے کہ سر مایہ دار بغیر ا جرتی مزدوروں کے اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتے ۔ طرح از منہ ¿ وسطیٰ کے گِلڈ کاتاجر موجودہ سر مایہ دار کی صورت اختیار کر گیا اسی طرح گلڈ میں اور اس سے اُجرت پر کام کرنے والے کاریگر آہستہ آہستہ پرولتاریہ میں بدل گئے۔اگر چہ سر ما یہ دار جاگیرداروں سے ٹکّر لیتے وقت یہ دعویٰ کر سکتے تھے کہ وہ اس زمانے کے مزدوروں کے مختلف گروہوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ لیکن اس پر بھی سر مایہ داروں کی ہر بڑی تحریک میں اس جما عت کی طرف سے آزادانہ ہنگامے ہوتے رہے جو موجودہ پر ولتاریہ کی پیش رو تھی۔ مثال کے طور پرجرمنی میں تحریکِ اصلاح اور کسانوں کی جنگ کے زمانہ میں تھا مس منزر کی تحریک،انگلستان کے انقلاب کے زمانے میں لیولر کی تحریک اور انقلاب فرانس میں بابوف کی تحریک۔
اس طبقہ کی جس نے ابھی تک پوری نشو ونما نہیں پائی تھی۔مسلّح شور شوں کے ساتھ ساتھ اس جماعت کے متعلق نظرےاتی اثر ات بھی ظا ہر ہونے لگے۔چنانچہ سو لھویں اور ستر ہویں صدی میں ایک مثالی مُعاشرت کے خیالی خاکے تیار کئے گئے۔ اٹھارھویں صدی میں موریلی اور میبلی نے کمیو نسٹ سو سائٹی کے نظرئیے مرتب کئے۔اب مساوات کا مطالبہ صرف سیاسی حقوق تک محدود نہ رہا بلکہ اسے افراد کے مجلسی حالات پر بھی پھیلا دیا گیا۔ طبقاتی مراعات کے مٹا د ئیے جانے کے ساتھ ساتھ طبقاتی امتیازات کی تنسیح کا بھی مطا لبہ ہونے لگا۔نئی تعلےمات کا اظہار اےک اےسے راہبا نہ کمیو نزم کی صورت میں ہواجو زندگی کی تمام مسّرتوں سے منہ موڑے ہوئے، انسا نی زندگی کو اسپا رٹی رنگ میں دیکھنا چاہتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی تین خیالی سو شلسٹوںکا دور آیا۔سین سمیون جس پر مزدوروں کے اثر کے ساتھ ساتھ بورژوائی اثرات بھی غالب تھے۔فورئیے اور اودین با قی ماندہ دو خیالی سو شلسٹ ہیں۔ اودین نے اس ملک میںجہاں سر مایہ دارانہ پیدا وار سب سے زیادہ تر قی پر تھی۔ طبقاتی امتیازات مٹا نے کے لئے اےسی تجویزیں مر تب کیں جن کا براہ راست تعلق فرانسیسی مادیت سے تھا۔
ان تینوں میں یہ بات سانجھی ہے کہ ان میں سے کو ئی بھی مزدوروں کے مفاد کی نما ئندگی کے لیے آگے نہیں بڑھا جو(مزدورطبقہ) اس اثنا میں تاریخ نے پیدا کر دےا تھا۔ فرانسےسی فلسفیوں کی طرح و’ہ سب سے پہلے کسی خاص طبقہ کو آزادی نہیں دلاتے بلکہ وُہ ساری نوعِ انسانی کی آزادی کا دعو یٰ کر تے ہیں۔ان فلسفیوں کی طرح وہ بھی عقل اور ابدی عدل کی بادشاہت قائم کرنا چا ہتے ہیں۔
لیکن ان تینوںخیالی سوشلسٹو ں اور فرانسیسی فلسفیوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ان تینوں کی نظر میں بو رژوائی دنیا بھی، انکے اصولوں کی بنےاد پر، نا معقول اور غیرمُنصف ہے اور اسی وجہ سے و’ہ جا گیر داری اور اس کے پہلے کے سو شل نظاموں کی طرح اس نئے نظام کو بھی ٹھکرا دینا چاہتے ہیں۔اگر اس وقت تک خاص خا لص عقل اور عدل کی حکومت قا ئم نہیں ہو سکی تو اس کی صرف یہی وجہ ہے کہ لوگوں نے اب تک ان کا صحیح مفہوم نہیں سمجھا۔انکے نزدےک اےک اےسے بلند خیال مفکّرکی ضرورت تھی جو اب پیدا ہو چکا ہے او ر جو سچائی کو سمجھتا ہے۔کہ اےسا مفکر اب پےدا ہو چکا ہے اور ےہ کہ ےہ کوئی ناگزیر واقعہ نہےںہے، نہ ہی تارےخی ارتقا کا تلازمہ ہے، بلکہ اےک خوشگوار حادثہ ہے۔ ان کے خیال کے مطابق ایسی ہستی پا نسوسال پہلے پیدا ہو کر نوع انسانی کو پانسوسال کی لغز شوں، کش مکشوں اور مصیبتوں سے بچا سکتی تھی۔
ہم دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح اٹھا رہویں صدی کے فرانسیسی فلسفیوں نے انقلاب کے لئے راستہ تیار کیا اور موجودات کے لئے صرف عقل کو پر کھیا بنانے کی اپیل کی۔و’ہ ایک عقلی ریاست اور ایک عقلی سو سائٹی بنانے کے بعد ہر اُس چیز کو، جو اَبدی عقلیت کے منا فی ہو تی، ختم کر دینا چا ہتے تھے۔ ہم یہ بھی دیکھ چکے ہیںکہ یہ ابدی عقلیت حقیقت میں اُس درمیانے طبقے کی مثالی فراست کے سوا کچھ نہیں تھی جو آہستہ آہستہ سر مایہ داروں کا روپ اختیار کر رہا تھا۔جب انقلابِ فرانس نے اس عقلی سو سائٹی اور عقلی ریاست کو حاصل کرلیا تو یہ بات ظا ہر ہوئی کہ و’ہ نئے ادارے جو پہلے سے زیادہ عقلی تھے۔و’ہ کسی حالات میںبھی مکّمل طور پر عقلی نہیں تھے۔’عقلی ریاست ‘کی یہ کشتی پاش پاش ہو گئی۔روسوکا معاہدہ ¿عمرانی عہدِ خطر کی صورت میں ظا ہر ہوا۔بہت جلد سر مایہ داروں نے، جنہیں اپنی سیاسی صلاحیت پر بھروسہ نہیں رہا تھا، پہلے نظامت کی بد عنوانیوں میں پناہ لی اور پھر نپولین کے استبداد کے سایہ تلے چلی گئی۔موعودہ ابدی امن، ایک نہ ختم ہونے والی فتوحات کی جنگ کی صورت میں ظا ہر ہوا۔عقلی سو سائٹی کاانجام بھی کچھ بہتر نہیںتھا۔امیر اور غریب کا تضاد گِلڈ اور دوسرے اداروں کے مٹ جانے اور کلیسےاکے خےراتی اداروں کے بند ہو جانے سے زیادہ تیز ہو گیا۔ملکیت کی آزادی کا حق اس سے آگے نہ بڑ ھ سکا کہ چھوٹے سر مایہ دار اور چھوٹے کاشتکار اپنی ملکیت کو بڑے سرمایہ داروں اوربڑے زمےنداروں کے ہاتھ فروخت کر سکےں۔ جہاں تک چھوٹے کا شتکاروں کا تعلق تھا، ان کے لئے یہ آزادی اپنی اپنی ملکیت سے آزادی بن گئی۔سر مایہ دارانہ اُصول پر صنعتی تر قی نے محنت کرنے والے طبقوں کے افلاس اور دُکھ کو اِس حد تک بڑھادیا کہ وہ سماج کے وجود کا ایک لازمی سبب بن گئے۔ کارلائل کے الفاظ میں”انسانوں کے باہمی تعلقات کا انحصار نقد ادائیگی پر تھا“۔ جرائم کی فہرست میں ہر سال اضافہ ہونے لگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جاگیردارانہ دور کی برائیاں، جو پہلے دِن دےہاڑے ہُوا کرتی تھیں ، وہ کُلی طور پر ختم تو نہیں ہوئی تھیں۔ لیکن پھر بھی انہیں عارضی طور پر جبراََ نظروں سے اوجھل ہونا پڑا تھا۔ لیکن سرمایہ دارانہ بُرائیا ں جو پہلے چھُپ چھُپ کر ہوتی تھیں اب سرِ بازار ہونے لگیں ۔ کاروبار میں آہستہ آہستہ دغابازی پیدا ہوتی چلی گئی ۔ انقلاب پسندوں کا نعرئہ اخوت عیارانہ سوفسطائیت اور حریفانہ کش مکش کی رقابت میں ظاہر ہوا۔ ظلم و ستم کی جگہ بدعنوانی نے لے لی ۔ مجلسی اِقتدار کے حصول کے لئے تلوار کی جگہ دولت نے سنبھالی ۔ پہلی رات کا حق جاگیر داروں کے ہاتھ سے نکل کر سرمایہ داروں کے تصرف میں آگیا ۔بےسیوا پن میں نمایاں اضافہ ہوا ۔ پہلے کی طرح شادی آئینی صورت میں تو رہی ۔ لیکن اسے بیسوا پن کے لئے ایک پردہ بنا دیا گیا ۔ زنا کاری بھی ساتھ ساتھ بڑھنے لگی ۔
روشن خیالی کے َعلم برداروں کے جوشیلے وعدوں کے مقابلے پر عقیلت کی فتح نے جو مجلسی اور سیاسی ادارے قائم کئے تھے وہ محض ازالہ اوہام کے خاکے ثابت ہوئے ۔ اب صرف اس بات کی کمی تھی کہ چند لوگ اس ازا لہ اوہام کی آواز بلند کرتے چنانچہ نئی صدی کے شروع ہوتے ہی یہ لوگ آگئے۔ 1802 میں سین سیمون کی کتاب ”مکتوبِ جنیوا ©“ شائع ہوئی ۔ فورئیے نے اگرچہ اپنے نظریہ کی بنیاد 1799 میں رکھی تھی ۔ لیکن اس کی پہلی کتاب 1809 میں چھپی ۔ جنوری 1800 کی پہلی تاریخ کو رابرٹ اووین نے نیو لنارک کے نظم و نسق کو اپنے ہاتھ میں لیا۔ اُس زمانہ میں سرمایہ دارانہ طریق پیداوار اور اس کے ساتھ ہی سرمایہ داروں اور مزدورں کے باہمی نزاع نے کوئی نمایاں صورت اختیار نہیں کی تھی ۔ جس صنعت کا بڑے پیمانے پر انگلستان میںآغاز ہو چکا تھا ، وُہ صنعت فرانس میں موجود نہیں تھی ۔ بڑے پیمانے کی یہی صنعت ایک طرف تو ایسے تضاد کی نشونما کرتیہے جو ذریعہ پیداوار میں انقلاب پیدا کرتا ہے ۔ اور جو ذریعہ پیداوار کی سرمایہ دارانہ ہیئت کو ختم کر دیتا ہے ۔ یہ اختتام ایک فوری ضرورت بن جاتا ہے ۔ یہ تضاد نہ صر ف ان طبقوں میں پیدا ہوتا ہے جنہیں بڑی صنعت پیدا کر تی ہے بلکہ ان پیداآور قوتوں اور تبادلے کی صورتوں میں بھی تضاد پیدا ہو جاتا ہے جنہیں بڑی صنعت پیدا کرتی ہے ۔ دوسری طرف یہ بڑی صنعت ان بڑی بڑی پیدا آور قوتوں کے تضاد کو مٹانے کے اسباب بھی پیدا کر دیتی ہے ۔ 1800میں نئے مجلسی نظام کے تضاد نے ابھرنا شروع کیا تھا ۔ اس تضاد کو حل کرنے والے اسباب ایک دم کیو نکر ہوسکتے تھے۔ اگرچہ عہدِخطر میں پیرس کے بھوکے ننگوں نے تھوڑی دیر کے لئے سرمایہ داروں کی مرضی کے خلاف سرمایہ داروں کے انقلاب کو کامیاب بنا کر حکومت پر قبضہ کر لیا تھا ۔ ایسے کرنے سے انہوں نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ ان حالات میں وُہ زیادہ دیر تک اپنی حکومت قائم نہیں رکھ سکتے تھے ۔ مزدور طبقہ ،جو اس زمانہ میں بھوکے ننگے عوام سے علیحدہ ہو کر ایک نئے طبقے کی صورت اختیار کر رہا تھا، اتنی صلاحیت نہیں رکھتا تھا کہ وُہ آزاد انہ طور سے کوئی سیاسی کا م کر سکتا ۔ مزدور طبقہ تو ابھی مُصیبت زدہ تھا جو اپنی مدد آپ نہیں کر سکتا تھا اور جسے صرف باہر سے یا اوپر کے طبقے سے مدد مل سکتی تھی ۔
اس تاریخی حقیقت نے سوشلزم کے بانیوں پر بھی غلبہ پا لیا تھا ۔ خا م سرمایہ دارانہ ذریعہ پیداوار اور خام طبقاتی احساس نے خام نظریئے پیدا کردیئے ۔ مجلسی مسائل کا وہ حل جو ابھی تک غیر ترقی یافتہ معاشی اسباب میں چھپا ہوا تھا ۔ اسے سوشلزم کے ان بانیوں نے خام انداز میں پیش کر دیا ۔ سوسائٹی خرابیوں سے بھری ہوئی تھی۔ ان خرابیوں کو دور کرنا غور و فکر کے ذُمہ تھا ۔ اس بات کی سب سے زیادہ ضرورت تھی کہ کسی نئے اور مکمل مجلسی نظام کو تلاش کیا جاتا اور پھر باہر سے اس کا امکان ہوتا وہاں چند تجربوں کو نمونہ بنا کر پیش کیا جاتا۔ یہ نئے نئے مجلسی نظام شروع ہی سے خیالی خاکوں کی حیثیت رکھتے تھے ۔ ان خاکوں میں جتنی زیادہ رنگ آمیزی کی جاتی وُہ اتنے ہی زیادہ پھیکے ہوتے چلے جاتے ۔
اس امر کے تسلیم کئے جانے کے بعد اب ہم ایک لمحہ کے لئے اس مسئلہ پر، جس کا سارا تعلق ما ضی سے ہے، غور نہیں کر نا چاہتے ۔ ہم اس مسئلہ کو اُن ادبی مفسروں پر چھوڑتے ہیں جو ان خیالی خاکوں کے متعلق ذہنی برتری کا ثبوت دینا چاہیں ۔اس کے برعکس ہم ان خیالات پر بحث کریں گے جو ان خیالی خاکوں کی پردہ پوشی کے ضمن میں ہمارے سامنے آتے ہیں اور جن سے یہ کم نظر لوگ واقف نہیں ہیں ۔ سین سیمون فرانس کے بڑے انقلاب کا فرزند تھا ۔ انقلاب کے وقت وُہ تیس سال سے بھی کم تھا۔ اس انقلاب میں تیسرے طبقہ کو فتح حاصل ہوئی تھی ۔ تیسرے طبقے سے مراد فرانسیسی قوم کے وُہ عوام ہیں جو تجارت اور پیدوار میں کام کرتے ۔ اس انقلاب میں مراعاتی طبقوں، نوابوں اور پادریوں کو شکست ہوئی تھی ۔ لیکن تیسرے طبقے کی یہ فتح بہت جلد اسی طبقے کے ایک چھوٹے سے حصے کی فتح بن گئی ۔ تمام سیاسی قوت پر املاک رکھنے والوں کا تسلط ہوگیا تھا ۔ سرمایہ داروں کے اس طبقے نے نوابوں اور کلیسیا کی ضبط شدہ جائیدادوں پر سٹہ کھیل کر اور فوجی ٹھیکوں کے نام پر قوم سے دھوکا کر کے بہت زیادہ دولت کمالی تھی ۔ ان اُچکوں کی بدولت نظامت کے عہد میں فرانس تباہی کے کناروں تک پہنچ گیا اس طرح نپولین کو موقع مل گیا کہ وُہ فوجی ہلہ بول کر اقتدار حاصل کر لے ۔
یہی وجہ کہ سین سیمون کے خیا ل میں تیسرے طبقے اور مراعاتی طبقو ں کی نزاع نے ورکروں اور کا ہلوں کی نزاع کی شکل اختیار کر لی ۔ کاہلوں میں صرف مراعاتی طبقے ہی شامل نہیں تھے ۔ بلکہ وُہ تمام طبقے جو پیداوار اور تقسیم میں حصہ لئے بغیر بن کمائی دولت پر زندہ تھے ۔ سین سیمون کے ورکروں میں صرف اجرتی مزدور ہی شامل نہیں ہیں بلکہ کارخانہ دار تاجر اور ساہوکار بھی شامل ہیں ۔ انقلاب نے اس بات کو ثابت کر دیا تھا کہ کاہلوں میں ذہنی رہنمائی اور سیاسی اقتدار کی صلاحیت موجود نہیں تھی۔ سین سیمون کا یہ بھی خیال تھا کہ عہدِ خطر کے تجربوں نے ثابت کر دیا تھا کہ ملکیت نہ رکھنے والے طبقوں میں بھی اس قسم کی صلاحیت نہیں تھی ۔ ان حالا ت میں کون رہنمائی کرتا ؟ کو ن سالار بنتا ؟ سین سیمون کے نزدیک سائنس اور انڈسٹری دونوں کو ایک نئے مذہبی رشتے میں جوڑ کر مذہبی خیالات کے اس اتحاد کو پیدا کیا جا سکتا تھا جو اصلاح کے زمانہ سے ناپید ہو چکا تھا : جدید عیسائیت کی صوفیانہ تاویل او رکٹر ک طرےقہ سے درجہ بندی پر مبنی مسےحےت ۔ لیکن سائنس عبارت تھی علما سے، اور انڈسٹری مشتمل تھی محنت کر نے والے سرمایہ داروں اورکارخانہ داروں پر۔ سےنٹ سائمن کی خواہش تھی کہ ےہ سرماےہ دار اپنے آپ کو پبلک کے عہدہ دار اور مجلسی امےن خےال کرےں۔ اِن سرماےہ داروں کو وہ حاکمانہ اختےارات اورمعاشی مراعات دینا چاہتا تھا ۔ وُہ سا ہو کاروں کو قرضوں کی تنظیم کرنے کے بعد سوسائٹی کی ساری پیداوار کو ان کے حوالے کرنا چاہتا تھا۔لےکن اسکے باوجود وہ مزدوروں کے مقابلہ مےں مراعات ےافتہ ہی رہتے۔ یہ تصور اس وقت کے مطابق تھا ۔ جبکہ فرانس میں جدید انڈسڑی ہی کی طرح مزدوروں اور سرمایہ کاروں کی نزاع آہستہ آہستہ اُبھررہی تھی ۔ لیکن سین سیمون سب سے پہلے جس چیز سے دلچسپی رکھتا ہے ۔ وُ ہ اس طبقے کی تقدیر ہے جو تعداد اور افلاس میں سب سے زیادہ ہے ۔
سین سیمون نے اپنی کتاب”مکتوبات جنیوا“ میں اس اصول کی بنیاد رکھ دی تھی کہ ہر شخص کو کام کرنا چاہیے۔ جب وہ ان مکتوبات کو لکھ رہا تھا تو اُسے اِس بات کا علم تھا کہ عہد ِخطر در اصل کنگال عوام کا عہدِ حکومت تھا ۔ وہ ان سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ دیکھو ! جب فرانس پر تمھارے ساتھیوں کی حکومت تھی تو اس وقت فرانس پر کیا گزری۔ انہوں نے ملک میں کا ل پیدا کر دیا ۔ لیکن 1802 میں انقلابِ فرانس کو نہ صرف جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی طبقاتی لڑائی کہنا بلکہ جاگیرداروں اور سرمایہ داروں اور کنگالوں کی طبقاتی لڑائی کہنا کسی بہت بڑی ذہانت ہی کا انکشاف ہو سکتا تھا۔ 1816 میں اس نے اس بات کا اعلان کیا کہ سیاست نام ہے پیداوار کی سائنس کا۔ اس نے یہ پیش گوئی کی کہ سیاست معاشیات میں گم ہو کر رہ جائے گی ۔ اگرچہ ےہی خیال ،کہ معاشی حالات ہی سیاسی اداروں کی بنیاد ہیں ،ایک ناقص صورت میں پیش کیا گیا ہے ۔ پھر بھی اس سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ لوگوں پر حکومت کرنے کی جگہ سیاسی حکومت کا کام اشیا ءکے نظم و نسق اور ذرائع ِپیداوار کی رہنمائی کی طرف منتقل ہوجائے گا۔ یعنی ریاست کی تنسیخ کی طرف جس کے متعلق حال ہی میں بہت زیادہ شور مچا یا جا چکا ہے۔
اپنے ہم عصروں پر اس کی بر تر ی کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ1814 میں اتحادی فوجوں کے پیرس میں داخل ہونے سے تھوڑی دیر بعد اور پھر 1815 میں جنگِ صدسالہ میں اُس نے کہا تھا کہ فرانس کو انگلستان کے ساتھ دوستی کرکے ان دونوں ملکوں کو جرمنی کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرنا چاہئے کیونکہ اس صورت میں یورپ میں امن اور خوشحالی قائم رہ سکتی ہے ۔ 1815 میں فرانسیسیوں سے یہ کہنا کہ وہ واٹر لو میں جیت جانے والوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات پیدا کرےں، یقینی طور پر بلند ہمتی اور تاریخی دوراندیشی پر مبنی تھا۔
اگر سین سیمون میں ہم وسعت نظر ی پاتے ہیں اور اس کے بعد آنے والے سوشلسٹوں کو ان خیالات کی پیروی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں جو خالص معاشی نہیں ہیں اور جنہیں وہ اپنی کتابوں میں ناقص طریق پر پیش کرتا ہے۔ تو فورئیے کو ہم مروجہ مجلسی حالات کا نقاد پاتے ہیں ۔ اس کی تنقید خالص فرانسیسی مزاح کے باوجود ذکاوت کا پہلو لئے ہوئے ہے ۔ فورئیے سرمایہ داروں کو ان کے اپنے دعاوی کی میزان میں پرکھتا ہے۔ وہ انقلاب سے پہلے کے سرمایہ داروں کے جوشیلے پیامبروں اور ان کے چاپلوسوں کو، جو انقلاب کے بعد آئے، اس میزان میں پرکھتا ہے۔ فورئیے نہایت بے رحمانہ انداز میں سرمایہ دارانہ دنیا کے مادی افلاس کو بے نقاب کرتا ہوا روشن خیالی دور کے ابتدائی فلسفیوں کے وعدوں سے اس کا مقابلہ کرتا ہے۔ روشن خےالی کے اُس دور کے فلسفےوں نے اےک سوسائٹی کا نقشہ کھینچا تھا، جہاں عقل کی حکومت ہوگی ۔ ایک ایسی تہذیب پیش کی تھی جو عالمگیر مسرتوں کی حامل ہوگی اور جس میں انسان اپنے کمالات کا غیر محدود طور پر مظاہرہ کر سکے گا ۔ فورئیے نے اپنے عہد کے سرمایہ دار عینیت پسندوں کی خوش نما لفاظی پر بھی ضرب لگائی ۔ اس کا تلخ طنزیہ انداز لفاظی کی اس مایوس کن ٹائیں ٹائیں فش پر غالب آجاتا ہے ۔
فورئیے صرف ایک نقاد ہی نہیں بلکہ اس کی نہ دبنے والی شگفتہ مزاجی اسے ایک طنز نگار بھی بنا دیتی ہے ۔ وہ بلا شبہ دنیا کے بہت بڑے طنز نگاروں میں سے ایک ہے ۔ انقلاب فرانس کے زوال کے بعد سٹے، دھوکے، سوداگروں کی دکاندار ذہنیت کا جو عام رواج ہو گیا تھا اسے وہ دلچسپ مگر استاد انہ انداز میں پیش کرتا ہے ۔ جب وہ سرمایہ دارانہ سوسائٹی کے جنسی تعلقا ت اور اس سوسائٹی میں عورت کی پوزیشن کی وضاحت کرتا ہے تو وہ اپنے انداز نگارش کے عروج پر دکھائی دیتا ہے ۔ اس نے سب سے پہلے اس بات کا اعلان کیا کہ کسی سوسائٹی کی عمومی آزادی کا اندازہ اس آزادی سے لگاےاجا سکتا ہے، جو وہاں کی عورتوں کو نصیب ہو۔ جب وہ سوسائٹی کی تاریخ کا تصور پیش کرتا ہے تو اپنی عظمت کی بلندیوں پر دکھائی دیتا ہے ۔ وہ سوسائٹی کے ماضی کے ارتقاءکو وحشت،بر بر یت، سر قبیل اور تہذیب کے ادوار میں تقسیم کرتا ہے ۔ آخری دور وہی ہے ۔ جو آج کل سرمایہ دارانہ دور کہلاتا ہے اور جس کا آغاز سولہویں صدی میں ہوا ۔ فورئیے کہتا ہے کہ تہذیب کا دور ہر اس برائی کو، جو بربریت کے دور میں اپنی سادہ صورت میں تھی، مبہم، پیچیدہ اور منافقانہ بنا دیتا ہے ۔ تہذیب برائی کے چکر میں حرکت کرتی ہوئی اپنے تضاد کو پیدا کرتی چلی جاتی ہے ۔ وہ اس تضاد پر غلبہ نہیں پا سکتی یہی وجہ ہے کہ وہ اس مقام پر نہیں پہنچتی جہا ں پہنچنے کا وہ دعوی کرتی ہے ۔ بلکہ وہ اس مقام پر پہنچتی ہے جو اس کے بتائے ہوئے مقام کی ضد ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر تہذیب کے دور میں افراط سے افلاس پیدا ہوتا ہے ۔ فورئیے جدلیا ت کے استعمال میں اپنے ہم عصر ہیگل سے کسی طرح پیچھے نہیں ۔وہ جدلیات ہی کے بل بوتے پر غیر محدود انسانی تکمیل کے تصور کی مخالفت کرتا ہوا یہ دعوی پیش کرتا ہے کہ ہر تاریخی دور کا عہدِ عروج اور عہدِ زوال ہوتا ہے ۔ وہ اپنے اسی تصور کو ساری نوع انسانی پر منطبق کرتا ہے ۔ جس طرح کا نٹ نے نیچرل سائینس میں زمین کی مکمل تباہی کا تصور پیش کیا اسی طرح فورئیے نے علم ِتاریخ میں نوع انسانی کی مکمل تباہی کا تصور پیش کیا ۔ جب فرانس میں انقلاب کی آندھی چل رہی تھی تو اس وقت انگلستا ن میں ایک خاموش مگر اہم انقلابی عمل ترقی پذیر تھا۔ بھاپ اور اوزار بنانے کی نئی مشینری صنعت کو بڑے پیمانے کی جدید صنعت میں ڈھال رہی تھی ۔ اس کے ساتھ ہی مہاجنی سوسائٹی میں بھی انقلابی عمل جاری ہو چکا تھا ۔ مصنوعات تیار کئے جانے کی سست رفتاری ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی تھی جس نے پیداوار میں قیامت برپا کر رکھی تھی۔ ان تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ سوسائٹی مہاجنوں اور کنگال مزدوروں میں نمایاں طور پر بٹنے لگی۔ ان دو طبقو ں کے درمیان پہلے کے سے مضبوط درمیانے طبقے کی جگہ اب دستکاروں اور چھوٹے چھوٹے دکانداروں پر مشتمل ایک کمزور طبقے نے لے لی۔ اس طبقے کی حالت بہت زیادہ نازک تھی۔ ساری آبادی میں سے اس طبقے کی تعداد سب سے زیادہ گھٹتی بڑھتی رہتی تھی۔ نیا ذریعہ ¿ پیداوار اپنے خطِ عروج کے موڑ تک مشکل سے پہنچا تھا۔ یہ نیا ذریعہ ¿پیداوار ان حالات میں نارمل تھا، لیکن اس زمانے میں بھی یہ شدید خرابیاں پیدا کر رہا تھا ۔ بے گھر لوگوں کو چوپاﺅں کی طرح ایک ساتھ رہنا پڑتا تھا۔ یہ لوگ بڑے شہروں کے بد ترین حصوں میں رہتے۔ ماں باپ اور دوسرے خاندانی رشتے ٹوٹنے لگے۔ گھریلوروایات ختم ہوگئیں ۔ عورتوں اور بچوں سے بہت زیادہ کام لیا جانے لگا۔ مزدوروں کا وہ طبقہ جس،ے دیہات سے شہروں اور زراعت سے صنعت کی طرف لایا گیا تھا،نئے ماحول میں پھینک دیا گیا جس سے اس طبقے کی اخلاقی حالت بگڑ گئی ۔ اس طبقے کو اپنے پہلے ماحول (زرعی) سے ،جہاں ایک حد تک پائیداری تھی، نکال کر ایک ناپائیدار اور ہمیشہ بدلنے والے ماحول میں ٹھونس دیا گیا۔ اس موقعہ پر 29 برس کا ایک نوجوان کا رخانہ دار ایک ریفارمر کی حیثیت سے ظاہر ہوا اس شخص کے کردار میں بچوں کی سی سادگی تھی۔ وہ فطرتا ایک ایسا لیڈر تھا جو کبھی کبھی پیدا ہوتا ہے ۔ اس کا نام رابرٹ اووےنہے ۔ اس نے فرانس کے مادہ پرست فلسفیوں کے ان خیالات کو اپنا لیا تھا کہ انسانی کردار موروثی ہیئت اور ماحول کی پیداوار ہے ۔ خصوصاً اُس ماحول کی جس میں انسان نے ابتدائی نشوونما پائی ہو۔ جب صنعتی انقلاب ہوا تو اووین کے طبقے کے بہت سے لوگ انتشا ر اور ابتری کے سوا اور کچھ نہیں دیکھ سکتے تھے ۔ یہ لوگ ان حالات سےفائدہ اٹھا کر زیادہ سے زیادہ دولت سمیٹنا چاہتے تھے ۔ لیکن اووین نے اس موقعہ پر اپنے محبوب نظرئیے کو عمل میں لانا چاہا ۔ وہ انتشار کو انتظام میں بدل دینا چاہتا تھا ۔ جب وہ مانچسٹر کے ایک کارخانے میں پانسو مزدوروں کا داروغہ تھا تو اسے اپنے تجربے میں کامیابی ہوئی تھی۔ 1800سے 1829 تک سکاٹ لینڈ کے ایک مقام نیولنارک میں وہ روئی کاتنے کے ایک کارخانے کا حصہ دار تھا۔ اس مدت میں اس نے اپنے تجربات کو آزادی سے آزمایا۔ اس کی کامیابی نے اسے یورپ بھر میں مشہور کردیا تھا۔ اس کارخانے کی آبادی بڑھتے بڑھتے اڑھائی ہزار تک پہنچ گئی تھی ۔ شروع شروع میں اس کارخانے میں کام کرنے کے لئے جو مزدور آئے تھے ان میں سے اکثر کی اخلاقی حالت گری ہوئی تھی۔ لیکناووےن نے ان بگڑے اخلاق والوں کو سنوار کر ان کی بستی کو ایک نمونہ بنا دیا ۔ اس بستی میں شراب نوشی، پولیس،مجسڑیٹ ،مقدمہ بازی ،قانون ،مساکین کے اداروں اور خیرات کی ضرورت کا نا م و نشان تک بھی نہیں تھا۔ اس نے نہایت سادگی سے لوگوں کےلئے انسانوں کے شایان شان زندگی بسر کرنے کے مواقع پیدا کئے ۔ اس نے اس نوآبادی کی نئی نسل کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ دی ۔ بچوں کے اسکول کا بھی وہی بانی ہے۔ دو سال کے بچوں کو اس اسکول میں بھیج دیا جاتا تھا۔ اس اسکول میں ان چھوٹے بچوں کی دلچسپی کے اتنے سامان ہوتے تھے کہ بچے وہاں سے گھر جانے کا نام تک نہیں لیتے تھے۔ دوسرے کارخانوں میں مزدوروں کو تیرہ چودہ گھنٹے روزانہ کام کرنا پڑتا تھا۔ جب کپاس کی منڈی میں بحران پیدا ہوا تو کارخانے کو چار مہینوں کے لئے بند کرنا ضروری ہو گیا۔ لیکن اس کے باوجود نیو لنارک کے مزدوروں کو پوری اجرت ملتی رہی۔ اس پر بھی کاروبار دگنا ہو گیا اور کارخانے کے مالکوں کو بہت زیادہ منافع حاصل ہوا۔
ان سب باتوں کے باوجود اووین مطمئن نہیں تھا۔ اس نے مزدوروں کو جو آسانیاں دے رکھی تھیں،اس کے نزدیک وہ انسان کے شایان شان زندگی بسر کرنے کے لئے ناکافی تھیں ۔ وہ کہتا ہے کہ ”یہ لوگ میرے غلام ہیں!“۔ اس نے مزدوروں ک واسطے نسبتا بہتر حالات پیدا کردیئے تھے ۔ لیکن ان حالات میں مزدوروں کی ذہنی اور کرداری ترقی نہیں ہورہی تھی۔ انہیں آزاد زندگی بھی نصیب نہیں تھی لیکن اس بھی ڈھائی ہزار مزدوروں کی روزانہ محنت سوسائٹی کے لئے اتنی دولت پیدا کر رہی تھی جتنی کہ پچاس سال پہلے چھ لاکھ مزدوروں سے پیدا ہوتی تھی۔میں نے اپنے آپ سے پوچھا : ڈھائی ہزار اور چھ لاکھ انسانوں کی خرچ کرنے والی دولت کا فرق کہاں چلاگیا ؟ جواب واضح تھا۔ اس فرق میں سے کارخانے کے مالکوں کو ان کے لگائے ہوئے سرمایہ پر پانچ فیصدی سود دیا گیا ۔ سود کے علاوہ تین لاکھ پونڈ منافع بھی تقسیم کیا گیا ۔ جو کچھ نیو لنارک کے کارخانے کی حالت تھی وہی کچھ انگلستا ن کے دوسرے کارخانوں کی حالت تھی۔
” اگر مشینری کے ذریعہ یہ نئی دولت پیدانہ کی جاتی ۔ تو نپولین کا تختہ الٹنے اور سوسائٹی کے اشرافیہ اصولوں کی بقا کے لئے جو لڑائیاں لڑی گئی تھیں ان میں کامیابی محال تھی۔ یہ نئی قوت مزدوروں ہی کی پیدا کی ہوئی تھی ۔ ©“
) ”ذہن اور عمل مےں انقلاب“ایک یاداشت جو اووین نے 1828 میں فرانس کی عارضی حکومت ،ملکہ وکٹوریہ اور برطانوی وزیروں کو بھیجی تھی ۔ اس ےادداشت میں یورپ کے جمہوریت پسندوں کمیونسٹوں اور سوشلسٹوں سے خطاب کیا گیا ہے ۔(
اس نئی قوت کا پھل بھی مزدوروں ہی کو ملنا چاہیے تھا۔ اددین کے نزدیک یہ نئی پیداآوری قوتیں جن سے اس وقت تک صرف چند افراد نے فائدہ اٹھایا تھا اور جنہوں نے عوام کو غلام بنا لیا تھا، ایک نئی سوسائٹی کی بنیاد تھیں۔ جس میں ان نئی پیدا آوری قوتوں کی ملکیت مشترک ہو اور جس میں ہر شخص سب کی مشترک بھلائی کے لئے کا م کرے۔
اووینی کمیونزم خالص کاروباری انداز میں پیدا ہوتی تھی ۔ یوں کہئے کہ وہ ساہوکاری بہی کھاتے کا نتیجہ تھی۔ اس کی یہ عملی خصوصیت برابر قائم رہی۔ 1823میں آئرلینڈ پر جو مصیبت ٹوٹ پڑی تھی ۔ اسے دور کرنے کے لئے اددین نے کمیونسٹ نو آبادیوں کی جو اسکیم بنائی تھی۔ اس میں ان نو آبادیوں کے ابتدائی مصارف، سالانہ اخراجات، ان کی آمدنی کا ایک ہمہ گیر خاکہ موجود تھا۔ اددین نے مستقبل کے لئے جو پلان بنایا تھا اس میں بھی ٹیکنیکل تفصیلات کو اس صلاحیت سے ترتیب دیا تھا اور اس کے تمام پہلوﺅں کی اس انداز میں وضاحت کی تھی کہ اگر ایک مرتبہ اووین کی مجلسی اصلاح کی اسکیم کو مان لیا جائے تو پھر ایک ماہر کے نکتہ ¿ نگاہ سے تفصیلات سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا ۔ کمیونزم کی طرف بڑھنے سے اووین کی زندگی میں یکسر تبدیلی پیدا ہوگئی ۔ جب تک کہ وہ انسان دوست بنا رہا اس وقت تک وہ دولت، ستائش عزت اور شان حاصل کرتا رہا ۔ وہ یورپ کا سب سے زیادہ مقبول انسان تھا۔ اس کی باتوں کو نہ صرف کارخانہ دار ہی سنتے تھے، بلکہ مدبر اور حکمران بھی اس کی باتوں کی تائید کرتے تھے۔ لیکن جونہی وہ کمیونسٹ نظرئیے لے کر سامنے آیا تو حالات پہلے ایسے نہ رہے ۔ اس کے نزدیک ذاتی ملکیت، مذہب اور شادی کا مروجہ طریقہ مجلسی اصلاح کی راہ میں تین رکاوٹیں تھیں ۔ وہ اس بات کو اچھی طرح جانتا تھا کہ ان کی مخالفت کا انجام کیا ہوگا۔ سرکاری حلقوں کی قانونی حمایت سے محرومی اور اپنی سوشل پوزیشن کا خاتمہ لیکن اس نے اپنے انجام سے بے پروا ہو کر ان رکاوٹوں کی مخالفت شروع کردی ۔ نتیجہ معلوم!! اُسے سرکاری حلقوں سے نکال دیا گیا۔ اخباروں نے اس کا نام تک لینا چھوڑ دیا۔ اس نے امریکہ میں جو کمیونسٹ تجربے کئے تھے ، ان میں اس نے اپنا سب کچھ لگا دیا تھا ۔ ان تجربوں کی ناکامی نے اسے قلاش کردیا۔ اب وہ ایک مزدور تھا۔ وہ تیس سا ل تک مزدوروں کے ساتھ مل کر مزدوری کرتا رہا ۔ انگلستان کی تمام مجلسی تحریکوں اور مزدوروں کی بھلائی سے متعلق تما م تحریکوں کا سلسلہ اووین سے جا ملتا ہے۔ پانچ سال کی کوشش کے بعد وہ مزدور عورتوں اور مزدور بچوں کے اوقات کار مقرر کرانے میں کامیاب ہو ا ۔ اددین ہی اس پہلی کانگرس کا صدر تھا جس میں انگلستا ن کی تمام مزدور سبھاﺅں نے مل کر ایک ہمہ گیر مزدور سبھا قائم کی تھی۔ سوسائٹی کے پوری طرح کمیونسٹ ہو جانے تک عبوری دور کے لئے اس نے ایک طرف تو صرف کرنے والوں اور سامان پیدا کرنے والوں کے لئے باہمی امدادی سوسائٹیاں قائم کیں۔ ان سوسائیٹوں نے ایک بات تو ثابت کردی کہ سماج کو تاجروں اور کارخانہ داروں کی ضرورت نہیں ۔ دوسری طرف اووین نے مزدور بازار قائم کئے جن میں مزدوروں کی بنائی ہوئی چیزوں کے تبادلے کا ذریعہ محنتی نوٹ ہوتے تھے جن کی اکائی ایک گھنٹے کی محنت کے برابر ہوتی تھی۔ ان اداروں کی ناکامی یقینی تھی لیکن یہ ادارے بہت بعد میں آنے والے- پر ددھوں کے ایکسچینج بنک کے پیش رد تھے ۔ اووین اور پر ودھوں کی تجویزوں میں یہ فرق تھا کہ اووین نے اپنی تجویزوں کو تما م مجلسی برائیوں کے لئے اکسیر نہیں بتایا تھا۔ بلکہ اس نے صرف یہ کہا تھا کہ اگر اس کی تجویزوں پر عمل کیا جائے تو سوسائٹی میں بنیادی تبدیلی کے لئے راہ نکل آئے گی۔
ان خیالی سوشلسٹوں کا نظریہ انیسویں صدی کے سوشلسٹ تصوارات پر چھایا ہوا تھا۔ آج بھی ان تصوارات پر خیالی سوشلسٹوں کا تھوڑا بہت اثر باقی ہے۔ تھوڑی مدت پہلے تک فرانس اور انگلستا ن کے تما م سوشلسٹ ان کے معتقد تھے ۔ ابتدائی جرمن کمیونزم ویت لنگ کی کمیونزم سمیت اسی خیال سوشلزم سے متعلق تھی۔ ان تمام خیالی سوشلسٹوں کے نزدیک سوشلزم عبارت ہے ابدی سچائی، عقلیت اور عدل سے۔ جونہی یہ دریافت ہوگی وہ اپنی قوت سے ساری دنیا کو خود بخود مسخر کر لے گی۔ جس طرح ابدی سچائی زمان و مکان اور انسان کے تاریخی ارتقاءسے آزاد ہے اور اس کی دریافت کب اور کہا ں سے بے نیاز ایک حادثہ کی حیثیت رکھتی ہے ، اسی طرح سوشلزم بھی ایک حادثہ کی حیثیت رکھتاہے ۔ لیکن اس کے باوجود خیالی سوشلزم کے مختلف اسکول ابدی سچائی، عقلیت اور عدل کے مطالب و معانی میں ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہیں ۔ان میں سے ہر اسکول کا بانی ابدی سچائی، عقلیت اور عدل کو اپنی ذاتی تفہیم زندگی معلومات اور ذہنی تربیت سے وابستہ کر دیتا ہے۔ اس لئے ابدی سچائیوں کے اس اختلاف کا ایک ہی حل ممکن تھا۔ےہ کہ وہ ایک دوسرے کو پےس ڈالتے ۔ اس اختلاف سے انتخابی اور اوسط درجے ہی کا سوشلزم پیدا ہو سکتا تھا ۔ اس قسم کا سوشلزم فرانس اور انگلستا ن کے بہت سے سوشلسٹ ورکروں پر اس وقت تک چھاےا ہواہے۔ اس قسمکے سوشلزم کے بانی وہی تنقیدی نظرئیے، وہی معاشی اصول اور انسانی مستقبل کے وہی خاکے پیش کرتے رہے ہیں جن کی مخالفت کی کم سے کم گنجائش ہو۔ اس قسم کا سوشلزم ایک ایسا آمیزہ تھاجو جتنی جلدی تیار ہوتا اتنی ہی جلدی اس کے اجزائے ترکیبی اپنا انفرادی اثرکھودیتے ۔ جس طرح ندی کے بہاﺅ میں کنکر اپنا نوکےلا پن کھودیتے ہیں اسی طرح اس سوشلزم نے بحث کا جو سیلاب پیدا کیا،اس نے لوگوں کے ذہن کی دھار کو کند کردیا۔ سوشلزم کو سائنس بنانے کے لئے ضروری تھا کہ اس کی عمارت کو کسی حقیقی بنیاد پر کھڑا کیا جاتا۔
دوسرا باب
اسی اثنا میں اٹھارہویں صدی کے فرانسیی فلسفے کے ساتھ ساتھ اور اس کے بعد نیا جرمن فلسفہ پیدا ہو چکا تھا۔ یہ نیا جرمن فلسفہ ہیگل پر ختم ہوا ۔ اس نئے فلسفے کی سب سے بڑی خوبی ہی تھی ۔ کہ اس نے پھر جدلیات کو غور و فکر کی انتہائی صورت تسلیم کر لیا۔ تمام قدیم یونانی فلسفی طبعاً جدلیات پسند تھے۔ ارسطوان سب میں قاموسی ذہانت رکھتا تھا۔ اس نے جدلیاتی تصور کی تمام لازمی شکلوں کا تجزیہ بھی کیا تھا۔ جدید فلسفہ میں دیکارتے اور سپائینوزا ایسے جدلیات کے شارح بھی شامل رہے ہیں لیکن یہ نیا فلسفہ برطانوی اثر کے تحت زیادہ سے زیادہ مابعد الطبیعاقی طرز استدلال اختیار کرتا چلاگیا ۔ یہی طرز استدلال اٹھارہویں صدی کے فرانسیسی فلسفیوں کی فلسفیانہ تحریروں پر غالب رہا ۔ لیکن فلسفہ کی محدوداصطلاح سے باہر فرانسیسیوں نے جدلیات کے شاہکار پیدا کئے ۔ ہم صرف دیدرو کی کتاب ’رامیو کا بھیجا‘ اورر وسو کی کتاب ’انسانی عدم مساوت‘ کے آغاز پر بحث کا حوالہ کافی خیال کرتے ہیں ۔ ہم ذیل میں جدلیات اور مابعدالطبیعاتی طرز استدلال کی ہیئتِ تشکیل پیش کرتے ہیں ۔
جب ہم کائنات، انسانی تاریخ یا اپنی ذہنی سر گرمی پر غور کرتے ہیں تو سب سے پہلے ہمارے سامنے تعلقات اور تفاعل کے ایک نہ ختم ہونے والے گورکھ دھند ے کی ایک ایسی تصویر آتی ہے جو اپنی ماہیت اور ہیئت میں ایک لمحہ کے لئے بھی ساکن اور ثابت نہیں رہتی ۔ ایک تصویر جس میں کسی شے کو قرار نہیں، جہاں ہر چیز حرکت کرتی بدلتی اور وجود میں آکر فنا ہوتی رہتی ہے۔ شروع میں ہم اس تصویر کو مجموعی حیثیت سے اس طرح دیکھتے ہیں کہ اس کی تفصیلات اوجھل رہتی ہیں ۔ ہم حرکت،تبدیلی اور باہمی تعلقات کو اس شے پر ترجےح دےتے ہےں جو حرکت کرتی، تبدےل ہوتی اور باہمی تعلق قائم رکھتی ہے ۔ دنیا کے متعلق ہی ابتدائی سادہ مگر بنیادی لحاظ سے تصور قدیم یونانی فلسفے کا ہے ۔ سب سے پہلے اس فلسفے کو ہراکلیٹسنے مرتب کیا ۔ وہ کہتا ہے کہ:
” ہر شے ہے، اور نہیں ہے ۔کیونکہ ہر شے تبدیل ہوتی چلی جارہی ہے ۔ ہر شے متواتر بدلتی بنتی اور بگڑتی چلی جارہی ہے۔“
یہ تصور کائنات کی تصویر کی عمومی ہیئت کی تووضاحت کر دیتا ہے لیکن یہ تصور اُس تصوےر کے اجزائے ترکیبی کی وضاحت کے لئے نا کافی ہے ۔جب تک ہم اس تصویر کے اجزائے ترکیبی سے آگاہ نہیں ہوتے اس وقت تک ہم اس تصویر کی مجموعی حیثیت کو بھی نہیں سمجھ سکتے ۔ ان تفصیلات سے واقف ہونے کے لئے ضروری ہے کہ ہم انہیں طبعی یا تاریخی تعلقات سے الگ کرکے ان میں سے ایک ایک کی ہیئت اور اسکے خصوصی اسباب و نتائج پر غور کریں۔یہ کام طبعی سائنس اور تاریخی تحقیق کا ہے۔ طبعی سائنس اور تاریخی تحقیق سائنس کی وہ شاخیں ہیں جنہیں کلاسیکی دور کے یونانیوں نے ثانوی درجہ دے رکھا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ علوم کی ان شاخوں ) طبعی علم اور تاریخی تحقیق ( پر کام کرنے کے لئے مواد جمع کرنے کی ضرورت تھی ۔ کسی تنقیدی تجزیہ، تقابل، موازنہ یا طبقو ں، نظاموں اور انواع کی درجہ بندی کے لئے طبعی اور تاریخی مواد مہیا کرنا بہت ضروری ہے۔ کائنات کے متعلق صحیح انداز میں تحقیق کرنے کا آغاز عہداسکندریہ کے یونانیوں سے ہوا ۔ انہوں نے اس میں ترقی کی۔ آگے چل کر ازمنہ وسطیٰ میں عربوں نے اس میں نمایا ںاضافہ کیا ۔ لیکن حقیقی طبعی سائنس کا آغاز اٹھارہویں صدی کے دوسرے نصف سے ہوتا ہے۔ اُس وقت سے اب تک یہ ترقی کرتی چلی جارہی ہے ۔ کائنات کا اِس کے انفرادی اجزا میں تجزیہ اور مختلف شکلوں کی اندرونی ترتیب کے مطالعہ نے پچھلے چار سو سال میں کائنا ت کے متعلق ہماری معلومات میں حیرت انگیز اضافہ کیا ۔ لیکن اس اندازِ ِتحقیق سے ہم نے یہ بات وراثت میں پائی کہ ہم طبعی اشیا اور طبعی حرکات کو اشیا کے وسیع تعلقات سے الگ کرکے ان کے مطالعہ کے عادی ہو چکے ہیں ۔ ہم ان اشیا کا مطالعہ اس وقت نہیں کرتے جب وہ متحرک ہوتی ہیں بلکہ اس وقت جب وہ ساکن ہوتی ہیں۔ ہم ان اشیا کا مطالعہ ان کی زندگی میں نہیں کرتے ۔بلکہ ان کے مرنے کے بعد کرتے ہیں ۔ جب بیکن اورلاک نے مطالعہ کے اس طریق کو طبعی سائنس سے نکال کر فلسفے میں داخل کر دیا تو اس سے پچھلی صدی کی مخصوص تنگ نظری یعنی مابعد الطبیعاتی انداز فکر پیدا ہوا ۔ مابعد الطبیعات کے حامی کے نزدیک اشیاءاور ان کے ذہنی عکس یعنی تصورات الگ الگ چیزیں ہیں ۔ جن پر الگ الگ ہی غور کیا جا سکتا ہے۔ اس کے نزدیک یہ اشیا بے لوچ اور ایک ہی جگہ قائم ہیں ۔ ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی ۔ اس کا طرز استدلال ترکیب کے تسلسل کا قائل نہیں ۔ عام لفظوں میں وہ یوں کہتا ہے:
” ہا ں ہا ں ہے اور نہیں نہیں ہے ان کے علاوہ جو کچھ اور ہے وہ سب برائی نے پیدا کیا ہے ۔ “
اس کے نزدیک کسی شے کا یا تو وجود ہے یا نہیں ۔ وہ اس بات کو نہیں مانتا کہ کوئی چیز اپنی ذات سے الگ کوئی دوسری چیز بھی ہو سکتی ہے۔ اثبات اور نفی ایک دوسرے کی ضِدہیں ۔ اسی طرح عِلت اور معلُول ایک دوسرے کی ضد ہیں ۔ پہلی نظرمیں یہ انداز ِفکر بہت معقول دکھائی دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عام سمجھ بوجھ کا انداز فکر ہے۔ لیکن جب یہ تمام سمجھ بوجھ اپنی چار دیواری سے باہر نکل کر سائنسی تحقیق کے میدان میں قدم رکھتی ہے تو اسے حیرت انگیز تجربوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسی حالتوں میںجہاں متعلقہ چیزیں موضوع کی نوعیت کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہیں ۔ وہاں مابعد الطبیعاتی اندازِ فکر مناسب اور ضروری ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود یا دیر میں اس اندازِ فکر میں ایک ایسا مقام آ جاتا ہے جہا ں وہ یکطرفہ، محدود اور مبہم ہو کر کبھی حل نہ ہونے والے تضاد پیداکر دیتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اشیا پر انفرادی طور سے غور کرنے سے مابعد الطبیعاتی اندازِ فکر اشیا کے باہم تعلقات کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ ان کے وجود پر غور کرتے ہوئے وہ ان کے وجود میں آنے اور چلے جانے کو بھول جاتا ہے۔ وہ اشیا کے سکون کا تو مطالعہ کرتا ہے لیکن ان کی حرکت پر غور نہیں کرتا ۔ اس طرح جزئیات پر توجہ کرنے سے مجموعی شے نظر سے چھپ جاتی ہے۔ معمولی حالات میں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ فلاں جانور زندہ ہے یا مرگیا ۔ لیکن جب ہم اس مسئلہ پرزےادہ غور کرتے ہےں تو ہم دےکھتے ہےں کہ ےہ اےک بہت زےادہ پےچےدہ مسئلہ ہے ۔ اِس مسئلے کی پیچےدگی سے قانون دان اچھی طرح واقف ہیں۔ وہ اس مسئلہ پر کافی دماغ لڑاچکے ہیں کہ وہ کوئی ایسی معقول حد مقر رکر سکیں جبکہ ماں کے پیٹ میں بچے کی بلاکت کو قتل کہا جا سکے ۔ موت کے لمحہ کو متعین کرنا بھی کم و بیش اتنا ہی نا ممکن ہے کیونکہ عضویات کا علم ہمیں بتاتا ہے کہ موت کوئی اچانک حادثہ نہیںبلکہ وہ ایک طویل عمل کا نتیجہ ہے۔ اسی طرح ہر ایک نامیاتی ہستی ہر لمحہ وہ ہستی بھی ہے اور وہ ہستی نہیں بھی ہے۔ یہ ہستی ہر لمحہ خارجی مادے کو قبول کر رہی اور داخلی مادے کو خارج کرتی چلی جا رہی ہے۔ ہر لمحہ اس ہستی کے جسم کے خلیے مرتے رہتے ہیں اور ان جگہ نئے خلیے پیدا ہوتے رہتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ تھوڑی یا لمبی مدت میں اس ہستی کے جسم کا ما دہ مکمل طور پر نئی صورت اختیار کر لیتا ہے ۔ پرانے ذروں کی جگہ نئے مادی ذرے لیتے رہتے ہیں۔ چنانچہ ہر نامیاتی ہستی ہر وقت بجائے خود بھی ہے اور بجائے خود کے علاوہ کچھ اور بھی ہے۔ اگر زیادہ گہر ی نظر سے دیکھا جائے تو کسی تضاد کے ڈانڈے اثبات اور نفی کی طرح جتنا ایک دوسرے کی ضد ہیں ،اتنا ہی وہ ایک دوسرے میں ضم ہیں، اور تمام تضاد کے باوجود وہ ایک دوسرے میں پیوست ہو جاتے ہیں۔عِلت اور معلُول کی بھی یہی کیفیت ہے۔عِلت اور معلول کو اگر کسی خالص واقعہ پر چسپاں کیا جائے تو پھر اس کا جواز ثابت ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر ہم اس مخصوص واقعہ کو پوری دنیا کے ساتھ ملا کر اس پر غور کریں تو وہ آفاقی عمل اور باہمی عمل کے ان تصورات میں تحلیل ہو جاتا ہے ۔ جہاں علت اور معلول ہمیشہ تبدیل ہوتے رہتے ہیں ایک لمحہ کا معلول اسی لمحہ میں علت بن جاتا ہے اور ایک لمحہ کی علت اسی لمحہ میں معلول بن جاتی ہے۔
ان میں سے کوئی انداز فکر بھی مابعد الطبیعاتی غو رو فکر کے ڈھانچے میں پورا نہیں اترتا ۔ جدلیات اشیا اور ان کے عکس اور تصورات پر ان کے باہمی تعلق، حرکت ،تسلسل پیدائش اور موت کی روشنی میں بحث کرتی ہے۔ جدلیات کی بہت سی مثالیں اوپر دی چکی ہیں ۔ فطرت جدلیات کی کسوٹی ہے۔ یہ ماننا پڑے گا کہ جدید طبعی سائنس نے جدلیات کی تائید میں بہت سا مواد جمع کردیا ہے اس مواد میں ہرروز اضافہ ہو رہا ہے ۔ جدید طبعی سائنس نے یہ بھی بتا دیا ہے کہ قدرت کا عمل جدلیاتی ہے نہ کہ مالبعد الطبیعاتی ۔ نیز یہ کہ قدرت ایک ابدی دائرے میںچکر نہیں کاٹتی رہتی بلکہ حقیقی تاریخی ارتقا میں سے گزرتی ہے۔ اس ضمن میں کسی دوسرے سے پہلے ڈارون کا ذکر ضروری ہے ۔ ڈارون نے یہ ثابت کر کے کہ، تمام نامیاتی کائنات یعنی پودے، جانور اور انسان لاکھوں سال کے ارتقا کی پیداوار ہیں، قدرت کے معلق مالبعدالطبیعاتی تصور پر ایک کاری ضرب لگائی۔ لیکن ان سائنسدانوں کی تعداد جو جدلیاتی انداز میں سوچتے ہیں بہت کم ہے۔ اس انداز میں سوچنے والوں کے درمیان بہت تفاوت ہے۔ نئی دریافتوں اور پرانے روایتی انداز فکر میں جوتصادم پایا جاتا ہے وہ اس الجھن کی وضاحت کرتا ہے جو آج کل نظری طبعی سائنسمیں موجود ہے اور جس نے اساتذہ ، طالب علموں، لکھنے والوں اور پڑھنے والوں کو مایوس کر رکھا ہے ۔
کائنات اور انسان کے ارتقا اور انسانی ذہن پر اس ارتقا کے عکس کو صرف جدلیاتی انداز فکر ہی سے سمجھا جا سکتا ہے کیونکہ یہی وہ انداز فکر ہے جو ہر لمحہ زندگی اور موت )ہونے اور نہ ہونے ( نیز ارتقائی اورر جعتی تبدیلیوں کو ملحوظ رکھتا ہے۔ جدید ترین جرمن فلسفے نے شروع ہی میں یہ زاویہ ¿ نگاہ اختیار کیا ۔ کانٹ نے اپنی فلسفیانہ زندگی کا آغاز نیوٹن کے نظامِشمسی کی تردید سے کیا ۔ نیوٹن کہتا ہے حرکتِ اولیٰ کے بعد نظام شمسی کو ابدیت حاصل ہو چکی ہے، لیکن کانٹ نظام شمسی کو ایک تاریخی تسلسل بتاتا ہے۔ اس کے نزدیک سورج اور تمام دوسرے سیارے ایک چکر کاٹتے ہوئے قدیمی مادے سے بنے ہیں۔ کانٹ یہ بھی کہتا ہے کہ اگر نظام شمسی کے آغاز کا یہ دعویٰ سچا ہے تو مستقبل میں نظام شمسی کی تباہی یقینی ہے ۔ پچاس سال بعد کانٹ کے خیالات کو لا پلاس نے ریاضیاتی بنیاد پر استوار کیا۔ مزید پچاس سال بعد” طیف پیما“ نے ثابت کر دیا کہ خلا میں ایسی دہکتی ہوئی گیس کے انبار اب بھی موجود ہیں جو انجماد کے مختلف درجوں میں سے گزر رہے ہیں ۔
یہ جدید ترین جرمن فلسفہ ہیگل کے سسٹم پر ختم ہوا ۔ اس سسٹم میں پہلی مرتبہ ساری طبعی، تاریخی اور روحانی دنیا کو ایک تسلسل کی صورت میں پیش کیا گیا ۔ یعنی وہ ایک دوامی حرکت ،تغیر ،قلب ِماہیت اور ارتقا میںہے ۔ کانٹ نے یہ کوشش بھی کی کہ وہ اس حرکت اور ارتقا کے اندرونی باہمی تعلقات کو ظاہر کرسکے ۔ کانٹ کے نظرئیے کی یہ بہت بڑی خوبی ہے۔ اس نظریہ کی رو سے انسان کی تاریخ احمقانہ، متشدد افعال کا الجھا ہوا چکر نہیں رہتی ۔ جس پر پختہ فلسفیانہ عقل کے حضور میں لعنت ملامت کی جائے ۔ اور جسے جلد سے جلد بھلا دینے ہی میں بہتری چھپی ہو ۔ اس نظریہ نے انسانی تاریخ کو انسانیت کے ارتقا کا ایک تسلسل بنا دیا ۔ اب فکر کے پیش نظر یہ کا م تھا کہ وہ اس تسلسل کے تدریخی ادوار کا پتہ چلائے ۔ یہ کام بھی فکر ہی کا تھاکہ وہ اس تسلسل کے اندرونی ضوابط کی کھوج نکالے جو بظاہر ایک ناگہانی مظہر دکھائی دیتا ہے۔
یہاں یہ ذکر کرنابے سود ہے کہ ہیگل کو اس مقصد میں کامیابی نہ ہوئی۔ اس کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے اس نظریے کو پیش کیا۔ یہ ایک اتنا بڑا کام ہے کہ اسے کوئی ایک شخص کبھی نہیں کرسکے گا ۔ اگرچہ سین سیمون کی طرح وہ اپنے زمانے کا ایک قاموسی ذہن تھا ۔ لیکن اس کے لئے دو دُشواریاں یہ تھےں کہ اس زمانے میں علم کی وسعت اور گہرائی بھی محدود تھی ۔ ان دشواریوں کے علاوہ ایک تیسرا عنصر بھی تھا۔ ہیگل ایک عینیت پسند تھا جس کے خیال میں اس کے اپنے ذہن کے تصورات حقیقی اشیا اور عمل کے کم و بیش کوئی مجرد عکس نہیں تھےبلکہ اس کے نزدیک اشیا اور ان کا ارتقا ایک ایسے تصور کے عکس تھے ۔ جو دنیا کے وجود سے پہلے ازل ہی سے کسی نہ کسی مقام پر موجود تھا ۔ اس اندازِفکر نے ہر شے کو سر کے بل کھڑا کردیا ۔ اور دنیا میں اشیا کے باہمی تعلقات کو اُلٹ دیا۔ ہیگل نے اگرچہ چند انفرادی تعلقاتِ باہمی کو صیحح طور پر اختیار کیا تھا۔ لیکن اوپر بیان کئے گئے اسباب کی بنا پر ہیگل کی بیشتر تفصیلات میں پیوند، بناوٹ اور آور دپائی جاتی ہے ۔ ایک لفظ میں وہ سب کی سب غلط ہیں۔ ہیگل کا سسٹم ایک بہت بڑی نارسائی تھا۔ لیکن یہ اپنی قسم کی آخری نارسائی تھی ۔ اس سسٹم کو سب سے زیادہ نقصان اس کے اندرونی تضاد نے پہنچا یا ۔ اس تضاد کا کوئی حل ممکن نہیں ۔ ایک طرف تو ہیگل کاسسٹم یہ دعوی کرتا ہے کہ انسانی تاریخ ارتقا کا ایک عمل ہے جس کی نوعےت ہی کچھ اےسی ہے کہ نام نہاد مطلق سچائی کی کھوج مےں ےہ ذہنی اعتبار سے آخری حد نہےں حاصل کر سکتی۔لیکن دوسری طرف یہ سسٹم اسی مطلق صداقت کی ماہےت ہونے کا دعوی کرتا ہے۔
طبعی اور تاریخی علوم کا وہ نظریہ ، جو یہ دعویٰ کرے کہ وہ ہر زمانے کے لئے ہمہ گیر اور حرف آخر ہے،وہ نظریہ جدلیاتی اندازِ فکر کے بنیادی اصول کی ضد ہے۔ جدلیاتی اندازِ فکر یہ دعوی کرتا ہے کہ کائنات کے متعلق ہمارا باقاعدہ علم عہد بہ عہد ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔
جرمن عینیت کی اس غلطی کے احسا س نے مادیت کا راستہ دکھایا ۔ لیکن یہ بات یاد رکھنی چائیے کہ یہ مادیت اٹھارہویں صدی کی خالص مابعد الطبیعاتی اور میکانکی مادیت نہیں تھی۔ تمام پچھلی تاریخ سے انکار کرنے کی نسبت جدید مادیت تاریخ کو انسانی ارتقا کا ایک تسلسل خیال کرتے ہوئے اس تسلسل کے قوانینِ حرکت کی جانچ پڑتا ل کرنا اپنا منصب خیال کرتی ہے۔ یہ خیال کہ فطرت مجموعی طور پر تنگ دائروں میں حرکت کرتی ہے اور غیر متغیر ہے، اٹھارہویں صدی کے فرانسےسی فلسفیوں اور ہیگل کے ذہن میں موجود تھا ۔ وہ نیوٹن کے اس نظریئے کے قائل تھے کہ اجرام فلکی ابد سے ان تنگ دائروں میں حرکت کررہے ہیں۔ وہ لینا س کے اس نظرئیے کے بھی قائل تھے کہ قدرت ان نامیاتی ہستیوںکی انواع سے عبارت ہے جن میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ۔ اس نظریئے کے برعکس جدید مادیت طبعی سائنس کے انکشافات سے استفادہ کرتی ہے۔ جدید مادیت کے ان انکشافات کی رو سے قدرت بھی اپنی ایک تاریخ رکھتی ہے۔ اجرامِ فلکی بھی نامیاتی اجسام کی طرح پیدا ہوتے اور فنا ہوتے رہتے ہیں ۔ اگر ان اجرام ِفلکی کے ادوار کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو پھر بھی یہ ماننا پڑ تا ہے کہ ان دائروں کے الجھاﺅ لا محدودیت میں برابر پھیلتے چلے جارہے ہیں۔
دونوں صورتوں میںجدےد مادےت جدلیاتی ہے ۔ اب جدید مادیت کو کسی ایسے فلسفے کی ضرورت باقی نہیں رہی جو دوسرے علوم سے بالا تر ہو ۔ جوں ہی ہر ایک علیحدہ سائنس نے اشیا اور مجموعی نظام میں ان کی پوزیشن واضح کرنے کی کوشش کی، وہ مخصوص سائینس جس کا تعلق مجموعی نظام سے تھا ،بیکا ر ہو گئی ۔ اس وقت پرانے فلسفے کی ایک ہی یاد گار باقی رہ گئی ہے، یعنی فکر اور اس کے قوانین کی سائنس_ منطق اور جدلیات ۔ہر دوسری چیز قدرت اور تاریخ کی اثباتی سائنس میں مدغم ہو چکی ہے۔
کائنات کے متعلق ہمارا تصور اس نسبت سے بد لتا رہا ہے ۔ جس نسبت سے ہمیں کائنات کے متعلق ثبوتی مواد مہیا ہوتا رہا ۔ بہت پہلے بعض ایسے تاریخی حقائق پیش آئے جنہوں نے تاریخ سے متعلقہ تصور میں ایک فیصلہ کن تبدیلی پیدا کردی ۔ 1831 میں لیونز میں پہلی مرتبہ مزدوروں نے شورش کی۔ 1838اور1842کے درمیان قومی مزدوروں کی تحریک یعنی انگریز چار ٹسٹوں کی تحریک اپنی بلندی تک پہنچ گئی تھی۔ یورپ کے ترقی یافتہ ملکوں کی تاریخ میں مزدوروں اور سرمایہ داروں کی طبقاتی کشمکش ظاہر ہونے لگی۔ جس رفتار سے نئی انڈسڑی نے ترقی کی اور سرمایہ داروں کا نیا حاصل کردہ سیاسی غلبہ بڑھا اسی رفتار سے یہ جدوجہد بھی بڑھتی چلی گئی ۔ حقائق نے پوری شدت کے ساتھ مہا جنی معاشیات کی ان تعلیمات کوسختی سے جھٹلا دےاکہ سرماےہ اور محنت کے مفاد ےکساں ہےں، اور ےہ کہ بے روک مسابقت سے عام خوشحالی اور ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔ اِن تمام چےزوں کو زیادہ دیر تک نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا، نہ ہی فرانسےسی اور جرمن سوشلزم کو جو اِن حقائق کانظری لےکن بھدا مظہر تھا۔ لیکن تاریخ کا پرانا عینی تصور جس میں ابھی تک تبدیلی نہیں ہوئی تھی، طبقاتی جدوجہد کے نام ہی سے نا آشنا تھا۔ وہ اس طبقاتی جدوجہد سے ناواقف تھا جس کی بنیادیں معاشی مفاد پر تھیں ۔ تاریخ کے اس عینی تصور میں پیداوار اور تمام معاشی تعلقات کو محض اتفاقی طور پر بیان کیا جاتا تھا ۔ پیداوار اور تمام معاشی تعلقات کو تہذیب کی تاریخ میں ضمنی عوامل قرار دیا جاتا تھا۔
نئے حقائق نے مجبور کردیا تھا کہ تاریخ پر دوبارہ غور کیا جائے ۔ جب اس پر غور کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ابتدائی دور کے سوا ساری انسانی تاریخ طبقاتی کشمکش کی تاریخ تھی اور یہ کہ سوسائٹی میں ایک دوسرے سے ٹکرانے والے طبقے ہمیشہ اپنے عہد کے معاشی حالات سے پیدا ہوتے رہے ہیں ۔ آپس میں ٹکرانے والے ےہ طبقے پیداوار اور تبادلہ سے پیدا ہوتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سوسائٹی کا معاشی ڈھانچہ ہی وہ حقیقی بنیاد ہے جس پر غور کرنے سے کسی مخصوص عہد کے قانونی اور سیاسی اداروں اور اس عہد کے مذہبی، فلسفیانہ اور دوسرے تصورات کی تشریح کی جاسکتی ہے۔ ہیگل نے تاریخ کے تصور کو مابعد الطبیعات سے الگ کیا۔ اس نے تاریخ کے تصور کو جدلیاتی بنا دیا ، لیکن تاریخ کے متعلق اس کاےہ تصور خالص عینی تھا۔ اب عینیت کو اس کی آخری پناہ گاہ یعنی فلسفہ ¿ تاریخ سے بھی باہر نکال دیاگیا۔ اب تاریخ کا ایک مادی تصور پیش کیا گیا۔ اس سے ایک ایسا طریق کار ہاتھ لگا جس کی مدد سے انسان کے شعور کی تشریح اس کے وجود سے کی جانے لگی۔ حالانکہ اس سے پہلے انسان کے وجود کی تشریح اس کے شعور کے حوالہ سے کی جاتی تھی ۔
اس کے بعد سے سوشلزم کسی ذہےن انسان کا اچانک انکشاف نہیں رہی بلکہ تاریخی طور پر ارتقا پذیر دو طبقوں یعنی مزدوروں اور سرمایہ داروں کی کش مکش کا لازمی نتیجہ قرار پائی ۔ سوشلزم کا اب یہ کام نہیں رہا تھا کہ وہ سوسائٹی کے لئے کوئی مکمل نظام مرتب کرے بلکہ اس کا کام یہ تھا کہ وہ واقعات کے تاریخی اور معاشی تسلسل کی جانچ پڑتال کرے جس کی وجہ سے یہ نئے طبقے پیدا ہوئے ہیں۔ نیز ان نئے معاشی حالات کی تہہ میں چھپی ہوئی اُن قوتوں کی تلاش کرے جو ان طبقوں کی کش مکش کو ختم کر سکتے ہیں۔ لیکن ابتدائی دنوں مےںسوشلزم ،تاریخ کے مادی تصور سے اتنا ہی بے میل تھا جتنا کہ قدرت کے متعلق فرانسیسی مادیت، جدلیات اور نئی طبعی سائنس کے متضاد تھی۔ یہ ٹھیک ہے کہ ابتدائی سوشلزم نے موجود سرمایہ دارانہ طریقِ پیداوار اور اس کے نتائج پر تنقید تو کی تھی لیکن وہ ان کی تشریح نہیں کر سکتاتھا اور نہ ان پر پورا پور اعبور حاصل کر سکتا تھا۔ ابتدائی سوشلزم موجود ہ طریق پیداروار اور اس کے نتائج کو صرف ایک برائی جان کر اسے رَد کر سکتی تھی۔ یہ ابتدائی سوشلزم مزدوروں کے لُوٹے جانے کی جتنی شدت مذمت کرتا اتنا ہی وہ اس بات کی وضاحت میں ناکام رہتا کہ آخر یہ لوٹ ہے کےا اور یہ کیوں پیدا ہوئی ؟ اس کے لئے ضروری تھا کہ ایک طرف تو سرمایہ دارانہ طریق پیداوارکو اس کے تاریخی تسلسل میں پیش کیا جاتا اور یہ بتایا جاتا کہ ایک مخصوص تاریخی دور کے لئے یہ نظام اٹل تھا۔ پھر اس امر کی بھی وضاحت کی جاتی کہ جس طرح اس نظام کا آ نا اٹل تھا ، اس طرح اس نظام کا ختم ہوجانا بھی اٹل ہے اور دوسری طرف اس نظام کی ہیئیت کی وضاحت کی ضرورت تھی جو ابھی تک اوجھل تھی ۔ زائد قدر کے معلوم کر لئے جانے کے بعد ایسا ہی ہوا، چنانچہ معلوم ہوا کہ سرمایہ دارانہ طریق ِِپیداوار اور اس میں مزدوروں کے لٹنے کی بنیاد اصل میں اس محنت کی لوٹ ہے جس کی اجرت مزدوروں کو نہیں دی جاتی ۔ اگر سرمایہ دار مزدور کی قوت محنت کو ایک جنس کی حیثیت سے اس کی بازاری قدر پر خرید ے تب بھی اس نے جتنی قدر ادا کی ہے اس سے زیادہ قدر اس نے اس قوتِ محنت سے حاصل کر لی ہے ۔ یہی زائد قدر ،قدر کا وہ ذخیرہ بن جاتی ہے جس کی وجہ سے ملکیت رکھنے والے طبقوں کے پاس سرمایہ کے انبار لگ جاتے ہیں۔ اس طرح سرمایہ دارانہ طریق پیداوارانہ اور سرمایہ کی تخلیق دونوں کی تشریح ہوگئی ۔ تاریخ کے مادی تصور اور زائد قدر کے انکشاف کے لئے ہم مارکس کے مرہون منت ہیں۔ زائد قدر کے انکشاف نے سرمایہ دارانہ طریق پیداوار کے راز کو فاش کر دیا۔ ان انکشاف کے بعد سوشلزم ایک سائنس بن گےا جس کے تمام پہلوﺅں اور ان کے باہمی تعلقات کی وضاحت کر نا سب سے اہم کام ہو گیا۔
تیسر ا باب
تاریخ کا مادی نظریہ اس اصول سے شروع ہوتا ہے کہ پیداوار اور پیداوار کی اجناس کا تبادلہ ہر سوشل نظام کی بنیاد ہے۔ انسانی تاریخ میں جو سوسائٹی بھی پائی جاتی ہے۔ اس میں پیداوار کی تقسیم اور طبقہ بندی کا انحصار اس بات پر رہا ہے کہ سوسائٹی کیا پیدا کر تی ہے ،کیسے پیدا کرتی ہے۔ اور اس میں پیداوار کی تقسیم کس طرح ہوتی ہے ۔ تاریخ کے اس نظریئے کے مطابق تمام سماجی تبدیلیوں اور سیاسی انقلابوں کے بنیادی اسباب کو انسانوں کے ذہنوں یا ابدی صداقت اور عدل میں ان کی بڑھتی ہوئی بصیرت میں تلاش نہیں کرنا چاہیے بلکہ انہیں طریق پیداوار اور تبادلہ کی تبدیلیوں میں دیکھنا چاہئے ۔ ان کے عہد بہ عہد اسباب کو فلسفے کی جگہ معاشیات میں تلاش کرنا چاہئے ۔ یہ بڑھتا ہوا احساس کہ موجودہ سماجی ادارے نا معقولےت اور بے انصافی پر مبنی ہیں، عقل حماقت میں بدل چکی ہے اور خیرنے شرکی صورت اختیار کر لی، اس بات کی علامت ہے کہ پیداوار اور تبادلے کی صورتیں چپکے چپکے تبدیل ہوتی رہی ہیں اور اس تبدیلی کے ساتھ ہی وہ سماجی ڈھانچہ بھی، جو سابقہ معاشی حالات نے بنایا تھا، اب نئے حالات سے مطابقت نہیں رکھتا ۔ لیکن نئے نظام میں جو خرابیاں ظاہر ہوئی ہیں ان سے رہائی پانے کے ذرائع بھی پیداوار کے ان بدلے ہوئے طریقوں میں کم و بیش پائے جاتے ہیں ۔ ان ذرائع کی تلاش کے لئے کسی ذہنی اختراع کی ضرورت نہیں بلکہ پیداوار کے موجودہ مادی حقائق میں ان کی تلاش کی جائے۔
اس اصول کے مطابق موجود ہ سوشلزم کی کیا حیثیت ہے؟
موجودہ سماجی ڈھانچہ، جیسا کہ عام طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، موجودہ حکمران طبقے یعنی سرمایہ داروں کا بنایا ہوا ہے۔ سرمایہ داروں کا مخصوص طریق ِپیداوار جو مارکس کے بعد سے سرمایہ دارانہ طریق ِپیداوار کہلاتا ہے۔ وہ مقامی اور خاندانی مراعات اور جاگیری نظام کے ذاتی تعلقات میں نہیں کھپ سکتا تھا ۔ سرمایہ داروں نے جاگیر ی نظام پاش پاش کردیا۔ انہوں نے اس نظام کے کھنڈروں پر نیا نظام کھڑا کیا۔ انہوں نے تجارت میں آزاد مسابقت اور نقل و حرکت میں آزادی پیدا کی۔اجناسِ تبادلہ کے مالکوں کے لئے مساوی حقوق اور سرمایہ داروں کے لئے عروج کے مختلف سامان پیدا ہوگئے ۔ ان حالات میں سرمایہ دارانہ طریق ِپیداوار آزادی کے ساتھ ترقی کر سکتا تھا۔ جب سے بھاپ اور کل پرزے بنانے والی مشینری نے پرانی کاخانہ داری کو ختم کرکے بڑے پیمانے پر انڈسڑی کو فروغ دےا،اس وقت سے سرمایہ داروں کی رہنمائی میں پیداواری قوتوں نے اتنی تیز رفتاری سے ترقی کر لی کہ ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔جس طرح ابتدائی کارخانہ داری اور دستکاری جس نے جاگیر ی نظام میں پرورش پائی تھی، آخر کار جاگیر ی نظام میں جکڑے ہوئے گِلڈوں سے متصادم ہوئی، اسی طرح بڑے پیمانے کی نئی انڈسڑی ،جب وہ پوری طرح سے ترقی کر جاتی ہے، تو وہ بھی ان حد بندیوں سے ٹکراتی ہے جن کے اندر سرمایہ دارانہ طریق پیداوار نے نئی انڈسڑی کو جکڑ رکھا ہے ۔ پیداوار کی نئی قوتیں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ اب سرمایہ دارانہ طریق پیداوار میں ان کے لئے کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ پیداوار کی قوتوں اور طریقِ پیداوار میں جو تصادم پایا جاتا ہے وہ اولین گناہ اورالٰہی عدل کی طرح انسانوں کے ذہن میں پیدا نہیں ہوا۔ یہ تصادم ہمارے ذہن سے باہر کی دنیا میں موجود ہے ۔ یہ تصادم اپنے پیدا کرنے والوں کی خواہشوں اور ارادوں سے بھی آزاد ہے۔ جدید سوشلزم اسی حقیقی تصادم کو ہمارے ذہن پر منعکس کرتی ہے۔ اس کا سب سے واضح عکس سب سے پہلے اس طبقے کے ذہن پر پڑتا ہے ۔ جو براہ ِراست اس تصادم کا شکار ہے، یعنی محنت کرنے والا طبقہ ۔
یہ تصادم کہاں پایا جاتا ہے۔ ؟
سرمایہ دارانہ سے پہلے ازمنہ وسطی میں چھوٹے پیمانے پر پیداوار ہوتی تھی۔ جس میں کام کرنے والے اپنے ذرائع پیداوار کے مالک ہوتے تھے ۔ دیہات میں چھوٹے چھوٹے کسان آزاد کاشتکار اور زرعی غلام کھیتی باڑی کرتے تھے۔ شہروں میں دستکاری ہوتی تھی ۔ چونکہ آلاتِ محنت انفرادی استعمال اور انفرادی ملکیت رکھتے تھے، اس لئے وہ بہت ناقص اور بھدے ہوتے تھے۔ ان کا استعمال بھی محدود ہوتا تھا۔ یہ آلات کا م کرنے والے ہی کی ملکیت ہوتے تھے۔ ان محدود اور بکھرے ہوئے ذرائع پیداوار کو اکٹھا کرنا، بڑھانا اور پھر انہیں ترقی دے کر دورِ حاضر کی عظیم الشان پیداآوری قوتوں میں منتقل کر دینا سرمایہ دارانہ طریق ِپیداوار اور اس کے نمائند وں یعنی سرمایہ داروں کا ایک تاریخی کارنامہ ہے۔
کارل مارکس اپنی کتاب سرمایہ کے چوتھے حصے میں تفصیل سے بتاتا ہے کہ کس طرح پندرھویں صدی کے بعد ذرائع پیداوار کی ترقی کا یہ سلسلہ ابتدائی تعاون، کارخانہ داری اور بڑے پیمانے کی انڈسڑی کے تین ادوار میں سے گز ر چکا ہے ۔مارکس یہ بھی بتاتا ہے کہ سرمایہ داروں نے ان محدود ذرائع پیداوار کوترقی دے کر بڑی بڑی پیداآوری قوتوں کو اپنا مطیع کیا۔ لیکن ایسا کرنے میں انہوں نے انفرادی ذرائع پیداوارکو تبدیل کرکے انہیں اجتماعی ذرائع پیداوار کی شکل دے دی ۔ جو لاہے کے کرگھے اور چرخے کی جگہ سوت کاتنے اور کپڑا بننے کی بڑی بڑی مشینوں نے لے لی۔ لوہار کے ہتھوڑے کی جگہ بھاپ سے چلنے والے مشینی ہتھوڑوں نے لے لی۔ کاریگروں کی چھوٹی چھوٹی دکانوں کے بدلے بڑی بڑی فیکٹریاں قائم ہوگئیں ۔ جہا ں ہزاروں مزدوروں کا ایک ساتھ مل کر کام کرنا ضروری ہوگیا۔ ذرائع پیداوار کی طرح خود پیداوار میں بھی نمایاں تبدیلی ہوئی۔ ایک شخص سارے کام کرنے کی جگہ صرف ایک ہی مخصوص کام کرنے لگا۔ انفرادی پیداوار کی جگہ اجتماعی پےداوارنے لے لی۔ اب جو مصنوعات،مثلاً سوت ،کپڑا، اور دھات کی چیزیں فیکٹری سے باہر آنے لگیں وہ مزدوروں کی مشترکہ محنت کا ثمر تھیں کیونکہ ان کی تیار کئے جانے میں انہیں مختلف مزدوروں کے ہاتھوں میں سے گزر نا پڑتا تھا۔ ان اجناس کی بارے میں اب کوئی ایک شخص یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ اس نے بنائی ہیں ۔
جس سوسائٹی میں محنت کی قدرتی تقسیم ہی پیداوار کی بنیاد ہو، وہاں حاصلِپیداوارجنسِ تبادلہ بن جاتی ہے ۔ چنانچہ الگ الگ کام کرنے والے اپنی پیداکی ہوئی چیزوں کا خرید و فروخت کے ذریعے باہمی تبادلہ کرکے اپنی بہت سی ضرورتوں کو پورا کر لیتے ہیں ۔ ازمنہ ¿ وسطی میں سوسائٹی کی یہی حالت تھی۔ مثال کے طور پر کسان اپنی زرعی پیداوار کاریگر کے ہاتھ بیچ کر اس کے بدلے کاریگر کی بنائی ہوئی چیزیں خریدتا ۔ انفرادی پیداوار کی اس سوسائٹی میں ایک نئے طریقِ پیداوار کا ظہور ہوا۔ ابتدائی تقسیم محنت کے ساتھ ساتھ جس میں منصوبہ بندی کا کوئی دخل نہیں تھا۔ الگ الگ فیکٹریوں میں منصوبہ بندی کے تحت محنت کی تقسیم ہونے لگی۔ انفرادی پیداوار کے ساتھ ساتھ اجتماعی پیداوار نے بھی سرنکالا ۔ انفرادی اور اجتماعی تقسیم محنت سے تیار شدہ اجناس ایک ہی منڈی میں فروخت ہوتی تھیں۔ دونوں قسم کی محنت سے تیار شدہ اجناس کی قیمتوں میں بھی کم و بیش کوئی فرق نہیں ہوتا تھا۔ لیکن قدرتی تقسیم محنت کی نسبت منصوبہ بندی کے ماتحت کی گئی تقسیم محنت زیادہ مضبوط تھی۔ ان فیکٹریوں نے، جہاں محنت کو اجتماعی طور پر منظم کیا گیاتھا، انفرادی محنت کرنے والوں کی نسبت سستی اجناس پیداکرنی شروع کردیں ۔ آہستہ آہستہ انفرادی محنت سے اجناس پیدا کرنے والے مٹتے چلے گئے ۔ اجتماعی پیداوار نے طریق پیداوار میں انقلاب پیدا کر دیا۔ اس انقلاب کو اِس سے زیادہ نہ سمجھا گیا کہ وہ اجناس کی پیداوار کو بڑھانے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ نئے طریق پیداوار کا رشتہ شروع ہی سے بعض ایسی چیزوں کے ساتھ جوڑدیا گیا تھاجوجنس کی پیداوار اور تبادلے میں ممدو معاون تھیں اور جن کا وجود پہلے ہی سا تھا ، یعنی تجارتی سرمایہ ۔ دستکاری اور اجرتی محنت چونکہ یہ نیا طریق پیداوار جنس تبادلہ کی پیداوار کا وجود لے کر آیا تھا اس لئے تصرف کے وہ طریقے جو جنس تبادلہ کی پیداوار کے ساتھ مخصوص تھے ، بدستور اپنی جگہ پر قائم رہے۔
ان حالات میں جن میں ازمنہ وسطی میں جنس تبادلہ کی پیداوار نے ترقی کی تھی، یہ سوال ہی پیدانہیں ہوتا تھا کہ محنت کا حاصل کس کی ملکیت ہے۔ انفرادی پیدا کنندہ نے اسے پیدا کیا تھا۔ اس نے جس کچے مال اور جن آلاتِ محنت سے اسے پیدا کیا تھا وہ سب کے سب اس کے اپنے یا اس کے خاندان کی ملکیت ہوتے تھے اس لئے اسے پیداوار پر اپنا حقِ ملکیت جتانے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ اپنی محنت سے پیدا کی ہوئی چیز اپنی نہیں ہوگی تو کس کی ہوگی؟ اس کی ملکیت کا انحصار اس کی اپنی محنت پر ہوتا تھا ۔ جب کبھی کسی دوسرے کی محنت کو حاصل کیا جاتا تو اسے اجرت کے علاوہ اور بھی کچھ نہ کچھ دیا جاتا تھا۔ گلڈوں میں جو شاگرد یا کاریگر کام کرتے تھے ان کے پیش نظر اجرت اور خوراک نہیں ہوتی تھی بلکہ ان کا مقصد دستکاری میں مہارت حاصل کرناہوتا تھا۔ اس کے بعد وہ دور آیا جب ذرائع پیداوار کو بڑے بڑے کارخانوں میں جمع کیا جانے لگا۔ ان کارخانوں میں اجتماعی ذرائع پیداوار اختیار کئے گئے لیکن اجتماعی ذرائع پیداوار اور اجتماعی محنت کے حاصل کی حیثیت میں کوئی فرق نہ آیا۔ انہیں پرانے ذرائع پیداوار اور انفرادی محنت کا حاصل سمجھ لےا گےا۔
اب تک آلاتِ محنت کا مالک ہی پیداوار کا مالک ہوتا تھاکیونکہ وہ اس کی اپنی محنت کا حاصل ہوتا تھا۔ اسے کبھی کبھار ہی دوسروں کی محنت کی ضرورت پڑتی تھی۔ لیکن نئے حالات میں بھی آلات ِمحنت کا مالک ’حاصل کا مالک‘ بنا رہا حالانکہ اب وہ اس کی محنت کا حاصل نہیں رہا تھا بلکہ وہ سراسر دوسروں کی محنت کا نتیجہ تھا۔ اس طرح جو اجناس اجتماعی محنت سے پیداکی جاتی تھیں اُن پر ان لوگوں کا قبضہ نہ رہا جنہوں نے ذرائع پیداوار کو حرکت دی تھی اور اجناس کو پیداکیا تھا بلکہ ان پر سرمایہ داروں کا قبضہ ہوگیا۔ ذرائع پیداوار اور پیداوار اجتماعی ہو چکی تھی لیکن ملکیت کا طریقہ ایسا رہا جس میں پہلے ہی سے یہ مان لیا گیا تھا کہ افراد الگ الگ اجناس پیداکرتے ہیں اور جس میں ہر شخص اپنے حاصل کا مالک ہے اور اسے فروخت کرنے کے لئے منڈی میں لے آتا ہے۔ طریق پیداوار پر اسی قسم کا تصرف حاوی رہا حالانکہ طریق پیداوار نے ان بنیادوں کو ڈھا دیا تھا جن پر اس کا انحصار تھا۔ اسی تضاد میں، جو نئے طریق پیداوار کو سرمایہ دارانہ صورت دیتا ہے، آج کل کی کشمکش کا جرثومہ موجود ہے ۔ جوں جوں نیا طریق پیداوار، پیداوار کے تمام اہم شعبوں میں برتری حاصل کرتا گیا اور ہر ملک میں ایک فیصلہ کن معاشی اہمیت حاصل کرتا رہا، ویسے ویسے انفرادی پیداوار کی اہمیت گھٹتے گھٹتے صرف نشانات تک باقی رہ گئی اور مشترکہ پیداواراور سرمایہ دارانہ ملکیت کا تضاد زیادہ نمایاں ہوتا چلاگیا۔
جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں ،ابتدائی سرمایہ داروں نے اُجرتی محنت کے دستور کو موجود پایا لیکن اجرتی محنت استشنائی اور ضمنی حیثیت رکھتی تھی۔ لوگ صرف اسی صورت میں اجرتی محنت کو کام میں لاتے تھے جبکہ انہیں اپنی آمدنی بڑھانا مقصود ہوتا تھا۔ زرعی مزدور کبھی کبھار اپنے کھیت سے ہٹ کر مزدوری کرنے نکل جاتا لیکن اس کے پاس بھی اتنی زمین ہوتی تھی جس سے وہ اپنی روزی کما سکتا تھا۔ گلڈوں کے اصول ایسے ہوتے تھے کہ آج کا اجرتی مزدور کل کا اُستادکاریگر بن جاتا۔ لیکن جونہی ذرائع پیداوار نے اجتماعی صورت اختیار کی اور وہ سرمایہ دار کے تصرف میں چلے گئے ، یہ صورت حالات بدل گئی ۔ چھوٹے چھوٹے انفرادی پیداکنندوں کے ذرائع پیداوار اور پیداوارکی قدر گھٹنی شروع ہوگئی ۔ اس کے لئے یہی چارئہ کار رہ گیا تھا کہ وہ کسی سرمایہ دار کے ہا ںجا کر اجرت پر مزدوری کرے۔ اس وقت تک اجرتی محنت ایک استشنائی اور امدادی حےثیت رکھتی تھی لیکن اب وہ پیداوار کا اصول اور بنیاد بن گئی ۔ اس وقت تک جب کبھی محنت کرنے والے کو زائد آمدنی کی ضرورت ہوتی تو وہ اجرت پر کام کرتے لیکن اب اجرت پر کام کرنا ہی ان کی روزی کا ذریعہ ہوگیا۔ کبھی کبھار کا اجرتی مزدور اب عمر بھر کے لئے اجرتی مزدوربن گیا۔ جاگیری نظام کے بکھرنے کے ساتھ ہی ان عمر بھر کے اجرتی مزدوروں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی۔ ان کی تعداد بڑھانے میں جاگیری ملازموں کی علیحدگی اور کسانوں کی اُن کے گھر بار اور ان کے کھیتوں سے بے دخلی کو بھی دخل ہے۔ ذرائع پیداوار سمٹ سمٹا کر سرمایہ داروں کے قبضے میں چلے گئے۔ پیداکنندوں کے پاس اپنی قوت محنت کے سوا اور کچھ نہ رہا۔ اس طرح پیداکنندوں سے پیداوار کا تعلق مٹ گیا ۔ اجتماعی پیداوار اور سرماےہ دارانہ تصرف کا تضاد مزدوروں اور سرماےہ داروں کے باہمی نزاع کی صورت میں ظاہر ہوا۔
ہم دیکھ چکے ہیں کہ سرمایہ دارانہ طریق پیداوار نے کس طرح اپنے آپ کو ایک ایسی سوسائٹی پر تھوپ دیا تھا جس میں لوگ انفرادی طور پر تبادلے کے لئے اجناس پیدا کرتے تھے اور جہاں یہی تبادلہ ان کے سماجی اتحاد کا ذریعہ تھا لیکن تبادلے کے لئے جنس پیداکرنے والی ہر سوسائٹی کی یہ خصوصیت ہے کہ اس میں پیداکنندوں کو اپنے سوشل تعلقات پر کوئی اختیار باقی نہیں رہتا ۔ ہر پیداکنندہ اپنے ذرائع پیداوار سے اپنے لئے جو جنس تیا رکرتا ہے اس کے تبادلے سے وہ اپنی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ اس نے جو جنس تیارکی ہے اس کا کتنا حصہ بازار میں آنے والا ہے یا یہ کہ بازار میں اس جنس کی کتنی ضرورت ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ اس نے جو جنس تےار کی ہے اس کا کتنا حصہ بازار مےں آنے والا ہے ےا ےہ کہ بازار مےں اُس جِنس کی کتنی ضرورت ہے۔ کوئی نہےں جانتا کہ اس کی انفرادی محنت سے پیداشدہ جنس کسی حقےقی ضرورت کو پورا بھی کرے گی یا نہیں یا یہ کہ وہ اس کی لاگت پوری کر سکے گایا اسے بیچ بھی سکے گا۔ اجتماعی پیداوار میں نراج کا غلبہ شروع ہو جاتا ہے۔پیداوار کے دوسرے طریقوں کی طرح جنس کی پیداوار بھی اپنے قانون رکھتی ہے۔ یہ قوانین اس کے اپنے اندر موجود ہوتے ہیں ۔ انہیں جنس کی پیداوار سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ قوانین نراج کے ہوتے ہوئے اور نراج ہی کے ذریعہ اپنا کام کرتے رہتے ہیں ۔ یہ قوانین اس مجلسی تعلق میں ظاہر ہوتے رہتے ہیں جو تبادلے کے عمل میں برابر موجود رہتا ہے ۔ یہ قوانین انفرادی پید اکنندوں پر مسابقت کے لازمی قوانین کی حیثیت سے اثر انداز ہوتے رہتے ہیں۔ اسی لئے شروع شروع میں پیداکنندوں کو بھی ان کا پتہ نہیں چلتا۔ ایک طویل تجربے کے بعد انہیں ان قوانین کی خبر ہوتی ہے۔ یہ قوانین پیدا کنندوں کے منشا کے بغیر اور ان کی مرضی کے خلاف اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔ پیداوار کے یہ قدرتی قوانین اندھا دھند اپنا کام کرتے چلے جاتے ہیں ۔ پیداوار پیداکنندوں پر غالب آجاتی ہے۔
ازمنہ ¿ وسطٰی میں اور خاص کر اس کی ابتدائی صدیوں میں پیدا وار پیداکنندوں کی ضرورت کے مطابق ہوتی تھی۔ پیداوار کا مقصد پیداکنندہ اور اُس کے گھر والوں کی ضروریات کو پورا کرنا تھا۔ دیہات میں، جہاں کسان جاگیرداروںکے ماتحت ہوتے تھے، وہاں اس پیداوار سے جاگیرداروں کی بھی ضرورتیں پوری کی جاتی تھیں ۔ چونکہ اس زمانے میں اجناس کے تبادلے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھااس لئے پیدا وار، جنس تبادلہ کی صورت اختیار نہیں کرسکتی تھی۔ ایک کسان کا گھرانہ اپنی ضرورت کی تقریبا تمام چیزیں خود پیدا کرتا تھا، ےعنی خوراک، کپڑا اور برتن۔ لیکن جب کسان اپنی ضرورتوں اور جاگیر دار کے واجب الادا حصے سے زیادہ پیدا کرنے لگا۔ تب پیداوار نے جنس تبادلہ کی صورت اختیار کی۔ یہ زائد پیداوار بکنے کے لئے بازار میں آگئی ۔ اب یہ پیداوار جنس تبادلہ بن گئی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شہر میں رہنے والے کاریگر بھی اپنی ضرورت کی بیشتر چیزیں خود ہی تیار کر لیتے تھے۔ وہ باغوں اور چھوٹے چھوٹے کھیتوں کے مالک ہوتے تھے۔ ان کے مویشی مشترکہ چراگاہوںمےں چرتے۔ ان سے انہیں عمارتی لکٹری اور ایندھن بھی مل جاتا تھا۔ ان کی عورتیں گھروں میںسَن اور اون کا تتیں ۔ پیداوار کو تبادلے کی شکل دینے یعنی پیداوار کو اجناس تبادلہ میں بدلنے کا یہ ابتدائی دور تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس زمانے میں تبادلہ بہت محدود تھا۔ بازار بہت چھوٹا تھا۔ اور طریق پیداوار ایک ہی حال پر رہتا تھا۔ اس دور کے پیدا کنندوں کا بیرونی دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا لیکن ان میں پورا پورا مقامی اتحاد ہوتا تھا۔ دیہات میں پنچائیت تھی اور شہر میں مارک ۔
جنس تبادلہ کی وسعت کے ساتھ ہی اور خاص کر سرمایہ دارانہ طریق پیداوار کے رواج پاتے ہی جنس ِتبادلہ کی پیداوار کے وہ قانون جو اب تک چھپے ہوئے تھے زیادہ قوت کے ساتھ ابھرآئے ۔ پرانے تعلقات کی کڑےاں ڈھیلی ہونے لگیں ۔ الگ الگ رکھنے والی پرانی حد بندیاں ٹوٹ گئیں ۔ پیداکنندے بڑی تیزی سے آزاد انہ طور پر الگ الگ اجناسِ تبادلہ پیداکرنے والوں میں بدلتے گئے ۔ اجتماعی پیداوار کی انار کی ظاہر ہو کر روز بہ روز بڑھنے لگی ۔ لیکن جس ذریعہ سے سرمایہ دارانہ طریق پیداوار نے اجتماعی پیداوار میں انار کی کو بڑھادیا تھا۔ وہ انار کی کی ضد تھا، یعنی کارخانوں میں جہا ں الگ الگ چیزیں تیار کی جاتی ہوں وہاں پیداوار کی تنظیم اجتماعی بنیاد پر کی جائے ۔ یہی وہ لےور تھا جس کی مدد سے اس نے سابقہ پُر امن یکسانیت کو ختم کردیا۔ اس نے انڈسڑی کے جس شعبے میں بھی قدم رکھا۔ وہاں پیداوار کے پرانے طریق قائم نہ رہ سکے ۔ اس نے جس دستکاری کی طرف ہاتھ بڑھایا اسے ملیا میٹ کرکے چھوڑا ۔ محنت کا میدان لڑائی کا میدان بن گیا۔ بڑے بڑے جغرافیائی انکشافات اور اُن سے پیدا شدہ نوآبادیات نے منڈیوں کی تعداد بڑھادی جس سے دستکاری کو کارخانہ داری میں بدلے جانے میں بڑی مدد ملی۔ نہ صرف مقامی پیداکنندوں میں یہ کشمکش شروع ہوئی بلکہ یہ مقامی کشمکش قومی کشمکش بن گئی ۔ سترھویں اور اٹھارہویں صدیوں کی لڑائیاں اسی کش مکش نے پیدا کی تھیں ۔آخر کار جب بڑے پیمانے پر انڈسڑی جاری ہوئی تو عالمگیر منڈیوں کے حصول نے اس کش مکش کو بھی بین الاقوامی بنادیا۔ اس بین الاقوامی کش مکش نے اتنی شدت اختیار کرلی جس کی مثال پہلے نہیں ملتی۔ پیداوار کی قدرتی یا مصنوعی سہولتوں پر نہ صرف انفرادی سرمایہ داروں بلکہ صنعتوں اور مُلکوں کی زندگی اور موت کا انحصار ہونے لگا۔ اس کش مکش میں جو گرپڑتا ہے اسے راستے سے ہٹادیا جاتا ہے۔ ڈارون کا یہ نظریہ کہ ہر فرد کو اپنی بقا کے لئے کش مکش کرنی پڑتی ہے، قدرتی حالات سے ہٹ کر سوسائٹی پر بڑی شدت کے ساتھ حاوی ہوگیا ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس اصول کے تحت حیوان زندگی بسر کرتا ہے وہی اصول انسانی ارتقا کے لئے حرفِ آخر بن گیا ۔ اجتماعی پیداوار اور سرمایہ دارانہ تصرف کے تضاد ہی نے اس تضاد کو پیداکردیا ہے جو الگ الگ کارخانے کی پیداوار کی تنظیم اور مجموعی طور پر سوسائٹی میں پیداوار کی انار کی میں پایا جاتا ہے۔
سرمایہ دارانہ طریق ِپیداوار اس تضاد کے ان دو مظاہر ہی میں حرکت کرتا رہتا تھا ۔ یہ تضاد اس کے خمیر میں ہے ۔ سرمایہ دارانہ طریق پیداوار اس چکر سے بچ کر نہیں نکل سکتا جس کی طرف فورئیے نے اشارہ کیا تھا۔ لیکن فورئیے اپنے زمانے میں یہ نہ دیکھ سکا کہ یہ چکر آہستہ آہستہ تنگ ہو رہا ہے اور اس چکر کی حرکت دائروی نہیں بلکہ بیضوی ہے جو ایک نہ ایک دن سیاروں کی حرکت کی طرح مرکز سے ٹکراکر ختم ہو جائے گی۔ سماج میں پیداوار کی انارکی کی شدت ہی لوگوں کی زیادہ تعداد کو مزدور بنارہی ہے اور آخر کا ر یہی محنت کش طبقہ ایک دن پیداوار کی انار کی کو ختم کر دے گا۔ سماج میں پیداوار کی انار کی کی شدت ہی سے بڑے پیمانے کی انڈسڑی میں مشینوں میں برابر ترقی کرتے رہنے کی لامحدود صلاحیت ایک جبری فرمان کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے جس کی رو سے ہر انفرادی سرمایہ دار اپنی مشین کو زیادہ سے زیادہ مکمل بنانے کی فکر میں رہتا ہے کیونکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں اسے اپنی تباہی کا خدشہ لگا رہتا ہے ۔ لیکن مشینری کو مکمل کرنے کامقصد انسانی محنت کو فاضل بنانا ہے ۔شروع میں جب مشینیں ایجاد ہوئیں اور پھر ان میں توسیع ہوئی تو ہاتھ سے کام کرنے والوں کی جگہ مشین پر کام کرنے والے مزدوروں نے لے لی۔ اسی طرح جوں جوں مشینری مکمل ہوتی جائے گی، مشین پر کام کرنے والے اِن مزدوروں کی تعداد بھی بیکار ہوتی چلی جائے گی۔ یہاں تک کہ اجرتی مزدوروں کی ایک ایسی فوج تیار ہوجائے گی جس کی محنت کی سرمایہ داروں کو ضرورت نہیں رہے گی۔ ایک ایسی فوج جسے میں نے1845 میں صنعتی ریزروفوج کہا تھا ۔ جو اس وقت کام پر لگائی جائے گی جب کہ کارخانے بڑے زوروں پر ہوں گے ۔ لیکن اس وقت جبکہ مندی ہو گی اوراس فوج کو سڑکوں پر چھوڑدیا جائے گا -- ایک ایسی ریزرو فوج, جو اس سارے مزدور طبقے کے لئے جو سرمایہ داروں کے ساتھ زندگی اور موت کی لڑائی لڑرہا ہے, گلے کا ہار بن جائے گی۔ یہ فاضل فوج ایک ایسی’کل‘ بن جائے گی جس کی مدد سے سرمایہ دار اپنی مرضی کے مطابق مزدوروں کی اجرت گھٹا سکیں گے۔ ا س طرح مشین کا رل مارکس کے الفاظ میں مزدوروں کے خلاف سرمایہ داروں کی جنگ میں سرمایہ کا سب سے قوی ہتھیار بن جاتی ہے۔ یہی آلاتِ محنت مسلسل طور پر مزدوروں کے ہاتھ سے ان کی روزی کا ذریعہ تک چھین لیتے ہیں ۔ مزدور کی محنت کا حاصل اسے غلام بنانے کا ایک آلہ بن جاتا ہے۔ اس طرح محنت کرنے کے لئے جن حالات کی ضروت ہوتی ہے ۔ انہیں برباد کر دیا جاتا ہے۔
”مشین ہی وہ طاقتور آلہ ہے جس سے اوقاتِ محنت کم کئے جاتے ہیں اور جو مزدور اور اس کے گھر والوں کی زندگی کے ایک ایک لمحے کو سرمایہ دار کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہے تاکہ وہ اپنے سرمایہ کی قدر بڑھا سکے۔“ (سرماےہ جلد اول)
اس طرح چند ایک کی بے حد محنت دوسروں کی بیکاری کا ذریعہ بن جاتی ہے اور بڑے پیمانے کی انڈسڑی جو ساری دنیا میں نئے خریداروں کی تلاش میں رہتی ہے، اپنے ملک کے عوام کی قوتِ خرید کو فاقہ کشی کی حد تک کم کرکے اپنی داخلی منڈی کو برباد کردیتی ہے۔
”وہ قانون جو اضافی فاضل آبادی یا صنعتی ریزروفوج کی تعداد یا سرمایہ کے بڑھنے کی قوت میں توازن قائم رکھتا ہے مزدوروں کو سرمایہ کے ساتھ اس طرح جکڑ دیتا ہے کہ ولکن نے بھی پرومےتھےئس کو چٹان کے ساتھ اِس طرح نہیں جکڑا ہوگا۔ سرمائے کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اسی تیزی کے ساتھ مصیبت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ ایک طرف اگر دولت جمع ہونا شروع ہوتی ہے تو دوسری طرف مصیبت ،دکھ، غلامی، جہالت، بربریت اور ذہنی پستی پیدا ہوتی ہے ۔ یہ سب ذلتیں اس طبقے کے لئے ہوتی ہیں جو اپنی محنت کے حاصل کو سرمایہ کی صورت میں پیدا کرتا ہے۔“(سرماےہ، جلد اول)
سرمایہ دارانہ طریق پیداوار سے یہ توقع کرنا کہ پیداوار کی تقسیم کسی دوسری صورت میں بھی ہو سکتی ہے، ایسا ہی ہے جیسے چالو بیڑی کے الےکڑو ڈوں سے یہ امید رکھنا کہ وہ پانی کے اجزا کو الگ الگ نہیں کریں گے اور مثبت اور منفی سروں پر آکسیجن اور ہائیڈروجن جمع نہیں ہو گی۔
ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ جدید مشینری میں ترقی کرنے کی جو صلاحیت ہے وہ سوسائٹی کی پیداوار کے نراج کے سبب اپنی انتہا کو پہنچ جانے کے بعد ایک جبری قانون کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے ۔ ہر صنعتی سرمایہ دار مجبور ہے کہ اپنی مشینری میں نت نئی اصلاح کرتا رہے اور اس کی پیداواری قوت کو بڑھاتا رہے ۔ اپنی پیداوار بڑھانے کا امکان بھی صنعتی سرمایہ دار کے لئے ایک جبری قانون بن جاتا ہے ۔ بڑے پیمانے کی انڈسڑی میں گیس کی روشنی سے بھی زیادہ پھیلنے کی قوت ہے۔ پھیلنے کی یہ قوت اپنی کمیت اور کیفیت کی وسعت کے لحاظ سے ہمےں بظاہر ایک ضرورت دکھائی دیتی ہے جو کسی قسم کی رکاوٹ کی پروا نہیں کرتی۔ اس قسم کی رکاوٹ کھپت، فروخت اور وہ منڈیاں پیدا کرتی ہیں جو بڑے پیمانے کی انڈسڑی کے لئے ضروری ہوتی ہیں۔ لیکن منڈی کے وسیع اور عمیق پھےلاو ¿ کا انحصار دوسرے اور نسبتا کم موثر قوانین پر ہوتا ہے۔ منڈی کا پھیلاﺅ پیداوار کے پھیلاﺅ کی نسبت سے نہیں ہوتا ۔ پیداوار جس رفتار سے ترقی کرتی ہے اس رفتار سے منڈی ترقی نہیں کرتی ۔ تصادم ناگزیر ہو جاتا ہے۔ چونکہ یہ تصادم اس وقت تک کوئی حل پیش نہیں کر سکتا جب تک کہ سرمایہ دارانہ طریق پیداوار ختم نہ ہو جائے ۔ چناچہ یہ تصادم وقتاً فوقتاً ہوتا رہتا ہے ۔ سرمایہ دارانہ طریق پیداوار اپنے ساتھ ایک نیا برائی کا چکر لاتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ 1829سے ،جبکہ پہلی مرتبہ عمومی بحران پیدا ہوا ،ہر دس سال کے بعد ساری صنعتی اور تجارتی دنیا میں ہر مہذب قوم اور اس کی محکوم قوم کی پیداوار اور تبادلے میں عملًا انتشار پیدا ہوتا رہا ہے ۔ جب یہ بحران پیداہوتا ہے تو کاروبار بند ہو جاتا، منڈیوں میں اجناس کی بھرمار ہوجاتی ہے۔ اجناس کے ذخیرے بن جاتے ہیں ۔ ان کے خریدار نہیں ملتے ۔ نقدی غائب ہو جاتی ہے۔ روپے پیسے کا لین دین ختم ہوجاتا ہے ۔ کارخانے بیکار ہو جاتے ہیں۔ بے شمار مزدور روزگار کے ذرائع سے اس لئے محروم ہو جاتے ہیں کیونکہ انہوں نے ضرورت سے زیادہ اجناس پیدا کرلی ہیں۔ دیوالے پر دیوالہ نکلنا شروع ہو جاتا ہے۔ نیلام پر نیلام بولتا ہے ۔ یہ جمود کئی سال تک جاری رہتا ہے ۔ پیداوار ار اور پیداواری قوتیں بڑی مقدار میں ضائع کردی جاتی ہیں۔ اجناس کو اونے پونے بیچ دیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ پیداوار اور تبادلے کا عمل پھر آہستہ آہستہ حرکت میں آنے لگتا ہے ۔ اس حرکت میں آہستہ آہستہ تیزی پیدا ہوتی ہے۔ دُلکی اورپھر سرپٹ،یہ سرپٹ حرکت بہت جلد صنعتی تجارتی لین دین اور سٹے بازی کی ایک ایسی دوڑ میں تبدیل ہو جاتی ہے جہاں یہ سب کے سب چھلانگیں بھرتے ہوئے آخر کار ایک بار پھر تباہی کے کنارے پر جاگرتے ہیں ۔ بار بار یہی ہوتا رہتا ہے۔1825کے بعد ہم اس وقت تک پانچ مرتبہ بحران کا تجربہ کر چکے ہیں اور اب 1877میں ہم چھٹی بار اس سے دو چار ہیں۔ ان بحرانوں کی نوعیت اس قدر واضح ہے کہ فورئیے نے سب سے پہلے بحران کے بارے میں یہ کہہ کر کہ وہ " بہتات کابحران " ہے تمام بحرانوں کوجامع انداز سے بےان کر دےا۔
ان بحرانوں میں اجتماعی پیداوار اور سرمایہ دارانہ تصرف کا تضاد بہت شدت اختیار کر لیتا ہے۔ اس وقت اجناس تبادلہ کا چکر تقریبا ًبند ہو جاتا ہے۔ اس چکر کا ذریعہ یعنی زر، چکر میں رکاوٹ پیدا کر دیتا ہے۔ اجناس تبادلہ اور اجناس کے چکر کے تمام قوانین الٹ پلٹ جاتے ہیں ۔ معاشی تصادم اپنے انتہائی نقطے تک جا پہنچتا ہے۔ پیداوار کا طریقہ تبادلے کے طریقے کے خلاف بغاوت کر دیتا ہے۔
یہ حقیقت کہ کارخانے کے اندر پیداوار کی اجتماعی تنظیم اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ سوسائٹی میں پیداوارکی انار کی اسے تباہ نہیں کر سکتی ۔ ےہ بات خود سرمایہ داروں پر واضح ہو جاتی ہے کیونکہ بحرانوں میں اکثر بڑے اور بے شمار چھوٹے سرمایہ داروں کی تباہی سے سرمایہ ایک مرکز پر جمع ہونے لگتا ہے ۔ سرمایہ دارانہ طریق پیداوار کے تمام کل پرزے اپنی بنائی ہوئی پیداواری قوتوں کے بوجھ تلے دب کر ٹوٹ جاتے ہےں۔ اب یہ بات اُس کے بس میں نہیں رہتی کہ وہ ذرائع پیداوار کے اس انبار کو سرمایہ میں تبدیل کر سکے ۔ ذرائع پیداوار کا یہ انبار بیکار پڑا رہتا ہے۔ ذرائع پیداوار، ذرائع روزگار، مزدور اور پیداوار اور عمومی دولت بڑھانے کے تمام عناصر بہتات سے موجود ہوتے ہیں ۔ لیکن فورئیے کے الفاظ میں، یہی بہتات پر یشانی اور کمی کا سبب بن جاتی ہے ۔ یہی بہتات ذرائع پیداوار اور ذرائع روزگار کو سرمایہ میں منتقل ہونے سے باز رکھتی ہے کیونکہ سرمایہ دارانہ سوسائٹی میں ذرائع پیداوار اس وقت تک کام کرنا شروع نہیں کر سکتے جب تک کہ انہیں سرمایہ میں منتقل نہیں کر دیا جاتا یعنی جب تک انسانی قوت محنت کو لوٹا نہیں جاتا۔ ذرائع پیداوار اور ذرائع روزگار کو سرمایہ میں منتقل کر دےے جانے میں وہ سرمایہ داوروں اور مزدوروں کے درمیان ایک بھوت بن جاتا ہے۔ اسی وجہ سے پیداوار کے مادی اور ذاتی ذرائع ایک ساتھ ملنے نہیں پاتے۔اسی وجہ سے ذرائع پیداوار نہ اپنا کام کر سکتے ہیں اور نہ مزدور کام کرکے اپنا پیٹ پال سکتے ہیں۔ اس طرح ایک طرف سرمایہ دارانہ طریق پیداوار اِن پیداواری قوتوں پر قابو پانے کی نا اہلیت کا مجرم بن جاتا ہے، اور دوسری جانب ےہ پےداواری قوتےں موجود تضاد کو مٹانے کے لئے دباﺅ ڈالتی ہیں تاکہ وہ اپنے آپ کو سرمایہ دارانہ ئہیت سے نجات دلائیں اور اپنے آپ کو اجتماعی پیداواری قوتیں تسلیم کروائیں ۔
پیداواری قوتوں کا یہ دباﺅ سرمایہ دار طبقے کو مجبور کر دیتا ہے کہ وہ سرمایہ دارانہ تعلقات کی حدود میں پیداواری قوتوںسے اجتماعی پیداواری قوتوں کا سا برتاﺅ کرے۔ صنعتی گرم بازاری، قرضوں کی کثرت، بحران اور سرمایہ دار کمپنیوں کی تباہی ذرائع پیداوار کو اجتماعی ملکیت کی طرف لے جاتی ہے۔ اس اجتماعی ملکیت کا اظہار جوائنٹ اسٹاک کمپنیوں کی مختلف صورتوں میں ہوتا ہے۔ اس قسم کے بہت سے ذرائع پیداوار اور ذرائع رسل ورسل جیسے ریلوے شروع ہی سے اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ وہاں سرمایہ دارانہ لوٹ کھسوٹ کا جوائنٹ اسٹاک کمپنیوں کے علاوہ اور کوئی دو سرا ذریعہ کارگر ثابت نہیں ہوتا۔ لیکن ترقی کے چند مدارج طے کرنے کے بعد یہ ذریعہ بھی ناکافی ثابت ہوتا ہے چنانچہ ایک مخصوص ملک میں ایک مخصوص صنعت کی کسی شاخ میں پیداوار کی باقاعدگی کے لئے ٹرسٹ بنا ئے جاتے ہیں ۔ ٹرسٹ میں شامل ہونے والے یہ طے کر لیتے ہیں کہ اس مخصوص صنعت کی مجموعی پیداوار کتنی ہو ۔ اس کے بعد یہ لوگ پیداوار کی اس مقر ر کردہ مقدار کو آپس میں بانٹ لیتے ہیں ۔ اس طرح سے اجناس کا بھاﺅ پہلے ہی سے مقر رہو جاتا ہے لیکن جونہی کا روبار ماند پڑتا ہے، اس قسم کے ٹرسٹ عام طور سے ٹوٹ جاتے ہیں، چنانچہ سرمایہ دار اپنے تعاون اور باہمی اتحاد کے لئے کسی بڑی صورت کی تلاش میں مصروف ہو جاتے ہیں ۔ چنانچہ اس مخصوص انڈسڑی کے لئے ایک جوائنٹ اسٹاک کمپنی بنا لی جاتی ہے۔ داخلی مسابقت کی جگہ ایک کمپنی کی اجارہ داری ہو جاتی ہے۔ چنانچہ 1890 میں انگلستا ن میںالکلائی کی پیداوار کے ضمن میں ایسا ہی کیا گیا ۔الکلائیکے اڑتالیس بڑے بڑے کار خانے ایک کمپنی کے انتظام میں چلے گئے جس کا سرمایہ ساٹھ لاکھ پونڈ تھا۔
ٹرسٹوں میں مسابقت کی آزادی اپنی ضد یعنی اجارہ داری میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ مہاجنی سماج کی بے تدبیر پیداوار حملہ آور سوشلسٹ سماج کے سامنے ہتھیار ڈال دیتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اجارہ داری شروع شروع میں سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچاتی ہے لیکن اجارہ داری میں لوٹ کھسوٹ اس قدر واضح ہوتی ہے کہ وہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی ۔ کوئی قوم پیداوار پر ٹرسٹوں کی نگرانی برداشت نہیں کر سکتی جس میں نفع بازوں کی ایک چھوٹی سی جماعت ساری قوم کو لوٹتی چلی جائے۔
بہر حال ٹرسٹ ہوں یا نہ ہوں مہاجنی سوسائٹی کی نمائندہ یعنی ریاست ایک نہ ایک دن پیداوار کی تنظیم کو اپنے ہاتھ میں لینے کے لئے مجبور ہو جاتی ہے۔اس طرح سب سے پہلے رسل و رسائل کے بڑے بڑے ادارے یعنی ڈاکخانے، ٹیلیگراف اور ریلوے کو ریاست کی ملکیت میں تبدیل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔
جہاں بحران نے اس حقیقت کو واضح کردیا کہ سرمایہ دار طبقہ نئی پیداواری قوتوں پر قابو رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا وہاں پیداوار اور رسل ورسائل کے بڑے بڑے اداروں کا جوائینٹ اسٹاک کمپنیوں ،ٹرسٹوں اور ریاستی ملکیت میں تبدیل ہو جانا ثابت کرتا ہے کہ سرمایہ دار طبقے کے بغیر بھی یہ مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ سرمایہ دار کے تمام کام اب تنخواہ دار ملازم کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ سرمایہ دار کا صرف یہ کام رہ گیا ہے کہ وہ منافع جمع کرتا چلا جائے اور اسٹاک ایکسچینج میں جُوا کھیلے جہاں سرمایہ دار اپنے اپنے سرمایہ سے ایک دوسرے کی کھال اتارنے میں مصروف رہتے ہیں ۔ جس طرح ابتدا میں سرمایہ دارانہ طریق پیداوار نے مزدوروں کو بیکار کردیاتھا، اسی طرح یہی طریق پیداوار سرمایہ داروں کو صنعتی ریزرو فوج میں نہ سہی ،آبادی کے غیر ضروری حصے میں ضرورشامل کر دیتا ہے۔
لیکن جوائنٹ اسٹاک کمپنیوں ،ٹرسٹوں اور ریاستی ملکیت میں تبدیل ہو جانے سے پیداواری قوتوں کی نوعیت ےہ ہو جاتی ہے کہ وہ سرمایہ میں تبدیل نہیں ہو تیں۔ جوائنٹ اسٹاک کمپنیوں اور ٹرسٹوں کے متعلق تو یہ بات بالکل واضح ہے۔ جدید ریاست بھی ایک ایسا ادارہ ہے جسے مہاجنی سماج سرمایہ دارانہ طریق پیداوار کے عام خارجی حالات کو مزدوروں اور انفرادی سرمایہ داروں کی دستبُرد سے بچائے رکھتا ہے۔ جدید ریاست اپنی ہر شکل و صورت میں سرمایہ دارانہ مشین ہے۔ سرمایہ داروں کی ریاست --تمام سرمایہ داروں کی ایک متحدہ عینی ریاست۔ یہ ریاست جتنا زیادہ پیداواری قوتوں پر قبضہ کرے گی،اتنا ہی یہ زیادہ سرمایہ داروں کا اجتماعی ادارہ بن جاتی ہے اور اتنا ہی وہ عام شہریوں کو زیادہ لوٹے گی۔ مزدور صرف اُجرتی مزدور رہتے ہیں یعنی پرولتا ریہ، سرمایہ دارانہ تعلقات ختم نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنی انتہا تک پہنچ جاتے ہیں لیکن اس انتہا پر پہنچ کر یہ تعلقات آپ اپنی ضد بن جاتے ہیں ۔ اس تضاد کا یہ حل نہیں ہے کہ پیداواری قوتوں پر ریاستی قبضہ ہو جائے ۔لیکن اس میں اس تضاد کے حل کی کلید تلاش کی جاسکتی ہے۔
یہ حل اسی وقت ممکن ہے جبکہ جدید پیداواری قوتوں کی اجتماعی ہیئت کو عملی طور سے مان لیا جائے اور جس طرح ذرائع پیداوار کی ہیئت اجتماعی ہو گئی ہے اسی طرح پیداوار، تصرف اورتبادلہ بھی اجتماعی ہونے چاہئیں ۔ اس کا طریق کار صرف یہ ہے کہ سوسائٹی پس وپیش کئے بغیر اعلانیہ پیداواری قوتوں پر قبضہ کر لے جو اتنی ترقی کر چکی ہیں کہ پوری سوسائٹی کے علاوہ کوئی دوسرا اُنہےں قابو میں نہیں لا سکتا ۔اس طرح ذرائع پیداوار اور پیداوار کی اجتماعی ہیئت پر پیدا کنندگان کا ہو شمندانہ تصرف ہو جائے گا۔ اور اس طرح ذرائع پیداوار اور پیداوار کی اجتماعی ہیئت بد نظمی کی عِلت اور میعادی بحران سے بچ کر پیداوار کو بڑھانے کا سب سے طاقتورذرےعہ بن جائے گی ۔ لیکن آج ذرائع پیداوار اور پیداوار کی اجتماعی ہئیت پیدا کنندگان کے لئے مصیبت بنی ہوئی ہے۔ جو وقتاً فوقتاً ذریعہ پیداوار اور تبادلے کو بیکار کر دیتی ہے اور جوفطرت کے اندھا دھند قوانین کی طرح متشد داور تباہ کن ہے۔ جب تک ہم ان قوتوں کو ،جو سوسائٹی میں اپنا کام کرتی رہتی ہیں، اچھی طرح سے نہیں سمجھ لیتے اور انہیں غیر ضروری خیال نہیں کرتے اس وقت تک یہ قوتیں بھی قدرت کی قوتوں کی طرح متشدد اور تباہ کن انداز میں اپنا کام کرتی رہتی ہیں۔ لیکن جونہی ہم ان کے رجحانات اور اثرات سے واقف ہو جاتے ہیں تو اس بات کا انحصار ہم پر ہوتا ہے کہ ہم ان قوتوں پر کیونکر بتدریج غالب آتے ہوئے ان سے اپنی منشا کے مطابقکام لیں۔ آج کل کی پیداواری قوتوں پر یہ بات پوری طرح سے صادق آتی ہے۔ جب تک ہم ان قوتوں کی ہئیت اور فطرت کی آگاہی سے انکار کرتے رہیں گے۔( سرمایہ دارانہ طریق پیداوار اور اس کے حامی آگاہی حاصل کرنے کی کوشش میں حائل رہتے ہیں ۔) اس وقت تک یہ قوتیں بہ ایں ہمہ ہماری مخالفت کرتی رہیں گی اور ،جیسا کہ ہم ظاہر کر چکے ہیں ،ان قوتوں کا ہم پر غلبہ رہے گا ۔ لیکن اگر ایک مرتبہ ہم نے ان کی اصل فطرت کو پالیا تو پھر یہ دیو پیکر آقا ایک ساتھ مل کر کام کرنے والوں کے غلام بن جائیں گے۔ بجلی وہ بھی ہے جو بادلوں کی گرج سے پیدا ہو کر تباہی مچاتی ہے اور وہ بھی بجلی ہے جسے مطیع کرکے رات کی تاریکی کو روشنی میں تبدیل کر دیا جاتا ہے ۔یہ بات سمجھ لینے کے بعد اس امر کے لئے راستہ پیدا ہو جاتا ہے کہ پیداوار کے نراج کو دور کیا جائے اور اس کی جگہ ایک اجتماعی منصوبے کے مطابق پیداوار کا ایسا انتظام کیا جائے جس میں پوری سوسائٹی اور افراد کی ضرورتوں کا خیال رکھا جائے ۔اس طرح سرمایہ دارانہ طریق پیداوار کی جگہ جہاں پیداوار پہلے تو پیدا کنند وں اور پھر تصرف کرنے والے سرمایہ داروں کو غلام بنا لیتا ہے، پیداوار کی ملکیت کا ایک ایسا نظام رائج ہو جائے گا جس مےں جدید پیداوار ایک طرف تو سوسائٹی کی ملکیت ہو گی جس کے ذریعہ پیداوار کو قائم رکھا اور بڑھایا جائے گا اور دوسری طرف یہ جدید پیداوار الگ الگ افراد کی ملکیت ہو گی جس سے وہ اپنی ضرورتیں پوری کرکے آرام سے زندگی بسر کر سکیں گے۔ آبادی کی غالب اکثر یت کو روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور )پرولتاریہ( بنا کر سرمایہ دارانہ طریق پیداوار ایک ایسی قوت کو پیدا کردیتا ہے جو اپنے آپ کو تباہی سے بچانے کے لئے انقلاب برپا کرنے پرمجبور ہو جاتی ہے۔ اجتماعی پیداوار کے ذرائع کو ریاستی ملکیت میں تبدیل کرکے سرمایہ دارانہ طریق پیداوار خود بخود اس انقلاب کے لئے راستہ صاف کرتا ہے ۔ پرولتاریہ ریاستی اقتدار پر قبضہ کر لیتا ہے اور سب سے پہلے ذرائع پیداوار کو ریاست کی ملکیت میں تبدیل کر دیتا ہے لیکن ایسا کرنے میں وہ اپنی پرولتاریہ حیثیت کو ختم کر دیتا ہے۔ وہ تمام طبقاتی تنازعات اور امتیازات کو ختم کردیتا ہے ۔ وہ ریاست کو بحیثیت ریاست بھی مٹادیتا ہے۔ سابقہ سوسائٹی کو ،جوطبقاتی نزاع کے دائرے میں گھومتی رہتی تھی، ریاست کی ضرورت رہتی تھی جو پیداوار کے خارجی کوائف کو برقرار رکھ سکے۔ اس ادارے کی مدد سے لوٹے جانے والے طبقوں کو مظلومی کی کسی مخصوص حالت ) غلامی ،زرعی غلامی، اور اُجرتی محنت ( میں مروجہ طریق پیداوار کے تحت زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ یہ ریاست سرکاری طور پر ساری سوسائٹی کی نمائندہ ہوتی تھی۔ یہ ریاست ساری سوسائٹی کی مرئی ہیئتِ اجتماعیہ کی تجسیم ہوتی تھی ۔ لیکن عملی صورت میں یہ ریاست اس مخصوس طبقے کی نمائندہ ہوتی تھی جو ایک مخصوص عہد میں ساری سوسائٹی کی نمائندگی کرتا تھا۔ ازمنہ قدیم میں ریاست غلاموں کے مالک شہریوں کی نمائندہ تھی۔ ازمنہ ¿ وسطیٰ میں جاگیرداروں اور خود ہمارے زمانے میں یہ ریاست سرمایہ داروں کی نمائندہ ہے۔ لیکن جب آخر کاریہ ساری سوسائٹی کی نمائندہ بن جاتی ہے تو پھر اس کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔سوسائٹی میں کوئی ایسا طبقہ ہی باقی نہیں رہتا جسے محکوم بناکر رکھا جائے ۔ طبقا تی غلبے کےخاتمہکے ساتھ ہی پیداوار میں انارکی پر مبنی انفرادی کشمکش حیات اور اس انارکی سے پیدا ہونے والے سب جھگڑے اور سب زیادتیاں ختم ہو جاتی ہیں ۔ چونکہ کوئی ایسی چیز باقی نہیں رہتی جس پر جبر کیا جا سکے اس لئے کسی مخصوص جبر ی قوت یعنی ریاست کی بھی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ ریاست کا پہلا کام، جس میں وہ پوری سوسائٹی کی نمائندہ بن کر سامنے آتی ہے ،سوسائٹی کے نام پر سارے ذرائعِ پیداوار پر قبضہ کرنا ہے لےکن بحیثیت ریاست ےہ اس کی آخری خدمت ہے۔ مجلسی تعلقات میں ریاستی اقتدار کی مدافعت یکے بعد دیگرے مختلف حلقوں میں بیکار ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔ اشخاص کی حکومت کی جگہ اشیا کا نظم و نسق اور پیداوار کی جگہ نگرانی لے لیتی ہے۔ ریاست کو موقوف نہیں کیا گیا۔ بلکہ وہ خود بخود مرجھا گئی ہے۔ اسی نقطہ نظر سے ہمیں آزاد عوامی ریاست کی اصطلاح کو پرکھنا چاہیے ۔(گوتھا پروگرام نے مزدور جماعت کا مقصد اےک "آزاد عوامی رےاست " قائم کرنا قرار دےا تھا ۔ اس پر تنقےد کرتے ہوئے اےنگلز نے اپنے اےک خط مےں لکھا تھا کہ ”آزاد عوامی رےاست “اےک لغو اور بے معنی نعرہ ہے۔ مزدور طبقہ رےاست سے جتنے دن بھی کام لےتا ہے، وہ آزادی کی خاطر نہےں، بلکہ اپنے دشمنوں کا سر کچلنے کے لئے اور جونہی آزادی کا مکان پےدا ہو جاتا ہے، رےاست کی حےثےت سے رےاست کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اےنگلز، خط بنام بےبل، مورخہ 18مارچ 1875)یہ اصطلاح احتجاجی مقاصد کے لئے تو جائز ہے لیکن وہ سائنسی صحت سے خالی ہے ۔ اسی روشنی میںہم نام نہاد انارکسٹوں کے اس مطالبے پر بھی غور کرنا چاہتے ہیں کہ چشم زدن مےں رےاست کا خاتمہ کر دےا جائے۔ (پرودھوں اور باکونےن وغےرہ نراجےت پسند تھے۔ لےکن وہ رےاست کی نوعےت کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ انقلابی حکومت کی ضرورت اوراہمےت کے منکر تھے۔ فتح مند مزدور طبقہ اقتدار حکومت سے کےا انقلابی کام لے سکتا ہے، ےہ ان کی سمجھ سے باہر تھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ رےاست چشم زدن مےں مٹا دی جائے اور اس طرح مزدور طبقے کی آمرےت کے خلاف انہوں نے ”نظرےات“گھڑے اور اب ان کے ماننے والوں نے عملی جدو جہد شروع کی۔) جب سے سرمایہ دارانہ طریق پیداوار کا ظہور ہو اہے اسی وقت سے بعض افراد اور جماعتوں کی طرف سے تمام ذرائع پیداوار کو سوسائٹی کی ملکیت بنائے جانے کے خواب دیکھے جارہے ہیں۔ لیکن ان خوابوں کی حقیقت خیالی خاکوں سے نہیں ہے۔ ایسی سوسائٹی کا امکان، صرف اسی وقت تاریخی ضرورت بن جائے گا جبکہ ایسے مادی اسباب مہیا ہو جائیں گے جو اسے عملی جامہ پہنا سکیں گے ۔سوسائٹی کی ترقی ،انسانوںکے یہ محسوس کر لینے سے کہ مختلف طبقوں کا وجود انصاف اور آزادی کے خلاف ہے ،ممکن نہیں ہوجاتی اور نہ اس کی ترقی کے لئے صرف اس ارادے کی ضرورت ہوتی ہے کہ ان طبقوں کو موقوف کردیا جائے ۔سوسائٹی کی ترقی کا انحصار معاشی حالات پر ہوتا ہے ۔ آج سے قبل تک پیداوار کی پسماندگی اور سست رفتاری کا یہ تقاضا تھا کہ سوسائٹی میں دو طبقے ہوں ، اےک لوٹنے والے اوردوسرا لٹنے والا، ےعنی حکمران اور محکوم طبقے ۔ جب تک سوسائٹی کی غالب اکثریت کا تقریباًسارا وقت محنت پر صرف ہوتا رہا ۔اس وقت تک سوسائٹی کا طبقوں میں منقسم رہنا ضروری تھا۔ اس غالب اکثر یت کے پہلو بہ پہلو جس کا سارا وقت محنت کرنے میں صرف ہوتا تھا، ایک ایسا طبقہ پیدا ہوا جو پیداواری محنت سے آزاد تھا۔ یہی طبقہ سوسائٹی کے عمومی حالات ،محنت کی تنظیم، ریاستی امور،عدل ،سائنس، آرٹ اور دوسرے امور کی نگرانی کرتا تھا ۔ تقسیمِ محنت ہی کا قانون طبقات کی تقسیم کی جڑہے۔ لیکن اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ طبقات کی اس تقسیم کی بنیاد تشدد، ڈکیتی ،دھوکے اور فریب پر نہیں رکھی گئی۔ حکمران طبقہ غلبہ حاصل کرنے کے بعد مزدوروں کو نقصان پہنچاکر مجلسی نظم و نسق کو اس انداز میں ڈھالتا رہا ہے جس کے ذریعہ وہ عوام کو لوٹتا رہے۔
اگر ان اسباب کی بنا پرطبقات کی تقسیم کا جواز نکلتا ہے تو یہ جواز مخصوص سوشل حالات کے اند ر ایک مخصوص وقت کے لئے تھا۔ اس کی بنیاد پیداوار کا ناکافی ہونا تھا۔ طبقات کی یہ تقسیم موجود ذرائع پیداوار کی ترقی کے سامنے ختم ہو جائے گی۔ سچ تو یہ ہے کہ سوشل طبقات کو مٹانے کے لئے تاریخی ارتقا کے اس دور سے گزرنا ضروری ہے جہاں نہ صرف ایک مخصوص حکمران طبقے یا کسی قسم کی حکمران جماعت کا وجود یا طبقاتی امتیاز بیکار ہو جائے ۔ لیکں اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ پیداوار کی ترقی ایک ایسے مقام تک پہنچ جائے جہاں ذرائع پیداوار اور پیداوار کی ملکیت اور اس کے ساتھ ہی سوسائٹی کے ایک مخصوص طبقے کا سیاسی غلبہ ،تعلیمی اجارہ داری اور ذہنی رہنمائی نہ صرف غیرضروری ہو جائے بلکہ وہ معاشی، سیاسی اور ذہنی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن جائے ۔
اب ایسا مقام آگیا ہے کہ سرمایہ داروں پر اپنا سیاسی اور ذہنی دیوالہ ظاہر ہو چکا ہے۔ ان کے معاشی دیوالیہ پن کا مظاہرہ ہر دس سال بعد ہوتا رہتا ہے ۔ہر بحران میںسوسائٹی خود اپنی پیداواری قوتوں اور پیداوار کے بوجھ تلے دب جاتی ہے۔سوسائٹی ان سے کوئی کام نہیں لے سکتی ۔سوسائٹی بے بسی کے عالم میں اس تضاد کو دیکھتی رہتی ہے کہ پیدا کرنے والوں کے پاس صرف کرنے کے لئے اس بنا پر کچھ نہیں ہوتا کےونکہ صرف کرنے والے نہیں رہتے۔ ذرائع پیداوار کی پھیلتی ہوئی قوت ان زنجیروں کو توڑ دیتی ہے جو سرمایہ دارانہ طریق پیداوار نے انہیں پہنا رکھی ہیں۔ پیداوار ی قوتوں کی مسلسل، مستقل اور روز افزوں ترقی اور پیداوار کی لا محدود افزائش کا صرف یہی طریقہ ہے کہ ان زنجیروں سے رہائی حاصل کی جائے ۔ معاملہ یہیں ختم نہیں ہو جاتا۔ ذرائع پیداوارپرسوسائٹی کے قابض ہو جانے کے بعد نہ صرف پیداوار کی موجودہ مصنوعی پابندی دور ہو جائے گی بلکہ پیداوار اور پیداواری قوتیں ضائع ہونے سے بھی بچ جائیں گی جو آج کل پیداوارکے ساتھ چمٹی ہوئی ہیں اور جو بحران کی صورت میں اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہیں ۔ ذرائع پیداوار پرسوسائٹی کا قبضہ ہو جانے کے بعد موجودہ حکمران جماعت اور اس کے سیاسی نمائندوں کی دیوانہ وارعِشرتوں اور فضول خرچیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ یہ امکان ،کہ اجتماعی پیداوار کی بدولت سوسائٹی کا ہر فرد ایسی زندگی بسر کرے کہ نہ صرف اس کی مادی ضررویات پوری ہوں بلکہ ایک ایسا ماحول بھی پیدا کیا جائے جس میں ہر فرد اپنی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو پوری آزادی کے ساتھ ترقی دے سکے، پہلی مرتبہ پیدا ہوا ہے ۔
جب ذرائع پیداوار پرسوسائٹی کا قبضہ ہو جاتا ہے تو پھر اجناسِ تبادلہ کی پیداوار بھی ختم ہو جاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی پیداوار کا دولت پیدا کرنے والوں پر غلبہ بھی ختم ہو جاتا ہے ۔ سوشل پیداوار کی انارکی ختم ہو کر اس کی جگہ پیداوار کی ہوشمندانہ تنظیم شروع ہو جاتی ہے۔ انفرادی بقا کے لئے کش مکش بھی ختم ہو جاتی ہے۔ اس سطحپر پہنچ کر انسان ایک اعتبار سے حیوانی دنیا سے الگ ہو جاتا ہے اور حیوانی زندگی کے حالات کو ترک کرکے ایسے ماحول مےں داخل ہوتا ہے جو حقےقی معنوں مےں انسانی ہے۔ انسانی زندگی کا وہ ماحول جو اب تک اس پر غالب تھا ،اب انسان کے غلبے تلے ہو گا۔ انسان زندگی پہلی مرتبہ فطرت کا باشعور آقا بنے گا کیونکہ وہ اپنی مجلسی تنظیم کا آقا بن چکا ہو گا۔ انسان کی مجلسی سرگرمیوں کے قانون جو اس وقت تک اسے خارجی معلوم ہوتےتھے اور جن کی حیثیت قوانین فطرت کے برابر خیال کی جاتی تھی اب انسان کے اپنے ہاتھ میں ہوں گے ۔ آئندہ ان قوانین پر انسان کا قبضہ ہو گا اور انسان مکمل تفہیم کے بعد ان قوانین کا اطلاق کرے گا۔ انسان کی اپنی مجلسی تنظیم جسے ا ب تک قدرت اور تاریخ کا فرمان خیال کیا جاتا تھا، انسان کا باہمی رضا کارانہ معاملہ بن جائے گی۔ وہ خارجی قوتیں جو اب تک تاریخ پر غالب تھیں ، انسان کے اپنے تصرف میں چلی آئیں گی ۔ صرف اسی مرحلہ پر پہنچ کر انسان اپنے پورے شعور کے ساتھ اپنی تاریخ خود بنائیں گے ۔ صر ف اسی مرحلہ پر پہنچ کر انسان کے حرکت میں لائے ہوئے مجلسی اسباب انسان کی اپنی مرضی کے مطابق نتائج پیداکریں گے۔ انسان احتیاج کی دنیا سے نکل کر اختیار کی دنیا میں داخل ہو جائے گا۔
آخر میں ہم ارتقا کے سفر کے خاکے کو مختصر الفاظ میں یوں پیش کرتے ہیں۔
1 ۔ ازمنہ وسطی کی سوسائٹی :چھوٹے پیمانے پر انفرادی پیداوار ۔ آلات ِپیداوار چونکہ انفراد ی استعمال کے لئے ہوتے تھے، اس لئے وہ بھدے، چھوٹے چھوٹے اور سست کام ہوتے تھے۔ پیداوار یا تو پیدا کنندہ کے لئے یا پھر اس کے جاگیر دار آقا کے استعمال کے لئے ہوتی تھی۔ جب کبھی پیداوار استعمال سے زائد ہو جاتی تو اس زائد حصے کو بازار میں بیچنے کے لئے لایا جاتا۔ اس لئے جنسِ تبادلہ کی پیداوار اپنی ابتدائی منزل میں تھی لیکن اس منزل میں بھی سوشل پیداوار کی انارکی ادھوری صورت میں موجود تھی۔
2 ۔ سرمایہ دارانہ انقلاب: ۔ معولی تعاون اور کارخانہ داری کی بدولت انڈسڑی میں تبدیلی ۔ اُس وقت تک کے منتشر ذرائعِ پیداوار کا بڑے بڑے کارخانوں میں مجتمع ہونا۔ چنانچہ ذرائع پیداوار انفرادی کی جگہ اجتماعی بن جاتے ہیں لیکن یہ تبدیلی کسی طرح بھی تبادلے کے طریق کو متاثر نہیں کرتی۔ ملکیت اور تصرف کی پرانی صورتیں برقرار رہتی ہیں ۔ سرمایہ دار ظاہر ہوتا ہے۔ وہ ذرائع پیداوار کا مالک ہوتے ہوئے پیداوار پر قابض ہو کر پیداوار کو جنسِ تبادلہ بنا دیتا ہے۔ پیداوار ایک اجتماعی عمل بن چکی ہے لیکن اس پر بھی تبادلہ اور تصرف انفرادی افعال رہتے ہیں ، یعنی الگ الگ افراد کے افعال ۔ اجتماعی پیداوار پر انفرادی سرمایہ دار کا قبضہ ہو جاتا ہے ۔ یہی وہ بنیادی تضاد ہے جس سے وہ تمام دوسرے تضاد پیدا ہوتے ہیں جن میں موجودسوسائٹی حرکت کرتی ہے اور جنہیں جدید انڈسڑی ظاہر کرتی ہے۔
1 ۔ پیدا کنند ہ کا ذرائع پیداوار سے قطع حلائق ۔ مزدور کو عُمر بھر اُجرتی محنت کی سزا ۔ مزدوروں اور سرمایہ داروں میں دشمنی ۔
2۔ جنسِتبادلہ پر حاوی قوانین کے اثر میں توسیع ۔ بے عنان مسابقتی کشمکش، انفرادی کارخانے میں اجتماعی تنظیم اور پیداوار میں اجتماعی انارکی میں تضاد ۔
3۔ ایک طرف تو مسابقت کی وجہ سے مشینوں کو بہتر بنانا انفرادی کارخانہ داروں کے لئے ایک جبری آئین بن گیا جس کے سبب مزدوروں کی بڑھتی ہوئی تعداد بیکار ہوتی چلی جاتی ہے ۔ یہی صنعتی ریزرو فوج ہے اور دوسری طرف پیداوار کی غیر محدود توسیع بھی اسی طرح انفرادی کارخانہ داروں کے لئے مسابقت کا ایک جبری قانون بن جاتی ہے۔ دونوں صورتوں میں پیداواری قوتوں کی اَن سُنی ترقی، طلب سے زیادہ ر سد،زائد پیداوار،منڈیوں میں اجناس کی بھرما ر، ہر دس سال کے بعد بحران برائی کا چکر، ذرائع ِپیداوار اور پیداوار میں زیادتی، بیکار اور بھوکے مزدوروں کی زیادتی ہر طرف دکھائی یتی ہے ۔ لیکن پیداوار اور مجلسی بھلائی کے یہ دوپہلو ایک ساتھ کام کرنے کے لائق نہیں ہیں کیونکہ پیداوار کی سرمایہ دارانہ صورت پیداواری قوتوں کو کام کرنے سے روکتی ہے اور پیداوار کو گردش میں نہیں آنے دیتی جب تک کہ پہلے انہیں سرمایہ میں تبدیل نہیں کر لیا جاتا ۔ خود ان کی افراط ہی ایسا کرنے میں رکاوٹ بنی رہتی ہے۔ تضاد بڑھ کرلغویت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ ےہ طریقِ پیداوار طرزِ تبادلہ سے مخاصمت مےں ہے۔ سرمایہ داروں کو اس امر کا مجرم گردانا جاتا ہے کہ ان میں اپنی اجتماعی پیداواری قوتو ں کے نظم و نسق کی صلاحیت نہیں رہی۔
4 ۔ سرمایہ داروں کو خود بخود پیداواری قوتوں کی جزوی اجتماعی ہیئت کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ پیداوار اور نقل و حرکت کے بڑے بڑے ادارے، پہلے جوائنٹ اسٹاک کمپنیوں پھر ٹرسٹوں اور آخر کار ریاست کے حوالے کر دئیے جاتے ہیں ۔ سرمایہ دار ایک ’بیکار طبقہ‘ ہو کر رہ جاتے ہیں ۔ اس کے تمام مجلسی فرائض ان کے اجیر ملازم سر انجام دیتے ہیں۔
4 ۔ پرولتاری انقلاب: تضاد کا حل ۔ مزدور طبقہ ریاستی اقتدار پر قابض ہو جاتا ہے اور اس اقتدار کی مدد سے اجتماعی ذرائعِ پیداوار کو ،جو سرمایہ داروں کے ہاتھ سے نکلتے جارہے تھے ،عوامی ملکیت بنا دیتا ہے ۔ایسا کرنے سے مزدور طبقے نے ذرائعِ پیداوار کو سرمائے کی خصوصیات سے،جن کے وہ اب تک حامل تھے، آزاد کر دیا۔ مزدور طبقہ ذرائع پیداوار کی اجتماعی ہئیت کو ترقی کرنے کا موقع دیتا ہے ۔ اب اجتماعی پیداوار کسی باقاعدہ منصوبے کے تحت ہو جاتی ہے۔ پیداوار کی ترقی کی وجہ سے سوسائٹی میں مختلف طبقات کا وجود سہوِزمانی بن جاتا ہے۔ جوں جوں اجتماعی پیداوار کی انارکی دور ہوتی جاتی ہے، اسی نسبت سے ریاست کا سیاسی اقتدار بھی ختم ہوتا چلا جاتا ہے۔ انسان آخر کار اپنی مجلسی تنظیم کا آپ آقا بن جاتا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی فطرت پر بھی اس کاغلبہ قائم ہو جاتا ہے ۔ انسا ن اپنا مالک آپ بن جاتا ہے__ آزاد ۔
دنیا کو آزاد کرانے کا کام جدید مزدور طبقے کا تاریخی مشن ہے۔ سائنسی سوشلزم کو، جو مزدور تحریک کا نظر یاتی اظہار ہے، اس کام کے لئے تاریخی حالات پیدا کرنا ہیں۔ مزدور طبقے کو، جواب پِسا ہوا ہے، اُس کام سے آگاہ کرنا ہے جس کی تکمیل اُس کی تقدیر میں لکھی ہوئی ہے!
فرہنگ
پیش لفظ
سائنس میں ہرایوگن دوہر نگ کا انقلاب ۔ فریڈرک اینگلز کی یہ کتاب’ قاطع دو ہر نگ‘ کے نام سے مشہور ہے ، جس کا علمی پایہ’ سرمایہ‘ کے برابر ہے۔
لپنرگ ۔ جرمنی کا مشہور شہرجہا ں نپولین کے خلاف ’جنگِ اقوام‘ لڑی گئی تھی۔
پال لفارگ۔ فرانس کا ایک کمیونسٹ لیڈر جس نے پہلی کمیونسٹ انٹرنیشنل کے قیام میں کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز کاہاتھ بٹایا تھا۔
پولستانی ۔ پولینڈ سے متعلق
زےو رچ ۔ سوئٹزر لینڈ کا ایک شہر جہاں سے’ سوزیال دیموکرات‘ شائع ہوتا تھا۔
لسال ۔ جرمنی کی مزدور تحریک کا ایک نمایاں لیڈر جس نے جرمنی کے مزدورں کی سیاسی تنظیم کی ۔ لیکن آخر کار وہ جرمنی کے وزیراعظم بسمارک کا ہم خیال ہو گیا۔
وان کوئی ہوت Don Quixote۔ہسپانوی ادیب سروےنٹےزکے اسی نام کے ایک ناول کا ہیرو ۔ جو اس عہد کے بانکوں کی نمائندگی کرتا ہوا عجیب و غریب حماقتوں کا ثبوت دیتا ہے۔ سروان تیس کا یہ ناول یورپ کی جاگیر دارانہ سوسائٹی پر ایک طنز ہے۔
سانچو پائنزا ۔Sancho Panza وان کوئی ہوت کا ایک سیانا مصاحب ۔
کانٹ ۔جرمنی کا ایک نامور فلسفی ) -1724 1804 ( کانٹ اس با ت کو تسلیم کرتا ہے کہ اس کی آنکھیں روسو کی لکھی ہوئی کتابوں نے کھولیں ۔ کانٹ جہاں کہیں سیاسی فلسفے پربحث کرتا ہے وہاں وہ کوئی نئے خیالات پیش نہیں کرتا بلکہ روسو کے نظریوں کو اپنے نظامِ فلسفہ میں سمودیتا ہے ۔ کانٹ بھی ان لوگوں میں سے تھاجو انقلابِ فرانس کی زیادتیوں سے ڈر گئے تھے۔ ان زیادتیوں نے اس کی نظر میں انقلابِ فرانس کی اہمیت کو کسی طرح کم نہیں کیا تھا۔ کانٹ کے سیاسی نظرئیے اس کے اخلاقی فلسفے کا ایک جزو ہیں ۔ اس کے نزدیک سیاسی زندگی کو اخلاقیات کے ماتحت ہونا چاہیے کونکہ اصولاً اخلاقی اور سیاسی معیار میں کوئی فرق نہیں ہو سکتا اور عمل میں کبھی فرق پیدا بھی ہو جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ عمل عقلِ محض کے معیار پر پورا نہیں اترتا ۔ افلاطون کی طرح کانٹ بھی اخلاق کو سیاسی تخیل کا رہبر بناتا ہے۔ اس کے نزدیک نظریوں کی عملی قدر و قیمت اخلاقی فرض کے مقابلے میں کوئی حقیقت نہیں رکھتی اور اگر یہ معلوم ہو جائے کہ اخلاقی فرض کیا ہے تو پھر اس سے سیاسی اصول اخذ کرنے میں کوئی دشوار ی نہیں ہونی چائیے ۔کانٹ کی نظر مےںریاست کی بذات خود کوئی خاص فلسفیانہ اہمیت نہیں۔ اس کا فلسفہ انفرادی اخلاق سے شروع ہو کر بین الاقوامی اخلاق پر ختم ہوتا ہے۔ سیاسی زندگی کا جو پہلو اخلاق کے دائرے میں نہیں اُسے وہ اپنی بحث سے خارج کردیتا ہے ۔ کانٹ کا بنیادی مسئلہ، جس کی طرف روسو نے اُسے توجہ دلائی ،انسان اور انسانی آزادی کی اخلاقی قدر ہے۔ اس کی سیاسی تعلیم اس معمے کو حل کرنے کی کوشش کا ایک ضمنی نتیجہ ہے کہ انسان کی اخلاقی آزادی اور اس جبر میں کس طرح مصالحت کی جائے جو سیاسی معاشرے میں اس پر کیا جاتا ہے ۔ انسان کا واحد قدیم حق ،جو اسے بحیثیتِ انسا ن ملنا چایئے، آزادی ہے۔ ہر وہ فعل اِس حق کی رو سے جائز ٹھرتا ہے جس کی وجہ سے کسی ایک شخص کی آزادی اورتمام دوسرے لوگوں کی آزادی کے پہلو بہ پہلو رہنے میں کوئی خلل واقع نہ ہو۔کانٹ انفرادیت کے فنا ہو جانے کو تسلیم نہیں کرتا اور اُس کا یا پلٹ کا بھی نہیں قائل نہیں جوروسو کے نزدیک’معاہدہ ¿‘ اجتماعی کے ذریعے انسان کی اخلاقی سرشت بدل دیتی ہے۔ کانٹ کا یہ خیال ہے کہ معاہدہ ¿اجتماعی سے پہلے انسان آزاد اور خود مختار نہیں تھے بلکہ اجتماعی زندگی نامکمل شکل میں موجود تھی جسے معاہدہ ¿اِجتماعی نے تکمیل کو پہنچایا۔ اس سے بظاہر تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کانٹ معاہدہ ¿ اجتماعی کو ایک تاریخی واقعہ فرض کرتا ہے۔ لیکن کانٹ کی اس کے متعلق کوئی قطعی رائے نہیں تھی۔ کہیں تو وہ اجتماعی معاہدے کو رد کردےتا ہے، کہیں اسے لازمی اور کہیں اسے محض عینی تصور ٹھہراتا ہے ۔ دراصل اسے اس مسئلے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس نے ایک مقام پر کہا ہے کہ ریاست کے آغاز پر بحث کرنا فضول اور خطرناک ہے ۔ معاہدہ ¿ اجتماعی کو اس نے محض ایک مروجہ اصطلاح کے طور پر استعمال کیا ہے اورجب کبھی وہ محسوس کرتا ہے کہ معاہدے کا تصور اس کے سلسلہِ خیالات میں نہیں کھپتا تو وہ اسے بلا تامل رَد کر دیتا ہے جس کے سبب اس کے خالص سیاسی نظریوں میں تناقص پیدا ہوجاتا ہے۔ اسے قومی ریاست کی اجتماعی زندگی اور اس کے اعلیٰ اِمکانات سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ اسی وجہ سے اس نے ان تمام مسائل کو نظر انداز کر دیا ہے جن کا تعلق صر ف ریاست سے ہے۔ اس لحاظ سے اس کا خالص سیاسی فلسفہ بہت کمزور ہے۔ ) تاریخِ فلسفہِ سیاسیا ت سے ماخوذ ( لینن کے الفاظ میں جب کانٹ یہ کہتا ہے کہ ’شے بالذات‘ ہمارے ادراک سے مطا بقت رکھتی ہے، تو وہ مادیت پسند دکھائی دیتا ہے لیکن جب وہ یہ کہتا ہے کہ’ شے بالذات‘ ادراک کی حد سے پرے ہے اور ہمیں نہ اس کا علم ہو سکتا ہے اور نہ تجربہ تو وہ عینیت پسند معلوم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کانٹ کے اس تنا قص پر بہت سے فلسفی اعتراض کرتے ہیں۔
لاپلاس ۔ لا پلا س( 1749-1827 ( فرانس کا ایک مشہور ماہر فلکیات جس نے طبیعات میں بھی بڑ ا نام پیدا کیا تھا۔
ڈارون کانظریہ ¿ آفر ینش ۔ کائنا ت کو وجود میں لانے یا اس کے وجود میں آنے سے متعلق نظریہ چارلس ڈارون -1809) 1882 ( اپنے نظریہ ¿ ارتقا کی وجہ سے بہت مشہور ہے ۔ اس نے یہ ثابت کیا تھا کہ نامیاتی اجسام بدلتے رہتے ہیں ۔ جو اجسام اس تبدیلی کی صلاحیت کو کھودیتے ہیں، وہ فنا ہو جاتے ہیں ۔ ڈارون اپنے نظریہ ارتقا کی تشریح آغازِ انواع میں کرتا ہے ۔ کارل مارکس نے آغاز ِانواع کا مطالعہ کرنے کے بعد فریڈرک اینگلز کو لکھا تھا کہ ڈارون کی تحقیق سے ہمارے جدلیاتی نظریہ کی تائید ہوتی ہے
ہیگل ۔ ہیگل -1770) 1831 ( جرمنی کا ایک مشہور فلسفی جس نے جدلیات کو عینیت کے اصولوں کے مطابق انسانی تاریخ پر منطبق کیا ۔
جدلیات۔ یونانی فلسفہ کی اصطلاح Dialectes کا ترجمہ۔ جدلیات سے مراد وہ تضاد ہے جو ہر شے میں موجودرہتا ہے اور جس سے ہر چھوٹی بڑی چیز عالمِ وجود میں آتی اور فنا ہوتی رہتی ہے۔
تاریخ کا مادی نظریہ ۔ تاریخ کے اس نظریے سے یہ مراد ہے کہ پیداوار اور پیداوار کی اجناس کا تبادلہ ہر سوشل نظام کی بنیاد ہے ۔ انسانی تاریخ میں جوسوسائٹی بھی پائی جاتی ہے اس میں پیداوار کی تقسیم اور طبقہ بندی کا انحصار اس بات پر رہا ہے کہ سوسائٹی کیا پیدا کرتی ہے، کیسے پیدا کرتی ہے اور اس میں پیداوار کی تقسیم کس طرح ہوتی ہے ۔تاریخ کے اس نظریے کے مطابق تمام سوشل تبدیلیوں اور سیاسی انقلابوں کے بنیادی اسباب کو طریقِ پیداوار اور تبادلہ کی تبدیلیوں میں دیکھنا چاہئے) متن میں سے (
فطشے ۔ ایک جرمن فلسفی ) 1764-1816) جو اپنی پہلی تصنیف میں روسواور کانٹ کا پیرو، انفرادیت کا حامی اور ریاست کا کھلا مخالف معلوم ہوتا ہے۔ دوسری تصنیف میں اپنا نکتہ ¿ نظربد لے بغےر وہ ریاست کے دائرے کو کسی قدر وسیع کرتا ہے اور تیسری تصنیف میں، جس کا موضوع دراصل معاشی مسائل ہےں، وہ ریاست کے فرائض میں اتنے اضافے کر دیتا ہے کہ انفرادیت کی جڑ ہی کٹ جاتی ہے ۔فطشے کی اس کتاب کو شائع ہوئے چھ سات سال گز ر ے تھے کہ نپولین نے جرمنی پر حملہ کیا ۔فطشے نے لیکچروں اور تقریروں کے ذریعہ سے قوم میں اپنی تہذیب کی قدر پیدا کرنے کی پوری کوشش کی۔ تہذیب کی قدر نے فطشے کے دل سے اس انفرادیت کی یا د بالکل محو کر دی جس کا وہ پہلے گرویدہ تھا۔ اس نے لیکچروں اور تقریروں میں جو نئے نظریے قائم کئے وہ اس کی آ خری تصنیف میں باقاعدہ سیاسی فلسفے کی صورت میں نظر آتے ہیں ۔ اس کی پہلی اور آخری تصنیف سے زیادہ متضاد خیالات محالف فلسفیوں کی تصانیف میں بھی شایدہی ملیں گے ۔ اس کے فلسفہ پر سیاسی واقعات کا اثر پڑتا رہا۔ اسے کانٹ کی طرح فلسفیانہ تصورات میں ڈوبا رہنا منظور نہ تھا ۔ اس نے کانٹ کی طرح یہ نہیں کےا کہ مجرد اصولوں کے سوا حقیقت معلوم کرنے کے دوسرے تمام ذرائع کو اپنی بحث سے خارج کردیتا ۔ اسے ایسے عقیدوں کی تلاش تھی جن پر سیاسی حوصلوں کی بنیاد رکھی جاسکے ۔ شروع میں، جب وہ انفرادیت کا قائل تھا، اس نے ریاست کے سپرد ایسا فرض کیا جس کے مقابلے میں دےگرتمام فرائض محض نمائشی ہیں۔ اور آخر مےں جب وہ ریاست کا پرستار بن گیا تو اس نے افراد کے ذمے ایسے فرائض ڈالے جن کے بغیر ریاست ایک مردہ جسم بن کر رہ جاتی ہے۔فطشے کے آخر ی دور کے فلسفے میں ایک حد تک تنگ نظری ضرور تھی کیونکہ اس نے صرف جرمن قوم کو مخاطب کرتے ہوئے اسے یقین دلایا تھا کہ اس میں خاص اوصاف ہیں جو اسے خدا کی طرف سے عطاہوئے ہیں۔
پہلا باب
سوسائٹی ۔ سماج معاشرہ
نظریاتی ۔ نظریہ سے متعلق
ہیگل ۔ ہیگل 1770-1831) ( پہلا فلسفی ہے جس کی بحث میں ریاست واقعی ایک جسم نامی ٹھہرائی گئی ہے۔اس نے اپنے پیش روﺅں کی طرح سیاسی نظام کا واحد ہ )اکائی( فرد کو نہیں مانابلکہ ریاست کو ہیگل نے اس عقل کی، جسے فلسفی افراد کی خصوصیت سمجھتے آئے تھے، ایک نئی تشریح کی اور اُس فرضی ذہنی معیار کو، جس کے مطابق قانون وفطرت کے ضابطے یا معاہدہ ¿ اجتماعی کی شرائط طے کی جاتی تھیں،ایک نئی شکل دے دی۔
ہیگل کے سیاسی نظریے اس کے پورے فلسفے کاایک حصہ ہیں اور انہیں صحیح طور پر سمجھنے کے لئے اس کے عام فلسفیانہ عقائد کو ذہن نشین کر لینا ضرروی ہے۔ اس کی بنیاد ارتقا ہے ،لیکن ارتقا کا جو مفہوم اس نے قائم کیا ہے اسے حیاتیات کے علمی اصول سے بہت کم تعلق ہے ۔ حیاتیاتی اصول کے مطابق ذہن کا پیداہونا اور زندگی پر اثر ڈالنا ترقی کا انتہائی درجہ ہے۔ لیکن اس کے برخلاف ہیگل کے نزدیک ارتقا کوئی مادی یا میکانکی سلسلہ نہیںبلکہ ایک ذہنی اور روحانی قانون ہے اور اس کے عمل میں آنے کے معنی یہ ہیں کہ ذہن اپنے مادی ماحول کو ایک مقصد یا عینی تصورکے حصول کے لئے بتدریج ترقی دیتا رہا۔ ہیگل عقل کو ایک فرضی اور مستقل ذہنی قوت نہیں سمجھتا اور اس مقصد کو، جو ارتقا کا محرک ہو، انسان کے ماحول سے جُدا چیز نہیں ٹھہراتا ۔ انسانی عقل بھی نشوو نما پاتی ہے اور اس کے ساتھ وہ تصور بھی جسے انسان اپنے ماحول میں مجسم کرکے دکھانا چاہتا ہے۔ روح اور مادے، عقل اور اس کے میدانِ عمل کو ایک دوسرے فطرتاً جدانہ تصور کرنا چاہیے ۔ انسا ن کا سار اعلم اور تجربہ ایک ذخیرہ ہے جسے عقل نے جمع کیا ہے اور عقل ہی وہ قوت ہے جو خود نشوو نما پاتی ہے اور اپنی تخلیق کو، جو اس کا میدانِ عمل بھی ہے اور مجسّم مظہر بھی، نشوو نما دیتی رہتی ہے۔ ارتقا کا اصول بھی ہیگل کے سیاسی تخیل کی رہبری کرتا ہے۔ اگر اس کی تعبیر سیاسی اصطلاح میں کی جائے تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ اجتماعی زندگی کے تمام مظاہر انسانی عقل کی تخلیق ہیں اور ایک تصور کے مجسّم مظاہر، یعنی وہ سیاسی نظام اور ادارے جو کسی زمانے میں موجود ہوں، ذہنی تصور کا تقاضا پورا نہیں کرتے یا اس کا حق ادا نہیں کر سکتے اور عقل کی تحریک سے تصور کے مجسمے اپنی شکل بدلتے اور ترقی کرتے رہتے ہیں ۔ اس طرح ہیگل بظاہر سیاسیات کو تاریخ کا پابند کردیتا ہے مگر یہ پابند ی غلامی نہیں ہے ۔ تاریخ کی اہمیت کے باوجود ہیگل کااصرار ہے کہ اصل چیز سیاسی دنیا کے مظاہر نہیں ہیں بلکہ وہ تصور، وہ عینی مقصدہے جسے حاصل کرنے کی غرض سے یہ مظاہر وجود مےں آتے ہیں۔ اس طرح ہم تصور کو اس شکل سے جدا نہیں کر سکتے جو اس نے کسی وقت میں اختیار کی ہو ۔ لیکن اصل چیز تصور ہے اس کی شکل نہیں ۔ ہیگل افراد کے حق مےں بہتر سمجھتا ہے کہ وہ ریاست کو اپنی نشو و نما کا اصل ذریعہ جانیں اور ریاست کے لئے ضروری سمجھتا ہے کہ وہ افراد کی نشو و نما کو اپنے ارتقا کا حقیقی وسیلہ قراردے ۔
روسو۔ ژاں ژاک روسو۔ ) (1712-1778( انقلابِ فرانس کا بہت بڑا نقیب اور ایک نامور آوارہ ادیب۔ ایک گھڑی ساز کا بیٹا تھا۔ وہ ابھی بچہ ہی تھا کہ اس کا آوارہ باپ اسے چھوڑ کر کہیں بھاگ گیا۔ روسو کے عزیزوں نے اسے ایک سنگ تراش کے پاس کام سیکھنے کے لئے بھیج دیا۔ استاد بہت زیادہ تند مزاج تھا۔ شاگر د کے لئے یہ تندی ناقابل برداشت تھی۔ سولہ سال کی عمر میں وہ آوارہ گردی کے لئے گھر سے نکل پڑا ۔ مرتے دم تک وہ آوارہ ہی رہا۔ اسے کوئی مستقل ٹھکانہ نہ مل سکا۔ اس نے عمر بھر کوئی خاص پیشہ اختیار نہ کیا۔ اس کی ساری زندگی دکھوں سے بھری پڑی ہے۔ روسو کی آوارگی اس کے ذہن کی جِلا کا سبب بنی ۔ شائد ہی کوئی ایسی ذلت تھی جس سے روسو نے اپنے آپ کو وابستہ نہ کیا ہو ۔ لیکن ذلت و رسوائی میں بھی اس کا سینہ ایک بے پناہ طوفان کو تھامے ہوئے تھا۔ 38 برس کی عمر میں جب اس نے قلم اٹھایا تو یہ طوفان جذبات کی صورت میں ظاہر ہوا ۔اُس کے پہلے مقالے نے فرانس بھر میں ہیجان پیدا کردیا۔ کل کا آوارہ آج کا ادیب بن گیا۔ اس کے خیالات نے فرانس کو ہلادیا۔ عبرت ناک زندگی بسر کرنے والاسوسائٹی کے لئے اخلاقی معیار تجویز کرتا ہے۔ اپنے بچوں کو یتیم خانے کے سپرد کرنے والا بچوں کی تعلیم و تربیت پر کتاب لکھتا ہے ۔
معاہدہ ¿ عمرانی۔ روسو کی سب سے مکمل کتاب معاہدہ ¿ عمرانی ہے ۔ اس کتاب کا اردو میں ترجمہ ہو چکا ہے ۔ انسان آزاد پیدا ہوا ہے لیکن افسوس کہ وہ ہرجگہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے ۔ ان الفاظ سے معاہدہ ¿ عمرانی کا آغاز ہوتا ہے۔ روسو کے خیال میںسوسائٹی اور ریاست آزاد انسانوں کے باہمی معاہدے سے پیدا ہوئی تھےں لیکن ایک مدت گزرنے کے بعد اس ریاست میں مساوات قائم نہ رہی۔ اب اگر انسان پھر کوشش کرے تو ا ُسی معاہدے کی بنا پرسوسائٹی میں آزادی اور مساوات قائم کی جاسکتی ہے ۔ روسو کے تخیل کااعجاز ہے کہ ایک افسانہ، جس سے انسان زیادہ سے زیادہ اپنا جی بہلا سکتا تھا ، ایک ہمت افزا حقیقت بن گیا۔ لیکن یہ خواب کی باتیں ،خواہ وہ علم سے برتر مرتبہ رکھتی ہوں ، علم کی تعریف میں نہیں آسکتیں اور عملی اخلاق پر ایسی خیال آرائیوں کا چاہے جتنا اچھا اثر پڑے ہم انہیں اخلاقیات مےں شامل نہیں کر سکتے اس لئے کہ ان میں عقل اور منطق کو ذرا بھی دخل نہیں ۔روسو کی تعلیم کا کسی علم سے تعلق نہیں ۔ عالم کے لئے جو ذہنی خصوصیات لازمی ہیں ان میں سے ایک بھی اُس میں موجود نہ تھی ۔ اس نے مطالعے کے ذریعے سے جو تھوڑی بہت معلومات حاصل کی تھیں ۔ انہیں ہم مروتاً بھی علم قرار نہیں دے سکتے ۔
پرولتاریہ ۔ مزدوروں کا وہ طبقہ جس کی ملکیت قوتِ محنت کے سوا اور کچھ نہ ہو ۔
گِلڈ ۔ ہم پیشہ لوگوں کی انجمن
تحریکِ اصلاح ۔ سولہویں صدی کے یورپ کی وہ مذہبی اور سیاسی تحریک جس کا خاتمہ پروٹسٹنٹ کلیسےاﺅں کے قیام پر ہوا ۔ اس تحریک کے اسبا ب کو سمجھنے کے لئے رومن کیتھولک چرچ کی تشکیل اور ہئیت کا مطالعہ ضروری ہے ۔ یورپ کے حکمرانوں اور پاپاﺅں میں تقسیمِ اقتدار کی جدوجہد نے اس تحریک کو ازمنہ وسطیٰ ہی میں جنم دے دیا تھا لیکن اس تحریک نے زور سولہویں صدی میں پکڑا ۔ 1517 میں مارٹن لوتھر نے وٹن برگ کے کلیسےا کے دروازے پر کلیسےا کے خلاف 95نکات پرمشتمل ایک مضمون آویزاں کیا ۔پوپ نے اسےمسےحےتسے خارج قرار دے دیا۔ مارٹن لوتھر کے پیرو ’پروٹسٹنٹ ‘کہلاتے ہیں۔ ابتدائی دور کا ہر پروٹسٹنٹ لوتھرےن نہیں تھا۔ سوئٹزر لینڈ میں زونگلی جبکہ کالوین کی تحریک فرانس ،ہالینڈ اور اسکاٹ لینڈ میں پھیل گئی۔
لیولرز۔ انگلستا ن کی ایک سیاسی جماعت جو خانہ جنگی کے دوران پیدا ہوئی۔ کرامویل کی فوج کے سپاہی زیادہ تراس پارٹی کے ممبر تھے۔اس پارٹی کا لیڈر جان لطبر ن تھا۔ اس پارٹی نے اپنے جمہوری اصولوں کو میثاقِ عوام میں پیش کیا تھا ۔ 1649 کے بعد اس پارٹی نے بغاوت کردی ۔ لیکن ان کی بغاوت پر بہت جلد قابو پالیا گیا۔ 1660مےں اس پارٹی کا خاتمہ ہو گیا۔
انقلابِ فرانس ۔ 1789 میں فرانس میں جو انقلاب ہوا اُس نے سارے یورپ کو بہت زیادہ متاثر کیا۔ فرانس کے عوام پر ٹیکسوں کا بہت زیادہ بار تھا۔ نظم و نسق میں بھی بہت سی خرابیاں پیدا ہو چکی تھیں ۔ انقلاب کے ان اسباب کے ساتھ ساتھ فرانس کے فلسفیوں کی تحریروں نے پڑھے لکھے لوگوں کو انقلاب کے لئے تیار کر لیا۔ 1614 کے بعد 1789میں فرانس کی سٹیٹس جنرل کا اجلاس ہوا ۔ اس اجلاس کے دوران فرانس کے تیسرے طبقے کے نمائندوں نے مل کرقومی اسمبلی قائم کر لی۔ چودہ جولائی 1789کو انقلابیوں نے باستئل کی جیل کو توڑ دیا ۔ ترنگے پھر یرے کوقومی پرچم بنالیاگیا۔ قومی اسمبلی نے تمام مراعات کو ختم کرکے ایک نےا دستور مرتب کرنے کا اعلان کردیا۔ اسی اثنا میں فرانس کے کئی امرا ءدوسرے ملکوںکو بھاگ گئے ۔ جون 1791 میں بادشاہ نے بھی بھاگنے کی کوشش کی لیکن پکڑا گیا۔ یورپ کے دوسرے حکمرانوں نے فرانس کے معاملات میں دخل دینا چاہا لیکن جےکوبن پارٹی نے اُن کی ایک نہ سُنی ۔ مارچ 1792میں فرانس نے آسڑیا کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ۔ پروشیا نے آسڑیا کی مدد کرنا چاہی لیکن فرانسیسی فوج نے پروشیا کی فوج کو شکست دی۔ اب قومی کنونشن قائم ہو چکی تھی۔ انتہا پسندوں کا غلبہ تھا۔ 1793کو فرانس کی جمہوریت نے لوئی کو موت سز ا دی۔ فرانس کی جمہوریت نے اعلان کردیا کہ وہ یورپ کے ہر اُس ملک کی مدد کرے گی جو بادشاہت کو ختم کرنا چاہتا ہو۔ 1793 میں تحفظ عامہ کمیٹی قائم کی گئی ۔ اس کمیٹی کی سب سے سرگرم اور نمایاں شخصیت اربس پیئر تھی۔ اب دہشت پسندی کا دور شروع ہوا۔ یہ دور اکتوبر 1795تک قائم رہاجبکہ نظامت قائم کی گئی۔ نظامت کے قائم ہوتے ہی انقلاب ِفرانس کا دور ختم ہو جاتا ہے!
بابوف۔ فرانس کا ایک سیاستدان ۔جب فرانس میں انقلابِ فرانس ہوا تو اس وقت بابوف کسی دفتر میںمُنشی تھا۔ وہ بہت جلد اِس تحریک کا لیڈر بن گیا۔ اُس نے اپنے اخبار میں رابس پیئر کی مخالفت کی ۔ 1794میں، جبکہ پیرس کو مصائب کا سامنا تھا، اس نے ایک نیا نظام پیش کیا۔ اسے 27مئی 1797کو قتل کردیا گیا۔ وہ چھوٹے چھوٹے کمیونسٹ گروہوں کی سازشوں اور بغاوتوں کے ذریعہ سے کمیونزم کے قیام کا خواب دیکھتا تھا۔
مثالی معاشرت۔ سولہویں اور سترھویں صدی کے ان خیالی سوشلسٹوں کی طرف اشارہ ہے جو ایک ایسی سوسائٹی کے خواب دیکھتے تھے جس میں ذاتی ملکیت نہ ہو۔ ان خیالی سوشلسٹوں میں تھا مس مور اور کیمپا نیلاخاص طور سے قابل ذکر ہیں ۔
راہبانہ کمےونزم۔ ایساکمیونزم جوسوسائٹی کی تشکیل پر سائنسی غور و فکر کرنے کی نسبت انسانوں سے ہر قسم کی لذت ترک کروا کر انہیں راہبوں میں تبدیل کردے ۔
اسپارٹا ۔ پرانے یونان کی ایک شہری ریاستجہاں ہر شہری کو فوجی تعلیم دی جاتی تھی اور جہاں’ ریاست کی خدمت‘ کا جذبہ تمام دوسرے جذبات پر غالب تھا۔ اسپارٹا نے جنگِ یونان و ایران میںنمایاں حصہ لیاتھا۔ پیلو پونیشی جنگ میں اسپارٹا نے ایتھنز کو شکست دی تھی لیکن بہت جلداےتھنز کی شہر ی ریاست نے اسپارٹا کو شکست دے دی۔ ”اسپارٹی زندگی“ سے مراد سادہ اور بہادرانہ زندگی ہے ۔
بورژوائی ۔ سرمایہ دارانہ طبقہ، ذرائعِ پےداوار پر قابض۔
عہدِ خطر ۔ 1793-94 میں فرانس کی انقلابی حکومت کی عنان جیکوبن پارٹی کے ہاتھ میں تھی۔ یہ پارٹی چھوٹے چھوٹے سرمایہ داروں اور محنت کرنے والوں کی نمائند ہ تھی۔ اس پارٹی نے انقلاب کے مخالفوں کو ختم کرنے کے لئے دہشت انگیزی اور قتال کو اختیار کیا۔
نظامت۔ عہدِ خطر کے زوال کے بعد فرانس میں ناظموں کی جو حکومت قائم ہوئی وہ فرانس کی تاریخ میں نظامت کہلاتی ہے۔ نپولین نے اِس نظامت کو ختم کر دیا۔
نپولین ۔ پندرہ اگست 1769کو پیداہوا ۔ جب فرانسیسی جمہوریت کی فوج نے 1894میں اٹلی پر حملہ کیا تھا تو نپولین اِس فوج کا کمانڈر تھا۔ اُس کی فتوحات نے اُسے فرانس میں بہت زیادہ مقبول بنادیا۔ 9نومبر 1799کو نپولین نے فوجی ہلہ بول کر ایک نئے دستور کےتحت حکمرانی کے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لئے ۔ اٹلی میں ایک مرتبہ پھر کامیابی حاصل کرنے کے بعد 1804میں وہ فرانس کا شہنشاہ بن گیا۔ داخلی لحاظ سے فرانس اب تک خود مختار حکمران کے ماتحت تھا۔ خارجی لحاظ سے فرانس کی فوجیںےورپی ملکوں سے لڑنے میں مصروف تھیں ۔ 1812 میں اُس نے روس پر حملہ کیا۔ اس حملے میں وہ تباہ ہوگیا۔ لیپزگ کی لڑائی میں اتحادیوں نے اُسے شکست دی اور اسے البامیں جلاوطن کردیاگیا۔ 26فروری 1815کو اُس نے آخری مرتبہ تقدیر آزمائی کی۔ وہ البا سے بھاگ کر فرانس پہنچ گیا۔ پندرہ جون 1815کو ُاس نے واٹر لو میں شکست کھائی ۔ اس نے اپنے آپ کو انگریزوں کے حوالے کردیا۔ اسے سینٹ ہلینا کے جزیرے مےں جلاوطن کردیاگےا۔ جہاں اس نے 5جون 1821کو وفات پائی۔
کارلائل ۔ برطانیہ کا مشہور مورخ کارلائل 1795 میں پیدا ہوا ۔ اُس نے اپنی زندگی کا آغازسکول ماسٹر کی حیثیت سے کیا۔ 1834میں وہ لندن میں مقیم ہو گیا۔ اس نے بہت سی کتابیں لکھیں جن میں ’ہیرو پرستی‘ اور’ انقلاب ِفرانس‘ بہت مشہور ہیں ۔ جس مکان میں کارلائل رہتا تھا اسے میوزیم مےں تبدیل کیا جا چکاہے۔
اخوت ۔ بھائی چارہ
قانون ِمساکین۔ انگلستا ن میں قانونِ مساکین کسی نہ کسی صورت میں ملکہ الزبتھ کے وقت سے چلاآرہا ہے 1834 مےں اس قانون میں بہت سی ترامیم کی گئےں ۔ آخری مرتبہ اس قانون میں 1930میں ترمیم کی گئی۔
پرووھوں۔ فرانس کا ایک مفکر( 1809-1865) جواَنارکزم کا بانی کہلاتا ہے۔ وہ جس سوشل نظام کی تعلیم دیتا ہے اس کی بنیاد چھوٹے کاشتکار اور آزاد مزدوروں کی آزاد محنت پر ہے۔
ویت لنگ ۔ جرمنی کا ایک سوشلسٹ مصنف (1808-1871) جو سرمایہ دارانہ نظام پر محض اخلاقی اصولوں کی بنا پر اعتراض کرتا ہے۔
انتخابےت ۔ پرانے فلسفیوں کا وہ نظریہ جو مختلف مذاہبِ فلسفہ سے مسائل کا انتخاب کرتا ہے۔
دوسرا باب
قاموسی ۔ مختلف علوم میں ایک ایسی مہارت رکھنے والا۔
ارسطو ۔ایک یونانی فلسفی جو 384 ق م میں مقدونیہ میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ شاہ مقدونیہ کا طبیب تھا۔ اس نے بھی طب کی تعلیم حاصل کی تھی۔ وہ اپنی تعلیم کی تکمیل کے لئے 367 ق م میں ایتھنز گیا۔ جہاں وہ بیس سال رہا ۔ اس مدت میں اس کا زیادہ وقت افلاطون کی صحبت میں گزرا ۔ 347 ق م میں افلاطون کی موت کے بعد وہ ایتھنز سے چلاگیا۔ 343 ق م میں مقدونیہ کے بادشاہ فلپ نے اسے اپنے بیٹے سکندر کی تعلیم کےلئے مقدونیہ آنے کی دعوت دی۔ وہ سکندر کی تخت نشینی تک مقدرنیہ ہی رہا 335 میں وہ ایتھنز چلا گیا۔ جہاں اس نے ایک مدرسہ قائم کیا ۔ موت سے ایک سال پہلے اُس نے ایتھنز کو چھوڑا ۔ اس نے 322ق م میں وفات پائی ۔ ارسطو نے مختلف علوم وفنون پر کتابیں لکھیں ۔ ازمنہ ¿وسطیٰ میں عربوں نے نہ صرف ان کتابوں کے عربی تراجم شائع کئے بلکہ ان میں سے کئی ایک نے ارسطو کے مقالات کی تشریح کی۔ ارسطو کے عر ب شارحین میں ابنِ ارشد بہت زیادہ مشہور ہے ۔
دیکارتے ۔ فرانس کا ایک فلسفی اور ریاضی دان 1596 میں پیدا ہوا ۔ فرانس اور جرمنی کی فوجوں میں تھوڑی مدت ملازمت کرنے کے بعد وہ ہالینڈ میں آباد ہوگیا۔ 1649میں وہ سٹاک ہوم چلاگیا۔ اس نے 1650میں وفات پائی ۔ فلسفے کی تاریخ میں اس کا یہ جملہ،” چونکہ میں سوچتا ہوں اس لئے میں ہوں“ بہت زیادہ مشہور ہے۔ اس کی سب سے مشہور کتاب ’اصولِ فلسفہ‘ ہے۔ اقلیدس میں بھی اس نے چند ایک نئے نظریے قائم کئے تھے۔
سپائی نوزا ۔ ہالینڈ کا ایک فلسفی 1632-1677))۔جس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ہیگ میں صرف کیا، دیکارتے کے فلسفہ کی شرح لکھی۔ وہ ہمہ اوست کا قائل ہے۔ اس کی مشہور کتاب’ اخلاق ‘ہے۔
دیدرو ۔ فرانس کا ایک مشہور لکھنے والا) (1751-1765 اس کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے 1751 اور 1765کی درمیانی مدت میں 17جلدوں میںقاموس ا نسائیکلوپیڈیا مرتب کی۔ دیدرونے کئی ناول اور ڈارمے بھی لکھے تھے۔
ہراکلےتس ۔ یونا ن کا ایک فلسفی جو مابعد الطبیعات کا بانی ہے۔ اس نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ کائنات پر آگ کی حکومت ہے۔ سب چیزیں اسی سے نکلتی ہیں اور آخر کار اسی میںمدغم ہو جاتی ہیں۔ اس نے کہاتھا کہ صرف تغےر ہی کو ثبات ہے۔
عہدِ اسکندریہ ۔ چھ سو سال کی اس مدت سے مراد ہے جو تیسری صدی عیسوی تک پھیلی ہوئی ہے۔ اسکندریہ کی یونیورسٹی نے مختلف طبعی علوم میں نمایاں کام کئے تھے۔
بیکن۔ فرانس بیکن انگلستان کا مدبر اور مفکر 1561 میں لند ن مین پیدا ہوا تھا۔ یونانیوں کے بعد بیکن کی کتابوں نے فلسفے میں نمایاں اضافہ کیا۔ اس کی کتابوں میں سے مضامین اور اطلاس بہت مشہور ہیں ۔ اس نے 1646مےں وفات پائی۔
لاک ۔ جون لاک ۔ مشہور برطانوی فلسفی 1632میں پیدا ہوا ۔ لاک اپنے فلسفیانہ خیالات کو اپنی کتاب” مضامین متعلقہ انسانی فہم“ میں پیش کرتا ہے۔اس کتاب میں وہ بتاتا ہے کہ ہمارا سارا علم تجرباتی ہے۔ اس نے فلسفہ ¿ سیاسیات پر بھی بہت کچھ لکھا ۔ اس نے 1704 میں وفات پائی۔
نیوٹن ۔ آئی زک نیوٹن۔( 1642-1727 )انگلستا ن کا مشہور ریاضی دان فلکیاتی اور فلسفی 1666 میں ایک سیب کے گرنے سے اس کے ذہن میں قانونِ کشش کا خیال پیدا ہوا جسے اُس نے بعد میں مرتب کیا ۔ اس نے حرکت کے قوانین مرتب کئے اور سفید روشنی ےعنی نور کے اجزائے ترکیبی بتائے ۔اس کی مشہور کتابوں میں اصول اور بصریات ہیں۔
تصور ۔ ہیگل اپنے فلسفے میں تصور اور تصورِکُل سے خدا مراد لیتا ہے۔
لیناس ۔ کارل لیناس جو بعد میں کارل فان لینی کے نام سے مشہور ہوا۔ سویڈن کا ایک ماہر نباتات تھا۔ وہ 1707 میں پیدا ہوا ۔ اس نے 1775میں وفات پائی۔اس نے نباتات پر بہت سی کتابیں لکھیں۔
لیونزکی شورش ۔ 1831میں لیونز کےجولاہوں نے ایک ہڑتا ل کے دوران مےں کم سے کم اجرت مقر ر کئے جانے کا مطالبہ کیا تھا لیکن مزدوروں پر گولی چلادی گئی تھی۔ مزدوروں نے عام بغاوت کردی اور شہر پر قبضہ کر لیا۔ جب کارخانہ داروں کی مدد کے لئے فوج پہنچ گئیتو اُس نے مزدوروں کی شورش پر قابو پالیا۔
چارٹسٹ تحریک ۔ انگلستان کے مزدوروں کی تحریک جس نے انیسویں صدی کی تیسری اور چوتھی دہائی میں بہت زور پکڑا تھا۔ انگلستا ن کے مزدوروں کی یہ پہلی آزادانہ سیاسی تحریک تھی۔ یہ تحریک اس لئے چارٹسٹ کہلاتی ہے کہ 1839 میں مزدوروں نے پارلیمنٹ کے سامنے ایک چارٹر پیش کیا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ :(1)اکیس سال اور اس سے زیادہ مردوں کو ووٹ دینے کا عام حق دیا جائے۔( 2)پارلیمنٹ کا انتخاب ہر سال ہواکرے ۔ (3)پارلیمنٹ کے ممبروں کو تنخواہ دی جائے ۔ (4)پرچی خفیہ طریقے سے ڈالی جائے ۔(5)انتخابی حلقے برابر ہوں۔(6)پارلیمنٹ کاممبر ہونے کے لئے حساب ملکیت ہونے کا وصف اڑادیا جائے ۔ مزدوروں نے ان مطالبات کو منوانے کے کئی سال تک جدوجہد کی جس مےں ہڑتال،مظاہرہ اور مسلح بغاوت- سب کو کام میں لایا گیا۔
مہاجنی معاشیات ۔ معاشیات کو مہاجنوں ساہوکا روں اور کارخانہ داروں کے مفاد کا محافظ بنا کر پیش کرنے کی کوشش۔
عینیت۔ مابعد الطبعےات کا یہ مسئلہ کہ حقیقی وجود صرف تصور کا ہے اور یہ کہ مادی اشیا اسی تصور کے ماتحت ہیں۔ فلسفہ ¿ عینیت میں افلاطون ۔ برکلے اور ہیگل بہت نامور ہیں۔
مارکس ۔ کارل مارکس( 1818 1883-)کے معاشی تصورات نے دنیا بھر کی کمیونسٹ تحریکوں کو جنم دیا۔ 1847 میں مارکس اور اینگلز نے’ کمیونسٹ مینی فیسٹو‘ شائع کیا جس میں انہوں نے کمیونسٹوں کے زاویہ ¿ نگاہ کی وضاحت کی۔ 1867میں مارکس کی مشہور کتاب’ سرمایہ‘ کی پہلی جلد چھپی۔ مارکس کو اس کے انقلابی خیالات کی وجہ سے جرمنی اور فرانس سے جلاوطن ہونا پڑا۔ وہ 1848میں لند ن چلاگیا۔ جہاں وہ اپنی موت تک اپنی کتاب ’سرمایہ‘لکھنے میں مصروف رہا۔
تیسراباب
ازمنہ ¿ وسطیٰ۔ تاریخ کی ایک اصطلاح جس سے نئے اور پرانے وقتوں کی درمیانی مدت مراد ہے ۔ عام طور پر یہ مدت 476ءسے شروع ہو کر پندرھویں صدی کے آخر پر ختم ہوتی ہے ۔ بعض مورخ اسے 453 1پر ختم کرتے ہیں کیونکہ اس سال عثمانی تُرکوں نے قسطنطنیہ( استنبول)فتح کیا تھا۔ اور بعض مورخ اس مدت کو 1492 پر ختم کرتے ہیں ۔ اس سال کولمبس نے امریکہ دریافت کیاتھا۔
آلات محنت ۔ مراد ہے زمےن، زرعی اوزار، کارخانہ اور دوسرے اوزار ۔
جغرافیائی انکشافات ۔ پندرھویں صدی کے آخری نصف اور سولہویں صدی کے پہلے نصف کی سمندری دریافتوں کی طرف اشارہ ہے۔ 1492 میں کولمبس نے امریکہ دریافت کیا اور چھ سال بعد واسکوڈی گاما نے راس اُمید کا چکر کاٹ کر ہندوستان کا نیا بحری راستہ دریافت کیا۔
تجارتی لڑائیاں ۔سترھویں اور اٹھارھویں صدیوں میں ہندوستان اور امریکہ کی تجارت کو قابو مےںلا نے کے لئے یورپی ملکوں میں لڑائیوں کا جو سلسلہ شروع ہوا اُسے تجارتی لڑائیاں کہاجاتا ہے۔ ان لڑائیوں میں ہسپانیہ ، پرتگال ہالینڈ، فرانس اور انگلستان شریک تھے۔ ان لڑائیوں میں انگلستان جیت گیا۔
ڈارون ۔ چارلس رابرٹ ڈارون( -1809 1882)نے بیس سال کی محنت کے بعد 1859میں’آغاز ِانواع‘ لکھی ۔اس کتاب نے سائنس کی تاریخ میں نمایاں تبدیلی برپاکر دی ۔ 1851میں اس نے ’ہبوطِ آدم‘ لکھی ۔ ڈارون کا سب سے اہم نظریہ” بقاءاصلح “ہے جس کی رو سے کش مکشِ حیات میںوہی باقی رہتا ہے جو اصلح ہوتا ہے۔
-1845 اشارہ ہے اینگلز کی اپنی کتاب’ انگلستان میں مزدوروں کی حالت ‘کی طرف ۔
ولکن اور پرومےتھئےس ۔یونانی دیو مالا کے مطابق پر ومتھےئس نے اولمپس سے آگ لاکر انسان کو علوم سکھائے۔ اس پر آگ کے دیوتا ولکن نے اُسے ایک پہاڑ کے ساتھ جکڑ دیا۔ ایک گِدھ دن بھر اس کے جگر گوشت نوچتا رہتا اور رات کے وقت گوشت کے یہ ٹکڑے اس کے جسم پر دوبارہ اُگ آتے تھے ۔ ہرکولےس نے اس گدھ کو مار کراس کو اذیت سے نجات دلائی تھی۔
برائی کا چکر ۔ مراد ہے ایک ایسے چکر سے جس میں ایک برائی کو ختم کرنے کے لئے کئی برائیاں پیدا ہو جاتی ہیں ۔
انارکسٹوں ۔ اشارہ ہے پرودھوں اور باکو نین اور ان کے ماننے والوں کی طرف، جن کا یہ مطالبہ تھا کہ ریاست کو چشمِ زدن میں ختم کردیا جائے۔
فریڈرک ا ینگلز
SOCIALISM, SCIENTIFIC AND UTOPIAN
سو شلزم، سائنسی اور خےالی
1878
تعارف: یہ کتاب جیساکہ فریڈرک اےنگلزکے دیباچہ سے ظاہر ہوتا ہے اس کی ایک کتاب کے تین ابواب پر مشتمل ہے۔پوری کتاب قا طع دوہرنگ (Anti- Dugring)کے نام سے مشہور ہے۔جسے فریڈرک اےنگلز نے جرمن زبان میں لکھا تھا۔اس کے ایک دوست نے ان تین ابواب کا فرانسیسی میں تر جمہ کیا ۔فرانسیسی ترجمے کو بہت زیادہ مقبو لیت ہو ئی۔ چنا نچہ بہت تھوڑی مدت میں یہ کتاب کئی ایک یورپی زبانوں میںشا ئع ہو گئی۔ ایڈدرڈ ایولنگ نے اس کا انگر یزی میں ترجمہ کےا۔اسی ترجمے کواردو میںپیش کیا جا ر ہا ہے۔
سا ئنسی سو شلزم کے مطا لب و معانی سے آگاہ ہونے کے لئے فر یڈرک ا ینگلز کی یہ کتاب بہت مفید ہے۔اس کتاب کے مفہوم سے واقف ہو جا نے کے بعد کارل ،ما رکس فریڈرک ا ینگلز،لینن، اور دوسرے سا ئینسی سو شلزم پر لکھنے والوں کی کتابوں کے سمجھنے میں کا فی حد تک آ سا نی پیدا ہو جا تی ہے۔
فر یڈرک اےنگلز
مختصر حالات زندگی
فریڈرک اینگلز820-1895) 1 (جرمنی کے ا یک کارخانہ دار کا بیٹا تھا۔ اس نے بریمن مےں ابتدا ئی پڑھائی کی۔باپ کی خوا ہش تھی کہ اس کا بیٹا قانون کی تعلیم حا صل کرے لیکن بیٹا شعر و شاعری کی د ھن میں تھا۔اسے بہت جلد محسوس ہو نے لگاکہ شعر وشاعری اس کے بس کا روگ نہیں۔ اب نوجوان فر یڈرک ا ینگلز نے ادب اور فلسفہ پڑھنا شروع کر دیا۔بیٹے کا یہ طرز عمل باپ کو پسند نہ آ یا۔ چنا نچہ اس نے ا ینگلز کو بر یمن میں کار خا ر نہ کا تجربہ حاصل کر نے کے لئے بھیج دیا۔بر یمن مےںقیام کے دوران ا س نے ہیگل کے فلسفہ کا مطا لعہ شر وع کر دیا۔
ا کیس بر س کی عمر میںاےنگلز کو فو جی تعلیم حا صل کرنے © کے لئے برلن جا نا پڑا بر لن میں اس نے اپنے آپ کو ہیگل کے شیدا ئیوں کی جما عت سے وابستہ کر لیا۔اسی دوران میں اس نے ایک سو شلسٹ ا خبار میں فرضی نام سے لکھنا شروع کر دیا۔دو سال میں فو جی تعلیم ختم ہو گئی۔اینگلز کو گھر جا نا پڑا۔اسی ا ثنا میں باپ کو بیٹے کے خیا لات کا پتہ چل گیا۔چنا نچہ اس نے اینگلز کو مانچسٹر بھیج د یا۔
انگلستان جا تے ہو ئے فر یڈرک ا ینگلز نے کو لون میں کا رل مارکس سے ملا قات کی جس میں اینگلز نے کارل مارکس کے ا خبار کے لئے لکھنے کا وعدہ کیا۔انگلستان پہنچنے کے بعد اینگلز اس وعدہ کو پورا کر تا رہا۔ مانچسٹر کے قیام میں اس نے رابرٹ اودین سے ر بط ضبط پیدا کیا۔1848 میں جر منی جا تے ہوئے فر یڈرک ا ینگلز نے پیرس میں کا رل مارکس سے ملا قا ت کی۔ دوسری ملا قات کا نتیجہ اس دوستی کی بنیاد تھی جس نے آگے چل کر تا ر یخی صورت ا ختیار کر لی تھوڑی مد ت تک بر یمن میں ر ہنے کے بعد اینگلز برو سیلز چلا گیا۔ ما رکس بھی ان دنوں و ہیں تھا۔پیرس میں” جر من کمیو نسٹ لیگ“کے نام سے ایک خفیہ سو سائٹی بن چکی تھی۔ اینگلز نے اس جما عت میں شامل ہو کر پیر س میں ر ہنے والے جر من مزدوروں کو منظم کر نا شروع کر دیا۔ جون۷۴۸۱ءمیںکمیونسٹ لیگ کی پہلی کانگرس(اجلاس)لندن میں ہوئی۔اسی کا نگرس میں فریڈرک اینگلز نے ”دنیا کے مزدورو ایک ہو جاﺅ“کا نعرہ بلند کیا تھا۔اسی کانگریس میں یہ طے پایا تھاکہ کمیونسٹ لیگ کا ایک ا علان نا مہ مر تب کیا جا ئے چنا نچہ ما رکس اور اینگلز نے مل کر ےہ اعلان نا مہ مر تب کیا جو” کمیو نسٹ مینی فیسٹو“کہلاتا ہے۔فر یڈرک ا ینگلز اور کارل مارکس کو لون ہی میں مقیم تھے کہ1848 میں فر انس میں ا نقلاب ہو گیا جس کے اثرات آہستہ آہستہ سارے ےورپ پر چھا گئے۔مارکس اور اینگلز جر منی کی انقلابی تحرےک کی ر ہنما ئی کر رہے تھے۔ جنو بی جر منی میں مزدوروں اور شا ہی فو ج میں جو تصادم ہواا ±س نے خانہ جنگی کی صورت اختیار کر لی۔مزدوروں کی فوج میں بھرتی ہو کر فریڈرک اینگلز نے چار لڑائےوں میں حصہ لیا۔ اس خا نہ جنگی میں مزدوروں کو شکست ہوئی۔ کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز کو جلا و طن ہو کر لندن جانا پڑا۔تھوڑی مدت تک مارکس اور اینگلز لندن میں اکھٹے رہے۔اس کے بعد فر یڈرک اینگلز اپنے باپ کے کارخانے میں نوکری کرنے کے لئے مانچسٹر چلاگیا۔1870 میں فر یڈرک اینگلز لندن چلا آےا۔ اب اس نے سارا وقت لکھنے پڑ ھنے میں صرف کرنا شروع کر دےا"قا طع دوہرنگ" اسی زمانے میں لکھی گئی تھی۔ یہ کتاب ا ینگلز کا عظےم کار نامہ ہے۔ کارل مارکس کی موت کے بعد فریڈرک اینگلز نے ایک طرف تو مارکس کے نا تمام مسودات کومکمل کیا اور دوسری طرف اس نے بین الاقوامی مزدور تحریک کی ر ہنما ئی کو جا ری ر کھا۔
فر یڈرک اینگلز
سو شلزم، خیا لی اور سائنسی
مند ر جات:
پیش لفظ
پہلا باب
دوسراباب
تیسرا باب
فر ہنگ
پیش لفظ
آئند صفحات میری کتاب "سا ئنس میں ہر ایوگن دوہرنگ کا ا نقلاب"کے تین ابواب سے ما خوذہیں۔ یہ کتاب1878میں لپزگ میں چھپی تھی۔میں نے ان ابواب کو تھوڑی سی تر میم کے ساتھ اپنے دوست پال کنارک کے لئے یکجا کیا تا کہ وہ ان کا فر ا نسیسی میں تر جمہ کر یں۔یہ فرا نسیسی تر جمہ میرے د ہرائے جانے کے بعد شا ئع ہوا۔اس کے بعد ےہ ترجمہ1880 میں پیرس سے” خیالی سو شلزم اورسائنیسی سو شلزم“کے نام سے شائع ہوا۔اس فرانسیسی تر جمے سے اس کتاب کا ”خیالی اور سائنسی سو شلزم“کے نام سے پولستانی زبان میں1882میںجنیواسے ترجمہ شائع ہوا۔فرا نسیسی بولنے والے ملکوں اور خصوصاً فرانس میں لنارک کے تر جمے کو جو مقبولےت حا صل ہوئی اس سے مجھے خیال پیدا ہوا کہ ان تین ابواب کو اگر جرمن زبان میں چھا پ دیا جائے تو یہ ایک مفید کام ہو گا۔ انہی دنوں زبایورچ کے''سوزی آل د یموکرات "کے اےڈ یٹروں نے مجھے ا طلاع دی کہ جر من سو شل ڈیموکر ٹیک پارٹی کی طرف سے نئے نئے پراپےگنڈاپمفلٹوںکا مطا لبہ کیا جا ری ر ہا ہے اس کے ساتھ ہی انہوںنے مجھ سے پو چھا کہ آےا میں انہیں اس مقصد کے لئے ان تین ابواب کے چھانپے کی اجا زت دے سکتا ہوں۔ظا ہر ہے کہ مجھے ان سے پورا پورا اتفاق تھا۔اس لئے میں نے کتاب ان کے حوالے کر دی۔ا صل میں یہ کتا ب فوری مو ¿ ثر پر و پگنڈ ے کے لئے نہیں لکھی گئی تھی۔ ایک خا لص سا ئنسی کتاب اس مقصد کے لئے کیو نکہ مو زوں ہو سکتی تھی؟تر تیب اور نفسِ مضمون میں کن تبد یلیو ں کی ضر ورت تھی؟ جہاں تک تر تیب کا تعلق ہے صرف بے شما ر غیر ملکی ا لفا ظ دشواری پیدا کر سکتے تھے۔ لیکن کسال بھی اپنی تقر یرں اور پر و پیگنڈا تحر یروں میں غیر ملکی ا لفا ظ سے گر یز نہیں کر تا تھا۔ جہاں تک مجھے علم ہے اس بارے میں کبھی کسی نے شکا یت نہیں کی۔اس وقت سے اب تک ہما رے مزدور اخباربینی میں زےا دہ باقاعد ہ ہو گئے ہیں۔اب وہ پہلے سے کہیں زےادہ گنتی میں اخبار پڑھتے ہیں۔ اس لئے وہ غیر ملکی لفظوں سے زیادہ مانوس ہو چکے ہیں۔میں نے صر ف غیر ضروری غیر ملکی الفا ظ نکا ل د ئیے ہیں۔اےسے غیر ملکی الفا ظ کی، جن کا استعمال بہت ضروری تھا، میں نے کسی قسم تشر یح ےا تر جمہ نہیں کیا۔اگر ان غیر ملکی الفا ظ کا تر جمہ ممکن ہوتا تو پھر انہیں اصل صورت میں کیوں قبول کر لےا جاتا۔ سائنسیی اصطلا حا ت کے تر جمے سے مفہوم بگڑ جاتا۔ سلجھا ﺅ کی جگہ اُلجھاو ¿ پیدا ہو جا تا ہے۔تر جمہ کر نے سے کہیں زےادہ مفید ہے کہ ان ا صطلا حا ت کی ز با نی و ضا حت کر دی جائے!جہا ں تک نفسِ مضمون کا تعلق ہے میرا خیا ل ہے کہ میں یہ د عویٰ کر سکتا ہوں کہ اس کے سمجھنے میں جر من مزدور وں کو کو ئی مشکل پیش نہیں آ ئے گی۔ مجمو عی طور پر صرف تیسرا باب مشکل ہے۔لیکن اس میں بھی” ´ تعلیم یا فتہ “سر ما یہ داروں کے لئے مزدوروں کی نسبت ز یا دہ مشکلات ہو گی۔مطا لب کی و ضا حت کے لئے میں نے کہیں کہیں کچھ تشریحی اضا فے کر دیے ہیں۔ ایسا کر نے میں میرے پیش نظر مزدوروں سے کہیں زےادہ”پڑھے لکھے“ نا ظر ین ہیں جن میں نان امیزن،ہنریش نان سیبل اور دوسرے سر مایہ دار جر من مورخ شامل ہیں جو بار بار قا بو میں نہ آنے والی حسِ سے متاثر ہو کر اپنی تحر یر وں میں اپنی خو فناک جہالت کا مظا ہرہ کر تے ر ہتے ہیں۔ےہ لوگ سو شلزم کے بارے میں بھی بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ اگر ڈان کو ئی ہوٹے Don Quxote اپنے نیزے سے پن چکیوں پر حملہ کرتا ہے۔تو وہ اپنا فر ض ادا کرتا ہے۔ لیکن ہم اس بات کو کبھی بر داشت نہیں کر سکیں گے کہ سا نچوپا نزا Sancho Panzaاس قسم کی حر کات کرتا پھرے۔اس قسم کے نا ظر ین اس بات کو د یکھ کر بھی بہت زیادہ حیران ہوں گے کہ سوشلزم کے ار تقا کی تار یخ میں انہیں کا نٹ اور لاپلاس کے نظرےہ ¿ آفرینش ،موجود طبعی علوم، ڈارون،کلا سیکی جرمن فلسفے اور ہیگل کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ سا ئنسی سوشلزم اصلاََ جرمن سا خت کی ہے۔ سائنسی سوشلزم کا ظہور اسی قوم میں ہو سکتا تھا۔ جس نے شعوری جدلیات کی رواَیتواں کو ز ندہ رکھا ہوجرمنی تا ریخ کے ما دی نظر یہ اور نئی سو سا ئٹی میں مزدوروںاور سر مایہ داروں کی کش مکش پر اس کا اطلا ق جد لیات کے بغیر نا ممکن تھا۔ اب جرمن سر مایہ داروں کے اسکول ماسٹر جر منی کے بڑے بڑے فلسفیو ں اور جد لیات کو بُھلا کر بال کی کھا ل نکالنے میں اس حد تک مصر وف ہیں جد لیات کے ثبوت کے لئے طبعی علم کو شا ہد بنانا پڑا ہےہم جرمن سوشلسٹ اس بات پر نازاں ہیں کہ ہم نے صرف سین سمیون، فورئیے اور اودین سے اخذ کیا ہے کانت،فشطے اور ہیگل کا تر کہ بھی پایا ہے۔
فر یڈرک ا ینگلز
لندن، 21 ستمبر1882
باب 1
جد ید سو شلزم اپنی ما ہیت میں نتیجہ ہے ایک طرف نئی سو سا ئٹی میں مو جودہ طبقا تی تضاد اور دوسری طرف اس نراج کا جو پیداوار میں ہے۔ نئے سماج کا یہ تضاد اُجرتی مز دوروں اور سر مایہ داروں میں پایا جاتا ہے۔ جد ید سوشلزم اپنی نظر یاتی بنا وٹ میں اٹھا رہویں صد ی کے فر انسیسی فلسفیوں کے خیا لات کی ار تقا ئی صورت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جد ید سو شلزم کی جڑ یں مادی اور معاشی اسباب میں چھپی ہوئی ہیں لیکن ہر نئے نظر یئے کی طرح سو شلزم بھی ابتدا میںذہنی مواد کے ا حا طے سے متعلق ر ہاہے۔
فرانس کے اُن بڑے آ دمیوں نے ،جو لو گوں کے ذہن کو آ نے والے انقلاب کے لئے تیار کر ر ہے تھے ،خود بھی انتہا ئی درجہ انقلابی رویئے اختیار کئے رکھے۔و ±ہ کسی قسم کی خارجی قُّوت کے قا ئل نہیں تھے۔مذ ہب،مظا ہرِ قدرت کے تصّورات، سو سا ئٹی ، سیا سی نظام، غر ض یہ کہ ہر چیز ان کی بے ر حما نہ تنقید کا نشا نہ بنی ہو ئی تھی۔ ان کے نزدیک ہر چیز کے لئے ضروری تھا کہ وہ اپنی ہستی کو عقل کی میزان میں ثابت کرے ےا اپنی ہستی کے تمام دُعاوی سے دست بردار ہو جائے۔ہر چیز کو د لیل کے پیمانے میں نا پا جا نے لگا۔ ےہ وہ زمانہ تھا جب کہ ہیگل کے خےال میں دنیا اپنے سر کے بل کھڑی تھی۔ ابتدا میں اس سے ےہ مراد تھی کہ انسا نی ذہن اور اس کے غور و فکر سے پیدا شدہ اصول ہی انسان کے تمام افعال اور حرکات کی بنیاد ہیں۔ لیکن آگے چل کر ان الفاظ کے مفہوم میں و سعت پیدا ہو گئی اور اس سے یہ سمجھا جانے لگا کہ اگر کوئی حقیقت ان اصولوں کی ضد ہو تو اسے اسے اُلٹ پلٹ کر ان کے مطابق بنا دینا چاہیے۔چنا چہ سو سا ئٹی اور حکومت کی تمام پچھلی صورتوں اور روایات پر مبنی پرانے خیالات کو نا معقول کہہ کر ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا۔ ان کے نزدیک اس و قت تک دنیا تعصبات کی تقلید کرتی رہی تھی۔ اس لئے ما ضی کی ہر چیز افسوس اور نفرت کی مستحق تھی۔ پہلی مر تبہ صبح نمودار ہو ئی،عقل کا آفتاب روشنی لئے ہوئے ظا ہر ہوا۔ آئندہ تو ہمات بے انصا فی، مر اعات اور دباﺅ کی جگہ ابدی سچا ئی،ابدی انصاف کے اصولوں پر مبنی مسا وات اور انسا ن کے کبھی جدا نہ ہونے والے حقوق کا دَور دورہ ہو گا۔
آج ہم اس بات کو جانتے ہیں کہ عقل کی یہ بادشا ہت سر مایہ داروں کی بادشاہت سے ز یادہ نہیں تھی جسے انہوں نے بڑ ھا چڑ ھا کر پیش کیا تھا۔ابدی انصاف سر مایہ داروںکے انصاف کی صورت میں ظاہر ہوا،مساوات کا تصّور قانون کے سامنے مساوات کے سر مایہ دارانہ تصّور سے آگے نہ بڑھ سکا۔ سر مایہ داروں کی ملکیت کو انسانی حقوق کی بنیاد قرار دےا گیا۔عقل کی بادشا ہت اور ُروسو کے معا ہدہ ¿ عِمرانی کا ظہور صرف سر مایہ داروں کی جمہوریت کی صو رت میں ہوا۔ اپنے سے پہلے گزرے ہوئے مفکر بھی اپنے عہد کی حدود پا ر نہیں کر سکتے تھے۔
لےکن جا گیر دارانہ امارت اور سر مایہ داروں کے نز اع کے ساتھ سا تھ لُو ٹنے والوں اور لٹنے والوں- -کا ہل امیروں اور محنت کش غر یبوں میں بھی باہمی نزاع جا ری تھی۔ اِن حالات نے سر مایہ داروں کے نمائندوں کو کسی خاص طبقے کی نمائندگی کی جگہ د ُکھ کی ماری ہوئی ساری نوع انسانی کا نمائندہ بنا دےا۔اس سے بھی زیادہ سرمایہ داروں کی جما عت کو اپنے آ غاز ہی سے اپنی ضد کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہ ایک کھلی ہوئی بات ہے کہ سر مایہ دار بغیر ا جرتی مزدوروں کے اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتے ۔ طرح از منہ ¿ وسطیٰ کے گِلڈ کاتاجر موجودہ سر مایہ دار کی صورت اختیار کر گیا اسی طرح گلڈ میں اور اس سے اُجرت پر کام کرنے والے کاریگر آہستہ آہستہ پرولتاریہ میں بدل گئے۔اگر چہ سر ما یہ دار جاگیرداروں سے ٹکّر لیتے وقت یہ دعویٰ کر سکتے تھے کہ وہ اس زمانے کے مزدوروں کے مختلف گروہوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ لیکن اس پر بھی سر مایہ داروں کی ہر بڑی تحریک میں اس جما عت کی طرف سے آزادانہ ہنگامے ہوتے رہے جو موجودہ پر ولتاریہ کی پیش رو تھی۔ مثال کے طور پرجرمنی میں تحریکِ اصلاح اور کسانوں کی جنگ کے زمانہ میں تھا مس منزر کی تحریک،انگلستان کے انقلاب کے زمانے میں لیولر کی تحریک اور انقلاب فرانس میں بابوف کی تحریک۔
اس طبقہ کی جس نے ابھی تک پوری نشو ونما نہیں پائی تھی۔مسلّح شور شوں کے ساتھ ساتھ اس جماعت کے متعلق نظرےاتی اثر ات بھی ظا ہر ہونے لگے۔چنانچہ سو لھویں اور ستر ہویں صدی میں ایک مثالی مُعاشرت کے خیالی خاکے تیار کئے گئے۔ اٹھارھویں صدی میں موریلی اور میبلی نے کمیو نسٹ سو سائٹی کے نظرئیے مرتب کئے۔اب مساوات کا مطالبہ صرف سیاسی حقوق تک محدود نہ رہا بلکہ اسے افراد کے مجلسی حالات پر بھی پھیلا دیا گیا۔ طبقاتی مراعات کے مٹا د ئیے جانے کے ساتھ ساتھ طبقاتی امتیازات کی تنسیح کا بھی مطا لبہ ہونے لگا۔نئی تعلےمات کا اظہار اےک اےسے راہبا نہ کمیو نزم کی صورت میں ہواجو زندگی کی تمام مسّرتوں سے منہ موڑے ہوئے، انسا نی زندگی کو اسپا رٹی رنگ میں دیکھنا چاہتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی تین خیالی سو شلسٹوںکا دور آیا۔سین سمیون جس پر مزدوروں کے اثر کے ساتھ ساتھ بورژوائی اثرات بھی غالب تھے۔فورئیے اور اودین با قی ماندہ دو خیالی سو شلسٹ ہیں۔ اودین نے اس ملک میںجہاں سر مایہ دارانہ پیدا وار سب سے زیادہ تر قی پر تھی۔ طبقاتی امتیازات مٹا نے کے لئے اےسی تجویزیں مر تب کیں جن کا براہ راست تعلق فرانسیسی مادیت سے تھا۔
ان تینوں میں یہ بات سانجھی ہے کہ ان میں سے کو ئی بھی مزدوروں کے مفاد کی نما ئندگی کے لیے آگے نہیں بڑھا جو(مزدورطبقہ) اس اثنا میں تاریخ نے پیدا کر دےا تھا۔ فرانسےسی فلسفیوں کی طرح و’ہ سب سے پہلے کسی خاص طبقہ کو آزادی نہیں دلاتے بلکہ وُہ ساری نوعِ انسانی کی آزادی کا دعو یٰ کر تے ہیں۔ان فلسفیوں کی طرح وہ بھی عقل اور ابدی عدل کی بادشاہت قائم کرنا چا ہتے ہیں۔
لیکن ان تینوںخیالی سوشلسٹو ں اور فرانسیسی فلسفیوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ان تینوں کی نظر میں بو رژوائی دنیا بھی، انکے اصولوں کی بنےاد پر، نا معقول اور غیرمُنصف ہے اور اسی وجہ سے و’ہ جا گیر داری اور اس کے پہلے کے سو شل نظاموں کی طرح اس نئے نظام کو بھی ٹھکرا دینا چاہتے ہیں۔اگر اس وقت تک خاص خا لص عقل اور عدل کی حکومت قا ئم نہیں ہو سکی تو اس کی صرف یہی وجہ ہے کہ لوگوں نے اب تک ان کا صحیح مفہوم نہیں سمجھا۔انکے نزدےک اےک اےسے بلند خیال مفکّرکی ضرورت تھی جو اب پیدا ہو چکا ہے او ر جو سچائی کو سمجھتا ہے۔کہ اےسا مفکر اب پےدا ہو چکا ہے اور ےہ کہ ےہ کوئی ناگزیر واقعہ نہےںہے، نہ ہی تارےخی ارتقا کا تلازمہ ہے، بلکہ اےک خوشگوار حادثہ ہے۔ ان کے خیال کے مطابق ایسی ہستی پا نسوسال پہلے پیدا ہو کر نوع انسانی کو پانسوسال کی لغز شوں، کش مکشوں اور مصیبتوں سے بچا سکتی تھی۔
ہم دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح اٹھا رہویں صدی کے فرانسیسی فلسفیوں نے انقلاب کے لئے راستہ تیار کیا اور موجودات کے لئے صرف عقل کو پر کھیا بنانے کی اپیل کی۔و’ہ ایک عقلی ریاست اور ایک عقلی سو سائٹی بنانے کے بعد ہر اُس چیز کو، جو اَبدی عقلیت کے منا فی ہو تی، ختم کر دینا چا ہتے تھے۔ ہم یہ بھی دیکھ چکے ہیںکہ یہ ابدی عقلیت حقیقت میں اُس درمیانے طبقے کی مثالی فراست کے سوا کچھ نہیں تھی جو آہستہ آہستہ سر مایہ داروں کا روپ اختیار کر رہا تھا۔جب انقلابِ فرانس نے اس عقلی سو سائٹی اور عقلی ریاست کو حاصل کرلیا تو یہ بات ظا ہر ہوئی کہ و’ہ نئے ادارے جو پہلے سے زیادہ عقلی تھے۔و’ہ کسی حالات میںبھی مکّمل طور پر عقلی نہیں تھے۔’عقلی ریاست ‘کی یہ کشتی پاش پاش ہو گئی۔روسوکا معاہدہ ¿عمرانی عہدِ خطر کی صورت میں ظا ہر ہوا۔بہت جلد سر مایہ داروں نے، جنہیں اپنی سیاسی صلاحیت پر بھروسہ نہیں رہا تھا، پہلے نظامت کی بد عنوانیوں میں پناہ لی اور پھر نپولین کے استبداد کے سایہ تلے چلی گئی۔موعودہ ابدی امن، ایک نہ ختم ہونے والی فتوحات کی جنگ کی صورت میں ظا ہر ہوا۔عقلی سو سائٹی کاانجام بھی کچھ بہتر نہیںتھا۔امیر اور غریب کا تضاد گِلڈ اور دوسرے اداروں کے مٹ جانے اور کلیسےاکے خےراتی اداروں کے بند ہو جانے سے زیادہ تیز ہو گیا۔ملکیت کی آزادی کا حق اس سے آگے نہ بڑ ھ سکا کہ چھوٹے سر مایہ دار اور چھوٹے کاشتکار اپنی ملکیت کو بڑے سرمایہ داروں اوربڑے زمےنداروں کے ہاتھ فروخت کر سکےں۔ جہاں تک چھوٹے کا شتکاروں کا تعلق تھا، ان کے لئے یہ آزادی اپنی اپنی ملکیت سے آزادی بن گئی۔سر مایہ دارانہ اُصول پر صنعتی تر قی نے محنت کرنے والے طبقوں کے افلاس اور دُکھ کو اِس حد تک بڑھادیا کہ وہ سماج کے وجود کا ایک لازمی سبب بن گئے۔ کارلائل کے الفاظ میں”انسانوں کے باہمی تعلقات کا انحصار نقد ادائیگی پر تھا“۔ جرائم کی فہرست میں ہر سال اضافہ ہونے لگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جاگیردارانہ دور کی برائیاں، جو پہلے دِن دےہاڑے ہُوا کرتی تھیں ، وہ کُلی طور پر ختم تو نہیں ہوئی تھیں۔ لیکن پھر بھی انہیں عارضی طور پر جبراََ نظروں سے اوجھل ہونا پڑا تھا۔ لیکن سرمایہ دارانہ بُرائیا ں جو پہلے چھُپ چھُپ کر ہوتی تھیں اب سرِ بازار ہونے لگیں ۔ کاروبار میں آہستہ آہستہ دغابازی پیدا ہوتی چلی گئی ۔ انقلاب پسندوں کا نعرئہ اخوت عیارانہ سوفسطائیت اور حریفانہ کش مکش کی رقابت میں ظاہر ہوا۔ ظلم و ستم کی جگہ بدعنوانی نے لے لی ۔ مجلسی اِقتدار کے حصول کے لئے تلوار کی جگہ دولت نے سنبھالی ۔ پہلی رات کا حق جاگیر داروں کے ہاتھ سے نکل کر سرمایہ داروں کے تصرف میں آگیا ۔بےسیوا پن میں نمایاں اضافہ ہوا ۔ پہلے کی طرح شادی آئینی صورت میں تو رہی ۔ لیکن اسے بیسوا پن کے لئے ایک پردہ بنا دیا گیا ۔ زنا کاری بھی ساتھ ساتھ بڑھنے لگی ۔
روشن خیالی کے َعلم برداروں کے جوشیلے وعدوں کے مقابلے پر عقیلت کی فتح نے جو مجلسی اور سیاسی ادارے قائم کئے تھے وہ محض ازالہ اوہام کے خاکے ثابت ہوئے ۔ اب صرف اس بات کی کمی تھی کہ چند لوگ اس ازا لہ اوہام کی آواز بلند کرتے چنانچہ نئی صدی کے شروع ہوتے ہی یہ لوگ آگئے۔ 1802 میں سین سیمون کی کتاب ”مکتوبِ جنیوا ©“ شائع ہوئی ۔ فورئیے نے اگرچہ اپنے نظریہ کی بنیاد 1799 میں رکھی تھی ۔ لیکن اس کی پہلی کتاب 1809 میں چھپی ۔ جنوری 1800 کی پہلی تاریخ کو رابرٹ اووین نے نیو لنارک کے نظم و نسق کو اپنے ہاتھ میں لیا۔ اُس زمانہ میں سرمایہ دارانہ طریق پیداوار اور اس کے ساتھ ہی سرمایہ داروں اور مزدورں کے باہمی نزاع نے کوئی نمایاں صورت اختیار نہیں کی تھی ۔ جس صنعت کا بڑے پیمانے پر انگلستان میںآغاز ہو چکا تھا ، وُہ صنعت فرانس میں موجود نہیں تھی ۔ بڑے پیمانے کی یہی صنعت ایک طرف تو ایسے تضاد کی نشونما کرتیہے جو ذریعہ پیداوار میں انقلاب پیدا کرتا ہے ۔ اور جو ذریعہ پیداوار کی سرمایہ دارانہ ہیئت کو ختم کر دیتا ہے ۔ یہ اختتام ایک فوری ضرورت بن جاتا ہے ۔ یہ تضاد نہ صر ف ان طبقوں میں پیدا ہوتا ہے جنہیں بڑی صنعت پیدا کر تی ہے بلکہ ان پیداآور قوتوں اور تبادلے کی صورتوں میں بھی تضاد پیدا ہو جاتا ہے جنہیں بڑی صنعت پیدا کرتی ہے ۔ دوسری طرف یہ بڑی صنعت ان بڑی بڑی پیدا آور قوتوں کے تضاد کو مٹانے کے اسباب بھی پیدا کر دیتی ہے ۔ 1800میں نئے مجلسی نظام کے تضاد نے ابھرنا شروع کیا تھا ۔ اس تضاد کو حل کرنے والے اسباب ایک دم کیو نکر ہوسکتے تھے۔ اگرچہ عہدِخطر میں پیرس کے بھوکے ننگوں نے تھوڑی دیر کے لئے سرمایہ داروں کی مرضی کے خلاف سرمایہ داروں کے انقلاب کو کامیاب بنا کر حکومت پر قبضہ کر لیا تھا ۔ ایسے کرنے سے انہوں نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ ان حالات میں وُہ زیادہ دیر تک اپنی حکومت قائم نہیں رکھ سکتے تھے ۔ مزدور طبقہ ،جو اس زمانہ میں بھوکے ننگے عوام سے علیحدہ ہو کر ایک نئے طبقے کی صورت اختیار کر رہا تھا، اتنی صلاحیت نہیں رکھتا تھا کہ وُہ آزاد انہ طور سے کوئی سیاسی کا م کر سکتا ۔ مزدور طبقہ تو ابھی مُصیبت زدہ تھا جو اپنی مدد آپ نہیں کر سکتا تھا اور جسے صرف باہر سے یا اوپر کے طبقے سے مدد مل سکتی تھی ۔
اس تاریخی حقیقت نے سوشلزم کے بانیوں پر بھی غلبہ پا لیا تھا ۔ خا م سرمایہ دارانہ ذریعہ پیداوار اور خام طبقاتی احساس نے خام نظریئے پیدا کردیئے ۔ مجلسی مسائل کا وہ حل جو ابھی تک غیر ترقی یافتہ معاشی اسباب میں چھپا ہوا تھا ۔ اسے سوشلزم کے ان بانیوں نے خام انداز میں پیش کر دیا ۔ سوسائٹی خرابیوں سے بھری ہوئی تھی۔ ان خرابیوں کو دور کرنا غور و فکر کے ذُمہ تھا ۔ اس بات کی سب سے زیادہ ضرورت تھی کہ کسی نئے اور مکمل مجلسی نظام کو تلاش کیا جاتا اور پھر باہر سے اس کا امکان ہوتا وہاں چند تجربوں کو نمونہ بنا کر پیش کیا جاتا۔ یہ نئے نئے مجلسی نظام شروع ہی سے خیالی خاکوں کی حیثیت رکھتے تھے ۔ ان خاکوں میں جتنی زیادہ رنگ آمیزی کی جاتی وُہ اتنے ہی زیادہ پھیکے ہوتے چلے جاتے ۔
اس امر کے تسلیم کئے جانے کے بعد اب ہم ایک لمحہ کے لئے اس مسئلہ پر، جس کا سارا تعلق ما ضی سے ہے، غور نہیں کر نا چاہتے ۔ ہم اس مسئلہ کو اُن ادبی مفسروں پر چھوڑتے ہیں جو ان خیالی خاکوں کے متعلق ذہنی برتری کا ثبوت دینا چاہیں ۔اس کے برعکس ہم ان خیالات پر بحث کریں گے جو ان خیالی خاکوں کی پردہ پوشی کے ضمن میں ہمارے سامنے آتے ہیں اور جن سے یہ کم نظر لوگ واقف نہیں ہیں ۔ سین سیمون فرانس کے بڑے انقلاب کا فرزند تھا ۔ انقلاب کے وقت وُہ تیس سال سے بھی کم تھا۔ اس انقلاب میں تیسرے طبقہ کو فتح حاصل ہوئی تھی ۔ تیسرے طبقے سے مراد فرانسیسی قوم کے وُہ عوام ہیں جو تجارت اور پیدوار میں کام کرتے ۔ اس انقلاب میں مراعاتی طبقوں، نوابوں اور پادریوں کو شکست ہوئی تھی ۔ لیکن تیسرے طبقے کی یہ فتح بہت جلد اسی طبقے کے ایک چھوٹے سے حصے کی فتح بن گئی ۔ تمام سیاسی قوت پر املاک رکھنے والوں کا تسلط ہوگیا تھا ۔ سرمایہ داروں کے اس طبقے نے نوابوں اور کلیسیا کی ضبط شدہ جائیدادوں پر سٹہ کھیل کر اور فوجی ٹھیکوں کے نام پر قوم سے دھوکا کر کے بہت زیادہ دولت کمالی تھی ۔ ان اُچکوں کی بدولت نظامت کے عہد میں فرانس تباہی کے کناروں تک پہنچ گیا اس طرح نپولین کو موقع مل گیا کہ وُہ فوجی ہلہ بول کر اقتدار حاصل کر لے ۔
یہی وجہ کہ سین سیمون کے خیا ل میں تیسرے طبقے اور مراعاتی طبقو ں کی نزاع نے ورکروں اور کا ہلوں کی نزاع کی شکل اختیار کر لی ۔ کاہلوں میں صرف مراعاتی طبقے ہی شامل نہیں تھے ۔ بلکہ وُہ تمام طبقے جو پیداوار اور تقسیم میں حصہ لئے بغیر بن کمائی دولت پر زندہ تھے ۔ سین سیمون کے ورکروں میں صرف اجرتی مزدور ہی شامل نہیں ہیں بلکہ کارخانہ دار تاجر اور ساہوکار بھی شامل ہیں ۔ انقلاب نے اس بات کو ثابت کر دیا تھا کہ کاہلوں میں ذہنی رہنمائی اور سیاسی اقتدار کی صلاحیت موجود نہیں تھی۔ سین سیمون کا یہ بھی خیال تھا کہ عہدِ خطر کے تجربوں نے ثابت کر دیا تھا کہ ملکیت نہ رکھنے والے طبقوں میں بھی اس قسم کی صلاحیت نہیں تھی ۔ ان حالا ت میں کون رہنمائی کرتا ؟ کو ن سالار بنتا ؟ سین سیمون کے نزدیک سائنس اور انڈسٹری دونوں کو ایک نئے مذہبی رشتے میں جوڑ کر مذہبی خیالات کے اس اتحاد کو پیدا کیا جا سکتا تھا جو اصلاح کے زمانہ سے ناپید ہو چکا تھا : جدید عیسائیت کی صوفیانہ تاویل او رکٹر ک طرےقہ سے درجہ بندی پر مبنی مسےحےت ۔ لیکن سائنس عبارت تھی علما سے، اور انڈسٹری مشتمل تھی محنت کر نے والے سرمایہ داروں اورکارخانہ داروں پر۔ سےنٹ سائمن کی خواہش تھی کہ ےہ سرماےہ دار اپنے آپ کو پبلک کے عہدہ دار اور مجلسی امےن خےال کرےں۔ اِن سرماےہ داروں کو وہ حاکمانہ اختےارات اورمعاشی مراعات دینا چاہتا تھا ۔ وُہ سا ہو کاروں کو قرضوں کی تنظیم کرنے کے بعد سوسائٹی کی ساری پیداوار کو ان کے حوالے کرنا چاہتا تھا۔لےکن اسکے باوجود وہ مزدوروں کے مقابلہ مےں مراعات ےافتہ ہی رہتے۔ یہ تصور اس وقت کے مطابق تھا ۔ جبکہ فرانس میں جدید انڈسڑی ہی کی طرح مزدوروں اور سرمایہ کاروں کی نزاع آہستہ آہستہ اُبھررہی تھی ۔ لیکن سین سیمون سب سے پہلے جس چیز سے دلچسپی رکھتا ہے ۔ وُ ہ اس طبقے کی تقدیر ہے جو تعداد اور افلاس میں سب سے زیادہ ہے ۔
سین سیمون نے اپنی کتاب”مکتوبات جنیوا“ میں اس اصول کی بنیاد رکھ دی تھی کہ ہر شخص کو کام کرنا چاہیے۔ جب وہ ان مکتوبات کو لکھ رہا تھا تو اُسے اِس بات کا علم تھا کہ عہد ِخطر در اصل کنگال عوام کا عہدِ حکومت تھا ۔ وہ ان سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ دیکھو ! جب فرانس پر تمھارے ساتھیوں کی حکومت تھی تو اس وقت فرانس پر کیا گزری۔ انہوں نے ملک میں کا ل پیدا کر دیا ۔ لیکن 1802 میں انقلابِ فرانس کو نہ صرف جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی طبقاتی لڑائی کہنا بلکہ جاگیرداروں اور سرمایہ داروں اور کنگالوں کی طبقاتی لڑائی کہنا کسی بہت بڑی ذہانت ہی کا انکشاف ہو سکتا تھا۔ 1816 میں اس نے اس بات کا اعلان کیا کہ سیاست نام ہے پیداوار کی سائنس کا۔ اس نے یہ پیش گوئی کی کہ سیاست معاشیات میں گم ہو کر رہ جائے گی ۔ اگرچہ ےہی خیال ،کہ معاشی حالات ہی سیاسی اداروں کی بنیاد ہیں ،ایک ناقص صورت میں پیش کیا گیا ہے ۔ پھر بھی اس سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ لوگوں پر حکومت کرنے کی جگہ سیاسی حکومت کا کام اشیا ءکے نظم و نسق اور ذرائع ِپیداوار کی رہنمائی کی طرف منتقل ہوجائے گا۔ یعنی ریاست کی تنسیخ کی طرف جس کے متعلق حال ہی میں بہت زیادہ شور مچا یا جا چکا ہے۔
اپنے ہم عصروں پر اس کی بر تر ی کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ1814 میں اتحادی فوجوں کے پیرس میں داخل ہونے سے تھوڑی دیر بعد اور پھر 1815 میں جنگِ صدسالہ میں اُس نے کہا تھا کہ فرانس کو انگلستان کے ساتھ دوستی کرکے ان دونوں ملکوں کو جرمنی کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرنا چاہئے کیونکہ اس صورت میں یورپ میں امن اور خوشحالی قائم رہ سکتی ہے ۔ 1815 میں فرانسیسیوں سے یہ کہنا کہ وہ واٹر لو میں جیت جانے والوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات پیدا کرےں، یقینی طور پر بلند ہمتی اور تاریخی دوراندیشی پر مبنی تھا۔
اگر سین سیمون میں ہم وسعت نظر ی پاتے ہیں اور اس کے بعد آنے والے سوشلسٹوں کو ان خیالات کی پیروی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں جو خالص معاشی نہیں ہیں اور جنہیں وہ اپنی کتابوں میں ناقص طریق پر پیش کرتا ہے۔ تو فورئیے کو ہم مروجہ مجلسی حالات کا نقاد پاتے ہیں ۔ اس کی تنقید خالص فرانسیسی مزاح کے باوجود ذکاوت کا پہلو لئے ہوئے ہے ۔ فورئیے سرمایہ داروں کو ان کے اپنے دعاوی کی میزان میں پرکھتا ہے۔ وہ انقلاب سے پہلے کے سرمایہ داروں کے جوشیلے پیامبروں اور ان کے چاپلوسوں کو، جو انقلاب کے بعد آئے، اس میزان میں پرکھتا ہے۔ فورئیے نہایت بے رحمانہ انداز میں سرمایہ دارانہ دنیا کے مادی افلاس کو بے نقاب کرتا ہوا روشن خیالی دور کے ابتدائی فلسفیوں کے وعدوں سے اس کا مقابلہ کرتا ہے۔ روشن خےالی کے اُس دور کے فلسفےوں نے اےک سوسائٹی کا نقشہ کھینچا تھا، جہاں عقل کی حکومت ہوگی ۔ ایک ایسی تہذیب پیش کی تھی جو عالمگیر مسرتوں کی حامل ہوگی اور جس میں انسان اپنے کمالات کا غیر محدود طور پر مظاہرہ کر سکے گا ۔ فورئیے نے اپنے عہد کے سرمایہ دار عینیت پسندوں کی خوش نما لفاظی پر بھی ضرب لگائی ۔ اس کا تلخ طنزیہ انداز لفاظی کی اس مایوس کن ٹائیں ٹائیں فش پر غالب آجاتا ہے ۔
فورئیے صرف ایک نقاد ہی نہیں بلکہ اس کی نہ دبنے والی شگفتہ مزاجی اسے ایک طنز نگار بھی بنا دیتی ہے ۔ وہ بلا شبہ دنیا کے بہت بڑے طنز نگاروں میں سے ایک ہے ۔ انقلاب فرانس کے زوال کے بعد سٹے، دھوکے، سوداگروں کی دکاندار ذہنیت کا جو عام رواج ہو گیا تھا اسے وہ دلچسپ مگر استاد انہ انداز میں پیش کرتا ہے ۔ جب وہ سرمایہ دارانہ سوسائٹی کے جنسی تعلقا ت اور اس سوسائٹی میں عورت کی پوزیشن کی وضاحت کرتا ہے تو وہ اپنے انداز نگارش کے عروج پر دکھائی دیتا ہے ۔ اس نے سب سے پہلے اس بات کا اعلان کیا کہ کسی سوسائٹی کی عمومی آزادی کا اندازہ اس آزادی سے لگاےاجا سکتا ہے، جو وہاں کی عورتوں کو نصیب ہو۔ جب وہ سوسائٹی کی تاریخ کا تصور پیش کرتا ہے تو اپنی عظمت کی بلندیوں پر دکھائی دیتا ہے ۔ وہ سوسائٹی کے ماضی کے ارتقاءکو وحشت،بر بر یت، سر قبیل اور تہذیب کے ادوار میں تقسیم کرتا ہے ۔ آخری دور وہی ہے ۔ جو آج کل سرمایہ دارانہ دور کہلاتا ہے اور جس کا آغاز سولہویں صدی میں ہوا ۔ فورئیے کہتا ہے کہ تہذیب کا دور ہر اس برائی کو، جو بربریت کے دور میں اپنی سادہ صورت میں تھی، مبہم، پیچیدہ اور منافقانہ بنا دیتا ہے ۔ تہذیب برائی کے چکر میں حرکت کرتی ہوئی اپنے تضاد کو پیدا کرتی چلی جاتی ہے ۔ وہ اس تضاد پر غلبہ نہیں پا سکتی یہی وجہ ہے کہ وہ اس مقام پر نہیں پہنچتی جہا ں پہنچنے کا وہ دعوی کرتی ہے ۔ بلکہ وہ اس مقام پر پہنچتی ہے جو اس کے بتائے ہوئے مقام کی ضد ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر تہذیب کے دور میں افراط سے افلاس پیدا ہوتا ہے ۔ فورئیے جدلیا ت کے استعمال میں اپنے ہم عصر ہیگل سے کسی طرح پیچھے نہیں ۔وہ جدلیات ہی کے بل بوتے پر غیر محدود انسانی تکمیل کے تصور کی مخالفت کرتا ہوا یہ دعوی پیش کرتا ہے کہ ہر تاریخی دور کا عہدِ عروج اور عہدِ زوال ہوتا ہے ۔ وہ اپنے اسی تصور کو ساری نوع انسانی پر منطبق کرتا ہے ۔ جس طرح کا نٹ نے نیچرل سائینس میں زمین کی مکمل تباہی کا تصور پیش کیا اسی طرح فورئیے نے علم ِتاریخ میں نوع انسانی کی مکمل تباہی کا تصور پیش کیا ۔ جب فرانس میں انقلاب کی آندھی چل رہی تھی تو اس وقت انگلستا ن میں ایک خاموش مگر اہم انقلابی عمل ترقی پذیر تھا۔ بھاپ اور اوزار بنانے کی نئی مشینری صنعت کو بڑے پیمانے کی جدید صنعت میں ڈھال رہی تھی ۔ اس کے ساتھ ہی مہاجنی سوسائٹی میں بھی انقلابی عمل جاری ہو چکا تھا ۔ مصنوعات تیار کئے جانے کی سست رفتاری ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی تھی جس نے پیداوار میں قیامت برپا کر رکھی تھی۔ ان تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ سوسائٹی مہاجنوں اور کنگال مزدوروں میں نمایاں طور پر بٹنے لگی۔ ان دو طبقو ں کے درمیان پہلے کے سے مضبوط درمیانے طبقے کی جگہ اب دستکاروں اور چھوٹے چھوٹے دکانداروں پر مشتمل ایک کمزور طبقے نے لے لی۔ اس طبقے کی حالت بہت زیادہ نازک تھی۔ ساری آبادی میں سے اس طبقے کی تعداد سب سے زیادہ گھٹتی بڑھتی رہتی تھی۔ نیا ذریعہ ¿ پیداوار اپنے خطِ عروج کے موڑ تک مشکل سے پہنچا تھا۔ یہ نیا ذریعہ ¿پیداوار ان حالات میں نارمل تھا، لیکن اس زمانے میں بھی یہ شدید خرابیاں پیدا کر رہا تھا ۔ بے گھر لوگوں کو چوپاﺅں کی طرح ایک ساتھ رہنا پڑتا تھا۔ یہ لوگ بڑے شہروں کے بد ترین حصوں میں رہتے۔ ماں باپ اور دوسرے خاندانی رشتے ٹوٹنے لگے۔ گھریلوروایات ختم ہوگئیں ۔ عورتوں اور بچوں سے بہت زیادہ کام لیا جانے لگا۔ مزدوروں کا وہ طبقہ جس،ے دیہات سے شہروں اور زراعت سے صنعت کی طرف لایا گیا تھا،نئے ماحول میں پھینک دیا گیا جس سے اس طبقے کی اخلاقی حالت بگڑ گئی ۔ اس طبقے کو اپنے پہلے ماحول (زرعی) سے ،جہاں ایک حد تک پائیداری تھی، نکال کر ایک ناپائیدار اور ہمیشہ بدلنے والے ماحول میں ٹھونس دیا گیا۔ اس موقعہ پر 29 برس کا ایک نوجوان کا رخانہ دار ایک ریفارمر کی حیثیت سے ظاہر ہوا اس شخص کے کردار میں بچوں کی سی سادگی تھی۔ وہ فطرتا ایک ایسا لیڈر تھا جو کبھی کبھی پیدا ہوتا ہے ۔ اس کا نام رابرٹ اووےنہے ۔ اس نے فرانس کے مادہ پرست فلسفیوں کے ان خیالات کو اپنا لیا تھا کہ انسانی کردار موروثی ہیئت اور ماحول کی پیداوار ہے ۔ خصوصاً اُس ماحول کی جس میں انسان نے ابتدائی نشوونما پائی ہو۔ جب صنعتی انقلاب ہوا تو اووین کے طبقے کے بہت سے لوگ انتشا ر اور ابتری کے سوا اور کچھ نہیں دیکھ سکتے تھے ۔ یہ لوگ ان حالات سےفائدہ اٹھا کر زیادہ سے زیادہ دولت سمیٹنا چاہتے تھے ۔ لیکن اووین نے اس موقعہ پر اپنے محبوب نظرئیے کو عمل میں لانا چاہا ۔ وہ انتشار کو انتظام میں بدل دینا چاہتا تھا ۔ جب وہ مانچسٹر کے ایک کارخانے میں پانسو مزدوروں کا داروغہ تھا تو اسے اپنے تجربے میں کامیابی ہوئی تھی۔ 1800سے 1829 تک سکاٹ لینڈ کے ایک مقام نیولنارک میں وہ روئی کاتنے کے ایک کارخانے کا حصہ دار تھا۔ اس مدت میں اس نے اپنے تجربات کو آزادی سے آزمایا۔ اس کی کامیابی نے اسے یورپ بھر میں مشہور کردیا تھا۔ اس کارخانے کی آبادی بڑھتے بڑھتے اڑھائی ہزار تک پہنچ گئی تھی ۔ شروع شروع میں اس کارخانے میں کام کرنے کے لئے جو مزدور آئے تھے ان میں سے اکثر کی اخلاقی حالت گری ہوئی تھی۔ لیکناووےن نے ان بگڑے اخلاق والوں کو سنوار کر ان کی بستی کو ایک نمونہ بنا دیا ۔ اس بستی میں شراب نوشی، پولیس،مجسڑیٹ ،مقدمہ بازی ،قانون ،مساکین کے اداروں اور خیرات کی ضرورت کا نا م و نشان تک بھی نہیں تھا۔ اس نے نہایت سادگی سے لوگوں کےلئے انسانوں کے شایان شان زندگی بسر کرنے کے مواقع پیدا کئے ۔ اس نے اس نوآبادی کی نئی نسل کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ دی ۔ بچوں کے اسکول کا بھی وہی بانی ہے۔ دو سال کے بچوں کو اس اسکول میں بھیج دیا جاتا تھا۔ اس اسکول میں ان چھوٹے بچوں کی دلچسپی کے اتنے سامان ہوتے تھے کہ بچے وہاں سے گھر جانے کا نام تک نہیں لیتے تھے۔ دوسرے کارخانوں میں مزدوروں کو تیرہ چودہ گھنٹے روزانہ کام کرنا پڑتا تھا۔ جب کپاس کی منڈی میں بحران پیدا ہوا تو کارخانے کو چار مہینوں کے لئے بند کرنا ضروری ہو گیا۔ لیکن اس کے باوجود نیو لنارک کے مزدوروں کو پوری اجرت ملتی رہی۔ اس پر بھی کاروبار دگنا ہو گیا اور کارخانے کے مالکوں کو بہت زیادہ منافع حاصل ہوا۔
ان سب باتوں کے باوجود اووین مطمئن نہیں تھا۔ اس نے مزدوروں کو جو آسانیاں دے رکھی تھیں،اس کے نزدیک وہ انسان کے شایان شان زندگی بسر کرنے کے لئے ناکافی تھیں ۔ وہ کہتا ہے کہ ”یہ لوگ میرے غلام ہیں!“۔ اس نے مزدوروں ک واسطے نسبتا بہتر حالات پیدا کردیئے تھے ۔ لیکن ان حالات میں مزدوروں کی ذہنی اور کرداری ترقی نہیں ہورہی تھی۔ انہیں آزاد زندگی بھی نصیب نہیں تھی لیکن اس بھی ڈھائی ہزار مزدوروں کی روزانہ محنت سوسائٹی کے لئے اتنی دولت پیدا کر رہی تھی جتنی کہ پچاس سال پہلے چھ لاکھ مزدوروں سے پیدا ہوتی تھی۔میں نے اپنے آپ سے پوچھا : ڈھائی ہزار اور چھ لاکھ انسانوں کی خرچ کرنے والی دولت کا فرق کہاں چلاگیا ؟ جواب واضح تھا۔ اس فرق میں سے کارخانے کے مالکوں کو ان کے لگائے ہوئے سرمایہ پر پانچ فیصدی سود دیا گیا ۔ سود کے علاوہ تین لاکھ پونڈ منافع بھی تقسیم کیا گیا ۔ جو کچھ نیو لنارک کے کارخانے کی حالت تھی وہی کچھ انگلستا ن کے دوسرے کارخانوں کی حالت تھی۔
” اگر مشینری کے ذریعہ یہ نئی دولت پیدانہ کی جاتی ۔ تو نپولین کا تختہ الٹنے اور سوسائٹی کے اشرافیہ اصولوں کی بقا کے لئے جو لڑائیاں لڑی گئی تھیں ان میں کامیابی محال تھی۔ یہ نئی قوت مزدوروں ہی کی پیدا کی ہوئی تھی ۔ ©“
) ”ذہن اور عمل مےں انقلاب“ایک یاداشت جو اووین نے 1828 میں فرانس کی عارضی حکومت ،ملکہ وکٹوریہ اور برطانوی وزیروں کو بھیجی تھی ۔ اس ےادداشت میں یورپ کے جمہوریت پسندوں کمیونسٹوں اور سوشلسٹوں سے خطاب کیا گیا ہے ۔(
اس نئی قوت کا پھل بھی مزدوروں ہی کو ملنا چاہیے تھا۔ اددین کے نزدیک یہ نئی پیداآوری قوتیں جن سے اس وقت تک صرف چند افراد نے فائدہ اٹھایا تھا اور جنہوں نے عوام کو غلام بنا لیا تھا، ایک نئی سوسائٹی کی بنیاد تھیں۔ جس میں ان نئی پیدا آوری قوتوں کی ملکیت مشترک ہو اور جس میں ہر شخص سب کی مشترک بھلائی کے لئے کا م کرے۔
اووینی کمیونزم خالص کاروباری انداز میں پیدا ہوتی تھی ۔ یوں کہئے کہ وہ ساہوکاری بہی کھاتے کا نتیجہ تھی۔ اس کی یہ عملی خصوصیت برابر قائم رہی۔ 1823میں آئرلینڈ پر جو مصیبت ٹوٹ پڑی تھی ۔ اسے دور کرنے کے لئے اددین نے کمیونسٹ نو آبادیوں کی جو اسکیم بنائی تھی۔ اس میں ان نو آبادیوں کے ابتدائی مصارف، سالانہ اخراجات، ان کی آمدنی کا ایک ہمہ گیر خاکہ موجود تھا۔ اددین نے مستقبل کے لئے جو پلان بنایا تھا اس میں بھی ٹیکنیکل تفصیلات کو اس صلاحیت سے ترتیب دیا تھا اور اس کے تمام پہلوﺅں کی اس انداز میں وضاحت کی تھی کہ اگر ایک مرتبہ اووین کی مجلسی اصلاح کی اسکیم کو مان لیا جائے تو پھر ایک ماہر کے نکتہ ¿ نگاہ سے تفصیلات سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا ۔ کمیونزم کی طرف بڑھنے سے اووین کی زندگی میں یکسر تبدیلی پیدا ہوگئی ۔ جب تک کہ وہ انسان دوست بنا رہا اس وقت تک وہ دولت، ستائش عزت اور شان حاصل کرتا رہا ۔ وہ یورپ کا سب سے زیادہ مقبول انسان تھا۔ اس کی باتوں کو نہ صرف کارخانہ دار ہی سنتے تھے، بلکہ مدبر اور حکمران بھی اس کی باتوں کی تائید کرتے تھے۔ لیکن جونہی وہ کمیونسٹ نظرئیے لے کر سامنے آیا تو حالات پہلے ایسے نہ رہے ۔ اس کے نزدیک ذاتی ملکیت، مذہب اور شادی کا مروجہ طریقہ مجلسی اصلاح کی راہ میں تین رکاوٹیں تھیں ۔ وہ اس بات کو اچھی طرح جانتا تھا کہ ان کی مخالفت کا انجام کیا ہوگا۔ سرکاری حلقوں کی قانونی حمایت سے محرومی اور اپنی سوشل پوزیشن کا خاتمہ لیکن اس نے اپنے انجام سے بے پروا ہو کر ان رکاوٹوں کی مخالفت شروع کردی ۔ نتیجہ معلوم!! اُسے سرکاری حلقوں سے نکال دیا گیا۔ اخباروں نے اس کا نام تک لینا چھوڑ دیا۔ اس نے امریکہ میں جو کمیونسٹ تجربے کئے تھے ، ان میں اس نے اپنا سب کچھ لگا دیا تھا ۔ ان تجربوں کی ناکامی نے اسے قلاش کردیا۔ اب وہ ایک مزدور تھا۔ وہ تیس سا ل تک مزدوروں کے ساتھ مل کر مزدوری کرتا رہا ۔ انگلستان کی تمام مجلسی تحریکوں اور مزدوروں کی بھلائی سے متعلق تما م تحریکوں کا سلسلہ اووین سے جا ملتا ہے۔ پانچ سال کی کوشش کے بعد وہ مزدور عورتوں اور مزدور بچوں کے اوقات کار مقرر کرانے میں کامیاب ہو ا ۔ اددین ہی اس پہلی کانگرس کا صدر تھا جس میں انگلستا ن کی تمام مزدور سبھاﺅں نے مل کر ایک ہمہ گیر مزدور سبھا قائم کی تھی۔ سوسائٹی کے پوری طرح کمیونسٹ ہو جانے تک عبوری دور کے لئے اس نے ایک طرف تو صرف کرنے والوں اور سامان پیدا کرنے والوں کے لئے باہمی امدادی سوسائٹیاں قائم کیں۔ ان سوسائیٹوں نے ایک بات تو ثابت کردی کہ سماج کو تاجروں اور کارخانہ داروں کی ضرورت نہیں ۔ دوسری طرف اووین نے مزدور بازار قائم کئے جن میں مزدوروں کی بنائی ہوئی چیزوں کے تبادلے کا ذریعہ محنتی نوٹ ہوتے تھے جن کی اکائی ایک گھنٹے کی محنت کے برابر ہوتی تھی۔ ان اداروں کی ناکامی یقینی تھی لیکن یہ ادارے بہت بعد میں آنے والے- پر ددھوں کے ایکسچینج بنک کے پیش رد تھے ۔ اووین اور پر ودھوں کی تجویزوں میں یہ فرق تھا کہ اووین نے اپنی تجویزوں کو تما م مجلسی برائیوں کے لئے اکسیر نہیں بتایا تھا۔ بلکہ اس نے صرف یہ کہا تھا کہ اگر اس کی تجویزوں پر عمل کیا جائے تو سوسائٹی میں بنیادی تبدیلی کے لئے راہ نکل آئے گی۔
ان خیالی سوشلسٹوں کا نظریہ انیسویں صدی کے سوشلسٹ تصوارات پر چھایا ہوا تھا۔ آج بھی ان تصوارات پر خیالی سوشلسٹوں کا تھوڑا بہت اثر باقی ہے۔ تھوڑی مدت پہلے تک فرانس اور انگلستا ن کے تما م سوشلسٹ ان کے معتقد تھے ۔ ابتدائی جرمن کمیونزم ویت لنگ کی کمیونزم سمیت اسی خیال سوشلزم سے متعلق تھی۔ ان تمام خیالی سوشلسٹوں کے نزدیک سوشلزم عبارت ہے ابدی سچائی، عقلیت اور عدل سے۔ جونہی یہ دریافت ہوگی وہ اپنی قوت سے ساری دنیا کو خود بخود مسخر کر لے گی۔ جس طرح ابدی سچائی زمان و مکان اور انسان کے تاریخی ارتقاءسے آزاد ہے اور اس کی دریافت کب اور کہا ں سے بے نیاز ایک حادثہ کی حیثیت رکھتی ہے ، اسی طرح سوشلزم بھی ایک حادثہ کی حیثیت رکھتاہے ۔ لیکن اس کے باوجود خیالی سوشلزم کے مختلف اسکول ابدی سچائی، عقلیت اور عدل کے مطالب و معانی میں ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہیں ۔ان میں سے ہر اسکول کا بانی ابدی سچائی، عقلیت اور عدل کو اپنی ذاتی تفہیم زندگی معلومات اور ذہنی تربیت سے وابستہ کر دیتا ہے۔ اس لئے ابدی سچائیوں کے اس اختلاف کا ایک ہی حل ممکن تھا۔ےہ کہ وہ ایک دوسرے کو پےس ڈالتے ۔ اس اختلاف سے انتخابی اور اوسط درجے ہی کا سوشلزم پیدا ہو سکتا تھا ۔ اس قسم کا سوشلزم فرانس اور انگلستا ن کے بہت سے سوشلسٹ ورکروں پر اس وقت تک چھاےا ہواہے۔ اس قسمکے سوشلزم کے بانی وہی تنقیدی نظرئیے، وہی معاشی اصول اور انسانی مستقبل کے وہی خاکے پیش کرتے رہے ہیں جن کی مخالفت کی کم سے کم گنجائش ہو۔ اس قسم کا سوشلزم ایک ایسا آمیزہ تھاجو جتنی جلدی تیار ہوتا اتنی ہی جلدی اس کے اجزائے ترکیبی اپنا انفرادی اثرکھودیتے ۔ جس طرح ندی کے بہاﺅ میں کنکر اپنا نوکےلا پن کھودیتے ہیں اسی طرح اس سوشلزم نے بحث کا جو سیلاب پیدا کیا،اس نے لوگوں کے ذہن کی دھار کو کند کردیا۔ سوشلزم کو سائنس بنانے کے لئے ضروری تھا کہ اس کی عمارت کو کسی حقیقی بنیاد پر کھڑا کیا جاتا۔
دوسرا باب
اسی اثنا میں اٹھارہویں صدی کے فرانسیی فلسفے کے ساتھ ساتھ اور اس کے بعد نیا جرمن فلسفہ پیدا ہو چکا تھا۔ یہ نیا جرمن فلسفہ ہیگل پر ختم ہوا ۔ اس نئے فلسفے کی سب سے بڑی خوبی ہی تھی ۔ کہ اس نے پھر جدلیات کو غور و فکر کی انتہائی صورت تسلیم کر لیا۔ تمام قدیم یونانی فلسفی طبعاً جدلیات پسند تھے۔ ارسطوان سب میں قاموسی ذہانت رکھتا تھا۔ اس نے جدلیاتی تصور کی تمام لازمی شکلوں کا تجزیہ بھی کیا تھا۔ جدید فلسفہ میں دیکارتے اور سپائینوزا ایسے جدلیات کے شارح بھی شامل رہے ہیں لیکن یہ نیا فلسفہ برطانوی اثر کے تحت زیادہ سے زیادہ مابعد الطبیعاقی طرز استدلال اختیار کرتا چلاگیا ۔ یہی طرز استدلال اٹھارہویں صدی کے فرانسیسی فلسفیوں کی فلسفیانہ تحریروں پر غالب رہا ۔ لیکن فلسفہ کی محدوداصطلاح سے باہر فرانسیسیوں نے جدلیات کے شاہکار پیدا کئے ۔ ہم صرف دیدرو کی کتاب ’رامیو کا بھیجا‘ اورر وسو کی کتاب ’انسانی عدم مساوت‘ کے آغاز پر بحث کا حوالہ کافی خیال کرتے ہیں ۔ ہم ذیل میں جدلیات اور مابعدالطبیعاتی طرز استدلال کی ہیئتِ تشکیل پیش کرتے ہیں ۔
جب ہم کائنات، انسانی تاریخ یا اپنی ذہنی سر گرمی پر غور کرتے ہیں تو سب سے پہلے ہمارے سامنے تعلقات اور تفاعل کے ایک نہ ختم ہونے والے گورکھ دھند ے کی ایک ایسی تصویر آتی ہے جو اپنی ماہیت اور ہیئت میں ایک لمحہ کے لئے بھی ساکن اور ثابت نہیں رہتی ۔ ایک تصویر جس میں کسی شے کو قرار نہیں، جہاں ہر چیز حرکت کرتی بدلتی اور وجود میں آکر فنا ہوتی رہتی ہے۔ شروع میں ہم اس تصویر کو مجموعی حیثیت سے اس طرح دیکھتے ہیں کہ اس کی تفصیلات اوجھل رہتی ہیں ۔ ہم حرکت،تبدیلی اور باہمی تعلقات کو اس شے پر ترجےح دےتے ہےں جو حرکت کرتی، تبدےل ہوتی اور باہمی تعلق قائم رکھتی ہے ۔ دنیا کے متعلق ہی ابتدائی سادہ مگر بنیادی لحاظ سے تصور قدیم یونانی فلسفے کا ہے ۔ سب سے پہلے اس فلسفے کو ہراکلیٹسنے مرتب کیا ۔ وہ کہتا ہے کہ:
” ہر شے ہے، اور نہیں ہے ۔کیونکہ ہر شے تبدیل ہوتی چلی جارہی ہے ۔ ہر شے متواتر بدلتی بنتی اور بگڑتی چلی جارہی ہے۔“
یہ تصور کائنات کی تصویر کی عمومی ہیئت کی تووضاحت کر دیتا ہے لیکن یہ تصور اُس تصوےر کے اجزائے ترکیبی کی وضاحت کے لئے نا کافی ہے ۔جب تک ہم اس تصویر کے اجزائے ترکیبی سے آگاہ نہیں ہوتے اس وقت تک ہم اس تصویر کی مجموعی حیثیت کو بھی نہیں سمجھ سکتے ۔ ان تفصیلات سے واقف ہونے کے لئے ضروری ہے کہ ہم انہیں طبعی یا تاریخی تعلقات سے الگ کرکے ان میں سے ایک ایک کی ہیئت اور اسکے خصوصی اسباب و نتائج پر غور کریں۔یہ کام طبعی سائنس اور تاریخی تحقیق کا ہے۔ طبعی سائنس اور تاریخی تحقیق سائنس کی وہ شاخیں ہیں جنہیں کلاسیکی دور کے یونانیوں نے ثانوی درجہ دے رکھا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ علوم کی ان شاخوں ) طبعی علم اور تاریخی تحقیق ( پر کام کرنے کے لئے مواد جمع کرنے کی ضرورت تھی ۔ کسی تنقیدی تجزیہ، تقابل، موازنہ یا طبقو ں، نظاموں اور انواع کی درجہ بندی کے لئے طبعی اور تاریخی مواد مہیا کرنا بہت ضروری ہے۔ کائنات کے متعلق صحیح انداز میں تحقیق کرنے کا آغاز عہداسکندریہ کے یونانیوں سے ہوا ۔ انہوں نے اس میں ترقی کی۔ آگے چل کر ازمنہ وسطیٰ میں عربوں نے اس میں نمایا ںاضافہ کیا ۔ لیکن حقیقی طبعی سائنس کا آغاز اٹھارہویں صدی کے دوسرے نصف سے ہوتا ہے۔ اُس وقت سے اب تک یہ ترقی کرتی چلی جارہی ہے ۔ کائنات کا اِس کے انفرادی اجزا میں تجزیہ اور مختلف شکلوں کی اندرونی ترتیب کے مطالعہ نے پچھلے چار سو سال میں کائنا ت کے متعلق ہماری معلومات میں حیرت انگیز اضافہ کیا ۔ لیکن اس اندازِ ِتحقیق سے ہم نے یہ بات وراثت میں پائی کہ ہم طبعی اشیا اور طبعی حرکات کو اشیا کے وسیع تعلقات سے الگ کرکے ان کے مطالعہ کے عادی ہو چکے ہیں ۔ ہم ان اشیا کا مطالعہ اس وقت نہیں کرتے جب وہ متحرک ہوتی ہیں بلکہ اس وقت جب وہ ساکن ہوتی ہیں۔ ہم ان اشیا کا مطالعہ ان کی زندگی میں نہیں کرتے ۔بلکہ ان کے مرنے کے بعد کرتے ہیں ۔ جب بیکن اورلاک نے مطالعہ کے اس طریق کو طبعی سائنس سے نکال کر فلسفے میں داخل کر دیا تو اس سے پچھلی صدی کی مخصوص تنگ نظری یعنی مابعد الطبیعاتی انداز فکر پیدا ہوا ۔ مابعد الطبیعات کے حامی کے نزدیک اشیاءاور ان کے ذہنی عکس یعنی تصورات الگ الگ چیزیں ہیں ۔ جن پر الگ الگ ہی غور کیا جا سکتا ہے۔ اس کے نزدیک یہ اشیا بے لوچ اور ایک ہی جگہ قائم ہیں ۔ ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی ۔ اس کا طرز استدلال ترکیب کے تسلسل کا قائل نہیں ۔ عام لفظوں میں وہ یوں کہتا ہے:
” ہا ں ہا ں ہے اور نہیں نہیں ہے ان کے علاوہ جو کچھ اور ہے وہ سب برائی نے پیدا کیا ہے ۔ “
اس کے نزدیک کسی شے کا یا تو وجود ہے یا نہیں ۔ وہ اس بات کو نہیں مانتا کہ کوئی چیز اپنی ذات سے الگ کوئی دوسری چیز بھی ہو سکتی ہے۔ اثبات اور نفی ایک دوسرے کی ضِدہیں ۔ اسی طرح عِلت اور معلُول ایک دوسرے کی ضد ہیں ۔ پہلی نظرمیں یہ انداز ِفکر بہت معقول دکھائی دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عام سمجھ بوجھ کا انداز فکر ہے۔ لیکن جب یہ تمام سمجھ بوجھ اپنی چار دیواری سے باہر نکل کر سائنسی تحقیق کے میدان میں قدم رکھتی ہے تو اسے حیرت انگیز تجربوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسی حالتوں میںجہاں متعلقہ چیزیں موضوع کی نوعیت کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہیں ۔ وہاں مابعد الطبیعاتی اندازِ فکر مناسب اور ضروری ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود یا دیر میں اس اندازِ فکر میں ایک ایسا مقام آ جاتا ہے جہا ں وہ یکطرفہ، محدود اور مبہم ہو کر کبھی حل نہ ہونے والے تضاد پیداکر دیتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اشیا پر انفرادی طور سے غور کرنے سے مابعد الطبیعاتی اندازِ فکر اشیا کے باہم تعلقات کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ ان کے وجود پر غور کرتے ہوئے وہ ان کے وجود میں آنے اور چلے جانے کو بھول جاتا ہے۔ وہ اشیا کے سکون کا تو مطالعہ کرتا ہے لیکن ان کی حرکت پر غور نہیں کرتا ۔ اس طرح جزئیات پر توجہ کرنے سے مجموعی شے نظر سے چھپ جاتی ہے۔ معمولی حالات میں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ فلاں جانور زندہ ہے یا مرگیا ۔ لیکن جب ہم اس مسئلہ پرزےادہ غور کرتے ہےں تو ہم دےکھتے ہےں کہ ےہ اےک بہت زےادہ پےچےدہ مسئلہ ہے ۔ اِس مسئلے کی پیچےدگی سے قانون دان اچھی طرح واقف ہیں۔ وہ اس مسئلہ پر کافی دماغ لڑاچکے ہیں کہ وہ کوئی ایسی معقول حد مقر رکر سکیں جبکہ ماں کے پیٹ میں بچے کی بلاکت کو قتل کہا جا سکے ۔ موت کے لمحہ کو متعین کرنا بھی کم و بیش اتنا ہی نا ممکن ہے کیونکہ عضویات کا علم ہمیں بتاتا ہے کہ موت کوئی اچانک حادثہ نہیںبلکہ وہ ایک طویل عمل کا نتیجہ ہے۔ اسی طرح ہر ایک نامیاتی ہستی ہر لمحہ وہ ہستی بھی ہے اور وہ ہستی نہیں بھی ہے۔ یہ ہستی ہر لمحہ خارجی مادے کو قبول کر رہی اور داخلی مادے کو خارج کرتی چلی جا رہی ہے۔ ہر لمحہ اس ہستی کے جسم کے خلیے مرتے رہتے ہیں اور ان جگہ نئے خلیے پیدا ہوتے رہتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ تھوڑی یا لمبی مدت میں اس ہستی کے جسم کا ما دہ مکمل طور پر نئی صورت اختیار کر لیتا ہے ۔ پرانے ذروں کی جگہ نئے مادی ذرے لیتے رہتے ہیں۔ چنانچہ ہر نامیاتی ہستی ہر وقت بجائے خود بھی ہے اور بجائے خود کے علاوہ کچھ اور بھی ہے۔ اگر زیادہ گہر ی نظر سے دیکھا جائے تو کسی تضاد کے ڈانڈے اثبات اور نفی کی طرح جتنا ایک دوسرے کی ضد ہیں ،اتنا ہی وہ ایک دوسرے میں ضم ہیں، اور تمام تضاد کے باوجود وہ ایک دوسرے میں پیوست ہو جاتے ہیں۔عِلت اور معلُول کی بھی یہی کیفیت ہے۔عِلت اور معلول کو اگر کسی خالص واقعہ پر چسپاں کیا جائے تو پھر اس کا جواز ثابت ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر ہم اس مخصوص واقعہ کو پوری دنیا کے ساتھ ملا کر اس پر غور کریں تو وہ آفاقی عمل اور باہمی عمل کے ان تصورات میں تحلیل ہو جاتا ہے ۔ جہاں علت اور معلول ہمیشہ تبدیل ہوتے رہتے ہیں ایک لمحہ کا معلول اسی لمحہ میں علت بن جاتا ہے اور ایک لمحہ کی علت اسی لمحہ میں معلول بن جاتی ہے۔
ان میں سے کوئی انداز فکر بھی مابعد الطبیعاتی غو رو فکر کے ڈھانچے میں پورا نہیں اترتا ۔ جدلیات اشیا اور ان کے عکس اور تصورات پر ان کے باہمی تعلق، حرکت ،تسلسل پیدائش اور موت کی روشنی میں بحث کرتی ہے۔ جدلیات کی بہت سی مثالیں اوپر دی چکی ہیں ۔ فطرت جدلیات کی کسوٹی ہے۔ یہ ماننا پڑے گا کہ جدید طبعی سائنس نے جدلیات کی تائید میں بہت سا مواد جمع کردیا ہے اس مواد میں ہرروز اضافہ ہو رہا ہے ۔ جدید طبعی سائنس نے یہ بھی بتا دیا ہے کہ قدرت کا عمل جدلیاتی ہے نہ کہ مالبعد الطبیعاتی ۔ نیز یہ کہ قدرت ایک ابدی دائرے میںچکر نہیں کاٹتی رہتی بلکہ حقیقی تاریخی ارتقا میں سے گزرتی ہے۔ اس ضمن میں کسی دوسرے سے پہلے ڈارون کا ذکر ضروری ہے ۔ ڈارون نے یہ ثابت کر کے کہ، تمام نامیاتی کائنات یعنی پودے، جانور اور انسان لاکھوں سال کے ارتقا کی پیداوار ہیں، قدرت کے معلق مالبعدالطبیعاتی تصور پر ایک کاری ضرب لگائی۔ لیکن ان سائنسدانوں کی تعداد جو جدلیاتی انداز میں سوچتے ہیں بہت کم ہے۔ اس انداز میں سوچنے والوں کے درمیان بہت تفاوت ہے۔ نئی دریافتوں اور پرانے روایتی انداز فکر میں جوتصادم پایا جاتا ہے وہ اس الجھن کی وضاحت کرتا ہے جو آج کل نظری طبعی سائنسمیں موجود ہے اور جس نے اساتذہ ، طالب علموں، لکھنے والوں اور پڑھنے والوں کو مایوس کر رکھا ہے ۔
کائنات اور انسان کے ارتقا اور انسانی ذہن پر اس ارتقا کے عکس کو صرف جدلیاتی انداز فکر ہی سے سمجھا جا سکتا ہے کیونکہ یہی وہ انداز فکر ہے جو ہر لمحہ زندگی اور موت )ہونے اور نہ ہونے ( نیز ارتقائی اورر جعتی تبدیلیوں کو ملحوظ رکھتا ہے۔ جدید ترین جرمن فلسفے نے شروع ہی میں یہ زاویہ ¿ نگاہ اختیار کیا ۔ کانٹ نے اپنی فلسفیانہ زندگی کا آغاز نیوٹن کے نظامِشمسی کی تردید سے کیا ۔ نیوٹن کہتا ہے حرکتِ اولیٰ کے بعد نظام شمسی کو ابدیت حاصل ہو چکی ہے، لیکن کانٹ نظام شمسی کو ایک تاریخی تسلسل بتاتا ہے۔ اس کے نزدیک سورج اور تمام دوسرے سیارے ایک چکر کاٹتے ہوئے قدیمی مادے سے بنے ہیں۔ کانٹ یہ بھی کہتا ہے کہ اگر نظام شمسی کے آغاز کا یہ دعویٰ سچا ہے تو مستقبل میں نظام شمسی کی تباہی یقینی ہے ۔ پچاس سال بعد کانٹ کے خیالات کو لا پلاس نے ریاضیاتی بنیاد پر استوار کیا۔ مزید پچاس سال بعد” طیف پیما“ نے ثابت کر دیا کہ خلا میں ایسی دہکتی ہوئی گیس کے انبار اب بھی موجود ہیں جو انجماد کے مختلف درجوں میں سے گزر رہے ہیں ۔
یہ جدید ترین جرمن فلسفہ ہیگل کے سسٹم پر ختم ہوا ۔ اس سسٹم میں پہلی مرتبہ ساری طبعی، تاریخی اور روحانی دنیا کو ایک تسلسل کی صورت میں پیش کیا گیا ۔ یعنی وہ ایک دوامی حرکت ،تغیر ،قلب ِماہیت اور ارتقا میںہے ۔ کانٹ نے یہ کوشش بھی کی کہ وہ اس حرکت اور ارتقا کے اندرونی باہمی تعلقات کو ظاہر کرسکے ۔ کانٹ کے نظرئیے کی یہ بہت بڑی خوبی ہے۔ اس نظریہ کی رو سے انسان کی تاریخ احمقانہ، متشدد افعال کا الجھا ہوا چکر نہیں رہتی ۔ جس پر پختہ فلسفیانہ عقل کے حضور میں لعنت ملامت کی جائے ۔ اور جسے جلد سے جلد بھلا دینے ہی میں بہتری چھپی ہو ۔ اس نظریہ نے انسانی تاریخ کو انسانیت کے ارتقا کا ایک تسلسل بنا دیا ۔ اب فکر کے پیش نظر یہ کا م تھا کہ وہ اس تسلسل کے تدریخی ادوار کا پتہ چلائے ۔ یہ کام بھی فکر ہی کا تھاکہ وہ اس تسلسل کے اندرونی ضوابط کی کھوج نکالے جو بظاہر ایک ناگہانی مظہر دکھائی دیتا ہے۔
یہاں یہ ذکر کرنابے سود ہے کہ ہیگل کو اس مقصد میں کامیابی نہ ہوئی۔ اس کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے اس نظریے کو پیش کیا۔ یہ ایک اتنا بڑا کام ہے کہ اسے کوئی ایک شخص کبھی نہیں کرسکے گا ۔ اگرچہ سین سیمون کی طرح وہ اپنے زمانے کا ایک قاموسی ذہن تھا ۔ لیکن اس کے لئے دو دُشواریاں یہ تھےں کہ اس زمانے میں علم کی وسعت اور گہرائی بھی محدود تھی ۔ ان دشواریوں کے علاوہ ایک تیسرا عنصر بھی تھا۔ ہیگل ایک عینیت پسند تھا جس کے خیال میں اس کے اپنے ذہن کے تصورات حقیقی اشیا اور عمل کے کم و بیش کوئی مجرد عکس نہیں تھےبلکہ اس کے نزدیک اشیا اور ان کا ارتقا ایک ایسے تصور کے عکس تھے ۔ جو دنیا کے وجود سے پہلے ازل ہی سے کسی نہ کسی مقام پر موجود تھا ۔ اس اندازِفکر نے ہر شے کو سر کے بل کھڑا کردیا ۔ اور دنیا میں اشیا کے باہمی تعلقات کو اُلٹ دیا۔ ہیگل نے اگرچہ چند انفرادی تعلقاتِ باہمی کو صیحح طور پر اختیار کیا تھا۔ لیکن اوپر بیان کئے گئے اسباب کی بنا پر ہیگل کی بیشتر تفصیلات میں پیوند، بناوٹ اور آور دپائی جاتی ہے ۔ ایک لفظ میں وہ سب کی سب غلط ہیں۔ ہیگل کا سسٹم ایک بہت بڑی نارسائی تھا۔ لیکن یہ اپنی قسم کی آخری نارسائی تھی ۔ اس سسٹم کو سب سے زیادہ نقصان اس کے اندرونی تضاد نے پہنچا یا ۔ اس تضاد کا کوئی حل ممکن نہیں ۔ ایک طرف تو ہیگل کاسسٹم یہ دعوی کرتا ہے کہ انسانی تاریخ ارتقا کا ایک عمل ہے جس کی نوعےت ہی کچھ اےسی ہے کہ نام نہاد مطلق سچائی کی کھوج مےں ےہ ذہنی اعتبار سے آخری حد نہےں حاصل کر سکتی۔لیکن دوسری طرف یہ سسٹم اسی مطلق صداقت کی ماہےت ہونے کا دعوی کرتا ہے۔
طبعی اور تاریخی علوم کا وہ نظریہ ، جو یہ دعویٰ کرے کہ وہ ہر زمانے کے لئے ہمہ گیر اور حرف آخر ہے،وہ نظریہ جدلیاتی اندازِ فکر کے بنیادی اصول کی ضد ہے۔ جدلیاتی اندازِ فکر یہ دعوی کرتا ہے کہ کائنات کے متعلق ہمارا باقاعدہ علم عہد بہ عہد ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔
جرمن عینیت کی اس غلطی کے احسا س نے مادیت کا راستہ دکھایا ۔ لیکن یہ بات یاد رکھنی چائیے کہ یہ مادیت اٹھارہویں صدی کی خالص مابعد الطبیعاتی اور میکانکی مادیت نہیں تھی۔ تمام پچھلی تاریخ سے انکار کرنے کی نسبت جدید مادیت تاریخ کو انسانی ارتقا کا ایک تسلسل خیال کرتے ہوئے اس تسلسل کے قوانینِ حرکت کی جانچ پڑتا ل کرنا اپنا منصب خیال کرتی ہے۔ یہ خیال کہ فطرت مجموعی طور پر تنگ دائروں میں حرکت کرتی ہے اور غیر متغیر ہے، اٹھارہویں صدی کے فرانسےسی فلسفیوں اور ہیگل کے ذہن میں موجود تھا ۔ وہ نیوٹن کے اس نظریئے کے قائل تھے کہ اجرام فلکی ابد سے ان تنگ دائروں میں حرکت کررہے ہیں۔ وہ لینا س کے اس نظرئیے کے بھی قائل تھے کہ قدرت ان نامیاتی ہستیوںکی انواع سے عبارت ہے جن میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ۔ اس نظریئے کے برعکس جدید مادیت طبعی سائنس کے انکشافات سے استفادہ کرتی ہے۔ جدید مادیت کے ان انکشافات کی رو سے قدرت بھی اپنی ایک تاریخ رکھتی ہے۔ اجرامِ فلکی بھی نامیاتی اجسام کی طرح پیدا ہوتے اور فنا ہوتے رہتے ہیں ۔ اگر ان اجرام ِفلکی کے ادوار کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو پھر بھی یہ ماننا پڑ تا ہے کہ ان دائروں کے الجھاﺅ لا محدودیت میں برابر پھیلتے چلے جارہے ہیں۔
دونوں صورتوں میںجدےد مادےت جدلیاتی ہے ۔ اب جدید مادیت کو کسی ایسے فلسفے کی ضرورت باقی نہیں رہی جو دوسرے علوم سے بالا تر ہو ۔ جوں ہی ہر ایک علیحدہ سائنس نے اشیا اور مجموعی نظام میں ان کی پوزیشن واضح کرنے کی کوشش کی، وہ مخصوص سائینس جس کا تعلق مجموعی نظام سے تھا ،بیکا ر ہو گئی ۔ اس وقت پرانے فلسفے کی ایک ہی یاد گار باقی رہ گئی ہے، یعنی فکر اور اس کے قوانین کی سائنس_ منطق اور جدلیات ۔ہر دوسری چیز قدرت اور تاریخ کی اثباتی سائنس میں مدغم ہو چکی ہے۔
کائنات کے متعلق ہمارا تصور اس نسبت سے بد لتا رہا ہے ۔ جس نسبت سے ہمیں کائنات کے متعلق ثبوتی مواد مہیا ہوتا رہا ۔ بہت پہلے بعض ایسے تاریخی حقائق پیش آئے جنہوں نے تاریخ سے متعلقہ تصور میں ایک فیصلہ کن تبدیلی پیدا کردی ۔ 1831 میں لیونز میں پہلی مرتبہ مزدوروں نے شورش کی۔ 1838اور1842کے درمیان قومی مزدوروں کی تحریک یعنی انگریز چار ٹسٹوں کی تحریک اپنی بلندی تک پہنچ گئی تھی۔ یورپ کے ترقی یافتہ ملکوں کی تاریخ میں مزدوروں اور سرمایہ داروں کی طبقاتی کشمکش ظاہر ہونے لگی۔ جس رفتار سے نئی انڈسڑی نے ترقی کی اور سرمایہ داروں کا نیا حاصل کردہ سیاسی غلبہ بڑھا اسی رفتار سے یہ جدوجہد بھی بڑھتی چلی گئی ۔ حقائق نے پوری شدت کے ساتھ مہا جنی معاشیات کی ان تعلیمات کوسختی سے جھٹلا دےاکہ سرماےہ اور محنت کے مفاد ےکساں ہےں، اور ےہ کہ بے روک مسابقت سے عام خوشحالی اور ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔ اِن تمام چےزوں کو زیادہ دیر تک نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا، نہ ہی فرانسےسی اور جرمن سوشلزم کو جو اِن حقائق کانظری لےکن بھدا مظہر تھا۔ لیکن تاریخ کا پرانا عینی تصور جس میں ابھی تک تبدیلی نہیں ہوئی تھی، طبقاتی جدوجہد کے نام ہی سے نا آشنا تھا۔ وہ اس طبقاتی جدوجہد سے ناواقف تھا جس کی بنیادیں معاشی مفاد پر تھیں ۔ تاریخ کے اس عینی تصور میں پیداوار اور تمام معاشی تعلقات کو محض اتفاقی طور پر بیان کیا جاتا تھا ۔ پیداوار اور تمام معاشی تعلقات کو تہذیب کی تاریخ میں ضمنی عوامل قرار دیا جاتا تھا۔
نئے حقائق نے مجبور کردیا تھا کہ تاریخ پر دوبارہ غور کیا جائے ۔ جب اس پر غور کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ابتدائی دور کے سوا ساری انسانی تاریخ طبقاتی کشمکش کی تاریخ تھی اور یہ کہ سوسائٹی میں ایک دوسرے سے ٹکرانے والے طبقے ہمیشہ اپنے عہد کے معاشی حالات سے پیدا ہوتے رہے ہیں ۔ آپس میں ٹکرانے والے ےہ طبقے پیداوار اور تبادلہ سے پیدا ہوتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سوسائٹی کا معاشی ڈھانچہ ہی وہ حقیقی بنیاد ہے جس پر غور کرنے سے کسی مخصوص عہد کے قانونی اور سیاسی اداروں اور اس عہد کے مذہبی، فلسفیانہ اور دوسرے تصورات کی تشریح کی جاسکتی ہے۔ ہیگل نے تاریخ کے تصور کو مابعد الطبیعات سے الگ کیا۔ اس نے تاریخ کے تصور کو جدلیاتی بنا دیا ، لیکن تاریخ کے متعلق اس کاےہ تصور خالص عینی تھا۔ اب عینیت کو اس کی آخری پناہ گاہ یعنی فلسفہ ¿ تاریخ سے بھی باہر نکال دیاگیا۔ اب تاریخ کا ایک مادی تصور پیش کیا گیا۔ اس سے ایک ایسا طریق کار ہاتھ لگا جس کی مدد سے انسان کے شعور کی تشریح اس کے وجود سے کی جانے لگی۔ حالانکہ اس سے پہلے انسان کے وجود کی تشریح اس کے شعور کے حوالہ سے کی جاتی تھی ۔
اس کے بعد سے سوشلزم کسی ذہےن انسان کا اچانک انکشاف نہیں رہی بلکہ تاریخی طور پر ارتقا پذیر دو طبقوں یعنی مزدوروں اور سرمایہ داروں کی کش مکش کا لازمی نتیجہ قرار پائی ۔ سوشلزم کا اب یہ کام نہیں رہا تھا کہ وہ سوسائٹی کے لئے کوئی مکمل نظام مرتب کرے بلکہ اس کا کام یہ تھا کہ وہ واقعات کے تاریخی اور معاشی تسلسل کی جانچ پڑتال کرے جس کی وجہ سے یہ نئے طبقے پیدا ہوئے ہیں۔ نیز ان نئے معاشی حالات کی تہہ میں چھپی ہوئی اُن قوتوں کی تلاش کرے جو ان طبقوں کی کش مکش کو ختم کر سکتے ہیں۔ لیکن ابتدائی دنوں مےںسوشلزم ،تاریخ کے مادی تصور سے اتنا ہی بے میل تھا جتنا کہ قدرت کے متعلق فرانسیسی مادیت، جدلیات اور نئی طبعی سائنس کے متضاد تھی۔ یہ ٹھیک ہے کہ ابتدائی سوشلزم نے موجود سرمایہ دارانہ طریقِ پیداوار اور اس کے نتائج پر تنقید تو کی تھی لیکن وہ ان کی تشریح نہیں کر سکتاتھا اور نہ ان پر پورا پور اعبور حاصل کر سکتا تھا۔ ابتدائی سوشلزم موجود ہ طریق پیداروار اور اس کے نتائج کو صرف ایک برائی جان کر اسے رَد کر سکتی تھی۔ یہ ابتدائی سوشلزم مزدوروں کے لُوٹے جانے کی جتنی شدت مذمت کرتا اتنا ہی وہ اس بات کی وضاحت میں ناکام رہتا کہ آخر یہ لوٹ ہے کےا اور یہ کیوں پیدا ہوئی ؟ اس کے لئے ضروری تھا کہ ایک طرف تو سرمایہ دارانہ طریق پیداوارکو اس کے تاریخی تسلسل میں پیش کیا جاتا اور یہ بتایا جاتا کہ ایک مخصوص تاریخی دور کے لئے یہ نظام اٹل تھا۔ پھر اس امر کی بھی وضاحت کی جاتی کہ جس طرح اس نظام کا آ نا اٹل تھا ، اس طرح اس نظام کا ختم ہوجانا بھی اٹل ہے اور دوسری طرف اس نظام کی ہیئیت کی وضاحت کی ضرورت تھی جو ابھی تک اوجھل تھی ۔ زائد قدر کے معلوم کر لئے جانے کے بعد ایسا ہی ہوا، چنانچہ معلوم ہوا کہ سرمایہ دارانہ طریق ِِپیداوار اور اس میں مزدوروں کے لٹنے کی بنیاد اصل میں اس محنت کی لوٹ ہے جس کی اجرت مزدوروں کو نہیں دی جاتی ۔ اگر سرمایہ دار مزدور کی قوت محنت کو ایک جنس کی حیثیت سے اس کی بازاری قدر پر خرید ے تب بھی اس نے جتنی قدر ادا کی ہے اس سے زیادہ قدر اس نے اس قوتِ محنت سے حاصل کر لی ہے ۔ یہی زائد قدر ،قدر کا وہ ذخیرہ بن جاتی ہے جس کی وجہ سے ملکیت رکھنے والے طبقوں کے پاس سرمایہ کے انبار لگ جاتے ہیں۔ اس طرح سرمایہ دارانہ طریق پیداوارانہ اور سرمایہ کی تخلیق دونوں کی تشریح ہوگئی ۔ تاریخ کے مادی تصور اور زائد قدر کے انکشاف کے لئے ہم مارکس کے مرہون منت ہیں۔ زائد قدر کے انکشاف نے سرمایہ دارانہ طریق پیداوار کے راز کو فاش کر دیا۔ ان انکشاف کے بعد سوشلزم ایک سائنس بن گےا جس کے تمام پہلوﺅں اور ان کے باہمی تعلقات کی وضاحت کر نا سب سے اہم کام ہو گیا۔
تیسر ا باب
تاریخ کا مادی نظریہ اس اصول سے شروع ہوتا ہے کہ پیداوار اور پیداوار کی اجناس کا تبادلہ ہر سوشل نظام کی بنیاد ہے۔ انسانی تاریخ میں جو سوسائٹی بھی پائی جاتی ہے۔ اس میں پیداوار کی تقسیم اور طبقہ بندی کا انحصار اس بات پر رہا ہے کہ سوسائٹی کیا پیدا کر تی ہے ،کیسے پیدا کرتی ہے۔ اور اس میں پیداوار کی تقسیم کس طرح ہوتی ہے ۔ تاریخ کے اس نظریئے کے مطابق تمام سماجی تبدیلیوں اور سیاسی انقلابوں کے بنیادی اسباب کو انسانوں کے ذہنوں یا ابدی صداقت اور عدل میں ان کی بڑھتی ہوئی بصیرت میں تلاش نہیں کرنا چاہیے بلکہ انہیں طریق پیداوار اور تبادلہ کی تبدیلیوں میں دیکھنا چاہئے ۔ ان کے عہد بہ عہد اسباب کو فلسفے کی جگہ معاشیات میں تلاش کرنا چاہئے ۔ یہ بڑھتا ہوا احساس کہ موجودہ سماجی ادارے نا معقولےت اور بے انصافی پر مبنی ہیں، عقل حماقت میں بدل چکی ہے اور خیرنے شرکی صورت اختیار کر لی، اس بات کی علامت ہے کہ پیداوار اور تبادلے کی صورتیں چپکے چپکے تبدیل ہوتی رہی ہیں اور اس تبدیلی کے ساتھ ہی وہ سماجی ڈھانچہ بھی، جو سابقہ معاشی حالات نے بنایا تھا، اب نئے حالات سے مطابقت نہیں رکھتا ۔ لیکن نئے نظام میں جو خرابیاں ظاہر ہوئی ہیں ان سے رہائی پانے کے ذرائع بھی پیداوار کے ان بدلے ہوئے طریقوں میں کم و بیش پائے جاتے ہیں ۔ ان ذرائع کی تلاش کے لئے کسی ذہنی اختراع کی ضرورت نہیں بلکہ پیداوار کے موجودہ مادی حقائق میں ان کی تلاش کی جائے۔
اس اصول کے مطابق موجود ہ سوشلزم کی کیا حیثیت ہے؟
موجودہ سماجی ڈھانچہ، جیسا کہ عام طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، موجودہ حکمران طبقے یعنی سرمایہ داروں کا بنایا ہوا ہے۔ سرمایہ داروں کا مخصوص طریق ِپیداوار جو مارکس کے بعد سے سرمایہ دارانہ طریق ِپیداوار کہلاتا ہے۔ وہ مقامی اور خاندانی مراعات اور جاگیری نظام کے ذاتی تعلقات میں نہیں کھپ سکتا تھا ۔ سرمایہ داروں نے جاگیر ی نظام پاش پاش کردیا۔ انہوں نے اس نظام کے کھنڈروں پر نیا نظام کھڑا کیا۔ انہوں نے تجارت میں آزاد مسابقت اور نقل و حرکت میں آزادی پیدا کی۔اجناسِ تبادلہ کے مالکوں کے لئے مساوی حقوق اور سرمایہ داروں کے لئے عروج کے مختلف سامان پیدا ہوگئے ۔ ان حالات میں سرمایہ دارانہ طریق ِپیداوار آزادی کے ساتھ ترقی کر سکتا تھا۔ جب سے بھاپ اور کل پرزے بنانے والی مشینری نے پرانی کاخانہ داری کو ختم کرکے بڑے پیمانے پر انڈسڑی کو فروغ دےا،اس وقت سے سرمایہ داروں کی رہنمائی میں پیداواری قوتوں نے اتنی تیز رفتاری سے ترقی کر لی کہ ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔جس طرح ابتدائی کارخانہ داری اور دستکاری جس نے جاگیر ی نظام میں پرورش پائی تھی، آخر کار جاگیر ی نظام میں جکڑے ہوئے گِلڈوں سے متصادم ہوئی، اسی طرح بڑے پیمانے کی نئی انڈسڑی ،جب وہ پوری طرح سے ترقی کر جاتی ہے، تو وہ بھی ان حد بندیوں سے ٹکراتی ہے جن کے اندر سرمایہ دارانہ طریق پیداوار نے نئی انڈسڑی کو جکڑ رکھا ہے ۔ پیداوار کی نئی قوتیں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ اب سرمایہ دارانہ طریق پیداوار میں ان کے لئے کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ پیداوار کی قوتوں اور طریقِ پیداوار میں جو تصادم پایا جاتا ہے وہ اولین گناہ اورالٰہی عدل کی طرح انسانوں کے ذہن میں پیدا نہیں ہوا۔ یہ تصادم ہمارے ذہن سے باہر کی دنیا میں موجود ہے ۔ یہ تصادم اپنے پیدا کرنے والوں کی خواہشوں اور ارادوں سے بھی آزاد ہے۔ جدید سوشلزم اسی حقیقی تصادم کو ہمارے ذہن پر منعکس کرتی ہے۔ اس کا سب سے واضح عکس سب سے پہلے اس طبقے کے ذہن پر پڑتا ہے ۔ جو براہ ِراست اس تصادم کا شکار ہے، یعنی محنت کرنے والا طبقہ ۔
یہ تصادم کہاں پایا جاتا ہے۔ ؟
سرمایہ دارانہ سے پہلے ازمنہ وسطی میں چھوٹے پیمانے پر پیداوار ہوتی تھی۔ جس میں کام کرنے والے اپنے ذرائع پیداوار کے مالک ہوتے تھے ۔ دیہات میں چھوٹے چھوٹے کسان آزاد کاشتکار اور زرعی غلام کھیتی باڑی کرتے تھے۔ شہروں میں دستکاری ہوتی تھی ۔ چونکہ آلاتِ محنت انفرادی استعمال اور انفرادی ملکیت رکھتے تھے، اس لئے وہ بہت ناقص اور بھدے ہوتے تھے۔ ان کا استعمال بھی محدود ہوتا تھا۔ یہ آلات کا م کرنے والے ہی کی ملکیت ہوتے تھے۔ ان محدود اور بکھرے ہوئے ذرائع پیداوار کو اکٹھا کرنا، بڑھانا اور پھر انہیں ترقی دے کر دورِ حاضر کی عظیم الشان پیداآوری قوتوں میں منتقل کر دینا سرمایہ دارانہ طریق ِپیداوار اور اس کے نمائند وں یعنی سرمایہ داروں کا ایک تاریخی کارنامہ ہے۔
کارل مارکس اپنی کتاب سرمایہ کے چوتھے حصے میں تفصیل سے بتاتا ہے کہ کس طرح پندرھویں صدی کے بعد ذرائع پیداوار کی ترقی کا یہ سلسلہ ابتدائی تعاون، کارخانہ داری اور بڑے پیمانے کی انڈسڑی کے تین ادوار میں سے گز ر چکا ہے ۔مارکس یہ بھی بتاتا ہے کہ سرمایہ داروں نے ان محدود ذرائع پیداوار کوترقی دے کر بڑی بڑی پیداآوری قوتوں کو اپنا مطیع کیا۔ لیکن ایسا کرنے میں انہوں نے انفرادی ذرائع پیداوارکو تبدیل کرکے انہیں اجتماعی ذرائع پیداوار کی شکل دے دی ۔ جو لاہے کے کرگھے اور چرخے کی جگہ سوت کاتنے اور کپڑا بننے کی بڑی بڑی مشینوں نے لے لی۔ لوہار کے ہتھوڑے کی جگہ بھاپ سے چلنے والے مشینی ہتھوڑوں نے لے لی۔ کاریگروں کی چھوٹی چھوٹی دکانوں کے بدلے بڑی بڑی فیکٹریاں قائم ہوگئیں ۔ جہا ں ہزاروں مزدوروں کا ایک ساتھ مل کر کام کرنا ضروری ہوگیا۔ ذرائع پیداوار کی طرح خود پیداوار میں بھی نمایاں تبدیلی ہوئی۔ ایک شخص سارے کام کرنے کی جگہ صرف ایک ہی مخصوص کام کرنے لگا۔ انفرادی پیداوار کی جگہ اجتماعی پےداوارنے لے لی۔ اب جو مصنوعات،مثلاً سوت ،کپڑا، اور دھات کی چیزیں فیکٹری سے باہر آنے لگیں وہ مزدوروں کی مشترکہ محنت کا ثمر تھیں کیونکہ ان کی تیار کئے جانے میں انہیں مختلف مزدوروں کے ہاتھوں میں سے گزر نا پڑتا تھا۔ ان اجناس کی بارے میں اب کوئی ایک شخص یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ اس نے بنائی ہیں ۔
جس سوسائٹی میں محنت کی قدرتی تقسیم ہی پیداوار کی بنیاد ہو، وہاں حاصلِپیداوارجنسِ تبادلہ بن جاتی ہے ۔ چنانچہ الگ الگ کام کرنے والے اپنی پیداکی ہوئی چیزوں کا خرید و فروخت کے ذریعے باہمی تبادلہ کرکے اپنی بہت سی ضرورتوں کو پورا کر لیتے ہیں ۔ ازمنہ ¿ وسطی میں سوسائٹی کی یہی حالت تھی۔ مثال کے طور پر کسان اپنی زرعی پیداوار کاریگر کے ہاتھ بیچ کر اس کے بدلے کاریگر کی بنائی ہوئی چیزیں خریدتا ۔ انفرادی پیداوار کی اس سوسائٹی میں ایک نئے طریقِ پیداوار کا ظہور ہوا۔ ابتدائی تقسیم محنت کے ساتھ ساتھ جس میں منصوبہ بندی کا کوئی دخل نہیں تھا۔ الگ الگ فیکٹریوں میں منصوبہ بندی کے تحت محنت کی تقسیم ہونے لگی۔ انفرادی پیداوار کے ساتھ ساتھ اجتماعی پیداوار نے بھی سرنکالا ۔ انفرادی اور اجتماعی تقسیم محنت سے تیار شدہ اجناس ایک ہی منڈی میں فروخت ہوتی تھیں۔ دونوں قسم کی محنت سے تیار شدہ اجناس کی قیمتوں میں بھی کم و بیش کوئی فرق نہیں ہوتا تھا۔ لیکن قدرتی تقسیم محنت کی نسبت منصوبہ بندی کے ماتحت کی گئی تقسیم محنت زیادہ مضبوط تھی۔ ان فیکٹریوں نے، جہاں محنت کو اجتماعی طور پر منظم کیا گیاتھا، انفرادی محنت کرنے والوں کی نسبت سستی اجناس پیداکرنی شروع کردیں ۔ آہستہ آہستہ انفرادی محنت سے اجناس پیدا کرنے والے مٹتے چلے گئے ۔ اجتماعی پیداوار نے طریق پیداوار میں انقلاب پیدا کر دیا۔ اس انقلاب کو اِس سے زیادہ نہ سمجھا گیا کہ وہ اجناس کی پیداوار کو بڑھانے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ نئے طریق پیداوار کا رشتہ شروع ہی سے بعض ایسی چیزوں کے ساتھ جوڑدیا گیا تھاجوجنس کی پیداوار اور تبادلے میں ممدو معاون تھیں اور جن کا وجود پہلے ہی سا تھا ، یعنی تجارتی سرمایہ ۔ دستکاری اور اجرتی محنت چونکہ یہ نیا طریق پیداوار جنس تبادلہ کی پیداوار کا وجود لے کر آیا تھا اس لئے تصرف کے وہ طریقے جو جنس تبادلہ کی پیداوار کے ساتھ مخصوص تھے ، بدستور اپنی جگہ پر قائم رہے۔
ان حالات میں جن میں ازمنہ وسطی میں جنس تبادلہ کی پیداوار نے ترقی کی تھی، یہ سوال ہی پیدانہیں ہوتا تھا کہ محنت کا حاصل کس کی ملکیت ہے۔ انفرادی پیدا کنندہ نے اسے پیدا کیا تھا۔ اس نے جس کچے مال اور جن آلاتِ محنت سے اسے پیدا کیا تھا وہ سب کے سب اس کے اپنے یا اس کے خاندان کی ملکیت ہوتے تھے اس لئے اسے پیداوار پر اپنا حقِ ملکیت جتانے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ اپنی محنت سے پیدا کی ہوئی چیز اپنی نہیں ہوگی تو کس کی ہوگی؟ اس کی ملکیت کا انحصار اس کی اپنی محنت پر ہوتا تھا ۔ جب کبھی کسی دوسرے کی محنت کو حاصل کیا جاتا تو اسے اجرت کے علاوہ اور بھی کچھ نہ کچھ دیا جاتا تھا۔ گلڈوں میں جو شاگرد یا کاریگر کام کرتے تھے ان کے پیش نظر اجرت اور خوراک نہیں ہوتی تھی بلکہ ان کا مقصد دستکاری میں مہارت حاصل کرناہوتا تھا۔ اس کے بعد وہ دور آیا جب ذرائع پیداوار کو بڑے بڑے کارخانوں میں جمع کیا جانے لگا۔ ان کارخانوں میں اجتماعی ذرائع پیداوار اختیار کئے گئے لیکن اجتماعی ذرائع پیداوار اور اجتماعی محنت کے حاصل کی حیثیت میں کوئی فرق نہ آیا۔ انہیں پرانے ذرائع پیداوار اور انفرادی محنت کا حاصل سمجھ لےا گےا۔
اب تک آلاتِ محنت کا مالک ہی پیداوار کا مالک ہوتا تھاکیونکہ وہ اس کی اپنی محنت کا حاصل ہوتا تھا۔ اسے کبھی کبھار ہی دوسروں کی محنت کی ضرورت پڑتی تھی۔ لیکن نئے حالات میں بھی آلات ِمحنت کا مالک ’حاصل کا مالک‘ بنا رہا حالانکہ اب وہ اس کی محنت کا حاصل نہیں رہا تھا بلکہ وہ سراسر دوسروں کی محنت کا نتیجہ تھا۔ اس طرح جو اجناس اجتماعی محنت سے پیداکی جاتی تھیں اُن پر ان لوگوں کا قبضہ نہ رہا جنہوں نے ذرائع پیداوار کو حرکت دی تھی اور اجناس کو پیداکیا تھا بلکہ ان پر سرمایہ داروں کا قبضہ ہوگیا۔ ذرائع پیداوار اور پیداوار اجتماعی ہو چکی تھی لیکن ملکیت کا طریقہ ایسا رہا جس میں پہلے ہی سے یہ مان لیا گیا تھا کہ افراد الگ الگ اجناس پیداکرتے ہیں اور جس میں ہر شخص اپنے حاصل کا مالک ہے اور اسے فروخت کرنے کے لئے منڈی میں لے آتا ہے۔ طریق پیداوار پر اسی قسم کا تصرف حاوی رہا حالانکہ طریق پیداوار نے ان بنیادوں کو ڈھا دیا تھا جن پر اس کا انحصار تھا۔ اسی تضاد میں، جو نئے طریق پیداوار کو سرمایہ دارانہ صورت دیتا ہے، آج کل کی کشمکش کا جرثومہ موجود ہے ۔ جوں جوں نیا طریق پیداوار، پیداوار کے تمام اہم شعبوں میں برتری حاصل کرتا گیا اور ہر ملک میں ایک فیصلہ کن معاشی اہمیت حاصل کرتا رہا، ویسے ویسے انفرادی پیداوار کی اہمیت گھٹتے گھٹتے صرف نشانات تک باقی رہ گئی اور مشترکہ پیداواراور سرمایہ دارانہ ملکیت کا تضاد زیادہ نمایاں ہوتا چلاگیا۔
جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں ،ابتدائی سرمایہ داروں نے اُجرتی محنت کے دستور کو موجود پایا لیکن اجرتی محنت استشنائی اور ضمنی حیثیت رکھتی تھی۔ لوگ صرف اسی صورت میں اجرتی محنت کو کام میں لاتے تھے جبکہ انہیں اپنی آمدنی بڑھانا مقصود ہوتا تھا۔ زرعی مزدور کبھی کبھار اپنے کھیت سے ہٹ کر مزدوری کرنے نکل جاتا لیکن اس کے پاس بھی اتنی زمین ہوتی تھی جس سے وہ اپنی روزی کما سکتا تھا۔ گلڈوں کے اصول ایسے ہوتے تھے کہ آج کا اجرتی مزدور کل کا اُستادکاریگر بن جاتا۔ لیکن جونہی ذرائع پیداوار نے اجتماعی صورت اختیار کی اور وہ سرمایہ دار کے تصرف میں چلے گئے ، یہ صورت حالات بدل گئی ۔ چھوٹے چھوٹے انفرادی پیداکنندوں کے ذرائع پیداوار اور پیداوارکی قدر گھٹنی شروع ہوگئی ۔ اس کے لئے یہی چارئہ کار رہ گیا تھا کہ وہ کسی سرمایہ دار کے ہا ںجا کر اجرت پر مزدوری کرے۔ اس وقت تک اجرتی محنت ایک استشنائی اور امدادی حےثیت رکھتی تھی لیکن اب وہ پیداوار کا اصول اور بنیاد بن گئی ۔ اس وقت تک جب کبھی محنت کرنے والے کو زائد آمدنی کی ضرورت ہوتی تو وہ اجرت پر کام کرتے لیکن اب اجرت پر کام کرنا ہی ان کی روزی کا ذریعہ ہوگیا۔ کبھی کبھار کا اجرتی مزدور اب عمر بھر کے لئے اجرتی مزدوربن گیا۔ جاگیری نظام کے بکھرنے کے ساتھ ہی ان عمر بھر کے اجرتی مزدوروں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی۔ ان کی تعداد بڑھانے میں جاگیری ملازموں کی علیحدگی اور کسانوں کی اُن کے گھر بار اور ان کے کھیتوں سے بے دخلی کو بھی دخل ہے۔ ذرائع پیداوار سمٹ سمٹا کر سرمایہ داروں کے قبضے میں چلے گئے۔ پیداکنندوں کے پاس اپنی قوت محنت کے سوا اور کچھ نہ رہا۔ اس طرح پیداکنندوں سے پیداوار کا تعلق مٹ گیا ۔ اجتماعی پیداوار اور سرماےہ دارانہ تصرف کا تضاد مزدوروں اور سرماےہ داروں کے باہمی نزاع کی صورت میں ظاہر ہوا۔
ہم دیکھ چکے ہیں کہ سرمایہ دارانہ طریق پیداوار نے کس طرح اپنے آپ کو ایک ایسی سوسائٹی پر تھوپ دیا تھا جس میں لوگ انفرادی طور پر تبادلے کے لئے اجناس پیدا کرتے تھے اور جہاں یہی تبادلہ ان کے سماجی اتحاد کا ذریعہ تھا لیکن تبادلے کے لئے جنس پیداکرنے والی ہر سوسائٹی کی یہ خصوصیت ہے کہ اس میں پیداکنندوں کو اپنے سوشل تعلقات پر کوئی اختیار باقی نہیں رہتا ۔ ہر پیداکنندہ اپنے ذرائع پیداوار سے اپنے لئے جو جنس تیا رکرتا ہے اس کے تبادلے سے وہ اپنی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ اس نے جو جنس تیارکی ہے اس کا کتنا حصہ بازار میں آنے والا ہے یا یہ کہ بازار میں اس جنس کی کتنی ضرورت ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ اس نے جو جنس تےار کی ہے اس کا کتنا حصہ بازار مےں آنے والا ہے ےا ےہ کہ بازار مےں اُس جِنس کی کتنی ضرورت ہے۔ کوئی نہےں جانتا کہ اس کی انفرادی محنت سے پیداشدہ جنس کسی حقےقی ضرورت کو پورا بھی کرے گی یا نہیں یا یہ کہ وہ اس کی لاگت پوری کر سکے گایا اسے بیچ بھی سکے گا۔ اجتماعی پیداوار میں نراج کا غلبہ شروع ہو جاتا ہے۔پیداوار کے دوسرے طریقوں کی طرح جنس کی پیداوار بھی اپنے قانون رکھتی ہے۔ یہ قوانین اس کے اپنے اندر موجود ہوتے ہیں ۔ انہیں جنس کی پیداوار سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ قوانین نراج کے ہوتے ہوئے اور نراج ہی کے ذریعہ اپنا کام کرتے رہتے ہیں ۔ یہ قوانین اس مجلسی تعلق میں ظاہر ہوتے رہتے ہیں جو تبادلے کے عمل میں برابر موجود رہتا ہے ۔ یہ قوانین انفرادی پید اکنندوں پر مسابقت کے لازمی قوانین کی حیثیت سے اثر انداز ہوتے رہتے ہیں۔ اسی لئے شروع شروع میں پیداکنندوں کو بھی ان کا پتہ نہیں چلتا۔ ایک طویل تجربے کے بعد انہیں ان قوانین کی خبر ہوتی ہے۔ یہ قوانین پیدا کنندوں کے منشا کے بغیر اور ان کی مرضی کے خلاف اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔ پیداوار کے یہ قدرتی قوانین اندھا دھند اپنا کام کرتے چلے جاتے ہیں ۔ پیداوار پیداکنندوں پر غالب آجاتی ہے۔
ازمنہ ¿ وسطٰی میں اور خاص کر اس کی ابتدائی صدیوں میں پیدا وار پیداکنندوں کی ضرورت کے مطابق ہوتی تھی۔ پیداوار کا مقصد پیداکنندہ اور اُس کے گھر والوں کی ضروریات کو پورا کرنا تھا۔ دیہات میں، جہاں کسان جاگیرداروںکے ماتحت ہوتے تھے، وہاں اس پیداوار سے جاگیرداروں کی بھی ضرورتیں پوری کی جاتی تھیں ۔ چونکہ اس زمانے میں اجناس کے تبادلے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھااس لئے پیدا وار، جنس تبادلہ کی صورت اختیار نہیں کرسکتی تھی۔ ایک کسان کا گھرانہ اپنی ضرورت کی تقریبا تمام چیزیں خود پیدا کرتا تھا، ےعنی خوراک، کپڑا اور برتن۔ لیکن جب کسان اپنی ضرورتوں اور جاگیر دار کے واجب الادا حصے سے زیادہ پیدا کرنے لگا۔ تب پیداوار نے جنس تبادلہ کی صورت اختیار کی۔ یہ زائد پیداوار بکنے کے لئے بازار میں آگئی ۔ اب یہ پیداوار جنس تبادلہ بن گئی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شہر میں رہنے والے کاریگر بھی اپنی ضرورت کی بیشتر چیزیں خود ہی تیار کر لیتے تھے۔ وہ باغوں اور چھوٹے چھوٹے کھیتوں کے مالک ہوتے تھے۔ ان کے مویشی مشترکہ چراگاہوںمےں چرتے۔ ان سے انہیں عمارتی لکٹری اور ایندھن بھی مل جاتا تھا۔ ان کی عورتیں گھروں میںسَن اور اون کا تتیں ۔ پیداوار کو تبادلے کی شکل دینے یعنی پیداوار کو اجناس تبادلہ میں بدلنے کا یہ ابتدائی دور تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس زمانے میں تبادلہ بہت محدود تھا۔ بازار بہت چھوٹا تھا۔ اور طریق پیداوار ایک ہی حال پر رہتا تھا۔ اس دور کے پیدا کنندوں کا بیرونی دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا لیکن ان میں پورا پورا مقامی اتحاد ہوتا تھا۔ دیہات میں پنچائیت تھی اور شہر میں مارک ۔
جنس تبادلہ کی وسعت کے ساتھ ہی اور خاص کر سرمایہ دارانہ طریق پیداوار کے رواج پاتے ہی جنس ِتبادلہ کی پیداوار کے وہ قانون جو اب تک چھپے ہوئے تھے زیادہ قوت کے ساتھ ابھرآئے ۔ پرانے تعلقات کی کڑےاں ڈھیلی ہونے لگیں ۔ الگ الگ رکھنے والی پرانی حد بندیاں ٹوٹ گئیں ۔ پیداکنندے بڑی تیزی سے آزاد انہ طور پر الگ الگ اجناسِ تبادلہ پیداکرنے والوں میں بدلتے گئے ۔ اجتماعی پیداوار کی انار کی ظاہر ہو کر روز بہ روز بڑھنے لگی ۔ لیکن جس ذریعہ سے سرمایہ دارانہ طریق پیداوار نے اجتماعی پیداوار میں انار کی کو بڑھادیا تھا۔ وہ انار کی کی ضد تھا، یعنی کارخانوں میں جہا ں الگ الگ چیزیں تیار کی جاتی ہوں وہاں پیداوار کی تنظیم اجتماعی بنیاد پر کی جائے ۔ یہی وہ لےور تھا جس کی مدد سے اس نے سابقہ پُر امن یکسانیت کو ختم کردیا۔ اس نے انڈسڑی کے جس شعبے میں بھی قدم رکھا۔ وہاں پیداوار کے پرانے طریق قائم نہ رہ سکے ۔ اس نے جس دستکاری کی طرف ہاتھ بڑھایا اسے ملیا میٹ کرکے چھوڑا ۔ محنت کا میدان لڑائی کا میدان بن گیا۔ بڑے بڑے جغرافیائی انکشافات اور اُن سے پیدا شدہ نوآبادیات نے منڈیوں کی تعداد بڑھادی جس سے دستکاری کو کارخانہ داری میں بدلے جانے میں بڑی مدد ملی۔ نہ صرف مقامی پیداکنندوں میں یہ کشمکش شروع ہوئی بلکہ یہ مقامی کشمکش قومی کشمکش بن گئی ۔ سترھویں اور اٹھارہویں صدیوں کی لڑائیاں اسی کش مکش نے پیدا کی تھیں ۔آخر کار جب بڑے پیمانے پر انڈسڑی جاری ہوئی تو عالمگیر منڈیوں کے حصول نے اس کش مکش کو بھی بین الاقوامی بنادیا۔ اس بین الاقوامی کش مکش نے اتنی شدت اختیار کرلی جس کی مثال پہلے نہیں ملتی۔ پیداوار کی قدرتی یا مصنوعی سہولتوں پر نہ صرف انفرادی سرمایہ داروں بلکہ صنعتوں اور مُلکوں کی زندگی اور موت کا انحصار ہونے لگا۔ اس کش مکش میں جو گرپڑتا ہے اسے راستے سے ہٹادیا جاتا ہے۔ ڈارون کا یہ نظریہ کہ ہر فرد کو اپنی بقا کے لئے کش مکش کرنی پڑتی ہے، قدرتی حالات سے ہٹ کر سوسائٹی پر بڑی شدت کے ساتھ حاوی ہوگیا ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس اصول کے تحت حیوان زندگی بسر کرتا ہے وہی اصول انسانی ارتقا کے لئے حرفِ آخر بن گیا ۔ اجتماعی پیداوار اور سرمایہ دارانہ تصرف کے تضاد ہی نے اس تضاد کو پیداکردیا ہے جو الگ الگ کارخانے کی پیداوار کی تنظیم اور مجموعی طور پر سوسائٹی میں پیداوار کی انار کی میں پایا جاتا ہے۔
سرمایہ دارانہ طریق ِپیداوار اس تضاد کے ان دو مظاہر ہی میں حرکت کرتا رہتا تھا ۔ یہ تضاد اس کے خمیر میں ہے ۔ سرمایہ دارانہ طریق پیداوار اس چکر سے بچ کر نہیں نکل سکتا جس کی طرف فورئیے نے اشارہ کیا تھا۔ لیکن فورئیے اپنے زمانے میں یہ نہ دیکھ سکا کہ یہ چکر آہستہ آہستہ تنگ ہو رہا ہے اور اس چکر کی حرکت دائروی نہیں بلکہ بیضوی ہے جو ایک نہ ایک دن سیاروں کی حرکت کی طرح مرکز سے ٹکراکر ختم ہو جائے گی۔ سماج میں پیداوار کی انارکی کی شدت ہی لوگوں کی زیادہ تعداد کو مزدور بنارہی ہے اور آخر کا ر یہی محنت کش طبقہ ایک دن پیداوار کی انار کی کو ختم کر دے گا۔ سماج میں پیداوار کی انار کی کی شدت ہی سے بڑے پیمانے کی انڈسڑی میں مشینوں میں برابر ترقی کرتے رہنے کی لامحدود صلاحیت ایک جبری فرمان کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے جس کی رو سے ہر انفرادی سرمایہ دار اپنی مشین کو زیادہ سے زیادہ مکمل بنانے کی فکر میں رہتا ہے کیونکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں اسے اپنی تباہی کا خدشہ لگا رہتا ہے ۔ لیکن مشینری کو مکمل کرنے کامقصد انسانی محنت کو فاضل بنانا ہے ۔شروع میں جب مشینیں ایجاد ہوئیں اور پھر ان میں توسیع ہوئی تو ہاتھ سے کام کرنے والوں کی جگہ مشین پر کام کرنے والے مزدوروں نے لے لی۔ اسی طرح جوں جوں مشینری مکمل ہوتی جائے گی، مشین پر کام کرنے والے اِن مزدوروں کی تعداد بھی بیکار ہوتی چلی جائے گی۔ یہاں تک کہ اجرتی مزدوروں کی ایک ایسی فوج تیار ہوجائے گی جس کی محنت کی سرمایہ داروں کو ضرورت نہیں رہے گی۔ ایک ایسی فوج جسے میں نے1845 میں صنعتی ریزروفوج کہا تھا ۔ جو اس وقت کام پر لگائی جائے گی جب کہ کارخانے بڑے زوروں پر ہوں گے ۔ لیکن اس وقت جبکہ مندی ہو گی اوراس فوج کو سڑکوں پر چھوڑدیا جائے گا -- ایک ایسی ریزرو فوج, جو اس سارے مزدور طبقے کے لئے جو سرمایہ داروں کے ساتھ زندگی اور موت کی لڑائی لڑرہا ہے, گلے کا ہار بن جائے گی۔ یہ فاضل فوج ایک ایسی’کل‘ بن جائے گی جس کی مدد سے سرمایہ دار اپنی مرضی کے مطابق مزدوروں کی اجرت گھٹا سکیں گے۔ ا س طرح مشین کا رل مارکس کے الفاظ میں مزدوروں کے خلاف سرمایہ داروں کی جنگ میں سرمایہ کا سب سے قوی ہتھیار بن جاتی ہے۔ یہی آلاتِ محنت مسلسل طور پر مزدوروں کے ہاتھ سے ان کی روزی کا ذریعہ تک چھین لیتے ہیں ۔ مزدور کی محنت کا حاصل اسے غلام بنانے کا ایک آلہ بن جاتا ہے۔ اس طرح محنت کرنے کے لئے جن حالات کی ضروت ہوتی ہے ۔ انہیں برباد کر دیا جاتا ہے۔
”مشین ہی وہ طاقتور آلہ ہے جس سے اوقاتِ محنت کم کئے جاتے ہیں اور جو مزدور اور اس کے گھر والوں کی زندگی کے ایک ایک لمحے کو سرمایہ دار کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہے تاکہ وہ اپنے سرمایہ کی قدر بڑھا سکے۔“ (سرماےہ جلد اول)
اس طرح چند ایک کی بے حد محنت دوسروں کی بیکاری کا ذریعہ بن جاتی ہے اور بڑے پیمانے کی انڈسڑی جو ساری دنیا میں نئے خریداروں کی تلاش میں رہتی ہے، اپنے ملک کے عوام کی قوتِ خرید کو فاقہ کشی کی حد تک کم کرکے اپنی داخلی منڈی کو برباد کردیتی ہے۔
”وہ قانون جو اضافی فاضل آبادی یا صنعتی ریزروفوج کی تعداد یا سرمایہ کے بڑھنے کی قوت میں توازن قائم رکھتا ہے مزدوروں کو سرمایہ کے ساتھ اس طرح جکڑ دیتا ہے کہ ولکن نے بھی پرومےتھےئس کو چٹان کے ساتھ اِس طرح نہیں جکڑا ہوگا۔ سرمائے کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اسی تیزی کے ساتھ مصیبت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ ایک طرف اگر دولت جمع ہونا شروع ہوتی ہے تو دوسری طرف مصیبت ،دکھ، غلامی، جہالت، بربریت اور ذہنی پستی پیدا ہوتی ہے ۔ یہ سب ذلتیں اس طبقے کے لئے ہوتی ہیں جو اپنی محنت کے حاصل کو سرمایہ کی صورت میں پیدا کرتا ہے۔“(سرماےہ، جلد اول)
سرمایہ دارانہ طریق پیداوار سے یہ توقع کرنا کہ پیداوار کی تقسیم کسی دوسری صورت میں بھی ہو سکتی ہے، ایسا ہی ہے جیسے چالو بیڑی کے الےکڑو ڈوں سے یہ امید رکھنا کہ وہ پانی کے اجزا کو الگ الگ نہیں کریں گے اور مثبت اور منفی سروں پر آکسیجن اور ہائیڈروجن جمع نہیں ہو گی۔
ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ جدید مشینری میں ترقی کرنے کی جو صلاحیت ہے وہ سوسائٹی کی پیداوار کے نراج کے سبب اپنی انتہا کو پہنچ جانے کے بعد ایک جبری قانون کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے ۔ ہر صنعتی سرمایہ دار مجبور ہے کہ اپنی مشینری میں نت نئی اصلاح کرتا رہے اور اس کی پیداواری قوت کو بڑھاتا رہے ۔ اپنی پیداوار بڑھانے کا امکان بھی صنعتی سرمایہ دار کے لئے ایک جبری قانون بن جاتا ہے ۔ بڑے پیمانے کی انڈسڑی میں گیس کی روشنی سے بھی زیادہ پھیلنے کی قوت ہے۔ پھیلنے کی یہ قوت اپنی کمیت اور کیفیت کی وسعت کے لحاظ سے ہمےں بظاہر ایک ضرورت دکھائی دیتی ہے جو کسی قسم کی رکاوٹ کی پروا نہیں کرتی۔ اس قسم کی رکاوٹ کھپت، فروخت اور وہ منڈیاں پیدا کرتی ہیں جو بڑے پیمانے کی انڈسڑی کے لئے ضروری ہوتی ہیں۔ لیکن منڈی کے وسیع اور عمیق پھےلاو ¿ کا انحصار دوسرے اور نسبتا کم موثر قوانین پر ہوتا ہے۔ منڈی کا پھیلاﺅ پیداوار کے پھیلاﺅ کی نسبت سے نہیں ہوتا ۔ پیداوار جس رفتار سے ترقی کرتی ہے اس رفتار سے منڈی ترقی نہیں کرتی ۔ تصادم ناگزیر ہو جاتا ہے۔ چونکہ یہ تصادم اس وقت تک کوئی حل پیش نہیں کر سکتا جب تک کہ سرمایہ دارانہ طریق پیداوار ختم نہ ہو جائے ۔ چناچہ یہ تصادم وقتاً فوقتاً ہوتا رہتا ہے ۔ سرمایہ دارانہ طریق پیداوار اپنے ساتھ ایک نیا برائی کا چکر لاتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ 1829سے ،جبکہ پہلی مرتبہ عمومی بحران پیدا ہوا ،ہر دس سال کے بعد ساری صنعتی اور تجارتی دنیا میں ہر مہذب قوم اور اس کی محکوم قوم کی پیداوار اور تبادلے میں عملًا انتشار پیدا ہوتا رہا ہے ۔ جب یہ بحران پیداہوتا ہے تو کاروبار بند ہو جاتا، منڈیوں میں اجناس کی بھرمار ہوجاتی ہے۔ اجناس کے ذخیرے بن جاتے ہیں ۔ ان کے خریدار نہیں ملتے ۔ نقدی غائب ہو جاتی ہے۔ روپے پیسے کا لین دین ختم ہوجاتا ہے ۔ کارخانے بیکار ہو جاتے ہیں۔ بے شمار مزدور روزگار کے ذرائع سے اس لئے محروم ہو جاتے ہیں کیونکہ انہوں نے ضرورت سے زیادہ اجناس پیدا کرلی ہیں۔ دیوالے پر دیوالہ نکلنا شروع ہو جاتا ہے۔ نیلام پر نیلام بولتا ہے ۔ یہ جمود کئی سال تک جاری رہتا ہے ۔ پیداوار ار اور پیداواری قوتیں بڑی مقدار میں ضائع کردی جاتی ہیں۔ اجناس کو اونے پونے بیچ دیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ پیداوار اور تبادلے کا عمل پھر آہستہ آہستہ حرکت میں آنے لگتا ہے ۔ اس حرکت میں آہستہ آہستہ تیزی پیدا ہوتی ہے۔ دُلکی اورپھر سرپٹ،یہ سرپٹ حرکت بہت جلد صنعتی تجارتی لین دین اور سٹے بازی کی ایک ایسی دوڑ میں تبدیل ہو جاتی ہے جہاں یہ سب کے سب چھلانگیں بھرتے ہوئے آخر کار ایک بار پھر تباہی کے کنارے پر جاگرتے ہیں ۔ بار بار یہی ہوتا رہتا ہے۔1825کے بعد ہم اس وقت تک پانچ مرتبہ بحران کا تجربہ کر چکے ہیں اور اب 1877میں ہم چھٹی بار اس سے دو چار ہیں۔ ان بحرانوں کی نوعیت اس قدر واضح ہے کہ فورئیے نے سب سے پہلے بحران کے بارے میں یہ کہہ کر کہ وہ " بہتات کابحران " ہے تمام بحرانوں کوجامع انداز سے بےان کر دےا۔
ان بحرانوں میں اجتماعی پیداوار اور سرمایہ دارانہ تصرف کا تضاد بہت شدت اختیار کر لیتا ہے۔ اس وقت اجناس تبادلہ کا چکر تقریبا ًبند ہو جاتا ہے۔ اس چکر کا ذریعہ یعنی زر، چکر میں رکاوٹ پیدا کر دیتا ہے۔ اجناس تبادلہ اور اجناس کے چکر کے تمام قوانین الٹ پلٹ جاتے ہیں ۔ معاشی تصادم اپنے انتہائی نقطے تک جا پہنچتا ہے۔ پیداوار کا طریقہ تبادلے کے طریقے کے خلاف بغاوت کر دیتا ہے۔
یہ حقیقت کہ کارخانے کے اندر پیداوار کی اجتماعی تنظیم اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ سوسائٹی میں پیداوارکی انار کی اسے تباہ نہیں کر سکتی ۔ ےہ بات خود سرمایہ داروں پر واضح ہو جاتی ہے کیونکہ بحرانوں میں اکثر بڑے اور بے شمار چھوٹے سرمایہ داروں کی تباہی سے سرمایہ ایک مرکز پر جمع ہونے لگتا ہے ۔ سرمایہ دارانہ طریق پیداوار کے تمام کل پرزے اپنی بنائی ہوئی پیداواری قوتوں کے بوجھ تلے دب کر ٹوٹ جاتے ہےں۔ اب یہ بات اُس کے بس میں نہیں رہتی کہ وہ ذرائع پیداوار کے اس انبار کو سرمایہ میں تبدیل کر سکے ۔ ذرائع پیداوار کا یہ انبار بیکار پڑا رہتا ہے۔ ذرائع پیداوار، ذرائع روزگار، مزدور اور پیداوار اور عمومی دولت بڑھانے کے تمام عناصر بہتات سے موجود ہوتے ہیں ۔ لیکن فورئیے کے الفاظ میں، یہی بہتات پر یشانی اور کمی کا سبب بن جاتی ہے ۔ یہی بہتات ذرائع پیداوار اور ذرائع روزگار کو سرمایہ میں منتقل ہونے سے باز رکھتی ہے کیونکہ سرمایہ دارانہ سوسائٹی میں ذرائع پیداوار اس وقت تک کام کرنا شروع نہیں کر سکتے جب تک کہ انہیں سرمایہ میں منتقل نہیں کر دیا جاتا یعنی جب تک انسانی قوت محنت کو لوٹا نہیں جاتا۔ ذرائع پیداوار اور ذرائع روزگار کو سرمایہ میں منتقل کر دےے جانے میں وہ سرمایہ داوروں اور مزدوروں کے درمیان ایک بھوت بن جاتا ہے۔ اسی وجہ سے پیداوار کے مادی اور ذاتی ذرائع ایک ساتھ ملنے نہیں پاتے۔اسی وجہ سے ذرائع پیداوار نہ اپنا کام کر سکتے ہیں اور نہ مزدور کام کرکے اپنا پیٹ پال سکتے ہیں۔ اس طرح ایک طرف سرمایہ دارانہ طریق پیداوار اِن پیداواری قوتوں پر قابو پانے کی نا اہلیت کا مجرم بن جاتا ہے، اور دوسری جانب ےہ پےداواری قوتےں موجود تضاد کو مٹانے کے لئے دباﺅ ڈالتی ہیں تاکہ وہ اپنے آپ کو سرمایہ دارانہ ئہیت سے نجات دلائیں اور اپنے آپ کو اجتماعی پیداواری قوتیں تسلیم کروائیں ۔
پیداواری قوتوں کا یہ دباﺅ سرمایہ دار طبقے کو مجبور کر دیتا ہے کہ وہ سرمایہ دارانہ تعلقات کی حدود میں پیداواری قوتوںسے اجتماعی پیداواری قوتوں کا سا برتاﺅ کرے۔ صنعتی گرم بازاری، قرضوں کی کثرت، بحران اور سرمایہ دار کمپنیوں کی تباہی ذرائع پیداوار کو اجتماعی ملکیت کی طرف لے جاتی ہے۔ اس اجتماعی ملکیت کا اظہار جوائنٹ اسٹاک کمپنیوں کی مختلف صورتوں میں ہوتا ہے۔ اس قسم کے بہت سے ذرائع پیداوار اور ذرائع رسل ورسل جیسے ریلوے شروع ہی سے اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ وہاں سرمایہ دارانہ لوٹ کھسوٹ کا جوائنٹ اسٹاک کمپنیوں کے علاوہ اور کوئی دو سرا ذریعہ کارگر ثابت نہیں ہوتا۔ لیکن ترقی کے چند مدارج طے کرنے کے بعد یہ ذریعہ بھی ناکافی ثابت ہوتا ہے چنانچہ ایک مخصوص ملک میں ایک مخصوص صنعت کی کسی شاخ میں پیداوار کی باقاعدگی کے لئے ٹرسٹ بنا ئے جاتے ہیں ۔ ٹرسٹ میں شامل ہونے والے یہ طے کر لیتے ہیں کہ اس مخصوص صنعت کی مجموعی پیداوار کتنی ہو ۔ اس کے بعد یہ لوگ پیداوار کی اس مقر ر کردہ مقدار کو آپس میں بانٹ لیتے ہیں ۔ اس طرح سے اجناس کا بھاﺅ پہلے ہی سے مقر رہو جاتا ہے لیکن جونہی کا روبار ماند پڑتا ہے، اس قسم کے ٹرسٹ عام طور سے ٹوٹ جاتے ہیں، چنانچہ سرمایہ دار اپنے تعاون اور باہمی اتحاد کے لئے کسی بڑی صورت کی تلاش میں مصروف ہو جاتے ہیں ۔ چنانچہ اس مخصوص انڈسڑی کے لئے ایک جوائنٹ اسٹاک کمپنی بنا لی جاتی ہے۔ داخلی مسابقت کی جگہ ایک کمپنی کی اجارہ داری ہو جاتی ہے۔ چنانچہ 1890 میں انگلستا ن میںالکلائی کی پیداوار کے ضمن میں ایسا ہی کیا گیا ۔الکلائیکے اڑتالیس بڑے بڑے کار خانے ایک کمپنی کے انتظام میں چلے گئے جس کا سرمایہ ساٹھ لاکھ پونڈ تھا۔
ٹرسٹوں میں مسابقت کی آزادی اپنی ضد یعنی اجارہ داری میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ مہاجنی سماج کی بے تدبیر پیداوار حملہ آور سوشلسٹ سماج کے سامنے ہتھیار ڈال دیتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اجارہ داری شروع شروع میں سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچاتی ہے لیکن اجارہ داری میں لوٹ کھسوٹ اس قدر واضح ہوتی ہے کہ وہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی ۔ کوئی قوم پیداوار پر ٹرسٹوں کی نگرانی برداشت نہیں کر سکتی جس میں نفع بازوں کی ایک چھوٹی سی جماعت ساری قوم کو لوٹتی چلی جائے۔
بہر حال ٹرسٹ ہوں یا نہ ہوں مہاجنی سوسائٹی کی نمائندہ یعنی ریاست ایک نہ ایک دن پیداوار کی تنظیم کو اپنے ہاتھ میں لینے کے لئے مجبور ہو جاتی ہے۔اس طرح سب سے پہلے رسل و رسائل کے بڑے بڑے ادارے یعنی ڈاکخانے، ٹیلیگراف اور ریلوے کو ریاست کی ملکیت میں تبدیل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔
جہاں بحران نے اس حقیقت کو واضح کردیا کہ سرمایہ دار طبقہ نئی پیداواری قوتوں پر قابو رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا وہاں پیداوار اور رسل ورسائل کے بڑے بڑے اداروں کا جوائینٹ اسٹاک کمپنیوں ،ٹرسٹوں اور ریاستی ملکیت میں تبدیل ہو جانا ثابت کرتا ہے کہ سرمایہ دار طبقے کے بغیر بھی یہ مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ سرمایہ دار کے تمام کام اب تنخواہ دار ملازم کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ سرمایہ دار کا صرف یہ کام رہ گیا ہے کہ وہ منافع جمع کرتا چلا جائے اور اسٹاک ایکسچینج میں جُوا کھیلے جہاں سرمایہ دار اپنے اپنے سرمایہ سے ایک دوسرے کی کھال اتارنے میں مصروف رہتے ہیں ۔ جس طرح ابتدا میں سرمایہ دارانہ طریق پیداوار نے مزدوروں کو بیکار کردیاتھا، اسی طرح یہی طریق پیداوار سرمایہ داروں کو صنعتی ریزرو فوج میں نہ سہی ،آبادی کے غیر ضروری حصے میں ضرورشامل کر دیتا ہے۔
لیکن جوائنٹ اسٹاک کمپنیوں ،ٹرسٹوں اور ریاستی ملکیت میں تبدیل ہو جانے سے پیداواری قوتوں کی نوعیت ےہ ہو جاتی ہے کہ وہ سرمایہ میں تبدیل نہیں ہو تیں۔ جوائنٹ اسٹاک کمپنیوں اور ٹرسٹوں کے متعلق تو یہ بات بالکل واضح ہے۔ جدید ریاست بھی ایک ایسا ادارہ ہے جسے مہاجنی سماج سرمایہ دارانہ طریق پیداوار کے عام خارجی حالات کو مزدوروں اور انفرادی سرمایہ داروں کی دستبُرد سے بچائے رکھتا ہے۔ جدید ریاست اپنی ہر شکل و صورت میں سرمایہ دارانہ مشین ہے۔ سرمایہ داروں کی ریاست --تمام سرمایہ داروں کی ایک متحدہ عینی ریاست۔ یہ ریاست جتنا زیادہ پیداواری قوتوں پر قبضہ کرے گی،اتنا ہی یہ زیادہ سرمایہ داروں کا اجتماعی ادارہ بن جاتی ہے اور اتنا ہی وہ عام شہریوں کو زیادہ لوٹے گی۔ مزدور صرف اُجرتی مزدور رہتے ہیں یعنی پرولتا ریہ، سرمایہ دارانہ تعلقات ختم نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنی انتہا تک پہنچ جاتے ہیں لیکن اس انتہا پر پہنچ کر یہ تعلقات آپ اپنی ضد بن جاتے ہیں ۔ اس تضاد کا یہ حل نہیں ہے کہ پیداواری قوتوں پر ریاستی قبضہ ہو جائے ۔لیکن اس میں اس تضاد کے حل کی کلید تلاش کی جاسکتی ہے۔
یہ حل اسی وقت ممکن ہے جبکہ جدید پیداواری قوتوں کی اجتماعی ہیئت کو عملی طور سے مان لیا جائے اور جس طرح ذرائع پیداوار کی ہیئت اجتماعی ہو گئی ہے اسی طرح پیداوار، تصرف اورتبادلہ بھی اجتماعی ہونے چاہئیں ۔ اس کا طریق کار صرف یہ ہے کہ سوسائٹی پس وپیش کئے بغیر اعلانیہ پیداواری قوتوں پر قبضہ کر لے جو اتنی ترقی کر چکی ہیں کہ پوری سوسائٹی کے علاوہ کوئی دوسرا اُنہےں قابو میں نہیں لا سکتا ۔اس طرح ذرائع پیداوار اور پیداوار کی اجتماعی ہیئت پر پیدا کنندگان کا ہو شمندانہ تصرف ہو جائے گا۔ اور اس طرح ذرائع پیداوار اور پیداوار کی اجتماعی ہیئت بد نظمی کی عِلت اور میعادی بحران سے بچ کر پیداوار کو بڑھانے کا سب سے طاقتورذرےعہ بن جائے گی ۔ لیکن آج ذرائع پیداوار اور پیداوار کی اجتماعی ہئیت پیدا کنندگان کے لئے مصیبت بنی ہوئی ہے۔ جو وقتاً فوقتاً ذریعہ پیداوار اور تبادلے کو بیکار کر دیتی ہے اور جوفطرت کے اندھا دھند قوانین کی طرح متشد داور تباہ کن ہے۔ جب تک ہم ان قوتوں کو ،جو سوسائٹی میں اپنا کام کرتی رہتی ہیں، اچھی طرح سے نہیں سمجھ لیتے اور انہیں غیر ضروری خیال نہیں کرتے اس وقت تک یہ قوتیں بھی قدرت کی قوتوں کی طرح متشدد اور تباہ کن انداز میں اپنا کام کرتی رہتی ہیں۔ لیکن جونہی ہم ان کے رجحانات اور اثرات سے واقف ہو جاتے ہیں تو اس بات کا انحصار ہم پر ہوتا ہے کہ ہم ان قوتوں پر کیونکر بتدریج غالب آتے ہوئے ان سے اپنی منشا کے مطابقکام لیں۔ آج کل کی پیداواری قوتوں پر یہ بات پوری طرح سے صادق آتی ہے۔ جب تک ہم ان قوتوں کی ہئیت اور فطرت کی آگاہی سے انکار کرتے رہیں گے۔( سرمایہ دارانہ طریق پیداوار اور اس کے حامی آگاہی حاصل کرنے کی کوشش میں حائل رہتے ہیں ۔) اس وقت تک یہ قوتیں بہ ایں ہمہ ہماری مخالفت کرتی رہیں گی اور ،جیسا کہ ہم ظاہر کر چکے ہیں ،ان قوتوں کا ہم پر غلبہ رہے گا ۔ لیکن اگر ایک مرتبہ ہم نے ان کی اصل فطرت کو پالیا تو پھر یہ دیو پیکر آقا ایک ساتھ مل کر کام کرنے والوں کے غلام بن جائیں گے۔ بجلی وہ بھی ہے جو بادلوں کی گرج سے پیدا ہو کر تباہی مچاتی ہے اور وہ بھی بجلی ہے جسے مطیع کرکے رات کی تاریکی کو روشنی میں تبدیل کر دیا جاتا ہے ۔یہ بات سمجھ لینے کے بعد اس امر کے لئے راستہ پیدا ہو جاتا ہے کہ پیداوار کے نراج کو دور کیا جائے اور اس کی جگہ ایک اجتماعی منصوبے کے مطابق پیداوار کا ایسا انتظام کیا جائے جس میں پوری سوسائٹی اور افراد کی ضرورتوں کا خیال رکھا جائے ۔اس طرح سرمایہ دارانہ طریق پیداوار کی جگہ جہاں پیداوار پہلے تو پیدا کنند وں اور پھر تصرف کرنے والے سرمایہ داروں کو غلام بنا لیتا ہے، پیداوار کی ملکیت کا ایک ایسا نظام رائج ہو جائے گا جس مےں جدید پیداوار ایک طرف تو سوسائٹی کی ملکیت ہو گی جس کے ذریعہ پیداوار کو قائم رکھا اور بڑھایا جائے گا اور دوسری طرف یہ جدید پیداوار الگ الگ افراد کی ملکیت ہو گی جس سے وہ اپنی ضرورتیں پوری کرکے آرام سے زندگی بسر کر سکیں گے۔ آبادی کی غالب اکثر یت کو روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور )پرولتاریہ( بنا کر سرمایہ دارانہ طریق پیداوار ایک ایسی قوت کو پیدا کردیتا ہے جو اپنے آپ کو تباہی سے بچانے کے لئے انقلاب برپا کرنے پرمجبور ہو جاتی ہے۔ اجتماعی پیداوار کے ذرائع کو ریاستی ملکیت میں تبدیل کرکے سرمایہ دارانہ طریق پیداوار خود بخود اس انقلاب کے لئے راستہ صاف کرتا ہے ۔ پرولتاریہ ریاستی اقتدار پر قبضہ کر لیتا ہے اور سب سے پہلے ذرائع پیداوار کو ریاست کی ملکیت میں تبدیل کر دیتا ہے لیکن ایسا کرنے میں وہ اپنی پرولتاریہ حیثیت کو ختم کر دیتا ہے۔ وہ تمام طبقاتی تنازعات اور امتیازات کو ختم کردیتا ہے ۔ وہ ریاست کو بحیثیت ریاست بھی مٹادیتا ہے۔ سابقہ سوسائٹی کو ،جوطبقاتی نزاع کے دائرے میں گھومتی رہتی تھی، ریاست کی ضرورت رہتی تھی جو پیداوار کے خارجی کوائف کو برقرار رکھ سکے۔ اس ادارے کی مدد سے لوٹے جانے والے طبقوں کو مظلومی کی کسی مخصوص حالت ) غلامی ،زرعی غلامی، اور اُجرتی محنت ( میں مروجہ طریق پیداوار کے تحت زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ یہ ریاست سرکاری طور پر ساری سوسائٹی کی نمائندہ ہوتی تھی۔ یہ ریاست ساری سوسائٹی کی مرئی ہیئتِ اجتماعیہ کی تجسیم ہوتی تھی ۔ لیکن عملی صورت میں یہ ریاست اس مخصوس طبقے کی نمائندہ ہوتی تھی جو ایک مخصوص عہد میں ساری سوسائٹی کی نمائندگی کرتا تھا۔ ازمنہ قدیم میں ریاست غلاموں کے مالک شہریوں کی نمائندہ تھی۔ ازمنہ ¿ وسطیٰ میں جاگیرداروں اور خود ہمارے زمانے میں یہ ریاست سرمایہ داروں کی نمائندہ ہے۔ لیکن جب آخر کاریہ ساری سوسائٹی کی نمائندہ بن جاتی ہے تو پھر اس کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔سوسائٹی میں کوئی ایسا طبقہ ہی باقی نہیں رہتا جسے محکوم بناکر رکھا جائے ۔ طبقا تی غلبے کےخاتمہکے ساتھ ہی پیداوار میں انارکی پر مبنی انفرادی کشمکش حیات اور اس انارکی سے پیدا ہونے والے سب جھگڑے اور سب زیادتیاں ختم ہو جاتی ہیں ۔ چونکہ کوئی ایسی چیز باقی نہیں رہتی جس پر جبر کیا جا سکے اس لئے کسی مخصوص جبر ی قوت یعنی ریاست کی بھی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ ریاست کا پہلا کام، جس میں وہ پوری سوسائٹی کی نمائندہ بن کر سامنے آتی ہے ،سوسائٹی کے نام پر سارے ذرائعِ پیداوار پر قبضہ کرنا ہے لےکن بحیثیت ریاست ےہ اس کی آخری خدمت ہے۔ مجلسی تعلقات میں ریاستی اقتدار کی مدافعت یکے بعد دیگرے مختلف حلقوں میں بیکار ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔ اشخاص کی حکومت کی جگہ اشیا کا نظم و نسق اور پیداوار کی جگہ نگرانی لے لیتی ہے۔ ریاست کو موقوف نہیں کیا گیا۔ بلکہ وہ خود بخود مرجھا گئی ہے۔ اسی نقطہ نظر سے ہمیں آزاد عوامی ریاست کی اصطلاح کو پرکھنا چاہیے ۔(گوتھا پروگرام نے مزدور جماعت کا مقصد اےک "آزاد عوامی رےاست " قائم کرنا قرار دےا تھا ۔ اس پر تنقےد کرتے ہوئے اےنگلز نے اپنے اےک خط مےں لکھا تھا کہ ”آزاد عوامی رےاست “اےک لغو اور بے معنی نعرہ ہے۔ مزدور طبقہ رےاست سے جتنے دن بھی کام لےتا ہے، وہ آزادی کی خاطر نہےں، بلکہ اپنے دشمنوں کا سر کچلنے کے لئے اور جونہی آزادی کا مکان پےدا ہو جاتا ہے، رےاست کی حےثےت سے رےاست کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اےنگلز، خط بنام بےبل، مورخہ 18مارچ 1875)یہ اصطلاح احتجاجی مقاصد کے لئے تو جائز ہے لیکن وہ سائنسی صحت سے خالی ہے ۔ اسی روشنی میںہم نام نہاد انارکسٹوں کے اس مطالبے پر بھی غور کرنا چاہتے ہیں کہ چشم زدن مےں رےاست کا خاتمہ کر دےا جائے۔ (پرودھوں اور باکونےن وغےرہ نراجےت پسند تھے۔ لےکن وہ رےاست کی نوعےت کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ انقلابی حکومت کی ضرورت اوراہمےت کے منکر تھے۔ فتح مند مزدور طبقہ اقتدار حکومت سے کےا انقلابی کام لے سکتا ہے، ےہ ان کی سمجھ سے باہر تھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ رےاست چشم زدن مےں مٹا دی جائے اور اس طرح مزدور طبقے کی آمرےت کے خلاف انہوں نے ”نظرےات“گھڑے اور اب ان کے ماننے والوں نے عملی جدو جہد شروع کی۔) جب سے سرمایہ دارانہ طریق پیداوار کا ظہور ہو اہے اسی وقت سے بعض افراد اور جماعتوں کی طرف سے تمام ذرائع پیداوار کو سوسائٹی کی ملکیت بنائے جانے کے خواب دیکھے جارہے ہیں۔ لیکن ان خوابوں کی حقیقت خیالی خاکوں سے نہیں ہے۔ ایسی سوسائٹی کا امکان، صرف اسی وقت تاریخی ضرورت بن جائے گا جبکہ ایسے مادی اسباب مہیا ہو جائیں گے جو اسے عملی جامہ پہنا سکیں گے ۔سوسائٹی کی ترقی ،انسانوںکے یہ محسوس کر لینے سے کہ مختلف طبقوں کا وجود انصاف اور آزادی کے خلاف ہے ،ممکن نہیں ہوجاتی اور نہ اس کی ترقی کے لئے صرف اس ارادے کی ضرورت ہوتی ہے کہ ان طبقوں کو موقوف کردیا جائے ۔سوسائٹی کی ترقی کا انحصار معاشی حالات پر ہوتا ہے ۔ آج سے قبل تک پیداوار کی پسماندگی اور سست رفتاری کا یہ تقاضا تھا کہ سوسائٹی میں دو طبقے ہوں ، اےک لوٹنے والے اوردوسرا لٹنے والا، ےعنی حکمران اور محکوم طبقے ۔ جب تک سوسائٹی کی غالب اکثریت کا تقریباًسارا وقت محنت پر صرف ہوتا رہا ۔اس وقت تک سوسائٹی کا طبقوں میں منقسم رہنا ضروری تھا۔ اس غالب اکثر یت کے پہلو بہ پہلو جس کا سارا وقت محنت کرنے میں صرف ہوتا تھا، ایک ایسا طبقہ پیدا ہوا جو پیداواری محنت سے آزاد تھا۔ یہی طبقہ سوسائٹی کے عمومی حالات ،محنت کی تنظیم، ریاستی امور،عدل ،سائنس، آرٹ اور دوسرے امور کی نگرانی کرتا تھا ۔ تقسیمِ محنت ہی کا قانون طبقات کی تقسیم کی جڑہے۔ لیکن اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ طبقات کی اس تقسیم کی بنیاد تشدد، ڈکیتی ،دھوکے اور فریب پر نہیں رکھی گئی۔ حکمران طبقہ غلبہ حاصل کرنے کے بعد مزدوروں کو نقصان پہنچاکر مجلسی نظم و نسق کو اس انداز میں ڈھالتا رہا ہے جس کے ذریعہ وہ عوام کو لوٹتا رہے۔
اگر ان اسباب کی بنا پرطبقات کی تقسیم کا جواز نکلتا ہے تو یہ جواز مخصوص سوشل حالات کے اند ر ایک مخصوص وقت کے لئے تھا۔ اس کی بنیاد پیداوار کا ناکافی ہونا تھا۔ طبقات کی یہ تقسیم موجود ذرائع پیداوار کی ترقی کے سامنے ختم ہو جائے گی۔ سچ تو یہ ہے کہ سوشل طبقات کو مٹانے کے لئے تاریخی ارتقا کے اس دور سے گزرنا ضروری ہے جہاں نہ صرف ایک مخصوص حکمران طبقے یا کسی قسم کی حکمران جماعت کا وجود یا طبقاتی امتیاز بیکار ہو جائے ۔ لیکں اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ پیداوار کی ترقی ایک ایسے مقام تک پہنچ جائے جہاں ذرائع پیداوار اور پیداوار کی ملکیت اور اس کے ساتھ ہی سوسائٹی کے ایک مخصوص طبقے کا سیاسی غلبہ ،تعلیمی اجارہ داری اور ذہنی رہنمائی نہ صرف غیرضروری ہو جائے بلکہ وہ معاشی، سیاسی اور ذہنی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن جائے ۔
اب ایسا مقام آگیا ہے کہ سرمایہ داروں پر اپنا سیاسی اور ذہنی دیوالہ ظاہر ہو چکا ہے۔ ان کے معاشی دیوالیہ پن کا مظاہرہ ہر دس سال بعد ہوتا رہتا ہے ۔ہر بحران میںسوسائٹی خود اپنی پیداواری قوتوں اور پیداوار کے بوجھ تلے دب جاتی ہے۔سوسائٹی ان سے کوئی کام نہیں لے سکتی ۔سوسائٹی بے بسی کے عالم میں اس تضاد کو دیکھتی رہتی ہے کہ پیدا کرنے والوں کے پاس صرف کرنے کے لئے اس بنا پر کچھ نہیں ہوتا کےونکہ صرف کرنے والے نہیں رہتے۔ ذرائع پیداوار کی پھیلتی ہوئی قوت ان زنجیروں کو توڑ دیتی ہے جو سرمایہ دارانہ طریق پیداوار نے انہیں پہنا رکھی ہیں۔ پیداوار ی قوتوں کی مسلسل، مستقل اور روز افزوں ترقی اور پیداوار کی لا محدود افزائش کا صرف یہی طریقہ ہے کہ ان زنجیروں سے رہائی حاصل کی جائے ۔ معاملہ یہیں ختم نہیں ہو جاتا۔ ذرائع پیداوارپرسوسائٹی کے قابض ہو جانے کے بعد نہ صرف پیداوار کی موجودہ مصنوعی پابندی دور ہو جائے گی بلکہ پیداوار اور پیداواری قوتیں ضائع ہونے سے بھی بچ جائیں گی جو آج کل پیداوارکے ساتھ چمٹی ہوئی ہیں اور جو بحران کی صورت میں اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہیں ۔ ذرائع پیداوار پرسوسائٹی کا قبضہ ہو جانے کے بعد موجودہ حکمران جماعت اور اس کے سیاسی نمائندوں کی دیوانہ وارعِشرتوں اور فضول خرچیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ یہ امکان ،کہ اجتماعی پیداوار کی بدولت سوسائٹی کا ہر فرد ایسی زندگی بسر کرے کہ نہ صرف اس کی مادی ضررویات پوری ہوں بلکہ ایک ایسا ماحول بھی پیدا کیا جائے جس میں ہر فرد اپنی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو پوری آزادی کے ساتھ ترقی دے سکے، پہلی مرتبہ پیدا ہوا ہے ۔
جب ذرائع پیداوار پرسوسائٹی کا قبضہ ہو جاتا ہے تو پھر اجناسِ تبادلہ کی پیداوار بھی ختم ہو جاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی پیداوار کا دولت پیدا کرنے والوں پر غلبہ بھی ختم ہو جاتا ہے ۔ سوشل پیداوار کی انارکی ختم ہو کر اس کی جگہ پیداوار کی ہوشمندانہ تنظیم شروع ہو جاتی ہے۔ انفرادی بقا کے لئے کش مکش بھی ختم ہو جاتی ہے۔ اس سطحپر پہنچ کر انسان ایک اعتبار سے حیوانی دنیا سے الگ ہو جاتا ہے اور حیوانی زندگی کے حالات کو ترک کرکے ایسے ماحول مےں داخل ہوتا ہے جو حقےقی معنوں مےں انسانی ہے۔ انسانی زندگی کا وہ ماحول جو اب تک اس پر غالب تھا ،اب انسان کے غلبے تلے ہو گا۔ انسان زندگی پہلی مرتبہ فطرت کا باشعور آقا بنے گا کیونکہ وہ اپنی مجلسی تنظیم کا آقا بن چکا ہو گا۔ انسان کی مجلسی سرگرمیوں کے قانون جو اس وقت تک اسے خارجی معلوم ہوتےتھے اور جن کی حیثیت قوانین فطرت کے برابر خیال کی جاتی تھی اب انسان کے اپنے ہاتھ میں ہوں گے ۔ آئندہ ان قوانین پر انسان کا قبضہ ہو گا اور انسان مکمل تفہیم کے بعد ان قوانین کا اطلاق کرے گا۔ انسان کی اپنی مجلسی تنظیم جسے ا ب تک قدرت اور تاریخ کا فرمان خیال کیا جاتا تھا، انسان کا باہمی رضا کارانہ معاملہ بن جائے گی۔ وہ خارجی قوتیں جو اب تک تاریخ پر غالب تھیں ، انسان کے اپنے تصرف میں چلی آئیں گی ۔ صرف اسی مرحلہ پر پہنچ کر انسان اپنے پورے شعور کے ساتھ اپنی تاریخ خود بنائیں گے ۔ صر ف اسی مرحلہ پر پہنچ کر انسان کے حرکت میں لائے ہوئے مجلسی اسباب انسان کی اپنی مرضی کے مطابق نتائج پیداکریں گے۔ انسان احتیاج کی دنیا سے نکل کر اختیار کی دنیا میں داخل ہو جائے گا۔
آخر میں ہم ارتقا کے سفر کے خاکے کو مختصر الفاظ میں یوں پیش کرتے ہیں۔
1 ۔ ازمنہ وسطی کی سوسائٹی :چھوٹے پیمانے پر انفرادی پیداوار ۔ آلات ِپیداوار چونکہ انفراد ی استعمال کے لئے ہوتے تھے، اس لئے وہ بھدے، چھوٹے چھوٹے اور سست کام ہوتے تھے۔ پیداوار یا تو پیدا کنندہ کے لئے یا پھر اس کے جاگیر دار آقا کے استعمال کے لئے ہوتی تھی۔ جب کبھی پیداوار استعمال سے زائد ہو جاتی تو اس زائد حصے کو بازار میں بیچنے کے لئے لایا جاتا۔ اس لئے جنسِ تبادلہ کی پیداوار اپنی ابتدائی منزل میں تھی لیکن اس منزل میں بھی سوشل پیداوار کی انارکی ادھوری صورت میں موجود تھی۔
2 ۔ سرمایہ دارانہ انقلاب: ۔ معولی تعاون اور کارخانہ داری کی بدولت انڈسڑی میں تبدیلی ۔ اُس وقت تک کے منتشر ذرائعِ پیداوار کا بڑے بڑے کارخانوں میں مجتمع ہونا۔ چنانچہ ذرائع پیداوار انفرادی کی جگہ اجتماعی بن جاتے ہیں لیکن یہ تبدیلی کسی طرح بھی تبادلے کے طریق کو متاثر نہیں کرتی۔ ملکیت اور تصرف کی پرانی صورتیں برقرار رہتی ہیں ۔ سرمایہ دار ظاہر ہوتا ہے۔ وہ ذرائع پیداوار کا مالک ہوتے ہوئے پیداوار پر قابض ہو کر پیداوار کو جنسِ تبادلہ بنا دیتا ہے۔ پیداوار ایک اجتماعی عمل بن چکی ہے لیکن اس پر بھی تبادلہ اور تصرف انفرادی افعال رہتے ہیں ، یعنی الگ الگ افراد کے افعال ۔ اجتماعی پیداوار پر انفرادی سرمایہ دار کا قبضہ ہو جاتا ہے ۔ یہی وہ بنیادی تضاد ہے جس سے وہ تمام دوسرے تضاد پیدا ہوتے ہیں جن میں موجودسوسائٹی حرکت کرتی ہے اور جنہیں جدید انڈسڑی ظاہر کرتی ہے۔
1 ۔ پیدا کنند ہ کا ذرائع پیداوار سے قطع حلائق ۔ مزدور کو عُمر بھر اُجرتی محنت کی سزا ۔ مزدوروں اور سرمایہ داروں میں دشمنی ۔
2۔ جنسِتبادلہ پر حاوی قوانین کے اثر میں توسیع ۔ بے عنان مسابقتی کشمکش، انفرادی کارخانے میں اجتماعی تنظیم اور پیداوار میں اجتماعی انارکی میں تضاد ۔
3۔ ایک طرف تو مسابقت کی وجہ سے مشینوں کو بہتر بنانا انفرادی کارخانہ داروں کے لئے ایک جبری آئین بن گیا جس کے سبب مزدوروں کی بڑھتی ہوئی تعداد بیکار ہوتی چلی جاتی ہے ۔ یہی صنعتی ریزرو فوج ہے اور دوسری طرف پیداوار کی غیر محدود توسیع بھی اسی طرح انفرادی کارخانہ داروں کے لئے مسابقت کا ایک جبری قانون بن جاتی ہے۔ دونوں صورتوں میں پیداواری قوتوں کی اَن سُنی ترقی، طلب سے زیادہ ر سد،زائد پیداوار،منڈیوں میں اجناس کی بھرما ر، ہر دس سال کے بعد بحران برائی کا چکر، ذرائع ِپیداوار اور پیداوار میں زیادتی، بیکار اور بھوکے مزدوروں کی زیادتی ہر طرف دکھائی یتی ہے ۔ لیکن پیداوار اور مجلسی بھلائی کے یہ دوپہلو ایک ساتھ کام کرنے کے لائق نہیں ہیں کیونکہ پیداوار کی سرمایہ دارانہ صورت پیداواری قوتوں کو کام کرنے سے روکتی ہے اور پیداوار کو گردش میں نہیں آنے دیتی جب تک کہ پہلے انہیں سرمایہ میں تبدیل نہیں کر لیا جاتا ۔ خود ان کی افراط ہی ایسا کرنے میں رکاوٹ بنی رہتی ہے۔ تضاد بڑھ کرلغویت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ ےہ طریقِ پیداوار طرزِ تبادلہ سے مخاصمت مےں ہے۔ سرمایہ داروں کو اس امر کا مجرم گردانا جاتا ہے کہ ان میں اپنی اجتماعی پیداواری قوتو ں کے نظم و نسق کی صلاحیت نہیں رہی۔
4 ۔ سرمایہ داروں کو خود بخود پیداواری قوتوں کی جزوی اجتماعی ہیئت کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ پیداوار اور نقل و حرکت کے بڑے بڑے ادارے، پہلے جوائنٹ اسٹاک کمپنیوں پھر ٹرسٹوں اور آخر کار ریاست کے حوالے کر دئیے جاتے ہیں ۔ سرمایہ دار ایک ’بیکار طبقہ‘ ہو کر رہ جاتے ہیں ۔ اس کے تمام مجلسی فرائض ان کے اجیر ملازم سر انجام دیتے ہیں۔
4 ۔ پرولتاری انقلاب: تضاد کا حل ۔ مزدور طبقہ ریاستی اقتدار پر قابض ہو جاتا ہے اور اس اقتدار کی مدد سے اجتماعی ذرائعِ پیداوار کو ،جو سرمایہ داروں کے ہاتھ سے نکلتے جارہے تھے ،عوامی ملکیت بنا دیتا ہے ۔ایسا کرنے سے مزدور طبقے نے ذرائعِ پیداوار کو سرمائے کی خصوصیات سے،جن کے وہ اب تک حامل تھے، آزاد کر دیا۔ مزدور طبقہ ذرائع پیداوار کی اجتماعی ہئیت کو ترقی کرنے کا موقع دیتا ہے ۔ اب اجتماعی پیداوار کسی باقاعدہ منصوبے کے تحت ہو جاتی ہے۔ پیداوار کی ترقی کی وجہ سے سوسائٹی میں مختلف طبقات کا وجود سہوِزمانی بن جاتا ہے۔ جوں جوں اجتماعی پیداوار کی انارکی دور ہوتی جاتی ہے، اسی نسبت سے ریاست کا سیاسی اقتدار بھی ختم ہوتا چلا جاتا ہے۔ انسان آخر کار اپنی مجلسی تنظیم کا آپ آقا بن جاتا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی فطرت پر بھی اس کاغلبہ قائم ہو جاتا ہے ۔ انسا ن اپنا مالک آپ بن جاتا ہے__ آزاد ۔
دنیا کو آزاد کرانے کا کام جدید مزدور طبقے کا تاریخی مشن ہے۔ سائنسی سوشلزم کو، جو مزدور تحریک کا نظر یاتی اظہار ہے، اس کام کے لئے تاریخی حالات پیدا کرنا ہیں۔ مزدور طبقے کو، جواب پِسا ہوا ہے، اُس کام سے آگاہ کرنا ہے جس کی تکمیل اُس کی تقدیر میں لکھی ہوئی ہے!
فرہنگ
پیش لفظ
سائنس میں ہرایوگن دوہر نگ کا انقلاب ۔ فریڈرک اینگلز کی یہ کتاب’ قاطع دو ہر نگ‘ کے نام سے مشہور ہے ، جس کا علمی پایہ’ سرمایہ‘ کے برابر ہے۔
لپنرگ ۔ جرمنی کا مشہور شہرجہا ں نپولین کے خلاف ’جنگِ اقوام‘ لڑی گئی تھی۔
پال لفارگ۔ فرانس کا ایک کمیونسٹ لیڈر جس نے پہلی کمیونسٹ انٹرنیشنل کے قیام میں کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز کاہاتھ بٹایا تھا۔
پولستانی ۔ پولینڈ سے متعلق
زےو رچ ۔ سوئٹزر لینڈ کا ایک شہر جہاں سے’ سوزیال دیموکرات‘ شائع ہوتا تھا۔
لسال ۔ جرمنی کی مزدور تحریک کا ایک نمایاں لیڈر جس نے جرمنی کے مزدورں کی سیاسی تنظیم کی ۔ لیکن آخر کار وہ جرمنی کے وزیراعظم بسمارک کا ہم خیال ہو گیا۔
وان کوئی ہوت Don Quixote۔ہسپانوی ادیب سروےنٹےزکے اسی نام کے ایک ناول کا ہیرو ۔ جو اس عہد کے بانکوں کی نمائندگی کرتا ہوا عجیب و غریب حماقتوں کا ثبوت دیتا ہے۔ سروان تیس کا یہ ناول یورپ کی جاگیر دارانہ سوسائٹی پر ایک طنز ہے۔
سانچو پائنزا ۔Sancho Panza وان کوئی ہوت کا ایک سیانا مصاحب ۔
کانٹ ۔جرمنی کا ایک نامور فلسفی ) -1724 1804 ( کانٹ اس با ت کو تسلیم کرتا ہے کہ اس کی آنکھیں روسو کی لکھی ہوئی کتابوں نے کھولیں ۔ کانٹ جہاں کہیں سیاسی فلسفے پربحث کرتا ہے وہاں وہ کوئی نئے خیالات پیش نہیں کرتا بلکہ روسو کے نظریوں کو اپنے نظامِ فلسفہ میں سمودیتا ہے ۔ کانٹ بھی ان لوگوں میں سے تھاجو انقلابِ فرانس کی زیادتیوں سے ڈر گئے تھے۔ ان زیادتیوں نے اس کی نظر میں انقلابِ فرانس کی اہمیت کو کسی طرح کم نہیں کیا تھا۔ کانٹ کے سیاسی نظرئیے اس کے اخلاقی فلسفے کا ایک جزو ہیں ۔ اس کے نزدیک سیاسی زندگی کو اخلاقیات کے ماتحت ہونا چاہیے کونکہ اصولاً اخلاقی اور سیاسی معیار میں کوئی فرق نہیں ہو سکتا اور عمل میں کبھی فرق پیدا بھی ہو جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ عمل عقلِ محض کے معیار پر پورا نہیں اترتا ۔ افلاطون کی طرح کانٹ بھی اخلاق کو سیاسی تخیل کا رہبر بناتا ہے۔ اس کے نزدیک نظریوں کی عملی قدر و قیمت اخلاقی فرض کے مقابلے میں کوئی حقیقت نہیں رکھتی اور اگر یہ معلوم ہو جائے کہ اخلاقی فرض کیا ہے تو پھر اس سے سیاسی اصول اخذ کرنے میں کوئی دشوار ی نہیں ہونی چائیے ۔کانٹ کی نظر مےںریاست کی بذات خود کوئی خاص فلسفیانہ اہمیت نہیں۔ اس کا فلسفہ انفرادی اخلاق سے شروع ہو کر بین الاقوامی اخلاق پر ختم ہوتا ہے۔ سیاسی زندگی کا جو پہلو اخلاق کے دائرے میں نہیں اُسے وہ اپنی بحث سے خارج کردیتا ہے ۔ کانٹ کا بنیادی مسئلہ، جس کی طرف روسو نے اُسے توجہ دلائی ،انسان اور انسانی آزادی کی اخلاقی قدر ہے۔ اس کی سیاسی تعلیم اس معمے کو حل کرنے کی کوشش کا ایک ضمنی نتیجہ ہے کہ انسان کی اخلاقی آزادی اور اس جبر میں کس طرح مصالحت کی جائے جو سیاسی معاشرے میں اس پر کیا جاتا ہے ۔ انسان کا واحد قدیم حق ،جو اسے بحیثیتِ انسا ن ملنا چایئے، آزادی ہے۔ ہر وہ فعل اِس حق کی رو سے جائز ٹھرتا ہے جس کی وجہ سے کسی ایک شخص کی آزادی اورتمام دوسرے لوگوں کی آزادی کے پہلو بہ پہلو رہنے میں کوئی خلل واقع نہ ہو۔کانٹ انفرادیت کے فنا ہو جانے کو تسلیم نہیں کرتا اور اُس کا یا پلٹ کا بھی نہیں قائل نہیں جوروسو کے نزدیک’معاہدہ ¿‘ اجتماعی کے ذریعے انسان کی اخلاقی سرشت بدل دیتی ہے۔ کانٹ کا یہ خیال ہے کہ معاہدہ ¿اجتماعی سے پہلے انسان آزاد اور خود مختار نہیں تھے بلکہ اجتماعی زندگی نامکمل شکل میں موجود تھی جسے معاہدہ ¿اِجتماعی نے تکمیل کو پہنچایا۔ اس سے بظاہر تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کانٹ معاہدہ ¿ اجتماعی کو ایک تاریخی واقعہ فرض کرتا ہے۔ لیکن کانٹ کی اس کے متعلق کوئی قطعی رائے نہیں تھی۔ کہیں تو وہ اجتماعی معاہدے کو رد کردےتا ہے، کہیں اسے لازمی اور کہیں اسے محض عینی تصور ٹھہراتا ہے ۔ دراصل اسے اس مسئلے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس نے ایک مقام پر کہا ہے کہ ریاست کے آغاز پر بحث کرنا فضول اور خطرناک ہے ۔ معاہدہ ¿ اجتماعی کو اس نے محض ایک مروجہ اصطلاح کے طور پر استعمال کیا ہے اورجب کبھی وہ محسوس کرتا ہے کہ معاہدے کا تصور اس کے سلسلہِ خیالات میں نہیں کھپتا تو وہ اسے بلا تامل رَد کر دیتا ہے جس کے سبب اس کے خالص سیاسی نظریوں میں تناقص پیدا ہوجاتا ہے۔ اسے قومی ریاست کی اجتماعی زندگی اور اس کے اعلیٰ اِمکانات سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ اسی وجہ سے اس نے ان تمام مسائل کو نظر انداز کر دیا ہے جن کا تعلق صر ف ریاست سے ہے۔ اس لحاظ سے اس کا خالص سیاسی فلسفہ بہت کمزور ہے۔ ) تاریخِ فلسفہِ سیاسیا ت سے ماخوذ ( لینن کے الفاظ میں جب کانٹ یہ کہتا ہے کہ ’شے بالذات‘ ہمارے ادراک سے مطا بقت رکھتی ہے، تو وہ مادیت پسند دکھائی دیتا ہے لیکن جب وہ یہ کہتا ہے کہ’ شے بالذات‘ ادراک کی حد سے پرے ہے اور ہمیں نہ اس کا علم ہو سکتا ہے اور نہ تجربہ تو وہ عینیت پسند معلوم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کانٹ کے اس تنا قص پر بہت سے فلسفی اعتراض کرتے ہیں۔
لاپلاس ۔ لا پلا س( 1749-1827 ( فرانس کا ایک مشہور ماہر فلکیات جس نے طبیعات میں بھی بڑ ا نام پیدا کیا تھا۔
ڈارون کانظریہ ¿ آفر ینش ۔ کائنا ت کو وجود میں لانے یا اس کے وجود میں آنے سے متعلق نظریہ چارلس ڈارون -1809) 1882 ( اپنے نظریہ ¿ ارتقا کی وجہ سے بہت مشہور ہے ۔ اس نے یہ ثابت کیا تھا کہ نامیاتی اجسام بدلتے رہتے ہیں ۔ جو اجسام اس تبدیلی کی صلاحیت کو کھودیتے ہیں، وہ فنا ہو جاتے ہیں ۔ ڈارون اپنے نظریہ ارتقا کی تشریح آغازِ انواع میں کرتا ہے ۔ کارل مارکس نے آغاز ِانواع کا مطالعہ کرنے کے بعد فریڈرک اینگلز کو لکھا تھا کہ ڈارون کی تحقیق سے ہمارے جدلیاتی نظریہ کی تائید ہوتی ہے
ہیگل ۔ ہیگل -1770) 1831 ( جرمنی کا ایک مشہور فلسفی جس نے جدلیات کو عینیت کے اصولوں کے مطابق انسانی تاریخ پر منطبق کیا ۔
جدلیات۔ یونانی فلسفہ کی اصطلاح Dialectes کا ترجمہ۔ جدلیات سے مراد وہ تضاد ہے جو ہر شے میں موجودرہتا ہے اور جس سے ہر چھوٹی بڑی چیز عالمِ وجود میں آتی اور فنا ہوتی رہتی ہے۔
تاریخ کا مادی نظریہ ۔ تاریخ کے اس نظریے سے یہ مراد ہے کہ پیداوار اور پیداوار کی اجناس کا تبادلہ ہر سوشل نظام کی بنیاد ہے ۔ انسانی تاریخ میں جوسوسائٹی بھی پائی جاتی ہے اس میں پیداوار کی تقسیم اور طبقہ بندی کا انحصار اس بات پر رہا ہے کہ سوسائٹی کیا پیدا کرتی ہے، کیسے پیدا کرتی ہے اور اس میں پیداوار کی تقسیم کس طرح ہوتی ہے ۔تاریخ کے اس نظریے کے مطابق تمام سوشل تبدیلیوں اور سیاسی انقلابوں کے بنیادی اسباب کو طریقِ پیداوار اور تبادلہ کی تبدیلیوں میں دیکھنا چاہئے) متن میں سے (
فطشے ۔ ایک جرمن فلسفی ) 1764-1816) جو اپنی پہلی تصنیف میں روسواور کانٹ کا پیرو، انفرادیت کا حامی اور ریاست کا کھلا مخالف معلوم ہوتا ہے۔ دوسری تصنیف میں اپنا نکتہ ¿ نظربد لے بغےر وہ ریاست کے دائرے کو کسی قدر وسیع کرتا ہے اور تیسری تصنیف میں، جس کا موضوع دراصل معاشی مسائل ہےں، وہ ریاست کے فرائض میں اتنے اضافے کر دیتا ہے کہ انفرادیت کی جڑ ہی کٹ جاتی ہے ۔فطشے کی اس کتاب کو شائع ہوئے چھ سات سال گز ر ے تھے کہ نپولین نے جرمنی پر حملہ کیا ۔فطشے نے لیکچروں اور تقریروں کے ذریعہ سے قوم میں اپنی تہذیب کی قدر پیدا کرنے کی پوری کوشش کی۔ تہذیب کی قدر نے فطشے کے دل سے اس انفرادیت کی یا د بالکل محو کر دی جس کا وہ پہلے گرویدہ تھا۔ اس نے لیکچروں اور تقریروں میں جو نئے نظریے قائم کئے وہ اس کی آ خری تصنیف میں باقاعدہ سیاسی فلسفے کی صورت میں نظر آتے ہیں ۔ اس کی پہلی اور آخری تصنیف سے زیادہ متضاد خیالات محالف فلسفیوں کی تصانیف میں بھی شایدہی ملیں گے ۔ اس کے فلسفہ پر سیاسی واقعات کا اثر پڑتا رہا۔ اسے کانٹ کی طرح فلسفیانہ تصورات میں ڈوبا رہنا منظور نہ تھا ۔ اس نے کانٹ کی طرح یہ نہیں کےا کہ مجرد اصولوں کے سوا حقیقت معلوم کرنے کے دوسرے تمام ذرائع کو اپنی بحث سے خارج کردیتا ۔ اسے ایسے عقیدوں کی تلاش تھی جن پر سیاسی حوصلوں کی بنیاد رکھی جاسکے ۔ شروع میں، جب وہ انفرادیت کا قائل تھا، اس نے ریاست کے سپرد ایسا فرض کیا جس کے مقابلے میں دےگرتمام فرائض محض نمائشی ہیں۔ اور آخر مےں جب وہ ریاست کا پرستار بن گیا تو اس نے افراد کے ذمے ایسے فرائض ڈالے جن کے بغیر ریاست ایک مردہ جسم بن کر رہ جاتی ہے۔فطشے کے آخر ی دور کے فلسفے میں ایک حد تک تنگ نظری ضرور تھی کیونکہ اس نے صرف جرمن قوم کو مخاطب کرتے ہوئے اسے یقین دلایا تھا کہ اس میں خاص اوصاف ہیں جو اسے خدا کی طرف سے عطاہوئے ہیں۔
پہلا باب
سوسائٹی ۔ سماج معاشرہ
نظریاتی ۔ نظریہ سے متعلق
ہیگل ۔ ہیگل 1770-1831) ( پہلا فلسفی ہے جس کی بحث میں ریاست واقعی ایک جسم نامی ٹھہرائی گئی ہے۔اس نے اپنے پیش روﺅں کی طرح سیاسی نظام کا واحد ہ )اکائی( فرد کو نہیں مانابلکہ ریاست کو ہیگل نے اس عقل کی، جسے فلسفی افراد کی خصوصیت سمجھتے آئے تھے، ایک نئی تشریح کی اور اُس فرضی ذہنی معیار کو، جس کے مطابق قانون وفطرت کے ضابطے یا معاہدہ ¿ اجتماعی کی شرائط طے کی جاتی تھیں،ایک نئی شکل دے دی۔
ہیگل کے سیاسی نظریے اس کے پورے فلسفے کاایک حصہ ہیں اور انہیں صحیح طور پر سمجھنے کے لئے اس کے عام فلسفیانہ عقائد کو ذہن نشین کر لینا ضرروی ہے۔ اس کی بنیاد ارتقا ہے ،لیکن ارتقا کا جو مفہوم اس نے قائم کیا ہے اسے حیاتیات کے علمی اصول سے بہت کم تعلق ہے ۔ حیاتیاتی اصول کے مطابق ذہن کا پیداہونا اور زندگی پر اثر ڈالنا ترقی کا انتہائی درجہ ہے۔ لیکن اس کے برخلاف ہیگل کے نزدیک ارتقا کوئی مادی یا میکانکی سلسلہ نہیںبلکہ ایک ذہنی اور روحانی قانون ہے اور اس کے عمل میں آنے کے معنی یہ ہیں کہ ذہن اپنے مادی ماحول کو ایک مقصد یا عینی تصورکے حصول کے لئے بتدریج ترقی دیتا رہا۔ ہیگل عقل کو ایک فرضی اور مستقل ذہنی قوت نہیں سمجھتا اور اس مقصد کو، جو ارتقا کا محرک ہو، انسان کے ماحول سے جُدا چیز نہیں ٹھہراتا ۔ انسانی عقل بھی نشوو نما پاتی ہے اور اس کے ساتھ وہ تصور بھی جسے انسان اپنے ماحول میں مجسم کرکے دکھانا چاہتا ہے۔ روح اور مادے، عقل اور اس کے میدانِ عمل کو ایک دوسرے فطرتاً جدانہ تصور کرنا چاہیے ۔ انسا ن کا سار اعلم اور تجربہ ایک ذخیرہ ہے جسے عقل نے جمع کیا ہے اور عقل ہی وہ قوت ہے جو خود نشوو نما پاتی ہے اور اپنی تخلیق کو، جو اس کا میدانِ عمل بھی ہے اور مجسّم مظہر بھی، نشوو نما دیتی رہتی ہے۔ ارتقا کا اصول بھی ہیگل کے سیاسی تخیل کی رہبری کرتا ہے۔ اگر اس کی تعبیر سیاسی اصطلاح میں کی جائے تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ اجتماعی زندگی کے تمام مظاہر انسانی عقل کی تخلیق ہیں اور ایک تصور کے مجسّم مظاہر، یعنی وہ سیاسی نظام اور ادارے جو کسی زمانے میں موجود ہوں، ذہنی تصور کا تقاضا پورا نہیں کرتے یا اس کا حق ادا نہیں کر سکتے اور عقل کی تحریک سے تصور کے مجسمے اپنی شکل بدلتے اور ترقی کرتے رہتے ہیں ۔ اس طرح ہیگل بظاہر سیاسیات کو تاریخ کا پابند کردیتا ہے مگر یہ پابند ی غلامی نہیں ہے ۔ تاریخ کی اہمیت کے باوجود ہیگل کااصرار ہے کہ اصل چیز سیاسی دنیا کے مظاہر نہیں ہیں بلکہ وہ تصور، وہ عینی مقصدہے جسے حاصل کرنے کی غرض سے یہ مظاہر وجود مےں آتے ہیں۔ اس طرح ہم تصور کو اس شکل سے جدا نہیں کر سکتے جو اس نے کسی وقت میں اختیار کی ہو ۔ لیکن اصل چیز تصور ہے اس کی شکل نہیں ۔ ہیگل افراد کے حق مےں بہتر سمجھتا ہے کہ وہ ریاست کو اپنی نشو و نما کا اصل ذریعہ جانیں اور ریاست کے لئے ضروری سمجھتا ہے کہ وہ افراد کی نشو و نما کو اپنے ارتقا کا حقیقی وسیلہ قراردے ۔
روسو۔ ژاں ژاک روسو۔ ) (1712-1778( انقلابِ فرانس کا بہت بڑا نقیب اور ایک نامور آوارہ ادیب۔ ایک گھڑی ساز کا بیٹا تھا۔ وہ ابھی بچہ ہی تھا کہ اس کا آوارہ باپ اسے چھوڑ کر کہیں بھاگ گیا۔ روسو کے عزیزوں نے اسے ایک سنگ تراش کے پاس کام سیکھنے کے لئے بھیج دیا۔ استاد بہت زیادہ تند مزاج تھا۔ شاگر د کے لئے یہ تندی ناقابل برداشت تھی۔ سولہ سال کی عمر میں وہ آوارہ گردی کے لئے گھر سے نکل پڑا ۔ مرتے دم تک وہ آوارہ ہی رہا۔ اسے کوئی مستقل ٹھکانہ نہ مل سکا۔ اس نے عمر بھر کوئی خاص پیشہ اختیار نہ کیا۔ اس کی ساری زندگی دکھوں سے بھری پڑی ہے۔ روسو کی آوارگی اس کے ذہن کی جِلا کا سبب بنی ۔ شائد ہی کوئی ایسی ذلت تھی جس سے روسو نے اپنے آپ کو وابستہ نہ کیا ہو ۔ لیکن ذلت و رسوائی میں بھی اس کا سینہ ایک بے پناہ طوفان کو تھامے ہوئے تھا۔ 38 برس کی عمر میں جب اس نے قلم اٹھایا تو یہ طوفان جذبات کی صورت میں ظاہر ہوا ۔اُس کے پہلے مقالے نے فرانس بھر میں ہیجان پیدا کردیا۔ کل کا آوارہ آج کا ادیب بن گیا۔ اس کے خیالات نے فرانس کو ہلادیا۔ عبرت ناک زندگی بسر کرنے والاسوسائٹی کے لئے اخلاقی معیار تجویز کرتا ہے۔ اپنے بچوں کو یتیم خانے کے سپرد کرنے والا بچوں کی تعلیم و تربیت پر کتاب لکھتا ہے ۔
معاہدہ ¿ عمرانی۔ روسو کی سب سے مکمل کتاب معاہدہ ¿ عمرانی ہے ۔ اس کتاب کا اردو میں ترجمہ ہو چکا ہے ۔ انسان آزاد پیدا ہوا ہے لیکن افسوس کہ وہ ہرجگہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے ۔ ان الفاظ سے معاہدہ ¿ عمرانی کا آغاز ہوتا ہے۔ روسو کے خیال میںسوسائٹی اور ریاست آزاد انسانوں کے باہمی معاہدے سے پیدا ہوئی تھےں لیکن ایک مدت گزرنے کے بعد اس ریاست میں مساوات قائم نہ رہی۔ اب اگر انسان پھر کوشش کرے تو ا ُسی معاہدے کی بنا پرسوسائٹی میں آزادی اور مساوات قائم کی جاسکتی ہے ۔ روسو کے تخیل کااعجاز ہے کہ ایک افسانہ، جس سے انسان زیادہ سے زیادہ اپنا جی بہلا سکتا تھا ، ایک ہمت افزا حقیقت بن گیا۔ لیکن یہ خواب کی باتیں ،خواہ وہ علم سے برتر مرتبہ رکھتی ہوں ، علم کی تعریف میں نہیں آسکتیں اور عملی اخلاق پر ایسی خیال آرائیوں کا چاہے جتنا اچھا اثر پڑے ہم انہیں اخلاقیات مےں شامل نہیں کر سکتے اس لئے کہ ان میں عقل اور منطق کو ذرا بھی دخل نہیں ۔روسو کی تعلیم کا کسی علم سے تعلق نہیں ۔ عالم کے لئے جو ذہنی خصوصیات لازمی ہیں ان میں سے ایک بھی اُس میں موجود نہ تھی ۔ اس نے مطالعے کے ذریعے سے جو تھوڑی بہت معلومات حاصل کی تھیں ۔ انہیں ہم مروتاً بھی علم قرار نہیں دے سکتے ۔
پرولتاریہ ۔ مزدوروں کا وہ طبقہ جس کی ملکیت قوتِ محنت کے سوا اور کچھ نہ ہو ۔
گِلڈ ۔ ہم پیشہ لوگوں کی انجمن
تحریکِ اصلاح ۔ سولہویں صدی کے یورپ کی وہ مذہبی اور سیاسی تحریک جس کا خاتمہ پروٹسٹنٹ کلیسےاﺅں کے قیام پر ہوا ۔ اس تحریک کے اسبا ب کو سمجھنے کے لئے رومن کیتھولک چرچ کی تشکیل اور ہئیت کا مطالعہ ضروری ہے ۔ یورپ کے حکمرانوں اور پاپاﺅں میں تقسیمِ اقتدار کی جدوجہد نے اس تحریک کو ازمنہ وسطیٰ ہی میں جنم دے دیا تھا لیکن اس تحریک نے زور سولہویں صدی میں پکڑا ۔ 1517 میں مارٹن لوتھر نے وٹن برگ کے کلیسےا کے دروازے پر کلیسےا کے خلاف 95نکات پرمشتمل ایک مضمون آویزاں کیا ۔پوپ نے اسےمسےحےتسے خارج قرار دے دیا۔ مارٹن لوتھر کے پیرو ’پروٹسٹنٹ ‘کہلاتے ہیں۔ ابتدائی دور کا ہر پروٹسٹنٹ لوتھرےن نہیں تھا۔ سوئٹزر لینڈ میں زونگلی جبکہ کالوین کی تحریک فرانس ،ہالینڈ اور اسکاٹ لینڈ میں پھیل گئی۔
لیولرز۔ انگلستا ن کی ایک سیاسی جماعت جو خانہ جنگی کے دوران پیدا ہوئی۔ کرامویل کی فوج کے سپاہی زیادہ تراس پارٹی کے ممبر تھے۔اس پارٹی کا لیڈر جان لطبر ن تھا۔ اس پارٹی نے اپنے جمہوری اصولوں کو میثاقِ عوام میں پیش کیا تھا ۔ 1649 کے بعد اس پارٹی نے بغاوت کردی ۔ لیکن ان کی بغاوت پر بہت جلد قابو پالیا گیا۔ 1660مےں اس پارٹی کا خاتمہ ہو گیا۔
انقلابِ فرانس ۔ 1789 میں فرانس میں جو انقلاب ہوا اُس نے سارے یورپ کو بہت زیادہ متاثر کیا۔ فرانس کے عوام پر ٹیکسوں کا بہت زیادہ بار تھا۔ نظم و نسق میں بھی بہت سی خرابیاں پیدا ہو چکی تھیں ۔ انقلاب کے ان اسباب کے ساتھ ساتھ فرانس کے فلسفیوں کی تحریروں نے پڑھے لکھے لوگوں کو انقلاب کے لئے تیار کر لیا۔ 1614 کے بعد 1789میں فرانس کی سٹیٹس جنرل کا اجلاس ہوا ۔ اس اجلاس کے دوران فرانس کے تیسرے طبقے کے نمائندوں نے مل کرقومی اسمبلی قائم کر لی۔ چودہ جولائی 1789کو انقلابیوں نے باستئل کی جیل کو توڑ دیا ۔ ترنگے پھر یرے کوقومی پرچم بنالیاگیا۔ قومی اسمبلی نے تمام مراعات کو ختم کرکے ایک نےا دستور مرتب کرنے کا اعلان کردیا۔ اسی اثنا میں فرانس کے کئی امرا ءدوسرے ملکوںکو بھاگ گئے ۔ جون 1791 میں بادشاہ نے بھی بھاگنے کی کوشش کی لیکن پکڑا گیا۔ یورپ کے دوسرے حکمرانوں نے فرانس کے معاملات میں دخل دینا چاہا لیکن جےکوبن پارٹی نے اُن کی ایک نہ سُنی ۔ مارچ 1792میں فرانس نے آسڑیا کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ۔ پروشیا نے آسڑیا کی مدد کرنا چاہی لیکن فرانسیسی فوج نے پروشیا کی فوج کو شکست دی۔ اب قومی کنونشن قائم ہو چکی تھی۔ انتہا پسندوں کا غلبہ تھا۔ 1793کو فرانس کی جمہوریت نے لوئی کو موت سز ا دی۔ فرانس کی جمہوریت نے اعلان کردیا کہ وہ یورپ کے ہر اُس ملک کی مدد کرے گی جو بادشاہت کو ختم کرنا چاہتا ہو۔ 1793 میں تحفظ عامہ کمیٹی قائم کی گئی ۔ اس کمیٹی کی سب سے سرگرم اور نمایاں شخصیت اربس پیئر تھی۔ اب دہشت پسندی کا دور شروع ہوا۔ یہ دور اکتوبر 1795تک قائم رہاجبکہ نظامت قائم کی گئی۔ نظامت کے قائم ہوتے ہی انقلاب ِفرانس کا دور ختم ہو جاتا ہے!
بابوف۔ فرانس کا ایک سیاستدان ۔جب فرانس میں انقلابِ فرانس ہوا تو اس وقت بابوف کسی دفتر میںمُنشی تھا۔ وہ بہت جلد اِس تحریک کا لیڈر بن گیا۔ اُس نے اپنے اخبار میں رابس پیئر کی مخالفت کی ۔ 1794میں، جبکہ پیرس کو مصائب کا سامنا تھا، اس نے ایک نیا نظام پیش کیا۔ اسے 27مئی 1797کو قتل کردیا گیا۔ وہ چھوٹے چھوٹے کمیونسٹ گروہوں کی سازشوں اور بغاوتوں کے ذریعہ سے کمیونزم کے قیام کا خواب دیکھتا تھا۔
مثالی معاشرت۔ سولہویں اور سترھویں صدی کے ان خیالی سوشلسٹوں کی طرف اشارہ ہے جو ایک ایسی سوسائٹی کے خواب دیکھتے تھے جس میں ذاتی ملکیت نہ ہو۔ ان خیالی سوشلسٹوں میں تھا مس مور اور کیمپا نیلاخاص طور سے قابل ذکر ہیں ۔
راہبانہ کمےونزم۔ ایساکمیونزم جوسوسائٹی کی تشکیل پر سائنسی غور و فکر کرنے کی نسبت انسانوں سے ہر قسم کی لذت ترک کروا کر انہیں راہبوں میں تبدیل کردے ۔
اسپارٹا ۔ پرانے یونان کی ایک شہری ریاستجہاں ہر شہری کو فوجی تعلیم دی جاتی تھی اور جہاں’ ریاست کی خدمت‘ کا جذبہ تمام دوسرے جذبات پر غالب تھا۔ اسپارٹا نے جنگِ یونان و ایران میںنمایاں حصہ لیاتھا۔ پیلو پونیشی جنگ میں اسپارٹا نے ایتھنز کو شکست دی تھی لیکن بہت جلداےتھنز کی شہر ی ریاست نے اسپارٹا کو شکست دے دی۔ ”اسپارٹی زندگی“ سے مراد سادہ اور بہادرانہ زندگی ہے ۔
بورژوائی ۔ سرمایہ دارانہ طبقہ، ذرائعِ پےداوار پر قابض۔
عہدِ خطر ۔ 1793-94 میں فرانس کی انقلابی حکومت کی عنان جیکوبن پارٹی کے ہاتھ میں تھی۔ یہ پارٹی چھوٹے چھوٹے سرمایہ داروں اور محنت کرنے والوں کی نمائند ہ تھی۔ اس پارٹی نے انقلاب کے مخالفوں کو ختم کرنے کے لئے دہشت انگیزی اور قتال کو اختیار کیا۔
نظامت۔ عہدِ خطر کے زوال کے بعد فرانس میں ناظموں کی جو حکومت قائم ہوئی وہ فرانس کی تاریخ میں نظامت کہلاتی ہے۔ نپولین نے اِس نظامت کو ختم کر دیا۔
نپولین ۔ پندرہ اگست 1769کو پیداہوا ۔ جب فرانسیسی جمہوریت کی فوج نے 1894میں اٹلی پر حملہ کیا تھا تو نپولین اِس فوج کا کمانڈر تھا۔ اُس کی فتوحات نے اُسے فرانس میں بہت زیادہ مقبول بنادیا۔ 9نومبر 1799کو نپولین نے فوجی ہلہ بول کر ایک نئے دستور کےتحت حکمرانی کے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لئے ۔ اٹلی میں ایک مرتبہ پھر کامیابی حاصل کرنے کے بعد 1804میں وہ فرانس کا شہنشاہ بن گیا۔ داخلی لحاظ سے فرانس اب تک خود مختار حکمران کے ماتحت تھا۔ خارجی لحاظ سے فرانس کی فوجیںےورپی ملکوں سے لڑنے میں مصروف تھیں ۔ 1812 میں اُس نے روس پر حملہ کیا۔ اس حملے میں وہ تباہ ہوگیا۔ لیپزگ کی لڑائی میں اتحادیوں نے اُسے شکست دی اور اسے البامیں جلاوطن کردیاگیا۔ 26فروری 1815کو اُس نے آخری مرتبہ تقدیر آزمائی کی۔ وہ البا سے بھاگ کر فرانس پہنچ گیا۔ پندرہ جون 1815کو ُاس نے واٹر لو میں شکست کھائی ۔ اس نے اپنے آپ کو انگریزوں کے حوالے کردیا۔ اسے سینٹ ہلینا کے جزیرے مےں جلاوطن کردیاگےا۔ جہاں اس نے 5جون 1821کو وفات پائی۔
کارلائل ۔ برطانیہ کا مشہور مورخ کارلائل 1795 میں پیدا ہوا ۔ اُس نے اپنی زندگی کا آغازسکول ماسٹر کی حیثیت سے کیا۔ 1834میں وہ لندن میں مقیم ہو گیا۔ اس نے بہت سی کتابیں لکھیں جن میں ’ہیرو پرستی‘ اور’ انقلاب ِفرانس‘ بہت مشہور ہیں ۔ جس مکان میں کارلائل رہتا تھا اسے میوزیم مےں تبدیل کیا جا چکاہے۔
اخوت ۔ بھائی چارہ
قانون ِمساکین۔ انگلستا ن میں قانونِ مساکین کسی نہ کسی صورت میں ملکہ الزبتھ کے وقت سے چلاآرہا ہے 1834 مےں اس قانون میں بہت سی ترامیم کی گئےں ۔ آخری مرتبہ اس قانون میں 1930میں ترمیم کی گئی۔
پرووھوں۔ فرانس کا ایک مفکر( 1809-1865) جواَنارکزم کا بانی کہلاتا ہے۔ وہ جس سوشل نظام کی تعلیم دیتا ہے اس کی بنیاد چھوٹے کاشتکار اور آزاد مزدوروں کی آزاد محنت پر ہے۔
ویت لنگ ۔ جرمنی کا ایک سوشلسٹ مصنف (1808-1871) جو سرمایہ دارانہ نظام پر محض اخلاقی اصولوں کی بنا پر اعتراض کرتا ہے۔
انتخابےت ۔ پرانے فلسفیوں کا وہ نظریہ جو مختلف مذاہبِ فلسفہ سے مسائل کا انتخاب کرتا ہے۔
دوسرا باب
قاموسی ۔ مختلف علوم میں ایک ایسی مہارت رکھنے والا۔
ارسطو ۔ایک یونانی فلسفی جو 384 ق م میں مقدونیہ میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ شاہ مقدونیہ کا طبیب تھا۔ اس نے بھی طب کی تعلیم حاصل کی تھی۔ وہ اپنی تعلیم کی تکمیل کے لئے 367 ق م میں ایتھنز گیا۔ جہاں وہ بیس سال رہا ۔ اس مدت میں اس کا زیادہ وقت افلاطون کی صحبت میں گزرا ۔ 347 ق م میں افلاطون کی موت کے بعد وہ ایتھنز سے چلاگیا۔ 343 ق م میں مقدونیہ کے بادشاہ فلپ نے اسے اپنے بیٹے سکندر کی تعلیم کےلئے مقدونیہ آنے کی دعوت دی۔ وہ سکندر کی تخت نشینی تک مقدرنیہ ہی رہا 335 میں وہ ایتھنز چلا گیا۔ جہاں اس نے ایک مدرسہ قائم کیا ۔ موت سے ایک سال پہلے اُس نے ایتھنز کو چھوڑا ۔ اس نے 322ق م میں وفات پائی ۔ ارسطو نے مختلف علوم وفنون پر کتابیں لکھیں ۔ ازمنہ ¿وسطیٰ میں عربوں نے نہ صرف ان کتابوں کے عربی تراجم شائع کئے بلکہ ان میں سے کئی ایک نے ارسطو کے مقالات کی تشریح کی۔ ارسطو کے عر ب شارحین میں ابنِ ارشد بہت زیادہ مشہور ہے ۔
دیکارتے ۔ فرانس کا ایک فلسفی اور ریاضی دان 1596 میں پیدا ہوا ۔ فرانس اور جرمنی کی فوجوں میں تھوڑی مدت ملازمت کرنے کے بعد وہ ہالینڈ میں آباد ہوگیا۔ 1649میں وہ سٹاک ہوم چلاگیا۔ اس نے 1650میں وفات پائی ۔ فلسفے کی تاریخ میں اس کا یہ جملہ،” چونکہ میں سوچتا ہوں اس لئے میں ہوں“ بہت زیادہ مشہور ہے۔ اس کی سب سے مشہور کتاب ’اصولِ فلسفہ‘ ہے۔ اقلیدس میں بھی اس نے چند ایک نئے نظریے قائم کئے تھے۔
سپائی نوزا ۔ ہالینڈ کا ایک فلسفی 1632-1677))۔جس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ہیگ میں صرف کیا، دیکارتے کے فلسفہ کی شرح لکھی۔ وہ ہمہ اوست کا قائل ہے۔ اس کی مشہور کتاب’ اخلاق ‘ہے۔
دیدرو ۔ فرانس کا ایک مشہور لکھنے والا) (1751-1765 اس کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے 1751 اور 1765کی درمیانی مدت میں 17جلدوں میںقاموس ا نسائیکلوپیڈیا مرتب کی۔ دیدرونے کئی ناول اور ڈارمے بھی لکھے تھے۔
ہراکلےتس ۔ یونا ن کا ایک فلسفی جو مابعد الطبیعات کا بانی ہے۔ اس نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ کائنات پر آگ کی حکومت ہے۔ سب چیزیں اسی سے نکلتی ہیں اور آخر کار اسی میںمدغم ہو جاتی ہیں۔ اس نے کہاتھا کہ صرف تغےر ہی کو ثبات ہے۔
عہدِ اسکندریہ ۔ چھ سو سال کی اس مدت سے مراد ہے جو تیسری صدی عیسوی تک پھیلی ہوئی ہے۔ اسکندریہ کی یونیورسٹی نے مختلف طبعی علوم میں نمایاں کام کئے تھے۔
بیکن۔ فرانس بیکن انگلستان کا مدبر اور مفکر 1561 میں لند ن مین پیدا ہوا تھا۔ یونانیوں کے بعد بیکن کی کتابوں نے فلسفے میں نمایاں اضافہ کیا۔ اس کی کتابوں میں سے مضامین اور اطلاس بہت مشہور ہیں ۔ اس نے 1646مےں وفات پائی۔
لاک ۔ جون لاک ۔ مشہور برطانوی فلسفی 1632میں پیدا ہوا ۔ لاک اپنے فلسفیانہ خیالات کو اپنی کتاب” مضامین متعلقہ انسانی فہم“ میں پیش کرتا ہے۔اس کتاب میں وہ بتاتا ہے کہ ہمارا سارا علم تجرباتی ہے۔ اس نے فلسفہ ¿ سیاسیات پر بھی بہت کچھ لکھا ۔ اس نے 1704 میں وفات پائی۔
نیوٹن ۔ آئی زک نیوٹن۔( 1642-1727 )انگلستا ن کا مشہور ریاضی دان فلکیاتی اور فلسفی 1666 میں ایک سیب کے گرنے سے اس کے ذہن میں قانونِ کشش کا خیال پیدا ہوا جسے اُس نے بعد میں مرتب کیا ۔ اس نے حرکت کے قوانین مرتب کئے اور سفید روشنی ےعنی نور کے اجزائے ترکیبی بتائے ۔اس کی مشہور کتابوں میں اصول اور بصریات ہیں۔
تصور ۔ ہیگل اپنے فلسفے میں تصور اور تصورِکُل سے خدا مراد لیتا ہے۔
لیناس ۔ کارل لیناس جو بعد میں کارل فان لینی کے نام سے مشہور ہوا۔ سویڈن کا ایک ماہر نباتات تھا۔ وہ 1707 میں پیدا ہوا ۔ اس نے 1775میں وفات پائی۔اس نے نباتات پر بہت سی کتابیں لکھیں۔
لیونزکی شورش ۔ 1831میں لیونز کےجولاہوں نے ایک ہڑتا ل کے دوران مےں کم سے کم اجرت مقر ر کئے جانے کا مطالبہ کیا تھا لیکن مزدوروں پر گولی چلادی گئی تھی۔ مزدوروں نے عام بغاوت کردی اور شہر پر قبضہ کر لیا۔ جب کارخانہ داروں کی مدد کے لئے فوج پہنچ گئیتو اُس نے مزدوروں کی شورش پر قابو پالیا۔
چارٹسٹ تحریک ۔ انگلستان کے مزدوروں کی تحریک جس نے انیسویں صدی کی تیسری اور چوتھی دہائی میں بہت زور پکڑا تھا۔ انگلستا ن کے مزدوروں کی یہ پہلی آزادانہ سیاسی تحریک تھی۔ یہ تحریک اس لئے چارٹسٹ کہلاتی ہے کہ 1839 میں مزدوروں نے پارلیمنٹ کے سامنے ایک چارٹر پیش کیا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ :(1)اکیس سال اور اس سے زیادہ مردوں کو ووٹ دینے کا عام حق دیا جائے۔( 2)پارلیمنٹ کا انتخاب ہر سال ہواکرے ۔ (3)پارلیمنٹ کے ممبروں کو تنخواہ دی جائے ۔ (4)پرچی خفیہ طریقے سے ڈالی جائے ۔(5)انتخابی حلقے برابر ہوں۔(6)پارلیمنٹ کاممبر ہونے کے لئے حساب ملکیت ہونے کا وصف اڑادیا جائے ۔ مزدوروں نے ان مطالبات کو منوانے کے کئی سال تک جدوجہد کی جس مےں ہڑتال،مظاہرہ اور مسلح بغاوت- سب کو کام میں لایا گیا۔
مہاجنی معاشیات ۔ معاشیات کو مہاجنوں ساہوکا روں اور کارخانہ داروں کے مفاد کا محافظ بنا کر پیش کرنے کی کوشش۔
عینیت۔ مابعد الطبعےات کا یہ مسئلہ کہ حقیقی وجود صرف تصور کا ہے اور یہ کہ مادی اشیا اسی تصور کے ماتحت ہیں۔ فلسفہ ¿ عینیت میں افلاطون ۔ برکلے اور ہیگل بہت نامور ہیں۔
مارکس ۔ کارل مارکس( 1818 1883-)کے معاشی تصورات نے دنیا بھر کی کمیونسٹ تحریکوں کو جنم دیا۔ 1847 میں مارکس اور اینگلز نے’ کمیونسٹ مینی فیسٹو‘ شائع کیا جس میں انہوں نے کمیونسٹوں کے زاویہ ¿ نگاہ کی وضاحت کی۔ 1867میں مارکس کی مشہور کتاب’ سرمایہ‘ کی پہلی جلد چھپی۔ مارکس کو اس کے انقلابی خیالات کی وجہ سے جرمنی اور فرانس سے جلاوطن ہونا پڑا۔ وہ 1848میں لند ن چلاگیا۔ جہاں وہ اپنی موت تک اپنی کتاب ’سرمایہ‘لکھنے میں مصروف رہا۔
تیسراباب
ازمنہ ¿ وسطیٰ۔ تاریخ کی ایک اصطلاح جس سے نئے اور پرانے وقتوں کی درمیانی مدت مراد ہے ۔ عام طور پر یہ مدت 476ءسے شروع ہو کر پندرھویں صدی کے آخر پر ختم ہوتی ہے ۔ بعض مورخ اسے 453 1پر ختم کرتے ہیں کیونکہ اس سال عثمانی تُرکوں نے قسطنطنیہ( استنبول)فتح کیا تھا۔ اور بعض مورخ اس مدت کو 1492 پر ختم کرتے ہیں ۔ اس سال کولمبس نے امریکہ دریافت کیاتھا۔
آلات محنت ۔ مراد ہے زمےن، زرعی اوزار، کارخانہ اور دوسرے اوزار ۔
جغرافیائی انکشافات ۔ پندرھویں صدی کے آخری نصف اور سولہویں صدی کے پہلے نصف کی سمندری دریافتوں کی طرف اشارہ ہے۔ 1492 میں کولمبس نے امریکہ دریافت کیا اور چھ سال بعد واسکوڈی گاما نے راس اُمید کا چکر کاٹ کر ہندوستان کا نیا بحری راستہ دریافت کیا۔
تجارتی لڑائیاں ۔سترھویں اور اٹھارھویں صدیوں میں ہندوستان اور امریکہ کی تجارت کو قابو مےںلا نے کے لئے یورپی ملکوں میں لڑائیوں کا جو سلسلہ شروع ہوا اُسے تجارتی لڑائیاں کہاجاتا ہے۔ ان لڑائیوں میں ہسپانیہ ، پرتگال ہالینڈ، فرانس اور انگلستان شریک تھے۔ ان لڑائیوں میں انگلستان جیت گیا۔
ڈارون ۔ چارلس رابرٹ ڈارون( -1809 1882)نے بیس سال کی محنت کے بعد 1859میں’آغاز ِانواع‘ لکھی ۔اس کتاب نے سائنس کی تاریخ میں نمایاں تبدیلی برپاکر دی ۔ 1851میں اس نے ’ہبوطِ آدم‘ لکھی ۔ ڈارون کا سب سے اہم نظریہ” بقاءاصلح “ہے جس کی رو سے کش مکشِ حیات میںوہی باقی رہتا ہے جو اصلح ہوتا ہے۔
-1845 اشارہ ہے اینگلز کی اپنی کتاب’ انگلستان میں مزدوروں کی حالت ‘کی طرف ۔
ولکن اور پرومےتھئےس ۔یونانی دیو مالا کے مطابق پر ومتھےئس نے اولمپس سے آگ لاکر انسان کو علوم سکھائے۔ اس پر آگ کے دیوتا ولکن نے اُسے ایک پہاڑ کے ساتھ جکڑ دیا۔ ایک گِدھ دن بھر اس کے جگر گوشت نوچتا رہتا اور رات کے وقت گوشت کے یہ ٹکڑے اس کے جسم پر دوبارہ اُگ آتے تھے ۔ ہرکولےس نے اس گدھ کو مار کراس کو اذیت سے نجات دلائی تھی۔
برائی کا چکر ۔ مراد ہے ایک ایسے چکر سے جس میں ایک برائی کو ختم کرنے کے لئے کئی برائیاں پیدا ہو جاتی ہیں ۔
انارکسٹوں ۔ اشارہ ہے پرودھوں اور باکو نین اور ان کے ماننے والوں کی طرف، جن کا یہ مطالبہ تھا کہ ریاست کو چشمِ زدن میں ختم کردیا جائے۔
No comments:
Post a Comment