الجزیرہ نیٹ ورک خراج تحسین کا مستحق ہے جس نے کئی
مہینوں کی انتہائی پیشہ ورانہ انویسٹی گیشن کرکے یہ بات ثابت کی کہ مرحوم
فلسطینی رہنما یاسر عرفات کس وجہ سے موت کا شکار ہوئے۔ الجزیرہ کی ریسرچ کے
بعد جاری کردہ تفصیلی دستاویز کے مطابق عرفات پولونیم ۔ 210 نامی خطرناک
کیمیکل ایجنٹ کے باعث موت کے منہ میں گئے۔
یہ کیمیکل جب سانس یا خوراک کے ذریعے جسم میں جاتا ہے
تو ریڈیو ایکٹو مادہ خون کے بھاؤ میں شامل ہوکر الفا پارٹیکلز خارج کرتا ہے
جس سے تمام زندہ اجسام اور اعضاء کو براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔ پولونیم ۔
210 کی وہ خوراک جو استعمال کرنے والے پچاس فیصد افراد کو موت کا شکار کر
دیتی ہے ایک ملی گرام کا ایک لاکھواں حصہ ہے۔ گویا یہ زہریلا مواد انتہائی
خطرناک زہر سائی نائیڈ (cyanide) سے بھی ایک لاکھ گناہ زیادہ زہریلا مواد
ہے۔
عموما یہ کہا جاتا ہے کہ یہ خطرناک زہر دنیا میں صرف
تین ملکوں کے پاس ہے جس میں امریکا، روس اور اسرائیل شامل ہیں۔ اسرائیل جس
کے رہنماؤں نے یاسر عرفات کو قتل کرنے کی اپنی خواہش کھلے عام ظاہر کرتے
رہے ہیں اب ان کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار کر چکا ہے۔
اسرائیلی عہدیداروں نے یہودی ریاست کو اس قتل سے دور
رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے انتہائی کمزور دلائل دینا شروع کر دیے ہیں۔ اس نے
دنیا کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ میڈیکل لیب کے تحقیقات کی ساکھ پر شکوک
پیدا کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ تاہم اسرائیل جو اپنی ہر سانس کے ساتھ جھوٹ
بولنے کا عادی ہے کے اس انکار کا ان پر کوئی اثر نہیں ہو گا جو یاسر عرفات
کے قتل کے اطراف پھیلے سچ کی تلاش میں ہیں۔
آخر کار بات یہی ہے کہ اسرائیل نے ہزاروں افراد کو قتل
کیا اور ایک کی بھی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ صہیونیت کے انتہائی مکارانہ
فطرت اور ساتھ ہی قتل کرنے کے انتہائی ترقی یافتہ طریقوں پر یہودی ریاست کا
قبضہ جن کو استعمال کرکے اسرائیل نے انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ پیشہ
ورانہ انداز میں افراد کو قتل کرنے کے ریکارڈ قائم کر چکا ہے۔
یہ بات کہنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں کہ اسرائیل کی جانب
سے قتل کے اپنائے گئے بعض طریقے اتنے ترقی یافتہ تھے کہ ان طریقوں کے موت
کا سبب بننے کا کوئی نشان تک نہ مل سکا۔ سنہ 1997ء میں عمان کے اندر حماس
کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل کو قتل کرنے کی ناکام کوشش بھی اسرائیل
کی مجرمانہ اور بھیانک رویے کی ایک مثال ہے۔
اکثر فلسطینیوں کو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مرحوم
فلسطینی رہنما یاسرعرفات کی موت کے پیچھے بالاخر اسرائیل ہی ہے۔ روئے زمین
پر کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہوگا جو اسرائیل کو اس جرم سے بری قرار دیدیگا۔
دراصل یہ بات جاننا کافی نہیں ہے کہ یاسر عرفات کی موت
کس چیز سے ہوئی ہمیں جاننا یہ ہے ابو عمار کو کس نے مارا۔ ہم یہ جاننا
چاہتے کہ موساد کس طرح فلسطینی رہنما تک پہنچنے کے قابل ہوئی۔ قابل اطمینان
جوابات حاصل کرنے کے لیے ہم کچھ ایسے سوالات بھی کرنا ہونگے جو شاید کچھ
فلسطینی رہنماؤں کے لیے انتہائی تکلیف دہ ثابت ہونگے۔
ہم یہ معلوم کرنا چاہیتے ہیں ایک منتخب صدر کو خوراک
اور ادویہ کون فراہم کرتا تھا۔ وہ چھوٹی سے چھوٹی معلومات بھی حاصل کرنا
ہیں جس سے معلوم ہو کہ یاسر عرفات کے معاملات میں اسرائیلیوں کے ساتھ واسطہ
کار کا کام کون کر رہا تھا۔ ہمیں یہ جاننے کی بھی اشد ضرورت ہے کہ یاسر
عرفات کی زندگی کے آخری مہینے میں ممکنہ طور پر کس کس شخص نے ان سے رابطہ
کیا۔
ضرورت ایک ایسے بااعتماد انکوائری کمیشن کی ہے جو چوٹی
کے فلسطینی رہنماؤں سمیت رام اللہ میں موجود تمام عہدیداران کو کٹہرے میں
لے آئے بالخصوص لوگوں کو جن کا یاسر عرفات کے ساتھ زیادہ رابطہ تھا، جو ان
کو خوراک اور ادویات فراہم کرتے تھے اور وہ جو ان کے کپڑے اور لانڈری کی
دیکھ بھال کرتے تھے۔
اگرچہ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ حتمی اور سب سے
بڑا ولن پکڑا بھی جائے گا یا نہیں تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اس
معاملے کو ویسے ہی چھوڑ دیں اور سب کچھ بھلا بیٹھیں۔ چنانچہ فلسطینی
اتھارٹی، عرب لیگ اور اسلامی تعاون کونسل کو بھرپور اصرار کرنا چاہیے کہ
اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل ایک بااعتماد انکوائری کمیشن قائم کرے جس کے
پاس ایسی طاقت ہو کہ وہ کسی بھی قومیت کے کسی بھی مشتبہ عہدیدار کو تفتیش
کے لیے طلب کر سکے۔
یہی سب کچھ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کچھ سال پہلے
لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کی تحقیقات کے لیے کر چکی ہے۔
اس بات کی کوئی وجہ نہیں کہ رفیق حریری کی طرح ہی یاسر عرفات جیسے لیڈر کے
بھیانک قتل کی تفتیش کے لیے بھی ویسا ہی انکوائری کمیشن قائم کرنے کی
ہدایات جاری نہ کی جائیں۔
یاسر عرفات شاید روئے زمین پر سب سے پاکباز شخص نہ ہوں،
تاہم ان کے قتل کے معاملے کو یوں بھلایا نہیں جا سکتا۔ اس معاملے کو غیر
یقینی حالت میں یونہی چھوڑے جانے کا دنیا میں اسی غیر اخلاقی ترتیب جو جاری
رکھنا ہوگا جہاں پر ایک زندگی تو انتہائی معتبر اور مقدس ہوتی ہے جب کہ
دوسرے کی زندگی کی کوئی قدر نہیں ہوتی۔
ایک بار پھر اکثر فلسطینیوں اور دنیا میں بسنے والے
تمام ایماندار لوگوں کی طرح راقم کو بھی اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یاسر
عرفات کے قتل کی ذمہ اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔ لہذا اس کو سائنسی اور
معروضی طریقے سے ثابت کرنے میں کوئی نئے ڈرامائی حقائق منظر عام پر نہیں
آئینگے۔
مزید برآں، عالمی ادارے کی جانب سے کسی شفاف تحقیقات
کے بعد بھی یاسر عرفات کے قاتل یا قاتلوں بالخصوص جب وہ اسرائیلی یہودی
قاتل ہو، کو سزا ہونے کا امکان نہیں ہے۔ آخر کار اسرائیل انتہائی محفوظ
اور کسی بھی طرح انصاف کے عمل میں سزا بھگتنے جیسی کسی کارروائی سے کوسوں
دور رہنے والی طاقت ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اسرائیل بذات خود انسانیت کے خلاف ایک
جرم ہے اس کا وجود ہی انسانی اخلاقیات اور تہذیب کی سنجیدہ مخالفت کے زمرے
میں آتا ہے۔
لیکن اس سب کے باوجود صرف اسرائیل کے جرائم کو منظر عام
پر لانا بھی کوئی بری چیز نہیں ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں
پر بظاہر درست کو درست اور غلط کو غلط کہا جاتا ہے۔ لہذا ہم اسرائیل کی طرح
کی ایک مجرم، ظالم اور سفاک ریاست کو ہماری دنیا کو بدنما کرنے کی اجازت
نہیں دینا چاہیے۔ اس طرح کی برائی کو رستا چھوڑنے کی وجہ سے ساری انسانیت
کو خطرہ لاحق ہو جائیگا۔
|
No comments:
Post a Comment