Saturday, 9 February 2013

مارکس اینگلز آرکائیو

مسئلہ یہود پر(تنقید)

کارل مارکس

۳۴۸۱ءکے خزاں میں لکھا گیا۔

1
برونو باو ¿ر
مسئلہ یہود
    جرمن یہودی آزادی کے خواہاں ہیں۔انہیں کیسی آزادی چاہیے؟مدنی یا سیاسی آزادی۔
     برونو باو ¿ر انہیںجواب دیتا ہے:جرمنی میں کوئی بھی سیاسی طور پر آزاد نہیں ہے۔ہم خود بھی آزاد نہیںہیں،تو ہم تمھیں کیسے آزاد ی دیں؟تم یہودی انا پرست ہو ،اگر تم یہودی ہونے کی حیثیت سے اپنے لیے ایک خاص آزادی کے خواہاں ہو۔جرمن ہونے کی حیثیت سے تمھیں جرمنی کی سیاسی آزادی کے لیے جدو جہد کرنی چاہیے اور انسان ہونے کے ناطے سے انسانیت کی آزادی کے لیے۔اور تمھیں یہ جان لینا چاہیے کہ تمھاری خاص نوع کی فلاکت اور تمھاری بے عزتی قاعدے سے مستثنیٰ نہیں ہے بلکہ یہ قاعدے کی ہی تصدیق ہے۔
    یا یہودی ویسے شہری رتبے کاتقاضا کرتے ہیں جو ریاست کے عیسائی شہریوں کو حاصل ہے؟اس صورت میں وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ عیسائی ریاست (کا وجود)جائز ہے اور وہ عمومی استبداد گری کی حکمرانی کو بھی تسلیم کرتے ہےں ۔ اگر وہ عمومی غلامی کو مانتے ہیں تو وہ اپنی خصوصی غلامی سے کیوں انکاری ہیں؟اگر یہودی جرمن کی آزادی میں دلچسپی نہیں لیتا تو جرمن یہودی کی آزادی میںد لچسپی کیوں لے؟
    عیسائی ریاست صرف مراعات کو جانتی ہے۔اس ریاست میں یہودی کو یہودی ہو نے کاحق حاصل ہے۔یہودی ہونے کی حیثیت سے اسے وہ حقوق حاصل ہیں جو عیسائیوں کو حاصل نہیں ہیں۔تو پھر وہ ان حقوق کا تقاضا کیوں کرتا ہے جو اسے حاصل نہیں ہیں لیکن جنہیں عیسائی برتتے ہیں؟
    عیسائی ریاست سے آزادی کامطالبہ کرتے ہوئے یہودی یہ مطالبہ کرتا ہے کہ عیسائی ریاست اپنے مذہبی تعصب کو ترک کر دے۔کیا یہودی اپنے مذہبی تعصب کی قربانی کے لیے تیار ہے؟تو پھر کیا اسے یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ کوئی دوسرا اپنا مذہب تیاگ دے؟
    لیکن اپنی نوعیت کے لحاظ سے ہی عیسائی ریاست اس قابل نہیں ہے کہ وہ یہودی کو آزادی دے سکے۔ لیکن باو ¿ر نے مزید کہا’یہودی کی فطرت کے پیشِ نظر اسے آزادی نہیں مل سکتی۔جب تک ریاست عیسائی رہتی ہے اور یہودی یہودیت پر ڈٹا رہتا ہے اول الذکر آزادی دینے میں اتنی ہی عاجز ہے جتنا کہ مو ¿خرالذکر اسے وصول کرنے میں۔
     عیسائی ریاست یہودی کے ساتھ وہی برتاو ¿ روا رکھ سکتی ہے جو عیسائی ریاست کی خاصیت ہے۔اور وہ یہ ہے کہ وہ اسے مراعات فراہم کردے اور یہودی کو دوسرے شہریوں سے علیحدگی اختیار کرنے کی اجازت دے دے۔لیکن ساتھ ہی وہ یہودی کو معاشرے کے دیگر جدا گانہ حلقوں کا دباو ¿ سہنے پر مجبور بھی کرتی ہے۔اور وہ اسے بر ایں سبب اور زیادہ شدت سے محسوس کرتا ہے کہ وہ حکمران طبقے کے مذہب کے مخالف ہے۔لیکن یہودی کا ریاست کے ساتھ برتاو ¿بھی صرف یہودی طرز کا ہی ہو سکتا ہے۔وہ اس طرح کہ وہ اسے (عیسائی ریاست کو)اپنے سے کوئی اجنبی چیز سمجھے اور حقیقی شہریت کے مدِمقابل اپنی خیالی شہریت اور حقیقی قانون کے مدِمقابل اپنے خیالی قانون کو ترجیح دے،خودکو انسانیت سے جداکرنے میں حق بجانب سمجھے، ایک قاعدے کے مطابق تاریخی تحرک میں حصہ لینے سے اجتناب کر ے،ایک ایسے مستقبل پر بھروسہ کیے رہے جس کی انسانیت کے عمومی مستقبل کے ساتھ کوئی قدرِ مشترک نہیں ہے ،اورخود کو یہودی قوم کا فرد سمجھے اور یہودی قوم کو برگزیدہ قوم سمجھے۔
    یہودیو!پھر تم کس بناءپر آزادی کے خواہاں ہو؟اپنے مذہب کی بناءپر؟یہ ریاست کے مذہب کا مہلک دشمن ہے۔شہری ہونے کی حیثیت سے؟توجرمنی میں کوئی شہری نہیں ہیں۔انسان ہونے کی حیثیت سے ؟لیکن تم ان سے برتر انسان نہیں ہو جن سے تم یہ تقاضا کرتے ہو۔
    باو ¿ر نے یہود کی آزادی کے سوال کو اس کی سابقہ اشکال وتوضیحات کے تنقیدی تجزیے کے بعد ایک نئی شکل میں پیش کیا ہے ۔وہ پوچھتا ہے کہ اس یہودی کی کیا خاصیت ہونی چاہیے جسے آزاد ہونا ہے اور اس عیسائی ریاست کی کیا نوعیت ہونی چاہیے جس نے اسے آزاد کرنا ہے۔وہ اس کا جواب یہودی مذہب کی تنقید سے دیتا ہے۔وہ یہودیت اور عیسائیت کے درمیان مذہبی اختلاف کا تجزیہ کرتا ہے۔وہ عیسائی ریاست کی اصل کی وضاحت کرتا ہے۔اور وہ یہ وضاحت بڑے بے باک ،پُرز ور ،زیرک انداز اورگہرے فہم کے ساتھ ایک ایسے طرزِنگارش میں کرتا ہے جو اتنا ہی باصحت ہے جتنا کہ وہ مجمل اور جاندار ہے۔
    توپھر باو ¿ر مسئلہ یہود کو کیسے حل کرتا ہے؟اس کا حاصل کیا ہے؟سوال کی تشکیل ہی اس کا جواب ہے۔مسئلہ یہود کی تنقید ہی مسئلہ یہود کا جواب ہے۔
     تاہم اس کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے:
    ہمیںخود کو آزاد کرنا چاہیے قبل اس کے کہ ہم دوسروں کو آزاد کرسکیں۔
    یہودی اور عیسائی کے درمیان مخالفت کی انتہائی بے لوچ شکل مذہبی مخالفت ہے۔ایک مخالفت کو کیسے زائل کیا جاتاہے؟اسے ناممکن بنا کر۔مذہبی مخالفت کیسے ناممکن بنتی ہے۔مذہب کو منسوخ کر کے۔جیسے ہی یہودی او ر عیسائی یہ جان جائیں گے کہ ان کے متعلقہ مذاہب ذہنِ انسانی کے ارتقاءکے مختلف مراحل سے زیادہ کچھ نہیں ہیں ۔یہ کہ یہ سانپ کی مختلف کینچلیاں ہیں جنہیں تاریخ نے اتار پھینکا ہے اور یہ کہ انسان وہ سانپ ہے جس نے یہ کینچلیاں جھاڑی ہیں تو یہودی اور عیسائی کا تعلق مذہبی نہیں رہتا بلکہ یہ صرف ایک تنقیدی ،سائنسی اور انسانی تعلق بن جاتاہے ۔اس طرح سائنس ان کے اتحاد کو شکل دیتی ہے۔ لیکن سائنس کے تضادات کو خودسائنس ہی سلجھاتی ہے۔
    جرمنی کے عیسائی کو خاص طور پر سیاسی آزادی کی عمومی عد م موجودگی اور ریاست کے مبینہ عیسائی خاصے کا سامنا ہے۔تاہم باو ¿ر کی نظر میں مسئلہ یہود آفاقی معنویت کا حامل ہے جو جرمنی کے مخصوص حالات سے آزاد ہے۔یہ مذہب کے ریاست کے ساتھ تعلق اور مذہبی پابندی اور سیا سی آزادی کے درمیان تضاد کا مسئلہ ہے۔یہودی جو سیاسی طور پر آزاد ہونا چاہتا ہے اورریاست جو اس آزادی کو مو ¿ثر بناتی ہے اور جسے خود آزاد ہونا ہے دونوں کے لیے مذہب سے آزادی ایک (لازمی) شرط ہے۔
    ’بہت خوب‘یہ کہا گیا، اور خود یہودی یہ کہتا ہے،’یہودی بطور یہودی آ زاد نہیں ہوگا، نہ اس لیے کہ وہ یہودی ہے،نہ اس لیے کہ وہ ایسے شانداراور عالمگیر انسانی ضابطہ ¿ اخلاقیات کا حامل ہے ۔ اس کے برعکس یہودی شہری کے پیچھے پناہ لے لے اور ایک شہری بن جائے گا اگرچہ وہ ایک یہودی ہے اورایک یہودی ہی رہے گا۔ مطلب یہ کہ وہ یہودی ہے اور یہودی ہی رہے گا اگرچہ وہ ایک شہری ہے اورعمومی انسانی حالات میں رہتا ہے ۔اس کی یہودی اور پابند فطرت ہمیشہ اس کے انسانی اور سیاسی فرائض پربالآخرفتح مند رہتی ہے۔(اس کا )تعصب عمومی اصولوں کے ذریعے عریاں ہونے پر بھی باقی رہتا ہے۔لیکن اگر یہ باقی رہ جائے تو یہ دوسری ہر چیز کو عریاں کر دیتا ہے۔‘
    یہودی صرف دھوکہ دہی سے ،صرف ظاہر داری سے ریاست کی زندگی میں ایک یہودی کی حیثیت سے رہ پاتا۔اس طرح اگر وہ ایک یہودی رہنا چاہتا تو محض دکھاوا ہی اصلی بن جاتا اور ظفر مند رہتا۔مطلب یہ کہ ریاست میں اس کی زندگی محض ایک دکھاوایا اصلی اور قاعدے کا صرف ایک عارضی استثنیٰ ہی رہتی۔
(’دورِحاضر کے یہودیوں اور عیسائیوں کے آزاد ہونے کی صلاحیت۔‘Einundzwanzig Bogen, pp. 57)
    آئیے اب سنتے ہیں کہ دوسری جانب باو ¿ر ریاست کے فریضے کو کس انداز میں پیش کرتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ:’فرانس نے انہیں دنوں (ڈپٹیوںکی کونسل کی کارروائی۶۲دسمبر۰۴۸۱)میں مسئلہ یہود کے حوالے سے (جیساکہ یہ تما م دیگر سیاسی مسائل کے حوالے سے لگاتار کرتا آیا ہے)ہمیں ایک ایسی زندگی کی جھلک دکھائی ہے جو آزاد ہے،لیکن جو قانو ن کے ذریعے اپنی آزادی کی رد کر دیتی ہے ۔ اس طرح وہ اسے ایک دکھاواقرار دیتی ہے اور دوسری طرف اپنے آزاد قوانین کی اپنے عمل کے ذریعے تردید کر دیتی ہے۔(مسئلہ یہود،ص۴۶)
    ’فرانس میں ابھی عمومی آزادی کو قانون کا درجہ نہیں ملا ۔ابھی مسئلہ یہود بھی حل نہیں ہوا ۔کیونکہ قانونی آزادی (یعنی یہ حقیقت کہ تما م شہری برابر ہیں)بھی ابھی حقیقی زندگی میں پابندِ سلاسل ہے اور جس پر ابھی تک مذہبی ترجیحات کے تسلط اوربٹوارے کاحکم جاری ہے ۔اور حقیقی زندگی میں آزادی کا یہ فقدان قانون پر اثر انداز ہو تا ہے اورمو ¿خر الذکر کو شہریوں کو(جو کہنے کو آزاد ہیں) مجبوروں اور جابروںمیںتقسیم کرنے کی اجازت دینے پر مجبور کرتا ہے۔
    توپھر فرانس میں مسئلہ یہود کب حل ہوگا؟
    ’مثال کے طور پر یہودی، یہودی ہی نہ رہتااگر وہ خود کو اپنے قوانین کے ذریعے ا ن فرائض کی انجام دہی سے بچا نہ لیتاجو ریاست اور اس کے ساتھی شہریوںکی طرف سے اس پر عائد ہوتے ہیں۔ مثلاً اس کا ہفتے کوڈپٹیوںکی کونسل میں شامل ہونااور دفتری کارروائیوں میں حصہ لینا وغیرہ۔ ہر قسم کی مذہبی رعایت اور اس کے ساتھ ساتھ مراعات یافتہ کلیسا کی اجارہ داری کا قلع قمع ہو جاتا اور اگر پھر بھی کچھ لو گ یا حتیٰ کہ ایک غالب اکثریت بھی خو د کو مذہبی فرائض کی انجام دہی کا پابند سمجھتی تو ان کی انجام دہی کو اس ان کا نجی معاملہ قرار دے دیا جاتا۔‘
    ’جب کوئی مراعات یافتہ مذہب نہ رہے گا توکوئی بھی مذہب باقی نہ رہے گا ۔مذہب سے اس کی استثنائی قوت لے لو اور مذہب باقی نہ رہے گا۔‘(ص۶۶)
    ’جیسے مو سیو مارٹن ڈیو نارڈ نے قانون میں اتوار کے ذکر کے نظر انداز کرنے کو اس اعلان کا کنایہ سمجھا کہ اب عیسائیت کا وجود باقی نہیں رہا تو اسی بنا ءپر (اور اس توجیہہ کی بنیاد کافی مضبوط ہے )یہ اعلان کہ اب یہودیوں پر ہفتے کا قانون لاگو نہیں رہایہودیت کو ختم کرنے کااعلان ثابت ہو گا۔‘( ص۱۷)
    اس طرح باو ¿ر ایک طرف تو یہ مطالبہ کرتا ہے کہ مدنی آزادی کے حصول کے لیے یہودی اپنا مذہب ترک کر دے اور یہ کہ انسانیت بالعموم مذہب سے کنارہ کش ہو جائے۔دوسری طرف وہ بڑی ڈھٹائی سے اپنی اس رائے پر قائم ہے کہ مذہب کی سیاسی تنسیخ صرف ایک نام نہاد تنسیخ ہے۔وہ ریاست جو مذہب کو ایک امرِ لازم مان لیتی ہے وہ بھی سچی اور حقیقی ریاست نہیں ہوتی۔
    ’بلا شبہ مذہبی اعتقاد ریاست کو تحفظ مہیا کرتا ہے۔مگر کس ریاست کو؟کس نوع کی ریاست کو؟‘ص۷۹
    اس مقام پر مسئلہ یہود کی یک رخی تشکیل آشکار ہو جاتی ہے۔
    صرف اس بات کی تحقیق کسی لحاظ سے کافی نہیں تھی کہ :کس نے آزادی دینی ہے؟کسے آزاد کیا جانا ہے؟تجزیے میںایک تیسرے نکتے کہ تحقیق بھی ضروری تھی۔یہ جاناجانابھی ضروری تھا کہ کس نوع کی آزادی زیرِ بحث ہے؟کون سے حالات اس مطالبہ کردہ آزادی کی نوعیت سے بر آمد ہوتے ہیں؟صرف سیاسی آزادی کی تنقید ہی مسئلہ یہود اور اس کے ’اس دور کے عمومی مسئلے ‘میں حقیقی انضمام کی فیصلہ کن تنقید بن جاتی۔
    باو ¿ر سوال کو اس سطح تک نہیں اٹھاتاہے ۔وہ تضادات میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔وہ ایسی شرائط پیش کرتا ہے جو سیاسی آزادی کی نوعیت پر مبنی نہیں ہیں۔وہ ایسے سوال پیش کرتا ہے جو مسئلے کا حصہ نہیں ہیںاور وہ ایسے مسائل کو حل کرتا ہے جو اس سوال کو اَن سلجھا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔جب باو ¿ر یہودی آزادی کے مخالفوں کے بارے میں کہتا ہے:’ان کی خطا صرف یہ تھی کہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ عیسائی ریاست ہی واحد سچی (ریاست )تھی اور وہ اسے اس تنقید کے ماتحت نہیں سمجھتے تھے جس کا اطلاق وہ یہودیت پر کرتے تھے‘(ص۳) تو ہم یہ پاتے ہیں کہ باو ¿ر کی خطا اس حقیقت میں مضمر ہے کہ وہ صرف ’عیسائی ریاست‘کو ہی تنقید کے تحت لاتا ہے نہ کہ صرف ’ ریاست‘کو،یہ کہ وہ سیاسی آزادی کے ساتھ انسانی آزادی کے تعلق کی تحقیق نہیں کرتا اور اس طرح وہ ایسی شرائط پیش کرتا ہے جن کی وضاحت صرف سیاسی آزادی کے عمومی انسانی آزادی کے ساتھ غیر تنقیدی الجھاو ¿کی ذریعے ہی کی جا سکتی ہے۔اگر باو ¿ر یہودیوں سے استفسار کرتا ہے:”کیاتمھیں،تمھارے نقطہ ¿ نظر سے ،سیاسی آزادی کے مطالبے کا حق حاصل ہے؟“تو ہم اس سے برعکس سوال پوچھتے ہیں:کیا سیاسی آزادی کا نقطہ ¿ نظر یہودی سے ترکِ یہودیت اور انسان سے ترکِ مذہب کے مطالبے کا حق دے سکتا ہے؟
    مسئلہ یہود کی نوعیت کا انحصار اس ریاست پر ہے جس میں ایک یہودی سانس لے رہا ہوتا ہے۔جرمنی میں،جہاں کوئی سیاسی آزادی نہیں ہے ،بلکہ سرے سے ریاست ہی نہیں ہے،مسئلہ یہود کی نوعیت خالصتاً الٰہیاتی ہے۔یہود ی کواس ریاست میں مذہبی مخالفت کا سامنا ہوتا ہے جو عیسائیت کو اپنی اساس مانتی ہے۔ےہ رےاست دعویٰ تو مذہبی ہونے کا کرتی ہے۔یہاں کی تنقید الٰہیاتی تنقید ہے،ایک دو دھاری تنقید ہے۔یعنی یہ عیسائی الٰہیات اور یہودی الٰہیات کی تنقیدہے۔اس طرح ہم الٰہیات کے دائرے میں ہی عمل کار رہتے ہیں چاہے ہم اس میں جس حد تک بھی تنقیدی انداز میں عمل کاری کریں۔
    فرانس میں، جو کہ ایک آئینی ریاست ہے ، مسئلہ یہودآئین سازی کا مسئلہ ہے۔یعنی سیاسی آزادی کی عدم تکمیل کا مسئلہ ہے۔چونکہ یہاں ریاستی مذہب کے دکھاوے کو برقرار رکھا گیا ہے ،اور اگرچہ ایسا بے وقعت اور برخود متضاد فارمولے یعنی اکثریت کے مذہب کی صور ت میں کیا گیا ہے ،اس لیے یہودی کا ریاست کے ساتھ تعلق مذہبی اور الٰہیاتی مخالفت کے دکھاوے کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔
    صرف شمال امریکی ریاستوں میں (کم از کم، ان میں سے کچھ میں)مسئلہ یہود اپنی الٰہیاتی اہمیت کھودیتا ہے اور ایک حقیقتاً غیر مذہبی مسئلہ بنتا ہے۔صرف جہاں سیاسی ریاست اپنی مکمل طور پر ترقی یافتہ شکل میں موجود ہے یہودی اور عمومی لحاظ سے مذہبی آدمی اور اس طرح مذہب کا ریاست کے ساتھ تعلق خود کو اپنے مخصوص خاصے یعنی اپنے خالص پن میں ظاہر کر سکتا ہے۔جیسے ہی ریاست مذہب کے متعلق ایک الٰہیاتی رویہ اختیار کرناترک کردیتی ہے اور جیسے ہی وہ مذہب سے ایک ریاست کے طور پر یعنی سیاسی طور پر نبٹنا شروع کرتی ہے اس تعلق کی تنقید الٰہیاتی تنقید کے زمرے سے باہر نکل جاتی ہے۔تنقید پھر سیاسی ریاست کی تنقید بن جاتی ہے۔اس مقام پر کہ جہاںمسئلہ الٰہیاتی نہیں رہتا باو ¿ر تنقیدی نہیں رہتا۔
    ’امریکہ میںنہ تو کوئی ریاستی مذہب ہے نہ کسی مذہب کو اکثریت کامذہب قرار دیا گیا ہے اور نہ ہی ایک فرقے کا دوسرے پرغلبہ۔ریاست تمام فرقوں سے دور رہتی ہے۔‘
(Marie ou l’esclavage aux Etats-Unis, etc., by G. de Beaumont, Paris, 1835, p. 214)
    درحقیقت کچھ شمالی امریکی ریاستیں ایسی ہیں جہاں’آئین سیاسی حقوق کی شرط کی بطورکسی مذہبی اعتقاد یا مذہبی قاعدے کی لاگو نہیں کرتا۔‘(ص۵۲۲)
    اس کے باوجود ،’امریکہ میں بھی لوگ یہ ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ ایک بے مذہب انسان دیانتدار ہو سکتا ہے۔‘(ص۴۲۲)
    اس کے باوجود امریکہ بین طور پر ایک مذہب پرست ملک ہے۔ بیو مونٹ،ٹکیوولی اور انگریز ہیملٹن ہمیں اتفاقِ رائے سے یقین دہانی کراتے ہیں۔اس طرح شمال امریکی ریاستیں ہمارے لیے ایک مثال کا درجہ رکھتی ہیں۔سوال یہ ہے کہ :مکمل سیاسی آزادی کا مذہب کے ساتھ کیا تعلق ہے؟اگر ہمیں یہ شواہد ملتے ہیں کہ ایک مکمل سیاسی آزادی والے ملک میں بھی مذہب نہ یہ کہ موجود ہے بلکہ وہ ایک تازہ دم اور جاندار رنگِ حیات کا اظہار بھی کرتاہے تویہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مذہب کاوجود ریاست کے کمال کے متضاد نہیں ہے۔ تاہم چونکہ مذہب کا وجود نقص کے وجود کی علامت ہے اس لیے اس نقص کوخود ریاست کی نوعیت میں ہی تلاش کیا جاسکتا ہے۔ہم مذہب کو سبب کے بطور نہیں بلکہ سیکولر تنگ نظری کے اظہار کے بطور دیکھتے ہیں۔اس لیے ہم آزاد شہری کی مذہبی خامیوں کی وضاحت ان کی سیکولر خامیوں کے ذریعے کرتے ہیں۔ہم اس کی تاکید نہیں کرتے کہ انہیں ان کی سیکولر پابندیوں سے چھٹکارا پانے کے لیے ان کی مذہبی تنگ نظری پر قابو پانا چاہیے۔ ہم اس پر زور دیتے ہیں کہ ایک بار وہ اپنی سیکولر پابندیوںسے نجات پا لیں تو وہ اپنی مذہبی تنگ نظری پر قابو پا لیں گے۔ہم سیکو لر سوالوں کو الٰہیاتی سوال نہیں بناتے۔ تاریخ کو کافی عرصہ پہلے توہمات سے گڈمڈ کردیا گیا تھا،ہم اب توہمات کو تاریخ میں گڈ مڈ کرتے ہیں۔ہمارے لیے سیاسی آزادی کے مذہبی آزادی کے ساتھ تعلق کا سوال سیاسی آزادی کے انسانی آزادی کے ساتھ تعلق کا سوال بن جاتا ہے۔ہم سیاسی ریاست پر اس کی سیکولر شکل (جس کامذہب کے حوالے سے اس کی خامیوںسے کوئی سروکار نہیں) میں تنقیدکر کے اس کی مذہبی خامی کو ہدفِ تنقید بناتے ہیں۔ ریاست اور ایک خاص مذہب،مثلاًیہودیت،کے درمیان تضاد کو ہم ریاست اور مخصوص سیکو لر عناصر کے درمیان تضاد (یعنی ریاست اور مذہب کے مابین تضاد کوریاست اور اس کے عوامل کے درمیان تضاد )کے بطور ایک انسانی شکل دیتے ہیں۔
    یہودی ،عیسائی اور عمومی طور پر مذہبی آدمی کی سیاسی آزادی، ریاست کی یہودیت ،عیسائیت اور عمومی طور پر مذہب سے آزادی کے برابرہے۔خو د اپنی شکل میں اوراس انداز میں جو اس کی نوعیت کا خاصہ ہے ریاست بطورریاست خود کو ریاستی مذہب سے آزاد کر کے مذہب سے آزادی پاتی ہے۔مطلب یہ کہ ریاست بطور ریاست کسی مذہب کی دعویدار نہیں بنتی بلکہ برخلاف اس کے وہ خود کوبطور ریاست متعارف کراتی ہے۔مذہب سے سیاسی آزادی کوئی مذہبی آزادی نہیں ہے جسے کمال تک پہنچایا گیا ہے اور جوتضاد سے آزاد ہے کیونکہ سیاسی آزادی انسانی آزدای کی ایسی شکل نہیں ہے جسے کمال تک پہنچایا گیا ہے اور جو تضادسے آزاد ہے۔
    سیاسی آزادی کی خامیاں اس حقیقت سے بیک وقت آشکار ہیں کہ ریاست خود کو ایک پابندی سے آزاد کراسکتی ہے جبکہ ہو سکتا ہے کہ انسان اس پابندی سے حقیقتاًآزاد نہ ہو پائے۔یہ کہ انسان کے ایک آزاد انسان ہوئے بغیر بھی ریاست ایک جمہوریہ(یہاںلفظ freistaatکا استعمال ذو معنی ہے جس کا ایک مفہوم نرا دکھاواا وردوسرا جمہوریہ ہے)ہو سکتی ہے۔خود باو ¿ر اس کا بن کہے اعتراف کرتا ہے جب وہ سیاسی آزادی کے لیے ذیل رقم شرط عائد کرتا ہے:
’ہر مذہبی رعایت اور اس طرح مراعات یافتہ کلیسا کی اجارہ داری بھی کلیتاًکالعدم ہو جائے گی اور اگر کچھ یابہت سے لوگ یا ایک غالب اکثریت پھر بھی خودکو مذہبی فرئض کی ادائیگی کا پا بندسمجھتی ہے تو ان کی ادائیگی کو ان پر ان کے خالصتاً نجی معاملے کے بطور چھوڑ دینا چاہیے۔ ©‘(مسئلہ یہود،ص۵۶)
تاہم ریاست کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ خود کو مذہب سے آزاد کروا لے جبکہ(افراد کی) ایک غالب اکثریت ابھی بھی مذہبی ہو۔اور یہ غالب اکثریت نجی سطح پر مذہبی ہوتے ہوئے مذہبی ہی رہتی ہے ۔
    لیکن،ریاست اور خاص کر جمہوریہ (free state )کا مذہب سے متعلق رویہ با لآخر ان انسانوںکا رویہ ہی ہو سکتا ہے جو ریاست کو تشکیل دیتے ہیں۔اس سے یہ نتیجہ اخذ ہو تا ہے کہ انسان مذہب کے توسط سے خود کو آزاد کرتا ہے۔یہ کہ وہ سیاسی طور پر اپنے آپ کو ایک پابندی سے تب آزا د کر پاتا ہے جو وہ اپنی ذات کے متضاد خود کو اس پابندی سے ایکتجرےدی ،محدود اور جانب دار انداز میں بلند کر لیتا ہے۔اس سے مزید یہ نتیجہ اخذ ہو تا ہے کہ خود کو سیاسی طور پر آزادکرنے میں انساں خود کو ایک گول مول انداز میں(یعنی ایک واسطے ،اگرچہ ایک لازمی واسطے کے ذریعے) آزاد کر پاتا ہے۔ قصہ کوتاہ کہ اگر انسان ریاست کے واسطے سے ایک لادین ہونے کا دعویٰ بھی کر دے (مطلب یہ کہ اگروہ ریاست کے لادین ہونے کا دعویٰ بھی کر دے) تو بھی وہ مذہب کی گرفت میں ہی رہتاہے بوجہ اس کے کہ وہ ایسا دعویٰ ایک گول مول انداز میں، ایک واسطے کے توسط سے کرتا ہے۔مذہب درحقیقت انسان کی ایک گول مول انداز میں ،ایک واسطے کے توسط سے شناخت ہی تو ہے۔ ریاست انسان اور انسان کی آزادی کے درمیان ایک واسطے کا کر دار انجام دیتی ہے۔جیسے مسیح ایک واسطہ ہے جسے انسان اپنی تمام تر الٰہیات اور اپنی تمام تر مذہبی پابندی کا بھارسونپ دیتا ہے۔بعینہ ریاست ایک ایسا واسطہ ہے جسے انسان اپنا تمام تر دہر پن اور اپنی تمام تر انسانی پابندی کا بھار سونپ دیتاہے۔
    مذہب سے انسان کا سیاسی ارتفاع عمومی سیاسی ارتفاع کے تما م نقائص اور مفائد کا بھاگی دار بن جاتاہے۔ریاست، بطورریاست نجی ملکیت کو منسوخ کرتی ہے تو انسان سیاسی ذرائع سے یہ اعلان کر دیتاہے کہ نجی ملکیت تبھی منسوخ ہو جاتی ہے جب منتخب کرنے اور کیے جانے کے حق کے لیے ملکیت کی شرط منسوخ ہوجا تی ہے جیسا کہ شمالی امریکہ کی کئی ریاستوں میں ہوا۔ہیملٹن نے بڑے صحیح انداز میں اس حقیقت کی سیاسی نقطہ ¿ نظر سے ان الفاظ میں تشریح کی ہے:
”عوام نے ملکیت داروں اور مالیاتی دولت پر فتح حاصل کر لی ہے۔“(ٹامس ہیملٹن،امریکہ میں اشخاص و اطوار،جلد دوم،ایڈن برگ،۳۳۸۱ئ،ص۶۴۱)
    کیا نجی ملکیت تصورا ً ختم نہیںہوجاتی اگر محروم ملکیت ،ملکیت دارکے لیے قانون سازبن جائے۔ووٹ کے لیے ملکیت کی شرط نجی ملکیت کو تسلیم کرنے کی آخری سیاسی شکل ہے۔
    اس کے باوجودد نجی ملکیت کی سیاسی تنسیخ نہ صرف نجی ملکیت کو منسوخ کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے بلکہ وہ اس کی پےش قےاسی بھی کرتی ہے۔ریاست اپنے طریقے سے نسب ،سماجی رتبے،تعلیم او ر پیشے کے امتیاز ات کو ختم کرتی ہے جب وہ یہ اعلان کرتی ہے کہ نسب ،سماجی رتبہ ، تعلیم اور پیشہ غیر سیاسی امتیازات ہیں، جب وہ ان امتیازات کو خاطرمیں نہ لاتے ہوئے یہ اعلان کرتی ہے کہ قوم کا ہر فرد قومی اقتدار میں برابرکا حصے دار ہے اور جب وہ قوم کی حقیقی زندگی کے تمام عناصر کے ساتھ ریاست کے نقطہ ¿ نظرسے پیش آتی ہے ۔ اس کے باوجود ریاست نجی ملکیت، تعلیم اور پیشے کوا ن کے اپنے انداز میں (یعنی بطور نجی ملکیت، بطور تعلیم اور بطور پیشہ) عمل کرنے اور ان کی مخصوص نوعیت کے اثرو رسوخ کواستعمال کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ان حقیقی امتیازات کو ختم کر نا تو کجا رہا خود ریاست کاوجود ہی ان کے وجود کو امرِ لازم قرار دینے پر منحصر ہوتاہے۔وہ صرف اپنے وجود کے ان عناصرکے مخالفت میں ہی خود کو ایک سیاسی ریاست سمجھتی ہے اور اپنی آفاقیت کی تصدیق کر تی ہے۔تاہم ہیگل سیاسی ریاست اور مذہب کے تعلق کی بڑے صحیح انداز میں وضاحت کرتا ہے جب وہ کہتا ہے :
ریاست کوخےال(سپرٹ) کی ایک خود شناس اور اخلاقی حقیقت کے بطور وجود میں آنے کے لیے اس کا(مذہبی)سند اور عقیدے کی بنت سے گریز لازمی ہے۔لیکن یہ فرق صرف اتنا ہی ظہور پذیر ہوتا ہے جتنا کے کلیسائی پہلو اپنی ذات میں مفارقت کی پہنچتا ہے۔صرف اسی طرز میں ریاست نے ،مخصوص کلیساو ¿ں سے بالا، خیال کی کلیت(جو اس کی بنت کااصول ہے) حاصل کی ہے اور اسے وجود میں لائی ہے۔(ہےگل کا فلسفہ ¿ حق،بارِ اول،ص۶۴۳)
بلا شبہ ،صرف اسی انداز میں ریاست،جزئےاتی عناصرسے بالا،خود کوایک کلیت کے بطور تشکیل دےتی ہے۔
    اپنی نوعیت میں ایک مثالی سیاسی ریاست انسان کی نوعی حیات ہے جواس کی مادی حیات کے برخلاف ہے۔انا ئی زندگی کے تما م لازمات ریاست کے دائر ے کے باہر مدنی معاشرے میں(صرف مدنی معاشرے کے خاصوں کے بطور)اپنا وجود بر قرار رکھتے ہیں ۔جہاں سیاسی ریاست اپنا سچا ارتقاءپا لیتی ہے انسان (نہ صرف خیا ل میں،شعور میں بلکہ حقیقت میں ،زندگی میں)ایک دہری زندگی بسر کرنے لگتا ہے۔ ایک سماوی اور دوسری ارضی زندگی۔مطلب یہ کہ ایک تو اس کی سیاسی معاشرت میں زندگی ہے جس میں وہ خود کو ایک معاشرتی ہستی تصور کیا ہے اور دوسری مدنی معاشرے میں زندگی ہے جس وہ ایک نجی فرد کی حیثیت سے عمل کار ہو تا ہے، دوسرے انسانوں کو ایک ذریعہ سمجھتا ہے ، ایک ذریعہ بن کر خود اپنی تحقیر کرتا ہے اور اجنبی قوتوں کی کٹھ پتلی بن جاتا ہے۔ سیاسی ریاست کا مدنی معاشرے کے ساتھ تعلق اتنا ہی روحانی ہے جتنا کہ آسمان کا زمین کے ساتھ ہے۔سیاسی ریاست کا مدنی معاشرے کے ساتھ ویساہی اختلاف ہوتاہے اور یہ مو ¿خرالذکر پر ویسے ہی بالا دست ہوتی ہے جیسے مذہب سیکولر دنیا کی تنگ دامانی پر بالا دست ہوتا ہے۔یعنی یہ (سیاسی ریاست)بالکل اسی (مذہب)کی طرح اسے (مدنی معاشرے کو) تسلیم کرتی ہے،اسے بحال کرتی ہے اور خود کو اس کامغلوب ہو نے دیتی ہے۔اپنی انتہائی غیر ارتباطی حقیقت میں،مدنی معاشرے میں،انسان ایک سیکولر ہستی ہے۔یہاں، کہ جہاں وہ خود کو ایک حقیقی فرد سمجھتاہے اور دوسرے بھی اس ایسا ہی سمجھتے ہیں، وہ ایک بناوٹی مظہر ہے۔ دوسری طرف ، ریاست میں ،جہا ں انسان کو ایک نوعی ہستی سمجھا جاتا ہے ،وہ ایک باطل اقتدار کا فرضی رکن ہے ، اپنی حقیقی انفرادی زندگی سے محروم ہے اور ایک غیرحقیقی کلیت سے سرفراز ہے۔
    ایک خاص مذہب سے وابستہ انسان اپنے آپ کو اپنی شہریت اور معاشرت کے ارکان کی حیثیت کے دوسرے انسانوں سے تصادم میں پاتا ہے۔یہ تصادم خود کو سیاسی ریاست اور مدنی معاشرے کے مابین سیکولر تقسیم کی حد تک گھٹا لیتا ہے ۔کیونکہ ایک بورژوا (یعنی مدنی معاشرے،یا جرمنی کے ”بورژوا معاشرے“ کے رکن)کی حیثیت سے انسان کے لیے ”ریاست کی زندگی صرف ایک دکھاو ایا لازمی اور ضابطے سے ایک عارضی استثنا ہے۔“ بلا شبہ بورژوا ،یہودی کی طرح ،سیاسی زندگی کے دائرے میں ریاکاری سے رہتا ہے جیسے کہ شہری citoyen (فرانسیسی میں ’شہری‘یعنی سیاسی زندگی میں شریک )صرف ریا کاری سے یہودی یا بورژوا بنا رہتا ہے۔لیکن یہ ریا کاری شخصی نہیںہے ۔یہ بذات خود سیاسی ریاست کی ریا کاری ہے۔تاجر اور شہری کے مابےن فرق، دےہاڑی دار مزدور اور شہری کے مابےن فرق، زمےندار اور شہر ی کے مابےن فرق، تاجر اور شہری کے مابےن اور زندہ قائم فرد اور شہری کے مابےن فرق۔مذہبی آدمی خود کو سیاسی آدمی سے جس تضا د میں پاتاہے وہ وہی تضاد ہے جس میں بورژوا خود کو شہریcitoyen اور مدنی معاشرے کا رکن اپنے سیاسی lion’s skinسے متضاد پاتا ہے۔
    یہ سیکولرتضاد (جس تک مسئلہ یہود بالآخر محدود ہوجاتاہے)سیاسی ریاست اور اس کے لازمات (چاہے وہ مادی عناصر جیسے ملکیت وغیرہیںیا روحانی عناصر جیسے ثقافت اور مذہب وغیرہ ہیں)کے مابین تعلق،اجتماعی اور نجی مفاد کے مابین اختلاف اور سیاسی ریاست اور مدنی معاشرے میں پھوٹ ،ان سیکولر تضادات کو باو ¿ر برقرار رہنے دیتا ہے۔جبکہ وہ ان کے مذہبی اظہار کی ہدفِ تنقید بناتا ہے۔
”یہ مدنی معاشرے کی بنیادہی (یعنی وہ ضرورت جوا س معاشرے کی بقاءکی یقین دہانی کراتی ہے اور اس کی لازمیت کی ضمانت دیتی ہے) ہی ہے جو اس کے وجود کی مسلسل خطرے میں رکھتی ہے، اس میں ایک عدم تیقن کے عنصر کی برقرار رکھتی ہے اور غربت اور امارت،بدحالی اور خوشحالی کا ہمہ وقت انقلاب پذیر آمیزہ تیار کرتی ہے۔اور مجموعی تبدیلی کا باعث بنتی ہے۔“(ص۸)
    اس پورے حصے یعنی ’مدنی معاشرہ‘ (ص۸،۹)کا موازنہ کریں جسے ہیگل کے فلسفہ ¿ قانون کے بنیادی خطوط کے متوازی وضع کیا گیا ہے ۔مدنی معاشرے کو اس کے سیاسی ریاست کے ساتھ اختلاف میں لازمی تسلیم کیا جاتا ہے کیونکہ سیاسی ریاست کو لازمی تسلیم کیاجاتاہے۔
    سیاسی آزادی بلاشبہ ایک بڑی پیش رفت ہے ۔سچ یہ ہے کہ یہ مجموعی انسانی آزادی کی حتمی شکل نہیںہے۔لیکن یہ موجود نظامِ جہاں میں انسانی آزادی کی حتمی شکل ضرور ہے۔یہ کہنے کی چنداں ضرورت نہیں کہ یہاں ہم حقیقی ، عملی آزادی کی بات نہیں کر رہے۔
    انسان مذہب کو عوامی قانون سے نجی قانون میں بے دخل کر کے خود کو سیاسی طور پرآزاد کر تا ہے۔اب مذہب ریاست کی روحِ رواں نہیںرہاجس(ریاست) میں انسان ایک نوعی ہستی کے بطور اور دوسرے انسانوں کے ساتھ اشتراک میںعمل کار ہو تا ہے(اگرچہ وہ ایسا ایک محدود طریقے سے،ایک مخصوص شکل میں اور ایک محدود دائرہ عمل میں کرتا ہے )۔مذہب مدنی معاشرے اور انانیت کے دائرہ عمل اور ہر کسی کی ہر کسی کے ساتھ جنگ کی روحِ رواں بن گیاہے ۔اب یہ اشتراک کی اصل نہیں رہا بلکہ اختلاف کی اصل بن گیا ہے۔اب یہ انسان کی اپنی معاشرت ، اس کی اپنی ذات اور دوسرے انسانوں سے علاحدگی کا اظہار بن گیا ہے جیسا کے یہ ابتداءمیں تھا۔یہ صرف خاص ہٹ دھرمی ، شخصی ترنگ اور من مانی کا علانیہ ہے۔مثال کے طور پر شمالی امریکہ میں مذہب کی لاانتہا فرقہ بندی نے اسے خارجی طور پربھی ایک خالصتاًشخصی معاملے کی شکل دے دی ہے۔اسے ذاتی مفادات کی بھیڑ میں جھونک دیا گیا ہے اور اسے معاشرت سے خارج کر دیا گیاہے۔لیکن ہمیں سیاسی آزادی کے بارے میں کسی وہم میں مبتلا نہیں رہنا چاہیے۔انسان کی سماجی آدمی اور نجی آدمی میں تقسیم،مذہب کی ریاست سے مدنی معاشرے میں بے دخلی،یہ سیاسی آزادی کا کوئی مرحلہ نہیں ہے بلکہ اس کی تکمیل ہے۔تاہم یہ آزادی نہ تو انسان کی حقیقی مذہب پرستی کی بے دخل کرتی ہے اور نہ ہی ایسا کرنے کی کو شش کر تی ہے۔
    انسان کی یہودی اور شہری ،پروٹسٹنٹ اور شہری،مذہبی آدمی اور شہری میں تقسیم نہ تو شہریت کے خلاف کوئی دغا ہے نہ ہی یہ سیاسی آزادی کا کوئی جھانسا ہے۔یہ بذاتِ خود سیاسی آزادی ہے اور خود کو مذہب سے آزاد کرانے کا سیاسی حیلہ ہے۔بلا شبہ ان ادوار میں کہ جب سیاسی ریاست بڑے پُر تشدید انداز میں برآمد ہوتی ہے ،جب سیاسی نجات وہ صورت بنتی ہے جس میں انسان اپنی آزادی کی جدو جہد اور اس کا حصو ل کرتے ہیں،تو ریاست مذہب کی تنسیخ اور اس کی تباہی تک بھی جا سکتی ہے۔اوراسے ایسا کر بھی دینا چاہیے۔لےکن ےہ اےسا تب ہی کر سکتی ہے جب ےہ ذاتی ملکےت کا زےادہ سے زےادہ خاتمہ کر دے، ضبطی کرے، درجہ بدرجہ ٹےکس لگائے، بالکل اسی طرح جےسے ےہ موت کی سزا کو ختم کر دےتی ہے۔
    اپنے مخصوص خود اعتمادی کے ادوار میں سیاسی زندگی اپنے لازمے یعنی مدنی معاشرے اور اس معاشرے کے تشکیلی عناصر کو منسوخ کرنے اور خود کو تضادات سے پاک انسان کی حقیقی نوعی حیا ت بنانے کے لیے تگ و دو کر تی ہے۔لیکن وہ ایسا کرنے میں صرف اس کی اپنی شرائط ِ حیات سے تباہ کن تضاد اور انقلاب کو دائمی قرار دے کر ہی کامیاب ہو سکتی ہے۔اوراس طرح یہ سیاسی ڈراما مذہب ، ذاتی ملکیت اور مدنی معاشرے کے تمام عناصر کی بحالی پر انجام پذیر ہو تا ہے ،بعینہ جیسے جنگ امن پر انجام پذیر ہو تی ہے۔
    درحقیقت ایک مثالی عیسائی ریاست کو ئی ایسی نام نہاد عیسائی ریاست نہیں ہے جو عیسائیت کو اپنی بنیاد او ر اپنا ریاستی مذہب تسلیم کر تی ہے او ر اس طرح دوسرے مذاہب کے متعلق ایک استثنائی رویہ اختیار کرتی ہے۔اس کے برخلا ف مثالی عیسائی ریاست لادین ریاست ،جمہوری ریاست اور ایک ایسی ریاست ہے جو مذہب کے مقام کو مدنی معاشرے کے دوسرے عناصر کے درجے تک گھٹا دیتی ہے۔ وہ ریاست جوا بھی تک الٰہیاتی ہے اور ابھی بھی عیسائیت کو اپنا دھرم تسلیم کرتی ہے ،جو ابھی بھی اپنے آپ کو ایک ریاست قرار دینے کی جرا ¿ت نہیں کرتی وہ ریاست کے بطور اپنی حقیقت میںا بھی تک انسانی اساس (جس کا عیسائیت بلندبانگ اظہار ہے)کا ایک سیکولر انسانی شکل میں اظہار کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ یہ نام نہاد عیسائی ریاست محض ایک نا ریاست سے زیادہ کچھ نہیں۔کیونکہ یہ ایک مذہب کے بطور عیسائیت نہیں ہے بلکہ عیسائی مذہب کا انسانی پس منظر ہے جو انسانی تخلیقات میں اپنا اظہار پاتا ہے۔
    یہ نام نہاد عیسائی ریاست عیسائیت کی تردید تو ہے لیکن یہ کسی بھی اعتبار سے عیسائیت کی سیاسی تکمیل نہیںہے۔وہ ریاست جو عیسائیت کو مذہب کے بطور تسلیم کرتی ہے وہ بھی ابھی اس صورت میں تسلیم نہیں کرتی جو ریاست کے لیے موزوں ہے۔ کیونکہ ابھی بھی اس کا مذہب سے متعلق رویہ مذہبی ہی ہے۔مطلب یہ کہ یہ مذہب کی انسانی اساس کا سچااطلاق نہیں ہے کیونکہ وہ ابھی تک انسانی مرکزِ ذات کی غیر حقیقی اور فرضی اساس پر بھروسہ کیے ہوئے ہے ۔یہ نام نہاد عیسائی ریاست نامکمل ریاست ہے اور عیسائی مذہب کو اپنی اس عدم تکمیل کی تضمین و تقدیس سمجھتی ہے۔تاہم عیسائی ریاست کے لیے مذہب لازمی طور پر ایک ذریعہ بن جاتا ہے ۔ اس لیے یہ ایک مبنی بر منافقت ریاست ہے۔ان باتوں میں بڑا فرق ہے کہ آیا مکمل ریاست ،اپنی مجموعی نوعیت میں موجود نقص کی وجہ سے ،مذہب کو اپنے لازمات میں شامل کرتی ہے یا کہ نا مکمل ریاست ایک ناقص ریاست کے بطور اپنے جزوی وجود میں نقص کی وجہ سے یہ اعلان کرتی ہے کہ مذہب ہی اس کی اساس ہے۔مو ¿خر الذکر صورت میں مذہب نا پختہ سیا ست بن جاتاہے ۔اول الذکر صورت میں تکمیل یافتہ سیاست کی عدم تکمیل بھی مذہب میں آشکار ہو جاتی ہے۔اس نام نہاد عیسائی ریاست کو اپنے آپ کو ریاست کے بطور مکمل کرنے کے لیے مذہب کی ضرورت ہے ۔جمہوری ریاست، یعنی حقیقی ریاست کو اپنی سیاسی تکمیل کے لیے مذہب کی ضرورت نہیں ہوتی۔اس کے بر عکس یہ مذہب کو نظر انداز کر سکتی ہے کیونکہ اس میں مذہب کی انسانی اساس کو سیکو لراند از میںپایا جاتا ہے۔ دوسری طرف نام نہاد عیسائی ریاست کا مذہب سے متعلق رویہ سیاسی ہوتا ہے اور سیاست کے متعلق رویہ مذہبی ہوتا ہے۔ ریاست کی اشکال کو محض دکھاوے کی سطح تک پست کر کے یہ اسی طرح مذہب کو بھی ایک دکھاوابنا دیتی ہے۔
    اس تضاد کی مزید واضح کرنے کے لیے آئیں ہم باو ¿ر کے عیسائی ریاست کے خاکے پر غور کرتے ہیں۔یہ ایسا خاکہ ہے جو اس کے جرمن عیسائی ریاست کے مشاہدے پر مبنی ہے۔
    باو ¿ر کہتاہے :
” انہی دنوں میں عیسائی ریاست کی عدم امکان یا عدم وجود کو ثابت کرنے کے لیے گوسپل کے ان ارشادات کا کثرت سے حوالہ دیا گیا ہے جن سے (عہدِ حاضرہ) کی ریاست مطابقت نہیں رکھتی۔لیکن وہ ان سے مطابقت رکھ ہی نہیں سکتی اگر وہ (بطور ایک ریاست)خود کو مکمل طور پر تحلیل نہیں کرنا چاہتی۔لیکن اس معاملے سے اتنی آسانی سے نبٹا نہیں جاسکتا۔گوسپل کے یہ ارشادات کیا تقاضا کرتے ہیں؟ذات کی فوق العادت نفی،وحی کی سند کی اطاعت ،ریاست سے احتراز اور سیکولر حالات کی تنسیخ۔تو پھر عیسائی ریاست ان سب کا تقاضا اور تکمیل کرتی ہے۔اس نے گوسپل کی رو ح کی جذب کر لیا ہے اور اگریہ اس روح کو گوسپل کے اپنے الفاظ میں پیش نہیں کرتی تو ایسا اس لیے ہے کہ یہ اس روح کو سیاسی بنتروں میں پیش کرتی ہے۔یعنی ایسی بنتروں میں جو،یہ سچ ہے کہ ،اس دنیا میں سیاسی نظام سے اخذ کی گئی ہیںلیکن جو اس مذہبی باز جنم میں ،جس سے انہیں گزرنا پڑا،محض دکھاوے کی سطح تک گھٹ گئیں ہیں۔یہ ریاست کی تکمیل کے لیے ان سیاسی بُنتروںکو استعمال کرتے ہوئے ریاست سے احتراز ہے۔(ص۵۵)
    پھر باو ¿ر یہ وضاحت کرتا ہے کہ عیسائی ریاست کی قوم ایک نا قوم ہے۔اس کا اپنا کوئی ارادہ نہیںہے اوراس کا حقیقی وجود اس کے رہنما میں مضمر ہے جس کی یہ مطیع ہے ۔ اگرچہ رہنما اپنی اصل اور نوعیت کے اعتبار سے اس (قوم) سے مغیر ہے ،یعنی وہ خدا کا منتخب کردہ او راس کی طرف سے کسی معاونت کے بغیر مسلط ہے۔باو ¿ر دعویٰ کرتا ہے کہ اےسی اقوام کے قوانےن خود ان کی تخلےق نہےں بلکہ حقےقتاً الہامی نزول ہےں
اوریہ کہ اس کے سر براہِ اعلیٰ کواپنے اور عوام سے تعلق بنانے کے لئے مراعت ےافتہ لوگ درکار ہےںاور یہ کہ یہ عوام بذاتِ خود مختلف گروہوں کی مجموعے میں بٹے ہوتے ہیں اور ان کی تشکیل اور تعیین اتفاق پر ہوتی ہے۔ان (گروہوں )کا امتیاز ان کے مفادات اور ان کی خاص خواہشات و تعصبات پر مبنی ہوتا ہے اور وہ ایک استحقاق کے بطور ایک دوسرے سے جدا ہونے کی اجازت حاصل کرتے ہیں۔
تاہم خودباو ¿ر کہتا ہے :
”سیاست ، اگر وہ مذہب کے سوا کچھ نہیں،توا سے سیاست نہیں ہو نا چاہیے ۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ اگر کیتلی کی صفائی کو مذہبی معاملہ مان لیا جائے تو اسے خانہ داری کا معاملہ نہیں ہو نا چاہیے۔“(ص۸۰۱)
تاہم جرمن عیسائی ریاست میں مذہب اسی طرح کا ایک ’معاشی معاملہ“ہے جیسے کہ ”معاشی معاملات“مذہب کے دائرہ عمل سے تعلق رکھتے ہیں۔جرمن عیسائی ریاست میں مذہب کی بالا دستی،بالا ستی کا مذہب ہے۔
    ’گوسپل کی روح‘ کی ’گوسپل کے الفاظ “سے علاحدگی ایک غیر مذہبی عمل ہے ۔ایک ریاست جو گوسپل کو سیاست کی بھاشا بولنے(یعنی مقدس روح کی زبان سے ہٹ کر کسی اور زبان میں بولنے )پر مجبور کرتی ہے وہ انسانوں کو نظروں میں نہ سہی مگر اپنے مذہب کی نظروں میں بے حرمتی کی مرتکب ضروربنتی ہے۔وہ ریاست جو ،عیسائیت کو اپنا اعلیٰ ترین معیا ر اور انجیل کو اپنا منشور تسلیم کرتی ہے ،اسے کتابِ مقدس کے الفاظ کا سامنا کرنا چاہیے کیونکہ کتابِ مقدس کا ہر لفظ مقدس ہے۔ یہ ریاست ، اور ا س کے ساتھ وہ انسانی ملبہ جس پر یہ کھڑی ہے ،ایک ایسے تضادمیں پھنس جاتے ہیں جو مذہبی شعور کے نقطہ ¿ نظر سے تب ناحل پذیرہو جاتا ہے جب اسے گوسپل کے ان ارشادات کاحوالہ دیا جاتا ہے جن سے ”یہ (ریاست) نہ صرف یہ کہ مطابقت نہیں رکھتی ،بلکہ اس کی اس سے کوئی مطابقت ہو بھی نہیں سکتی اگر یہ خود کو بطور ریاست مکمل طور پر تحلیل نہیںہو نے دینا چاہتی۔“ اسے خودکو مکمل طور پر تحلیل کیوں نہیں کرنا چاہیے؟ ریاست بذاتِ خود اس کا اپنے آپ کو یا دوسروں کو جواب نہیں دے سکتی۔خود اپنے شعور میں سر کاری عیسائی ریاست ایک ایسا امرِ لازم ہے جس کی تکمیل نا ممکن الحصول ہے۔ریاست اپنے وجود کی حقیقت کا صرف خود سے جھوٹ بول کر ہی دعویٰ کر سکتی ہے اور اس طرح وہ خود اپنی نظروں میں ایک مظہرِ اشتباہ اورایک ناقابلِ بھروسہ ،اشکالی مظہر بن جاتی ہے۔اسی طرح تنقید اس بات پر اصرار کرنے میں حق بجانب ہے کہ وہ ریاست جو بائیبل پر تکیہ کیے ہوتی ہے ایک دماغی خلل میں مبتلا ہے جس میں وہ یہ نہیں جانتی کہ آیا یہ ایک وہم ہے یا حقیقت،اور جس میںاس کے سیکولر مقاصد (جن کے لیے مذہب ایک غلاف کا کام دیتا ہے)کی رسوائی اس کے مذہبی شعور(جس کے لیے مذہب حاصلِ کن فکاں کے بطور ظاہر ہوتاہے)کے خلوص کے مقابل ایک ناقابل ِ حل تضاد کی صورت میں کھڑی ہو جاتی ہے۔ریاست صرف اسی صورت میں خود کو اپنے اس داخلی کرب سے بچاسکتی ہے کہ وہ کیتھولک کلیسا کی پولیس ایجنٹ بن جائے۔کلیسا (جوسیکولر قوت کی اپنی باندی قرار دیتا ہے)کے ساتھ تعلق میں ریاست بے بس ہے۔وہ سیکولر قوت جو مذہبی جذبے کا اصول ہو نے کی دعوے دار ہے ،بے بس ہے۔
    درحقیقت یہ مغائرت ہے ،نہ کہ انسان، جو عیسائی ریاست میں وقیع ہے۔وہ انسان جو کسی وقعت کا حامل ہے،یعنی بادشاہ ،ایسی ہستی ہے جو دوسرے انسانوں سے تخصیصاً مختلف ہے، اور مزید بر ایں ایک مذہبی ہستی ہے جو بلا واسطہ آسمان اور خداسے جڑی ہوئی ہے۔ یہاں پر مروج تعلقات ایسے تعلقات ہیں جن کاانحصار ابھی تک عقیدے پر ہے ۔ اس طرح مذہبی جذبے کو ابھی تک سیکولر نہیں کیا گیا۔
    لیکن مزیدبرآں کہ مذہبی جذبے کو حقیقتاًسیکولر شکل نہےں دی جا سکتی کےونکہیہ بذات خود ذہن انسانی کے ارتقاءمیں ایک خاص غےر سےکےولر مرحلے کے سوا کچھ بھی تونہیں ہے؟ مذہبی جذبے کواسی حد تک سیکولر کیا جاسکتا ہے جہاں تک یہ ذہن ِ انسانی( جس کا کہ یہ مذہبی اظہار ہے)کے ارتقاءکا یہ مرحلہ اپنی سیکولرشکل میں ظہور پذیر ہو تا ہے ۔ایسا جمہوری ریاست میں ہی وقوع پذیر ہو سکتا ہے۔عیسائیت نہیں،بلکہ عیسائیت کی انسانی اساس اس ریاست کی بنیاد ہے ۔مذہب اس (جمہوری ریاست)کے ارکان کا مثالی اور غیر سیکولر شعور بنا رہتا ہے کیونکہ مذہب اس ریاست میں ارتقائے انسانی کے اس مرحلے کی ایک مثالی شکل ہے جس کا حصول ہو پاےا ہے۔
    سیاسی ریاست کے ارکان مذہبی ہوتے ہیں بوجہ اس دہرے پن کے جو انفرادی زندگی اور نوعی حیات Species Consciousnessکے درمیان اور مدنی معاشرے اور سیاسی ریاست کے درمیان پائی جاتی ہے۔وہ مذہبی ہیں کیونکہ وہ ریاست،جو ایک ایسا دائرہ عمل ہے جوا ن کی حقیقی شخصیت سے باہر ہے،کی زندگی کے ساتھ ایسا برتاو ¿ کرتے ہیں کہ جیسے وہ ان کی سچی زندگی ہو۔وہ اس حد تک مذہبی ہیں جتنا کہ مذہب مدنی معاشرے کی روحِ روں ہے اور انسان کی انسان سے علاحدگی اور بے تعلقی کا اظہار ہے۔سیاسی جمہوریت عیسائی ہے کیونکہ اس میں انسان کو ،نہ صرف ایک انسان کو بلکہ ہر کسی کو ،قادر اور برتر ہستی سمجھا جاتاہے ۔لیکن وہ ایسا انسان ہے جو اپنی غیر مہذب اور غیر سماجی صورت اوراپنے اتفاقی وجود میں انسان ہے،انسان جیسا کہ وہ ہے اور ویسا انسان کہ جسے ہمارے معا شرے کی کُلی تنظیم نے آلودہ کر دیا ہے۔ ہ وہ انسان ہے جو اپنی ہستی کھو بیٹھا ہے،اسے مغائر کیا گیا ہے اور غیر انسانی حالات اور عناصر کی حکمرانی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔قصہ کوتاہ یہ ایسا انسان ہے جو ابھی حقیقی نوعی ہستی نہیں بنا۔ وہ جوایک خیال، ایک خواب ،عیسائیت کے ایک فرضی دعوے کو تخلیق ہے ،یعنی انسان (لیکن یہ ایسا انسان ہے جوبطور ایک مغائرہستی کے حقیقی انسان سے مختلف ہے)کی فرمانروائی، جمہوریت میں مرئی حقیقت ،حال میں موجوداور سیکولر اصول بن جاتی ہے۔
    مثالی جمہوریت میں مذہبی اور الٰہیاتی شعور خود اپنی نظروں میں زیادہ مذہبی اور زیادہ الٰہیاتی بن جاتا ہے کیونکہ اس کی قطعا ً کوئی سیاسی وقعت نہےں ہوتی نہ ہی کو ئی دنیاوی مقصد ۔یہ ایک ایسے مزاج کا معاملہ جسے دنیا سے وحشت ہے،تعقلی تنگیِ ذہن کا اظہار ہے،ذاتی من مانی اور خیال کی پیداوار ہے اور کیونکہ یہ ایک ایسی زندگی ہے جواصلاً جہانِ دگر سے تعلق رکھتی ہے۔یہاں عیسائیت اس لحاظ سے آفاقی مذہبی اہمیت کا عملی اظہار بن جاتی ہے کہ عیسائیت کی شکل میںدنیا سے متعلق انتہا درجہ مختلف النوع نقطہ ہائے نظر ایک دوسرے کہ پہلو بہ پہلو اکٹھے ہو جاتے ہیںاور مزید بر آں کہ یہ دوسرے لوگوں سے عیسائیت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ نہیں کرتی بلکہ صرف عمومی لحاظ سے مذہب ،یعنی کسی بھی نوع کے مذہب کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ (بحوالہ بیو ماو ¿نٹ کی محولہ بالا تصنیف)۔ مذہبی شعور مذہبی تضاد ات کی افراط اور مذہبی بوقلمونی میں خوب فرحا ن و شادا ںرہتاہے۔
    اس طرح ہم نے یہ دکھا دیا کہ مذہب سے سیاسی آزادی مذہب کے وجود کو برقرار رہنے دیتی ہے ، اگرچہ وہ مراعات یافتہ مذہب نہیں رہتا۔ کسی خاص مذہب سے وابستہ انسان خود کو اپنی شہریت کے ساتھ تعلق میں جس تضا د میں مبتلا پاتا ہے وہ سیاسی ریاست اور مدنی معاشرے کے مابین کلی سیکولر تضاد کا صرف ایک پہلو ہے۔ عیسائی ریاست کاکمال ایک ایسی ریاست ہے جو خود کو بطور ایک ریاست مانتی ہے اور اپنے ارکان کے مذہب کو قابلِ اعتنا نہیں سمجھتی۔ریاست کی مذہب سے آزادی حقیقی انسان کی مذہب سے آزادی نہیں ہے۔
    اس لیے ہم باو ¿ر کی طرح یہ نہیں کہتے کہ یہودیو!تمھیں سیاسی طور پر آزاد نہیں کیا جا سکتا تا وقتیکہ تم بنیادی طور پر خود کو یہودیت سے آزاد نہ کر لو۔ اس کے برخلاف ہم انہیں بتاتے ہیں : برایں سبب کہ تم یہودیت کومکمل طور پر اور بلاحیل و حجت تیاگ کرنے کے بغیر سیاسی طور پر آزاد کیے جا سکتے ہو ، سیاسی آزادی بذات خود انسانی آزادی نہیں ہے۔اگر تم یہودی خود کو ،انسانی لحاظ سے آزاد کیے بغیر، سیاسی طور پر آزا دکیے جانے کے خواہاں ہو تو یہ دلبر داشتہ رسائی اور تضاد صرف تمھیں میں نہیں ہے بلکہ یہ تو سیاسی آزادی کی فطرت اورتصورمیںمضمر ہے۔ اگر تم خود کو اس تصورکے چنگل میں پاتے ہو تو تم ایک عمومی قید میں شریک ہو۔ جس طرح ریاست عیسائی ریاست بن جاتی ہے جب وہ،ریاست ہو تے ہوئے،یہودیوں سے متعلق ایک عیسائی رویہ اختیار کرتی ہے اسی طرح یہودی سیاسی طور پر عمل کار ہو تا ہے جب وہ ،یہودی ہو تے ہوئے،شہری حقوق کا مطالبہ کر تا ہے۔
    لیکن اگر ایک انسان،چاہے وہ یہودی ہی ہو،کو سیاسی طور پر آزاد کیا جا سکے اور وہ شہری حقو ق حاصل کر لے تو کیا وہ نام نہاد حقوقِ انسان کا دعویدار بن سکتا ہے اورانہیں حاصل کر سکتا ہے؟باو ¿ر اس کی تردید کرتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ یہودی بطور یہودی ،یعنی وہ یہودی جو خود اس کا اعتراف کر تا ہے کہ اس کی سچی فطرت اسے مجبور کرتی ہے کہ وہ دوسرے انسانوں سے مستقلاً علاحدگی میں بسر اوقات کرے،اس قابل ہے کہ وہ انسان کے آفاقی حقوق حاصل کرے اوردوسروں (غیریہود) کو بھی ان کا حق دار تسلیم کرے۔“
”عیسائی دنیا میں انسان کے حقوق کا تصور پچھلی صدی میں دریافت ہواتھا۔یہ انسان میں جبلتاً موجود نہیں ہے ۔برخلاف اس کے یہ صرف ان تاریخی روایات کے خلا ف جدو جہد میں حاصل ہوا جن کاانسان ابھی تک پروردہ رہا ہے۔ اس طرح انسان کے حقوق نہ تو قدرت کی دین ہیں اور نہ ہی گزشتہ تاریخ کا کوئی ورثہ ہے ،بلکہ یہ تو صلہ ہے نسب کے امتیاز کے خلاف جدوجہد کا اور ان مراعات کے خلاف جو تاریخ اب تک نسل در نسل منتقل کرتی آئی ہے۔یہ حقوق کلچرکا حاصل ہیں اور وہی ان کا حق دار ہو سکتا ہے جس نے ان کے لیے مشقت اٹھائی اور ان کا اہل بنا۔“
”کیا یہودی حقیقتاً ان کاحق دار ہو سکتا؟جب تک کہ وہ یہودی ہے،ان کی پابند فطرت ،جو اسے یہودی بناتی ہے ،فطرتِ انسانی (جو اسے بطورِ انسان دیگر انسانوں کے ساتھ جوڑ دے گی اور اسے غیر یہود سے جدا کر دے گی)پر ظفر مند رہے گی۔ وہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ مخصوص فطرت جوا سے یہو دی بناتی ہے اس کی سچی اور افضل ترین فطرت ہے جس کے سامنے انسانی فطرت کو گھٹنے ٹیکنے ہو ںگے۔“
”اس طرح ،عیسائی بطور ایک عیسائی حقوق ِانسان نہیں دے سکتا۔“(ص۹۱ - ۰۲)
    باو ¿ر کے مطابق انسان کو آفاقی حقوقِ انسان کا اہل بننے کے لیے ’عقیدے کے حق ‘ کی نذر دینی پڑے گی۔آئیے اب ہم ایک لمحے کے لیے ان نام نہاد حقوقِ انسان کایا صحیح لفظوں میں حقوقِ انسان کا ان کی مروج صورت میںیعنی اس صورت میں جائز ہ لیتے ہیں جویہ ان لوگوں (یعنی شمالی امریکنوں اور فرانسیسیوں )کے درمیان رکھتے ہیں جنہوں نے انہیں دریافت کیا۔ یہ حقوقِ انسان جو ،جزواً،سیاسی حقوق ہیںایسے حقوق ہیں جنہیں صرف دیگر انسانوں کے ساتھ اشتراک میں ہی برتا جاسکتا ہے۔ان کا تعلق سیاسی آزادی کی کیٹیگری یعنی شہری حقوق کی کیٹیگری سے ہے جو ،جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں،نہ مذہب کو اور اسی طرح نہ ہی یہودیت کی بلا حجت اور مثبت تنسیح کو امرِ لازم قرار دیتی ہے۔تو اب حقوقِ انسان کے دوسرے حصے (یعنی حقوقِ انسان جتنے کہ وہ شہری کے حقوق سے مختلف ہیں) کا جائزہ لینا باقی ہے۔
    ان میں عقیدے کی آزادی یعنی ہر شخص کو اس کے مذہب پر عمل پیرا ہونے کاحق شامل ہے۔ عقیدے کے حق کو بین طور ہر انسان کے حق کے بطوریا انسان کے حق (یعنی آزادی) کے حاصل کے بطور تسلیم کیا جاتاہے۔
    حقوقِ انسان اور شہری کے حقوق کا اعلان،۱۹۷۱ءدفعہ ۰۱:”کوئی بھی شخص اپنے نظریات ،حتیٰ کے مذہبی نظریات کی بناءپرنفرت کا سزاوار نہیںہے۔“ ” ہر ایک کو آزادی ہے کہ وہ اس مذہب پر عمل پیرا رہے جس سے وہ وابستہ ہے۔“
    حقوقِ انسان وغیرہ کا اعلا ن، ۳۹۷۱ءمیں حقوق ِ انسان میں دفعہ ۷ یعنی ”مذہب پر عمل پیرا ہو نے کی آزادی “شامل ہے۔ درحقیقت انسان کے اپنے خیالات اور نظریا ت کے اظہار ، جلسوں کے انعقاد اور اپنے مذہب کی تعلیمات کی تعمیل کے ضمن میں یہاں تک کہا گیا ہے کہ ”ان حقوق کے دعویداری کی ضرورت ملوکیت کے وجود یا اس کی یادِ تازہ کا کنا یہ ہے۔۵۹۷۱ءکے قانون کے سکشن XIV ، دفعہ ۴۵۳کا موازنہ کریں۔
    پیننسلوانیہ کا قانون، دفعہ۹ پیراگراف ۳:تما م انسانوں کی فطرت نے یہ صریحی حق دیا ہے کہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق ذاتِ باری تعالیٰ کی عبادت کریں اور کسی بھی شخص کو قانوناً اس کی مرضی کے بغیر کسی مذہب یا مذہبی منسٹری کی اتباع کرنے ، اسے قائم کر نے اور اس کی حمایت پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔کوئی انسانی قوت کسی بھی قسم کے حالات میں عقیدے میں مداخل یا روح کی قوتوں کی زیرِ دام نہیں لاسکتی۔“
    ہمپ شیئر کا قانون، دفعہ ۵ اور۶ : ©ان فطری حقوق میں کچھ حقوق ایسے ہیں جو اپنی فطرت میں نا ممکن الانفکاک ہیں ۔کیونکہ کوئی بھی چیز کا ان کا بدل نہیں ہو سکتی۔عقید ے کے حقوق بھی انہیں میں سے ہیں۔
    حقوقِ انسان کے تصور میں مذہب اور حقوقِ انسان کے مابین عدم موافقت اس درجہ ناپید ہے کہ اس کے برعکس ایک شخص کے اپنی خوشنودی کے مطابق مذہبی ہونے اور اپنے خاص مذہب پر عمل پیرا ہو نے کے حق کو حقوقِ انسان میں بین طور پر شامل کیا گیا ہے۔عقیدے کا استحقاق انسان کا آفاقی حق ہے۔
    حقوقِ انسان کہنے کو شہری کے حقوق سے مختلف ہیں۔انسان ماسوائے شہری کے کیا ہے؟مدنی معاشرے کا رکن ہی تو ہے۔مدنی معاشرے کا رکن ”انسا ن“، نرا انسان کیوں کہلاتا ہے ؟اس کے حقوق کو حقوق ِ انسان کیوں کہا جاتا ہے؟ اس حقیقت کی وضاحت کیسے ہو سکتی ہے؟سیاسی ریاست اور مدنی معاشرے کے مابین تعلق سے اور سیاسی آزادی کی نوعیت سے۔
    سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم نے اس حقیقت کو پایا ہے کہ یہ نام نہاد حقوقِ انسان شہری کے حقوق سے امتیازمیں مدنی معاشرے کے رکن کے حقوق کے ماسوا کچھ نہیں ہیں ۔ مطلب یہ کہ یہ ایک انا پرست انسان، ایک ایسے انسا ن کے حقوق ہیں جو دوسرے انسانوں اور سماج سے کٹا ہوا ہے ۔آئیے اب سنیں کہ سب سے انقلابی آئین یعنی ۳۹۷۱ءکا آئین ،جو کہ انسان اور شہری کے حقوق کا علانیہ ہے، کیا کہتا ہے
دفعہ ۲:    یہ حقوق( یعنی فطری اور صریحی حقوق) مساوات ، آزادی ،تحفظ اور ملکیت ہیں۔
    آزادی کا کیا مفہوم ہے؟
دفعہ۶:    ”آزادی انسان کے اختیار میںہر وہ چیز کرنے کو قوت ہے جس سے دوسروں کے حقوق کو گزند نہ پہنچے۔ یا حقوقِ انسان کے ۱۹۷۱ءکے اعلان کے مطابق :”آزادی مشتمل ہے ہر وہ چیز کرنے کی قوت جو دوسروں کی گزند نہ پہنچائے۔“
    اس طرح آزادی ہر وہ چیز کرنے کا حق ہے جو دوسروں کو گزند نہ پہنچائے۔ان حدود کوقانون متعین کرتا ہے جن میں رہتے ہوئے ایک انسا ن دوسروں کی گزند پہنچائے بغیر عمل کر سکتا ہے جیسے کہ دو میدانوں کے درمیان حدِ فاصل کو نشانِ حدود متعین کرتا ہے۔یہ انسا ن کی ایک منفصل اور اپنی ذات میں غوطہ زن موناد monad کے بطور آزادی کا مسئلہ ہے۔باو ¿ر کے مطابق یہودی حقوق انسان حاصل کرنے کی اہلیت کیوں نہیں رکھتا؟
”جب تک کہ وہ یہودی ہے ،ان کی پابند فطرت ،جو اسے یہودی بناتی ہے ،فطرتِ انسانی (جو اسے بطورِ انسان دیگر انسانوں کے ساتھ جوڑ دے گی اور اسے غیر یہود سے جدا کر دے گی)پر ظفر مند رہے گی۔“
لیکن انسان کے حقِ آزادی کی بنیاد انسان کے انسان کے ساتھ ربط ضبط پر نہیں ہے بلکہ انسا ن کی انسان سے علاحدگی پر ہے۔یہ اس علاحدگی کا حق ہے۔پابند یعنی اپنی ذات میں غوطہ زن فرد کا حق ہے۔
    انسان کے حقِ آزادی کی عملی شکل انسان کا ذاتی ملکیت کا حق ہے۔
    انسان کے ذاتی ملکیت کے حق کا کیا مفہوم ہے؟
دفعہ ۶۱ (۳۹۷۱ءکا آئین):”ملکیت کا حق وہ ہے جو ہر شہر ی کو اپنی اشیاءاور آمدنی اور اپنی محنت ومشقت کے اثمار سے فائدہ اٹھانے اور برضاواگزار کرنے میں حاصل ہے۔“
    اس طرح حقِ ملکیت اپنی ملکیت سے فائدہ اٹھانے اور اسے برضاوگزار کر دینے کا حق ہے۔یہ دوسرے انسانوں سے بے پروا ،معاشرے پر غیر منحصر ،ذاتی منفعت کو شی کا حق ہے۔ یہ شخصی آزادی اور اس کا اطلاق مدنی معاشرہ کی بنیاد بنتا ہے۔یہ ہر انسان کوآمادہ کر تی ہے کہ وہ دوسرے انسانوں میں اس کی اپنی آزادی کی تحصیل کی دیکھنے کو بجائے انہیں اس کے حصول میں رکاوٹ سمجھے۔ لیکن سب سے بڑ ھ کر یہ” انسان کے’اپنی اشیاءاورآمدنی ، اپنی محنت و مشقت کے اثمار سے فائدہ اٹھانے اور ان سے برضا واگزار ہونے “کے حق کی دعویدار ہے۔
    تو اب مساوات اور تحفظ کے حقوق کا جائزہ لیناباقی ہے۔
    مساوات (یہاں ا س کے غیر سیاسی معنی مراد ہیں)ماسوا متذکرہ بالا آزادی کی مساوات کے کچھ نہیں ہے۔مطلب یہ کہ ہر انسان کو اس حد تک ایک بے نیاز مونادmonadسمجھا جاتا ہے۔۵۹۷۱ءکا آئین اسی مفہوم کے مطابق درج الفاظ میں مساوات کے تصور کا تحفظ کرتا ہے:
دفعہ ۳(۵۹۷۱ءکا آئین):”مساوات کا مفہوم یہ ہے کہ قانون سبھی کے لیے ایک جیسا ہے،چاہے وہ امان دیتا ہے یا سز ا دیتا ہے ۔“
    اور تحفظ؟
دفعہ ۸(۳۹۷۱ءکا آئین):    ”تحفظ سے مراد وہ نگہ داری ہے جو معاشرہ اپنے ارکان میں سے ہر ایک کو اس کی جان ، اس کے حقوق اور اس کی ملکیت کی محافظت کے لیے فراہم کرتا ہے۔“
    تحفظ مدنی معاشرے کا اعلیٰ ترین سماجی تصور ہے۔پولیس کا تصور ہے جو اس حقیقت کا اظہا ر ہے کہ معاشرے کا وجود اس لیے ہے کہ وہ اپنے ارکان میں سے ہر ایک کو اس کی جان، اس کے حقوق اور اس کی ملکیت کی محافظت کی ضمانت فراہم کرے۔انہیں معنوں میں ہیگل مدنی معاشرے کو ’ضرورت او ر تعقل کی حالت ‘قرار دیتا ہے۔
    تحفظ کا تصور مدنی معاشرے کواس کی انا پرستی سے بالا نہیں کرتا۔اس کے برعکس تحفظ اس انا پرستی کا ضامن ہے۔
    اس طرح ان نام نہاد حقوق ِ انسان میں سے کوئی بھی انا پرست انسان یعنی مدنی معاشرے کے ایک رکن کے بطور انسان(کے حق) سے آگے نہیں بڑھتا۔یہ ایسا فر دہے جو اپنی ذات تک محدود ہے ،اپنی ذاتی منفعت اور ذاتی طمع کا غلام ہے اور سماج سے کٹا ہو ا ہے۔حقوقِ انسان میں اسے ایک نوعی ہستی نہیں سمجھا جاتا۔اس کے برعکس، نوعِ انسانی کی طرح معاشرہ افراد کے لئے اےک خارجی ڈھانچے کی طرح ہے جو ان کی بنےادی آزادی پر بندش ہے۔ ےہ وہ واحد بندھن ہے جو انہیں یکجا کیے ہوئے ہے۔ فطری لازمیت،ضرورت اور ذاتی منفعت ہے۔ان کی ملکیت اور اناپرست ہستیوں کی حفاظت ہے۔
    یہ بات خاصی تحیر انگیز ہے کہ ایک قو م جس نے ابھی خود کو آزاد کرنے،اپنے مختلف حصوں کے درمیان رکاوٹوں کواکھاڑ پھینکنے اور ایک سیاسی معاشرہ قائم کرنے کے لیے قدم اٹھایا ہے ،یہ کہ ایسی قوم بڑی متانت سے۱۹۷۱ءکے اعلان میں اناپرست انسان(جوا پنے ساتھی انسانوں اور سماج سے کٹا ہو ا ہے) کے حقوق کا اعلان کرتی ہے۔اوریہ کہ اس اعلان کا اس وقت اعادہ کرتی ہے کہ جب انتہادرجہ دلیرانہ سرسپردگی ہی قوم کو بچا سکتی ہے اور اس طرح اس سے (اس اعلان کی تعمیل ) کا اس وقت تقاضا کیا جاتا ہے جبکہ مدنی معاشرے کے تما م مفادات کی قربانی کو وقت کا تقاضااورانا پرستی کو ایک جرم کے بطور لائقِ سزا قرار دیا جانے چاہیے تھا(۳۹۷۱ءکاحقوقِ انسان وغیرہ کا اعلان)۔یہ حقیقت اور زیادہ تحیر انگیز ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ سیاسی آزادی دہندگان اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ وہ شہریت اور سیاسی سماج کو ان نام نہاد حقوقِ انسان کی نگہ داری کامحض ایک ذریعہ بنا دیتے ہیں۔یہ کہ اس طرح شہریcitiyenکو اناپرست انسان کا خادم قرار دیا گیاہے اوریہ کہ اس دائرہ عمل کادرجہ جس میں انسا ن ایک سماجی ہستی کے بطور عمل کا ر ہو تا ہے اس دائرہ عمل سے بھی کمتر کر دیا جس میں وہ ایک خود غرض ہستی کے بطور عمل کا ر ہوتا ہے۔اور قصہ کوتاہ کہ وہ شہری کے بطور انسان نہیںبلکہ نجی فرد (بورژوا) کے بطور انسان ہے جس کو لازمی اور حقیقی انسان سمجھا جاتاہے۔
”تما م تر سیاسی ربط ضبط کا مقصد انسان کے فطری اور صریحی حقوق کی محافظت ہے“۔(حقوق،وغیرہ،کا اعلان ،۱۹۷۱ء،دفعہ ۲)
حکومت اس لیے قائم کی جاتی ہے کہ وہ انسان کو اس کے فطری اور صریحی حقوق سے فائدہ اٹھانے کو ضامن بنے۔“(اعلان،وغیرہ،۳۹۷۱ئ،دفعہ ۱)
    اس طرح ان اوقات میں بھی ،جن میں سیاسی زندگی کے جوش وو لولے میں شباب کی تازہ دمی ہوتی ہے اور حالات کی قوت اسے انتہا درجہ شدت عطا کرتی ہے، یہ خود کو ایک ذریعہ قرار دیتی ہے جس کا مقصودمدنی معاشرے کی زندگی ہے۔ یہ سچ ہے کہ ان (ذریعوں)کا انقلابی استعمال اس کے نظریے کے ساتھ شدےد تضاد ہے۔مثال کے طور پر جہاں تحفظ کو حقوقِ انسان میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے وہاں خط و کتابت کی راز داری کی خلاف ورزی کو سرِعام روا رکھا جاتاہے۔ ”جہاںصحافت کی مکمل آزادی“(۳۹۷۱ءکا آئین،دفعہ۲۲۱)کی انسان کی انفرادی آزادی کے حق کے حاصل کے بطورضمانت دی جاتی ہے وہاں آزادی ¿ صحافت کو بر ایں سبب مکمل طور پر کچل دیا جاتا ہے کہ ”آزادی ¿ صحافت کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے جبکہ وہ عوامی آزادی کو خطرے میں ڈال دے۔“( روبسپیئر اصغر،انقلابِ فرانس کو پارلیمانی تاریخ ازبوشیز اور روکس،جلد ۸۲،ص۹۵۱)۔تواس کا مطلب یہ ہو اکہ جیسے ہی انسا ن کا حقِ آزادی سیاسی زندگی کے ساتھ متصادم ہو جائے وہ حق نہیں رہتا۔ جبکہ نظریے کی رو سے سیاسی زندگی صرف انسانی حقوق یعنی فرد کے حقوق کی ضمانت ہے اور اس لیے جیسے ہی وہ اپنے مقصد ،یعنی ان انسانی حقوق ،کے متصادم ہواس سے چھٹکارا پا لینا چاہیے۔ لیکن عمل تو محض استثنا ہے ، نظریہ ہی ضابطہ ہے۔لیکن اگر کوئی انقلابی عمل کاری کو اس تعلق کی درست پیشکش مان بھی لے تو بھی یہ معمہ باقی رہتا ہے کہ سیاسی آزادی دہندگان کے ذہنوں میں یہ تعلق کیوں ادل بدل گیا اور کیوںمقصد ذریعہ بن گیااور ذریعہ مقصد بن گیا۔ان کے شعو رکا خلل ایک معمہ ہی رہا ،اگرچہ اب وہ ایک علمی، نظریاتی معمہ ہے۔
    یہ معمہ آسانی سے حل ہو جاتاہے۔
سیاسی آزادی بیک وقت اس معمر معاشرے کی تحلیل بھی ہے جس پر (قوم یعنی اقتدارِ اعلیٰ سے مغیر کردہ) ریاست ٹکی ہوئی ہے۔ اس کبر سِن معاشرے کا خاصہ کیا ہے۔اسے ایک لفظ میں بیان کیا جاسکتا ہے:جاگیرداری۔کبر سِن مدنی معاشرے کا خاصہ بلا واسطہ طور پر سیاسی تھا۔ مطلب یہ کہ(اس میں) مدنی زندگی کے عناصر مثلاًملکیت یا خاندان یا طرزِ محنت کو تعلقہ داری ،اسٹیٹوں اور کارپوریشنوں کی صورت میں سیاسی زندگی کے عناصر کو سطح تک بلند کر دیا گیا تھا۔اس صورت میں وہ فرد کے ساتھ کلی ریاست کے تعلق(یعنی اس کے سیاسی تعلق، مطلب یہ کہ اس کے سماج کے دیگر شعبوں سے علاحدگی اور استخراج کے تعلق) کا تعین کرتے تھے۔اس کے لیے قومی زندگی کی تنظیم نے ملکیت یا محنت کو سماجی عناصر کی سطح تک بلند نہیں کیا،اس کے برعکس ، اس نے کلی ریاست سے ان کی علاحدگی کو مکمل کیا اور انہیں معاشرے میںجداگانہ جماعتوں کے بطورتشکیل دیا۔اس کی باوجودمدنی معاشرے کو زندگی کے بنیادی اعمال و خواص سیاسی ہی رہے ،اگرچہ یہ جاگیردارانہ لحاظ سے سیا سی تھے، مطلب یہ کہ انہوں نے فرد کو ریاست سے نکال باہر کیا اورا نہوں نے ریاست کے ساتھ اس کے اتحاد کے مخصوص تعلق کو حیاتِ قومی کے ساتھ اس کے عمومی تعلق کے ساتھ بدل دیا،جیسے کہ انہوں نے اس کی مخصوص مدنی سرگرمی اور حالت کو ایک عمومی سرگرمی اور حالت میں بدل دیا تھا۔ اس تنظیم کی بدولت ریاست کا اتحاد اور اس کے ساتھ شعور، ارادے اور سرگرمی کا اتحاد ، یعنی ریاست کی عمومی قوت ،کامقدر بھی یہی ہے کہ وہ ایک حکمران اور اس کے ایسے خدمت گزاروں کے مخصوص معاملے کے بطور ظاہر ہو جو کہ قوم سے کٹے ہوئے ہیں۔
    وہ سیاسی انقلاب جو اس قوتِ مطلق کواکھاڑ پھینکتاہے اور ریاستی معاملات کو عوام کے معاملات کی سطح تک بلند کرتا ہے، جو سیاسی ریاست کو عوامی غرض و غایت کے معاملے،یعنی ایک حقیقی ریاست ، کے بطور تشکیل دیتا ہے وہ لازماً تما م اسٹیٹوں، کارپوریشنوں ،پیشہ ورں کی برادریوں اور مراعات کا قلع قمع کر دیتا ہے۔ کیونکہ یہ سبھی عوام کی کمیو نیٹی سے علاحدگی کے اظہارات تھے۔اس طرح سیاسی انقلاب مدنی معاشرے کے سیاسی خاصے کا خاتمہ کر دیتاہے۔یہ مدنی معاشرے کو اس کے سادے حصوں میںتقسیم کر دیتا ہے جن میں ایک طرف افراد ہوتے ہیں اور دوسری طرف وہ مادی اور روحانی عنا صر ہوتے ہیں جو ان افراد کی زندگی اور سماجی رتبے کا مافیہا تشکیل دیتے ہیں۔ اس نے سیاسی روح کی آزاد کیا جسے توڑ پھوڑ کر، اس کے حصے بخرے کر کے جاگیردارانہ معاشرے کی متعدد بند گلیوں میں منتشر کر دیا گیا تھا۔اس نے سیاسی روح کے منتشر حصوں کو اکٹھا کیا،انہیں مدنی زندگی کے اختلاط سے آزاد کرایا اور انہیں کمیونیٹی(یعنی قوم کے عمومی مفاد جو مدنی معاشرے کے ان مخصوص عناصر سے تصوراتی طور پر آزاد ہے) کے دائرے میں قائم کیا۔ ایک شخص کی (کمیونیٹی سے)جداگانہ سرگرمی اور زندگی میںا س کے جدا گانہ رتبے کی اہمیت محض انفرادی رہ گئی۔اب وہ فردکا کلی ریاست کے ساتھ عمومی تعلق قائم نہیں کرتے تھے۔دوسری طرف عوامی معاملا ت ہر فرد کے عمو می معاملات بن گئے اور سیاسی عمل فرد کا عمومی عمل بن گیا۔
    لیکن ریاست مثالیت پسند ی کی تکمیل بیک وقت مدنی معاشرے کی مادیت پسند ی کی بھی تکمیل تھی۔
سیاسی جوے کو اتار پھینکنے کا مطلب بیک وقت ان بیڑیوں کا بھی اتار پھینکنا تھا جو مدنی معاشرے کی اناپرست روح کو جکڑے ہوئے تھیں۔سیاسی آزادی بیک وقت مدنی معاشرے کی سیاست اور اجتماعی مافیہا رکھنے کے دکھاوے سے آزادی بھی تھی۔
     جاگیر دارانہ معاشرہ اپنے بنیادی عنصر (یعنی انسان ،اس کے بطور’انسان‘جس نے اصلیتاً اس کی بنیاد رکھی تھی،یعنی انا پرست انسان)میں تحلیل ہو گیا۔
    اس طرح یہ انسان ،جو مدنی معاشرے کا فرد ہے ، سیاسی ریاست کی بنیادا ور لازمہ ہے۔اسے اس ریاست میں حقوقِ انسان میں تسلیم کیا جاتا ہے۔
    اس طرح انا پرست انسان کی آزادی اور اس آزادی کی تصدیق ،ان روحانی اور مادی عناصر کے بے لگام تحرک کی تصدیق ہے جو اس زندگی کا مافیہا تشکیل دیتے ہیں۔اس طرح انسان مذہب سے آزاد نہیں ہوا بلکہ اس نے مذہبی آزادی حاصل کر لی ہے۔اس ملکیت سے آزادی نہیں ملی بلکہ اسے ملکیت داری کا حق مل گیا ہے۔ اسے کاروبار کی خود غرضی سے آزادی نہیں ملی بلکہ اسے کاروبار کرنے کوآزادی مل گئی ہے۔
    سیاسی ریاست کا قیام اور مدنی معاشرے کی خودانحصار افراد(جن کے ایک دوسرے کے ساتھ تعلق کا انحصا را ب قانون پر ہے بعینہ جیسے اسٹیٹوں اور پیشہ وروں کی برادریوں کے نظام میں انسانوں کے تعلقات کا انحصار دنیاوی رتبے پر تھا) میں تحلیل ایک ہی عمل کے ذریعے مکمل ہو ئی ہے۔اس طرح مدنی معاشرے کے رکن کے بطور انسان یعنی غیر سیاسی انسان خواہ مخواہ ایک فطری انسان کے روپ میں ظاہر ہوتا ہے۔”حقوقِ انسان“،”فطری حقوق کا روپ دھار لیتے ہیں کیونکہ شعوری سر گرمی کو سیاسی عمل پر مرتکز کردیا جاتا ہے۔ا نا پرست انسان تحلیل شدہ معاشرے کا مجہول حاصل ہے ۔ایک ایسا انسان جوبس وجود رکھتاہے، جوعدم ارتباطی ایقان کا مظہر ہے اور اس طرح ایک ’فطرتی ‘مظہر ہے۔سیاسی انقلاب مدنی زندگی کو اس کے ترکیبی اجزاءمیں تحلیل تو کرتا ہے لیکن وہ ان اجزاءمیں نہ تو انقلاب برپا کر تا ہے اور نہ ہی انہیں ہدفِ تنقید بناتا ہے۔یہ مدنی معاشرے(جو کہ احتیاجات، محنت ، ذاتی مفاد اور مدنی قانون کی دنیا ہے ) کو اپنے وجود کی بنیاد اور ایک ایسی شرط سمجھتی ہے جسے مزید ثبوت کی ضرورت نہیںاور اس طرح وہ اسے اپنی فطری بنیاد سمجھتی ہے۔قصہ کوتاہ مدنی معاشرے کے رکن کے بطور انسا ن کو اس کے حسیاتی ، انفرادی اور غیر مرتبط وجود میں انسان سمجھا جاتاہے، جبکہ سیاسی انسان صرف ایک خیالی اور غیر حقیقی انسان ،یعنی ایک تمثیلی اور قانونی ہستی کے بطور انسان ہے۔حقیقی انسان کو صرف انا پرست انسان کے روپ میںتسلیم کیا جاتا ہے،جبکہ حقےقی انسان کو صرف انسان کی تجرےدی صورت میں تسلیم کیا جاتا ہے ۔
    اس طرح روسو سیاسی انسان کے خیالی تصور کو درج ذیل عبارت میں بڑے صحیح انداز میں بیان کرتا ہے:
”جو کوئی بھی ایک قوم کے ادارے قائم کرنے کی جرا ¿ت کرنا چاہتا ہے اسے اپنے آپ میں فطرتِ انسانی کو بدلنے کی صلاحیت پیدا کرنی چاہیے۔یعنی اس میں ہر فرد کو ، جو اپنے آپ میں مکمل اور ایک جدا گانہ کُل ہے ، ایک زیادہ بڑے کُل (جس سے فرد ایک لحاظ سے اپنی زندگی اور اپنی ہستی حاصل کرتا ہے)کا حصہ بنانے اور ایک محدود اور ذہنی وجود کو ایک جسمانی اور آزاد وجود کا بدل بنانے کی صلاحیت ہو نی چاہیے۔اسے انسان سے اس کی اپنی قوتیں لینی ہو ں گی اور اسے اجنبی قوتیں دینی ہو ں گی جنہیں وہ دوسروں کی مدد کے بغیر عمل میں نہیں لاسکتا۔“
     تمام تر آزادی انسانی دنیا اور تعلقات کا خود انسان میں سمٹ آنا ہے۔
    سیاسی آزادی ایک طرف تو انسان کی مدنی معاشرے کے رکن یعنی ایک انا پرست ، خود انحصار فرد میں اور دوسری طرف ایک شہری اور ایک قانونی ہستی میں منہائی ہے۔
    صرف جب حقیقی، منفرد انسان خود میں تجرےدی شہری کی باز تجذیب کر لیتا ہے اور منفرد انسان کی صورت میں اپنی روز مرہ زندگی ۔اپنے خاص کام اور خاص سماجی رتبے میں ایک نوعی ہستی بن جاتاہے ،صرف جب وہ ”اپنی قوتوں“ کو سماجی قوتوں کی بطور تصدیق و تنظیم کرلیتا ہے اورنتیجتاً سماجی قوت کو سیاسی قوت کی بطور خود سے جدا کر لیتا ہے ،صرف تبھی انسانی آزادی مکمل ہوتی ہے۔

 II
برنو باو ¿ر
    عہد ِ حاضر کے یہودیوںاور عیسائیوں کی آزاد ہو نے کی استعداد“(ص۶۵ تا۱۷)
    باو ¿ر یہودی اور عیسائی مذہب کے تعلق اور ساتھ ہی ان کے تنقید تعلق سے نبٹتا ہے ۔ان کا تنقید کے ساتھ تعلق ہی ان کا ” آزاد ہونے کی استعداد کے“ ساتھ تعلق ہے۔
    حاصل شدہ نتیجہ یہ ہے:
”عیسائیوں کو اپنے مذہب سے مکمل طور پر دست کش ہونے کے لیے صرف ایک مرحلہ(یعنی اپنا مذہب ) عبور کرنا پڑے گا۔“
    تاہم آزاد ہو نے سے پہلے:
”یہود ی کو نہ صرف اپنی یہودی فطرت سے بلکہ اپنے مذہب کو مکمل بنانے کی طرف پیش روی(ایک ایسی پیش روی جو اس سے منفصل ہی رہی ہے) سے بھی قطع تعلق کر نا پڑے گا۔“
    اس طرح یہاں باو ¿ر یہودی آزادی کے مسئلے کو ایک خالصتاً مذہبی مسئلے میں بدل دیتا ہے۔یہ مسئلہ کہ یہودی اور عیسائی میںسے کون بہتر امکانِ نجات کا متحمل ہے یہاںمہذبانہ طرز میں دہرایا گیا ہے:ان (دونوں) میں سے کون آزادی کا زیادہ مستحق ہے ۔اب یہ سوال پوچھا نہیں جاتا :آیا وہ یہودیت ہے یا کہ عیسائیت جو انسانیت کو آزادی دلاتی ہے؟اس کے بر عکس اب سوال کچھ اس طرح ہے: ©کون زیادہ آزادی دیتا ہے ۔یہودیت کا ارتداد یا عیسائیت کا ارتداد؟
”اگر یہودی آزادی چاہتا ہے تو اسے عیسائیت پر ایمان نہیں لانا چاہیے بلکہ عیسائیت کی تحلیل اور عمومی مذہب کی تحلیل ،مطلب یہ کہ اسے روشن خیالی، تنقید اور اس کے ثمرات پرایمان لانا چاہیے۔“(ص۰۷)
    یہودی کے لیے یہ ابھی بھی عقیدے کی تصدیق کا معاملہ ہے لیکن یہ عیسائیت پر ایمان کی تصدیق کا معاملہ نہیں ہے بلکہ حالت ِ تحلیل میں عیسائیت پر ایمان کا معاملہ ہے۔   
    باو ¿ر یہودیوں سے تقاضا کرتاہے کہ وہ عیسائی مذہب کی ”اصل“سے ناطہ توڑ لیں۔یہ ایک ایسا مطالبہ ہے جو خود باو ¿ر کے مطابق یہودی کے ارتقاءسے برآمدنہیں ہو تا ہے۔
    چونکہ باو ¿ر نے مسئلہ یہود پر اپنی تحریر کے اختتام میں یہودیت کو عیسائیت کی محض ایک نا پختہ تنقید گردانا ہے اور اس طرح اس میں’ محض‘ ایک مذبی اہمیت کو پایا ہے تو اس سے یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہودیوں کی آزادی بھی ایک فلسفیانہ الٰہیاتی عمل میں تبدیل ہو جائے گی۔
    باو ¿ر سمجھتا ہے کہ یہودی کی خیالی ا ور مجرد فطرت یعنی اس کا مذہب ،ہی اس کی کُلی فطرت ہے۔اس طرح وہ اس نتیجے پر پہنچنے میں حق بجانب ہے :
    ”یہودی اگر اپنے کم ظرف اصول سے لا تعلق ہوبھی جائے انسانیت کی چنداں معاونت نہیں کرتا۔“یعنی اگر وہ تمام تر یہودیت کو باطل کر دے۔(ص۵۶)
    اس طرح یہودیوں اور عیسائیوں کے مابین تعلق کچھ اس طرح بن جاتا ہے:عیسائی کا یہودی کی آزادی میں واحد مفاد ایک عمومی انسانی مفاد ،ایک الٰہیاتی مفاد ہے۔یہودیت ایک ایسی حقیقت ہے جو عیسائی کی آنکھ کو چبھن بنی ہو ئی ہے ۔جیسے ہی اس کی آنکھ مذہبی نہیں رہے گی یہ حقیقت بھی پُر چبھن نہیں رہے گی۔یہودی کی آزادی بذاتِ خود ،عیسائی کے ذمے کو ئی فریضہ نہیںہے۔دوسری طرف یہودی کو خود کو آزاد کرنے کے لیے نہ صرف اپنا کام بلکہ عیسائی کا کام(یعنیSynoptics کلیسائی تاریخ اورحیاتِ مسیح کی تنقید کا کام ) بھی جاری رکھنا ہو گا۔
”اس سے نبٹنا ان کی ذمہ داری ہے:وہ خود اپنی قسمت کا فیصلہ کریں گے؛لیکن تاریخ سے چھیڑ چھاڑ نہیں کی جا سکتی۔“(ص۱۷)
    ہم مسئلے کو الٰہیاتی تشکیل سے لاتعلق ہو نے کی کوشش کر رہے ہیں۔ہمارے لیے یہودی کے آزادہونے کی صلاحیت کا سوال کچھ اس طرح ہے:یہودیت کے فسخ کے لیے کس سماجی عنصر کو قابو میںکرنا پڑے گا؟کیونکہ دورِ حاضر کے یہودی کی آزادہو نے کی صلاحیت یہودیت کا جدید دنیا کی آزادی کے ساتھ تعلق ہے۔یہ تعلق لازمی طور پر ہم عصر غلام دنیا میں یہودیت کے خاص مقام سے بر آمد ہوتاہے۔
    آئیے ذراہم حقیقی،دنیا دار یہودی پر نظر ڈالتے ہیں،باو ¿ر کی طرح سبت کے پابند یہودی کا نہیں بلکہ روز مرہ زندگی کے یہودی کا جائزہ لیں۔
    آئیے ہم یہودی کے راز کو اس کے مذہب میں تلاش نہ کریں بلکہ آئیے ہم اس کے مذہب کے راز کی حقیقی یہودی میں تلاش کریں۔
     یہودیت کی سیکولر بنیاد کیا ہے؟عملی ضرورت ،ذاتی مفاد۔ یہودی کا دنیا وی دھرم کیا ہے؟خردہ فروشی۔ اس کا دنیاوی خدا کون ہے ؟ دھن۔
    بہت خوب! خردہ فروشی اور دھن اور نتیجتاً عملی اور حقیقی یہودی سے آزادی ،یہ تو ہمارے عہد کی نجاتِ ذات ہو گی۔
    معاشرے کی ایک ایسی تنظیم جو خردہ فروشی کے لازموں اور اس طرح خردہ فروشی کے امکان کو ختم کر دیتی ہے یہودی کے وجود کو محال بنا دیتی ہے۔اس کا مذہی شعور معاشرے کی حقیقی اور پُر حیات فضا میں ہلکے کہرے کی طرح اڑ جاتا ہے۔دوسری طرف اگر یہودی یہ مان لے کہ اس کی یہ عملی فطرت لاحاصل ہے اور اس کے خاتمے کے لیے کوشاں ہو تا ہے تو وہ اپنی گزشتہ پیش رفت سے اپنی گلو خلاصی کرا لیتا ہے اور انسانی آزادی کے لیے کوشاں ہو جاتا ہے اور بُعدِ ذات کے انتہا درجہ عملی اظہار کے خلاف نبرد آزما ہو جاتا ہے۔
    تاہم ہم یہودیت میں عہدِ حاضر کے ایک عمومی غیر سماجی عنصر کی شناخت کرتے ہیں۔یہ ایک ایسا عنصر ہے جسے تاریخی ارتقاءکے ذریعے (جس میں اس ضرر رساں لحاظ سے یہودیوں نے بڑے جوش و خروش سے حصہ ڈالا ہے) اس کی موجودہ اعلیٰ سطح پر لایا گیاہے جہاں سے لازمی طور پر اس کے عملِ انفصال شروع ہو جانا چاہیے۔
    آخری تجزیے میں یہودیوں کی آزادی انسانیت کی یہودیت سے آزادی ہے۔
” یہودی ،جسے مثال کے طور پر ویانا میں بمشکل گوارا کیا جاتا ہے ،اپنی مالی طاقت کے بل پر پوری سلطنت کے مقدر کا تعین کر تا ہے۔یہودی ،جسے ہو سکتا ہے کہ سب سے چھوٹی جرمن ریاست میں بھی کوئی حقوق حاصل نہ ہوں ،یورپ کے مقدر کا تعین کر تا ہے۔جبکہ کارپوریشنیںاور پیشہ وروں کی برادریاں یہودیوں کو جگہ دینے سے انکاری ہیں یا انہوں نے ان کے متعلق کوئی امید افزا رویہ اختیار نہیں کیا،صنعت کی بے باکی مادی اداروں کا تمسخر اڑاتی نظر آتی ہے۔“ (برنو باو ¿ر،مسئلہ یہود پر، ص۴۱۱)
    یہ کو ئی الگ تھلگ حقیقت نہیںہے۔یہودی نے خود کو یہودی انداز میں آزاد کر لیا ہے۔نہ صرف اس لیے کہ اس نے ایک مالی قوت حاصل کر لی ہے بلکہ اس لیے بھی کہ اس کے ذریعے اور ساتھ ہی اس سے الگ تھلک روپیہ ایک عالمی قوت بن گیا ہے اور عملی یہودی جذبہ عیسائی اقوام کا عملی جذبہ بن گیا ہے۔یہودیوں نے خود کو اتنا ہی آزادکیا ہے جتنے کہ عیسائی یہودی بن گئے ہیں۔
    مثلاً کپٹن ہیملٹن بیان کر تا ہے:
    ”نیو انگلینڈ کا خدا ترس اور سیاسی طور پر آزاد باشندہ ایک قسم کا لےکون Laocoön ہے جو اپنے آپ کو ان سانپوں سے بچانے کو چنداں کوشش نہیں کرتا جو اس کچل رہے ہیں۔لکشمی اس کی دیوی ہے جسے وہ نہ صرف اپنے لبوں سے بلکہ اپنے جسد و ذہن کی تمام تر قوت سے پوجتا ہے۔اس کی خیال میں دینا ایک منڈی کے سوا کچھ نہیں ہے اور اس کا ماننا ہے کہ دنیا میں اس کا مقدر اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ وہ اپنے ہمسائے سے زیادہ دھن وان بن جائے۔تجارت نے اس کے تمام خیالات پر کنڈلی مار لی ہے اور اشیاءکے تبادلے کے سوا اس کے لیے کوئی سامانِ تفریح نہیں ہے ۔جب وہ سفر کرتا ہے تو اپنی اشیاءاوربساط کندھوں پر اٹھائے پھرتا ہے اور صرف سود اور نفع کی باتیں کرتا ہے ۔اگر وہ ایک لمحے کے لیے اپنے کاروبار سے نظریں ہٹاتا ہے تو وہ ایسا صرف اپنے ہم سروں کے کاروبار کی ٹوہ لینے کے لیے کرتا ہے۔
    درحقیقت شمالی امریکہ میں یہودیت نے عیسائی دنیا پر اس کے غیر پیچیدہ اور بمطابق معمول اظہار کے بطور عملی بالا دستی حاصل کر لی ہے۔بذاتِ خود گوسپل کو تبلیغ اور عیسائی منسٹری اشیائے تجارت بن گئے ہیںاور دیوالیہ تاجر اسی طرح گوسپل کرتے ہیں جیسے گوسپل کے وہ مبلغ ،جو امیر ہو گئے ہیں ،کاروباری سودوں کے لیے جاتے ہیں۔
”وہ شخص جو واجب التعظیم مذہبی مجلس کا سر براہ ہے ،اس نے بحیثیت تاجر شروعات کی تھی ، اس کا کارو بار ناکامیا ب رہا تو وہ ایک کشیش بن گیا ۔دوسرے نے بطور پادری شروعات کی تھی ۔لیکن جیسے ہی اس نے کچھ روپیہ جمع کر لیااس نے تاجر بننے کے لیے منبرچھوڑ دیا۔بہت سے لوگوں کی نظروں میں مذہبی منسٹری ایک کھرا پیشہ ہے۔“ (بیوماو ¿نٹ ، محولہ بالا تصنیف ،ص۵۸۱،۶۸۱)
     باو ¿ ر کے مطابق :
”یہ باطل صورتِ احوال ہے کہ یہودی نظریةًتو تمام سیاسی حقوق سے محروم ہے جبکہ عملاً وہ بے پناہ قوت کا حامل ہے اور بڑے پیمانے میں اپنا سیاسی اثرو رسوخ کا م میں لاتا ہے اگرچہ اسے غایت درجہ گھٹا دیا جات ہے۔“
    یہودی کی عملی سیاسی قوت اور اس کے سیاسی حقوق میں موجود تضاد سیاست اور روپے کی طاقت کے درمیان تضاد ہے۔اگرچہ نظریاتی طور پر اول الذکر مو ¿خر الذکر سے برتر ہے لیکن حقیقت میں سیاست مالی قوت کی باندی بن گئی ہے۔یہودیت نے نہ صرف عیسائیت کی تنقید کے بطور اور نہ صرف عیسائیت کے مذہبی اشقاق میں شبے کی تجسیم کے بطور عیسائیت کے پہلو بہ پہلو اپنا مقام حاصل کر لیا ہے بلکہ ساتھ ہی عملی یہودی جذبے کی بدولت اس نے اپنے آپ کی مستحکم بھی کر لیا ہے اور حتیٰ کے عیسائی معاشرے میں اپنی اوج ِ کمال کو بھی پا لیا ہے۔یہودی جو کہ مدنی معاشرے کے ایک ممتاز رکن کی حیثیت رکھتا ہے ،مدنی معاشرے کی یہودیت کا محض ایک مخصوص اظہار ہے۔
    یہودیت نہ یہ کہ تاریخ کے بخلاف بلکہ تاریخ کے بسبب بھی اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہے۔
    مدنی معاشرے کی دراڑوں سے یہودیت لگاتار رستی رہتی ہے۔
    یہودی مذہب کو ،اپنی ذات میں کےا بنیاددرکار تھی؟عملی ضرورت،انا پرستی۔
    یہودی کی توحید پرستی در حقیقت کثیر حاجات کی اصنام پرستی ہے۔یہ ایک ایسی اصنام پرستی ہے جو غسل خانے کو بھی آئینِ خداوندی کا مظہر بنا دیتی ہے۔عملی ضرورت یعنی انا پرستی، مدنی معاشرے کا اصول ہے اور جیسے ہی مدنی معاشرہ سیاسی ریاست کو جنم دے چکتا ہے یہ اپنی کھری صورت میں نمو دار ہو جاتی ہے۔عملی ضرورت اور ذاتی منفعت کا خدا روپیہ ہے۔
    روپیہ اسرائیل کاحاسد خدا ہے جس کے سامنے کوئی دوسرا خدا ٹک نہیں سکتا ۔روپیہ انسان کے تمام خداو ¿ں کی تحقیر کرتا ہے اور انہیں بکاو ¿ مال بنا دیتاہے۔روپیہ تمام چیزوں کی آفاقی اور خود مقیّم قدر ہے۔اس طرح اس نے ساری دنیا(انسان اور فطرت دونوں کی دنیا )سے اس کی قدر ومنزلت چھین لیے ہے۔روپیہ انسان کے کام اور انسان کے وجود کو مغیر شدہ اصل ہے اور یہ اجنبی اصل اس پر حاوی ہے اور وہ اس کی پوجا کرتا ہے۔
    یہو دیوں کا خدا سیکولر بنادیا گیاہے اور وہ دنیا کا خدا بن گیا ہے۔ہنڈی یہودی کا اصل خدا ہے۔اس کا خدا محض ایک باطل ہنڈی ہے۔
    نجی ملکیت اور روپے کے تسلط کے تحت اخذ کردہ فطرت کا تصور فطرت سے حقیقی حقارت اور اس کی عملی تذلیل ہے۔یہودی کے مذہب کے مطابق یہ سچ ہے کہ فطرت موجود ہے، لیکن اس کا بسیر اصرف تخےل میںہے۔
     اس مفہوم میں (۴۲۵۱ءکے اشتہار میں)ٹامس مونزر نے اسے ناقابلِ برداشت قرار دیا تھا :
”کہ تما م مخلوقات کو ملکیت بناد یا گیا ہے،پانی میں مچھلیا ں،ہوامیں پرندے ،زمین پرپودے ،ان سب مخلوقات کو بھی آزاد ہونا چاہیے۔“
    نظریے ،فن ، تاریخ اور اپنے آپ میں ایک مقصد کی حیثیت سے انسان سے حقارت جویہودی مذہب میں ایک تجرےدی شکل میں پائی جاتی ہے ،دھن وان کا حقیقی ،باسمجھ نقطہ ¿ نظر اور وصف ہے۔ بذاتِ خودنوعِ انسا ن کا رشتہ، جیسے مرد اور عورت کا رشتہ وغیرہ ، بھی مال تجارت بن گیا ہے۔عورت خریدی اور بیچی جاتی ہے۔
    یہودی کی خیالی قومیت ایک دھن وان ایک سوداگر کی قومیت ہے۔
    یہودی کا بے بنیاد اصول اس بے بنیاد اخلاقیات اور عمومی حق اور ان رسمی تقریبات کی ایک مذہبی تخلیق ہے جن سے ذاتی مفاد کی دنیاخود کو گھیرے رکھتی ہے۔
    یہاں بھی انسان کا افضل تعلق قانونی ہی ہے۔اس کا ان اصولوں کے ساتھ تعلق جو اس کے لیے روا ہیں ، اس لیے نہیں کہ وہ اس کے اپنے ارادے اور فطرت کہ اصول ہیںبلکہ اس لیے ہے کہ وہی غالب اصول ہیں اور اس لیے کہ ان سے انحراف گردن زدنی ہے۔
    یہودی مکاری ،یعنی وہی عملی مکاری جو باو ¿ر یہودی میں پاتاہے،ذاتی مفاد کی دنیا کا ان اصولوں کے ساتھ تعلق ہے جواس دنیا پر حکمرانی کرتے ہیں ۔ اس مکاری کا بڑا مکر ان اصولوںکا عیارانہ جھانساہے۔
    درحقیقت اس دنیا کا اپنے اصولوں کے نظام میں تحرک کا مقدر قانو ن کا ایک مسلسل تعطل بننا ہے۔
    یہودیت بطور مذہب،یعنی نظریاتی طورپر،مزید پنپ نہیں سکتی ۔کیونکہ عملی ضرورت کی دنیاوی بصیرت اصلیتاً محدود ہے اورچند ضربوں میں پوری ہو جاتی ہے۔
    اپنی نوعیت میں ہی عملی ضرورت کا مذہب اپنا کمال نظریے میں نہیں بلکہ عمل میںہی پاسکتا ہے بوجہ اس کے کہ اس کی سچائی عمل ہی ہے۔
    یہودیت نئی دنیا کی تخلیق نہیں کر سکتی ۔یہ صرف دنیا کی نئی تخلیقات اور حالات کو اپنے دائرہ عمل میں کھینچ سکتی ہے۔کیونکہ ہرعملی ضرورت ،کہ جس کی ترجیح ذاتی مفاد ہے،مجہول ہے اور اپنے اختیار سے وسعت نہیں پاسکتی بلکہ یہ سماجی حالات کے مسلسل ارتقاءکے نتیجے کے بطور خود کو بڑھتے ہوئے پاتی ہے۔
    یہودیت مدنی معاشرے کو تکمیل کے ساتھ اوجِ کمال کو پہنچ جاتی ہے لیکن مدنی معاشرہ عیسائی دنیا میں ہی اپنی تکمیل کو پہنچتا ہے ۔صرف عیسائیت کے تسلط کے ماتحت ہی جو تمام قومی، فطری، اخلاقی اور نظریاتی تقاضوں کو انسان کے لیے اضافی بنا دیتا ہے ، مدنی معاشرہ خود کوریاست کی زندگی سے مکمل طور پر آزاد کر پاتا ہے، انسان کے تمام نوعی ناطوں کی توڑتا ہے ،انا پرستی اور خود غرضانہ احتیاج کو ان ناطوں کی جگہ رکھتا ہے اور انسانی دنیا کی الگ تھلک افراد (جو محاصمانہ ایک دوسرے کے مخالف ہیں)کی دنیا میں تحلیل کر دیتا ہے۔
    عیسائیت یہودیت سے نمو کش ہو ئی اور یہودیت میں ہی فنا ہو گئی۔
    ابتداءسے ہی عیسائی نظریہ ساز یہودی تھا، اسی طرح یہودی عملی عیسائی تھا اور یہ عملی عیسائی پھر یہودی بن گیا۔
    عیسائیت صرف دکھاوے میں یہودیت پر غالب آئی۔ یہ اتنی شریف الطبع ، اتنی روحانی تھی کہ اس نے عملی ضرورت کے کچے پن کواس انداز میں ختم کیا کہ اسے آسمانوں میں جا پہنچایا۔
    عیسائیت یہودیت کا ارفع ترین خیا ل جبکہ یہودیت عیسائیت کا بھدا عملی اطلاق ہے۔لیکن یہ اطلاق صرف تبھی عمومیت پا سکتا تھا کہ جب عیسائیت ایک کمال یافتہ مذہب کے بطورانسان کی اس کی اپنی ذات اور فطرت سے مغائرت نظری طور پر مکمل کر لیتی۔
    صرف تبھی یہودیت عالمگیر غلبہ حاصل کر سکتی ہے اور مغیر شدہ انسان اور مغیر شدہ فطرت(خود غرض احتیاج اور تجارت کی گزیدہ)ممکن الانفصال اور ممکن الفروخت اشیاءبنا سکتی ہے۔
    بکری بُعد کا عملی پہلو ہے۔ایک انسان کی طرح، کہ جب تک وہ مذہب کی گرفت میںہے وہ اپنی اصل فطرت کو کسی اجنبی چیر ،کسی مافوق الفطرت چیز میں بدل کرقابلِ ادراک چیز بنا سکتاہے،اسی طرح خود غرض احتیاج کے تسلط کے ماتحت وہ عملی طور پر سر گرم ہو سکتا ہے اور صرف اپنی پیدا وار اور اپنی سر گرمی کو ایک اجنبی ہستی کے ماتحت کر کے اور انہیں ایک اجنبی ہستی (روپے)کی شان سے سر فراز کر کے عملاً اشیاءپیدا کر سکتاہے۔
    اپنی کمال یافتہ پریکٹس میں فردوسی مسرت کی عیسائی انانیت لازمی طور پر یہودی کی بدنی انانیت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔فردوسی حالت دنیاوی حالت میں اور معروضیت ذاتی منفعت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
    چونکہ مدنی معاشرے میں یہودی کی حقیقی فطرت کا آفاقی طور حصول ممکن ہوااور اسے سیکولر شکل مل گئی، اس لیے مدنی معاشرہ یہودی کو اس کی مذہبی فطرت (جو دراصل عملی ضرورت کا مثالی پہلو ہے) کی غیر حقیقت کا قائل نہیں کر سکتا۔یہی وجہ ہے کہ نہ صرف توریت کی پہلی پانچ کتابوں اور یہودی قانون کی کتاب میں بلکہ نئے معاشرے میں بھی ہمیں جدید یہودی کی فطرت کا سراغ ملتاہے اور ہمیں یہ(یہودی فطرت ) نہ مجرد فطرت کے بطور بلکہ غایت درجہ مادی فطرت کے بطور بھی ، نہ صرف یہودی کی تنگ نظری کے بطور بلکہ معاشرے کی یہودی تنگ نظری کے بطور بھی ملتی ہے۔
     ایک بار معاشرہ یہودیت کی مادی اصل(خردہ فروشی اور اس کے لازمات) کو ختم کرنے میں کا میاب ہو جائے تو یہودی کا وجود محال ہو جائے گا۔کیونکہ اس کے سوچ کے لیے کوئی مقصد ہی نہیں رہے گا ،کیونکہ یہودیت کی معروضی بنیاد یعنی پرعملی ضرورت کی انسانیت سکھا دی جائے گی اور کیونکہ انسان کے انفرادی حسیاتی وجود اور نوعی وجود کے در میان تصادم ختم ہو جائے گا۔

No comments:

Post a Comment